کھیلوں کا سامان بنانے کی گھریلوصنعت تنزلی کا شکار
اسپیشل فیچر
چینی مصنوعات،امن و امان کی خراب صورتحال اورلوڈشیڈنگ نے اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیاصحت مند معاشرے میںکھیل ہمیشہ نعمت رہے ہیں اور صحت مندانسان اچھی سوچ کے علاوہ اچھی پرفارمنس بھی دیتا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان میدانوں کو سجانے کیلئے جو کھیل کھیلے جاتے ہیں ان کا سامان ہرجگہ نہیں بنتا۔ لہٰذا کھیلوں کی صنعت کو بلین ڈالرز کی منڈی کہاجاتا ہے۔ پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں سے ایک ہے جہاں کھیلوں کے سامان کے معیار کی نہ صرف تعریف کی جاتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں اس کا ایک قابل قدر مقام بھی ہے۔ سیالکوٹ وہ واحد شہر ہے جہاں دنیا بھر کو کھیلوں کا سامان برآمد کیا جاتا ہے۔ سیالکوٹ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ عالمی کپ ٹورنامنٹس میں استعمال ہونے والا سامان اسی شہر میں بنایا جاتا تھا۔ اسی شہر میں تجارتی سرگرمیوں کے ماند پڑنے اور کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں کمی کے کئی اسباب ہیں جن کا جائزہ لیکر ہی کچھ تجاویز دی جا سکیں گے جس پر عملدرآمد کرکے کھیلوں کی صنعت کو دوبارہ اس مقام پر لے جایا جائے جو اس کی پہچان تھا۔ پہلے اعدادوشمار کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں کہ کھیلوں کا سامان بنانے کی گھریلوصنعت کس مقام پہ کھڑی ہے۔رواں مالی سال میں کھیلوں کی مصنوعات کی نمو 1.31 فیصد رہی ہے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت کم ہے۔ پچھلے دو ماہ سے ہمارے ملک میں کھیلوں کے سامان کی برآمدات کی مالیت 53.229 ملین روپے دیکھی گئی ہے۔ شماریات کے بیورو نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق گلوز بنانے والے اداروں نے 23.595 ملین روپوں کی برآمدات کرکے پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے کی کوشش کی ہے لیکن فٹ بال کی مصنوعات کی برآمدات میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ 25.803 ملین سے کم ہو کر 22.07 ملین کی سطح پر آئی ہے یہ گروتھ منفی 12 فیصدہے۔اعدادوشمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ مجموعی طور پر اس صنعت میں 42.26 فیصد کمی کا گراف ہمارے کھیلوں کے سامان کی برآمدات کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس صنعت سے وابستہ روزگاروںکی ایک بڑی تعداد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری کے دبائو میں اضافہ ہوگا اور ضارب کے عمل کے تحت اس کا دھچکہ ملکی معیشت کو لگے گا۔ فٹ بال کی مصنوعات کی برآمدات میں کمی گزشتہ سال ہی دیکھنے میں آئی۔ 2012ء میں 13.25 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔ کامرس کے ماہرین اس کمی کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس وقت جب پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذوں کے علاوہ دہشت گردی جیسے بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔سپورٹس گڈز کی انڈسٹری واحد ایسی صنعت ہے جو ملکی معیشت کو سنبھالا دیئے ہوئے تھی۔ اس میں کمی کے رجحانات دیکھنے کو آ رہے ہیں تو مستقبل میں اس کے سخت منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ آئیے ،پاکستان میں کھیلوں کی صنعت کے زوالکے حوالے کچھ باتیں کرتے ہیں۔چین ایک گنجان ملک ہے اور اس نے اپنی بڑھتی آبادی کا پیٹ پالنے کیلئے معیشت کو ایک نیا انداز دیا ہے۔ انہوں نے ہر طرح کے مال کو سستے داموں بیچنے کیلئے کم قیمت اور زیادہ سیل کے فارمولے کو اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے صنعت کار بہت جلد عالمی منڈیوں پر قابض ہوگئے۔ حد تو یہ ہے کہ اب سیالکوٹ کے کئی تاجر اپنی مصنوعات کی تیاری کیلئے خام مال چین سے ہی خریدتے ہیں۔ معلومات کی کمی اور لاعلمی کی بدولت ہمارے ہی تاجر تیسری پارٹی سے سودا خریدتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہلکی کوالٹی کا سامان قدرے مہنگے داموں لوکل مارکیٹ میں آتا ہے۔ تو اس کا اثر مقامی صنعت پر پڑتا ہے۔ چینی صنعتکار کسی بھی قیمت پر کوئی بھی چیز بنا کر دینے کوتیاررہتے ہیں۔ اس رجحان نے سیالکوٹ کی صنعتوںکو بہت نقصان پہنچایا ہے۔کھیلوں کے سامان کی صنعت کے زوال کی دوسری بڑی وجہ ملکی حالات ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر کی خراب صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کار اپنا روپیہ کاروبار میں لگانے سے گریزاں ہیں۔ سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے نئے منصوبے نہیں بن رہے۔ اس ضمن میں ایک دوسرے پہلو پر نظر ڈالیںلاء اینڈ آرڈر کی خراب صورتحال کی وجہ سے انٹرنیشنل ٹیمیں پاکستان آنے سے گریزاں ہیں۔ کھیل کے میدان اجڑے ہیں اور مقامی تنظیمیں بھی کھیلوں کے انعقاد میںدلچسپی نہیں لے رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میںسے کھیلوںکے سامان کی فروخت کا گراف گرا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت اپنے ہی گورکھ دھندوں میں الجھی رہی اور کسی نے اس صنعت کے علاوہ نئے میدانوں اور کھیلوں کی حوصلہ افزائی پر توجہ ہی نہیں دی ۔ نہ