توبہ, رضائےخدا کے حصول کا ذریعہ
اسپیشل فیچر
سرکارِدوعالم ؐ کافرمانِ عالی شان ہے:’’ تم میں سے ہر شخص سے گناہ سرزد ہوتا ہےلیکن گناہ گاروں میںبہتروہ ہے، جو تو بہ کر لے‘‘انسان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے عقل عطا فرمائی اوریہ عقل غور و فکر ،سوچ اور جستجوسے انسان کورہنمائی کے لیے نت نئے طریقے سکھاتی ہے۔اور بار بار اللہ تعالی انسان کو غور و فکر کی دعوت بھی دیتاہے۔اگر دیکھا جائے تو دنیا کی تمام چیزیں چاہے بحری ہوں یا برّی، جماداتی ہوں یا نباتاتی ، حیوانی ہوں یا جنّاتی ،غرض ہر چیزپر غور کیا جائے تو جواب آتا ہے کہ یہ سب چیزیں حضرت انسان کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔مختلف کیفیتوں اور حالتوں سے بدلتی ہوئی یہ چیزیں بلواسطہ یا بلا واسطہ انسان ہی کے لیے مسخّر کی گئی ہیںاور یہ کار خانۂ قدرت اَزل سے چلا آرہا ہے اور ابد تک انسان کو نفع ہی دیتا رہے گا۔ غرض اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو انسان کے لیے وقف کردیاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسان بھی اپنے رَب کے لیے خود کو وقف کر سکتا ہے؟ قرآن مجید بڑے پیارے انداز میں انسان سے سوال کرتا ہے کہ : ’’ اے انسان! تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈالا اس رَبّ کریم سے، جس نے تمہیں پیدا کیا اور ایک اچھی شکل و صورت میں ڈھال دیا؟ (سورۃ الانفطار۔آیات نمبر6,7) انسان کو چاہیے کہ وہ غور کرے کہ میرا اللہ تعالی کے ساتھ کیسا تعلق ہے ؟جو رَبّ مجھے ہر وقت رزق عطا کرتا ہے ،جو میری ضروریات کا کفیل ہے۔جو زمین و آسمان ،دن ورات ، سورج و چاند کے نظا م میرے لیے مسخّرکرتا ہے۔ اُس رَبّ کے ساتھ میں نے کتنی وفاداری دکھائی ہے؟ہمیں احتساب کرنا چاہیے۔اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے، دل کی حالت سامنے رکھنا چاہیے۔دِلی کیفیات جانچنے کو صوفیا ء کی اصطلاح میں مراقبہ کہتے ہیں ۔اور یہی مراقبہ انسان کو توبہ سکھا تا ہے ۔توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے چناں چہ قرآن مجید میں بار بار توبہ کی ترغیب دی گئی ہے اور فرمایا گیا: ’’اے ایمان والو آجاؤ،توبہ کی طرف اور سچے صاف دل سے توبہ کرلو۔ اُمید ہے تمہارا رَبّ تمہارے گناہوں کو مٹا کر تمہیں بہتی نہروں والی جنّت میں داخل کرے گا۔‘‘(سورۃ التحریم۔ آیت نمبر 8) اس رحیم رَبّ سے مانگوتو سہی ،پھر دیکھووہ کیسے عطا کرتا ہے ۔یہ وہ بادشاہ ہے جو مانگنے سے خوش ہوتا ہے اور نا مانگنے والے سے ناراض ہوتا ہے۔ ذرا اس واقعے کو بھی پڑھیے کہ جب حضرت حسن بصری ؒ کے زمانے کا ایک نوجوان اپنے باپ کی چھوڑی ہوئی بے تحاشا دولت میں نازاں ہو کر شراب و کباب کی مستی میںمبتلا اپنے وقت کا بدکار اور چور تھا۔ اس کی عیّاشی، مستی ،ظلم و بربریت ،شہوت پرستی ،چوری اورڈاکہ زنی کے قصّے زبان زدِعام تھے۔مگر اس کی ماں اللہ والی خاتون تھیں۔وہ اپنے بیٹے کو سمجھاتیں:’’ بیٹا !گناہوں کی لَت میں مت پڑ۔ بدکاری اورشراب چھوڑ کرتو بہ کر،نیکی کی طرف آجاؤ۔ میرے ساتھ حضرت حسن بصری ؒ کے پاس چلو ۔‘‘ وہ بوڑھی ماں مِنت سماجت کرتی رہی مگر بیٹا باز نہ آیا۔زمانہ گزرتا رہا۔ آخر کار بیٹا ایک انوکھے مرض میں مبتلا ہوکر موت و حیات کی کشمکش میں آگیا ۔جب اُسے موت سامنے نظر آنے لگی ۔ اب اُسے احساس ِ ندامت ہوا۔ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوگیا۔چارپائی پر پڑے ہوئے زندگی کی آخری ساعتوں میں پکارتا ہے،’’ اے ماں !تم ساری زندگی حسن بصری ؒ کا نام لیتی رہیں،میںاب چل نہیں سکتا ۔ خدارا! آپ چلی جائیں اورحضرت حسن بصریؒ سے ادب کے ساتھ عرض کریں کہ میں اب چل نہیں سکتا میرا آخری وقت ہے۔تھوڑا سا وقت نکال کر ہمارے گھر تشریف لے آئیںاور میری توبہ کروادیںمجھے تو توبہ کا طریقہ بھی نہیں آتا۔‘‘یہ بوڑھی ماں کانپتے جسم کے ساتھ حضرت حسن بصریؒ کے دربار میں پہنچی اور درخواست پیش کی ۔ حضرت حسن بصری ؒ نہایت شفیق،پُر محبت اور درد دل رکھنے والے بزرگ تھے، مگر اُس وقت انہوں نے اپنا درس پڑھانے کے عذر کی وجہ سے اس نوجوان کے پاس آنے سے انکار کر دیا ۔ماں روتی دھوتی واپس آگئی اور کہا:’’بیٹے !تو بہت بد نصیب اور بد بخت ہے،حسن بصری ؒجیسا بزرگ اور وَلی بھی اب تیرے پاس آنے کو تیار نہیں ۔‘‘نوجوان یہ سُن کر بے انتہا رو پڑا ور پھر اپنی بوڑھی ماں کو مخاطب ہو کر کہا:’’ قبل اس کے کہ میری روح قبض ہو جائے ،میری دو وصیتیں سُن لو اور قسم دیتا ہوں کہ اس وصیت پر عمل کرو گی۔ اوّل یہ کہ جب میری روح پرواز کر جائے تو اپنے دوپٹے سے میری گردن پر پھندا لگا دینا اور پھر اس پھندے سے میری لاش گلی کوچوں میں گھسیٹنا تاکہ میرے ساتھ چوری ،بدکاری اور ڈاکے میں شریک دوستوں کو میرے انجام کاپتہ چل جائے اور میری ذِلّت کا یہ منظر اُن کے سامنے آجائے ،شاید میری لاش کے ساتھ ایسا عبرت ناک سلوک دیکھ کر کسی کو توبہ کی توفیق ہو جائے۔دوسری وصیت یہ ہے کہ انتقال کے بعد میری قبر مسلمانوں کے قبرستان میں نہ بنانا ،میں بد ترین آدمی ہوں اور اللہ کا غضب مجھ پر شدید ہو گا۔ میں چاہتا ہوںاس غضب کی وجہ سے میرے اوپر اترنے والا عذاب صرف مجھ پر ہی رہے، کہیں ایسا نہ ہومیری وجہ سے میرے پڑوسی قبر والوں کوبھی تکلیف پہنچے۔‘‘ وصیتوں کے بعد نوجوان نے دھاڑیں مارتے ہوئے نظریں آسمان کی طرف کیں اور ہاتھ اُٹھائے،معافیاں مانگتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے آنسونکل کر اُس کی گال پر بہہ رہے تھے ۔اس کے ہاتھ اُٹھے ہوئے ہی تھے کہ اُس کی رُوح پرواز کر گئی۔یوںیہ نوجوان اِس دنیا سے کُوچ کر گیا۔اس کی موت کے بعد اس کی ماں دوبارہ حضرت حسن بصری ؒ کے دربار میں گئی اور عرض کیا:’’حضرت! جس بیٹے کے لیے میں آپ کے پاس آئی تھی ،اس کا انتقال ہو گیا ہے۔اب تو آجا یے اورمیرے بیٹے کا جنازہ پڑھا دیجیے، شایدآپ کے جنازہ پڑھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو میرے بیٹے پر رحم آجائے اور اس بد نصیب کی بخشش ہو جائے۔‘‘ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اُس وقت حضرت حسن بصری ؒ کی شخصیت پر جلالی کیفیت طاری تھی ۔یہ بوڑھی ماں حضرت حسن بصری ؒ کی منتیں کررہی تھیں مگر حضرت حسن بصری ؒ آنے کو تیار نہیں ہوئے ،چناں چہ بوڑھی ماں دوبارہ واپس آگئیں۔اور بیٹے کی لاش پر کفن ڈالے رُو رہی تھی کہ اچانک دروازہ پر دستک ہوئی ،دروازہ کھلتا ہے اورحضرت حسن بصری ؒ گھر میں داخل ہوتے ہیں، پوچھتے ہیں :’’کہاں ہے تمہارا بیٹا ؟ کہاں ہے وہ وَلی؟ کہاں ہے وہ بزرگ؟‘‘ اورپھر فرمایا :’’جب تم ابھی ملنے آئیں تھیں،میں نے آنے سے انکار کیا، اُسی وقت میں کچھ دیر کے لیے لیٹا اور خواب دیکھا کہ اللہ کی طرف سے پُکار آرہی ہے ۔اے حسن! تم میرے کیسے دوست ہو ؟تم نے میرے وَلی کا جنازہ پڑھانے سے انکار کیا ہے؟ وہ میرا دوست ہے، سُن اے حسن! اسے میں نے بخش دیا اس کی مغفرت ہوچکی ہے۔‘‘حضرت حسن بصری ؒ آگے بڑھے خود اپنے ہاتھ سے غُسل دیا،کفن پہنایا اور اپنے ہاتھوں سے تدفین کی۔سُبحان اللہ فضیل بن عیاضؒ کا واقعہ بھی پڑھیے، یہ اپنے وقت کے بہت بڑے ڈاکو تھے ۔ان کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ مائیں اپنے بچوں کو فضیل کے نام سے ڈرایا کرتی تھیں۔قصّوں اور کہانیوں میں انہیں نہایت خطرناک اور پُراَسرار سمجھا جاتا تھا۔اپنی عادت کے مطابق ایک دن کسی گھر میں ڈاکہ مارنے پہنچے ۔رات کا آخری حصہ تھا، گھر میں اللہ کا ایک بندہ قرآن پاک کی اس آیت کی تلاوت کررہا تھا ۔ ـ’’ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آپہنچا کہ ان کے دِل اللہ کے خوف سے ڈر جائیں اور جو حق نازل ہوا ہے اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیں۔‘‘(سورۃ الحدید۔ آیت نمبر 16) کان میں اس آیت کا پڑنا ہی تھا بس اسی لمحے دل کی کایا پلٹ گئی۔ ڈاکہ چھوڑا اور زور دار آواز سے کہا :’’ہاں میرے رَب! اب وہ وقت آہی گیا ہے۔‘‘اُسی وقت سچی توبہ کی۔ پھر یہی فضیل آہستہ آہستہ تقویٰ میں آگے بڑھتے رہے اور بہت بڑے وَلی بن کر دُنیا کے سامنے آئے ۔آج اولیا کرام کی فہرست میں حضرت فضیل بن عیاضؒ کابڑا مقام اور مرتبہ ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کی قبر پر لازوال رحمتیں نازل فرمائے۔ تاریخ میں ایسے توبہ کرنے والوں کے قصّے کثرت کے ساتھ مذکور ہیں۔رسول اکرمؐ اکثر نوجوانوں کے گروہوں کو مخاطب ہو کر اُنہیں توبہ کی ہدایت فرمایا کرتے تھے۔یہ حدیث معروف ہے :’’گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔‘‘(ابن ِ ماجہ)جوانی کی توبہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔علامہ رومی ؒ فرماتے ہیں کہ توبہ جوانی کی عمر میں کر لیجیے،بڑھاپے کی عمر میں توبہ کرنا کمال نہیں ہے۔ اپنے شعر میں عجیب تشبیہ پیش کرتے ہیں، وقت پیری گرگ ظالم می شود پرہیز گار در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری است یعنی بڑھاپے میں تو ظالم بھیڑیا بھی متقی اور پرہیز گار بن جاتا ہے، جوانی میںتوبہ کرو،کیوں کہ جوانی میں توبہ کرنا پیغمبروں کا شیوہ ہے۔انسان سے گناہ ممکن ہے ۔گناہ کے داعیے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں، لیکن گناہوں کے سامنے ڈَٹ جانا اور اپنے رَب سے معافی مانگنے والے کوحدیث میں بہترین مومن قرار دیا گیا ہے۔چناں چہ ترمذی میں حدیث ہے کہ:’’ تم میں سے ہر شخص سے گناہ سرزد ہوتا ہے، لیکن گناہ گاروں میںبہترین وہ ہے جو تو بہ کر لے۔‘‘آئیے عزم کیجیے، اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں گے۔اپنے رَب سے وفا داری کاپاس کرتے ہوئے اورسچے دل سے توبہ کرکے اپنا ایمان مضبوط اور کامل بنائیں گے۔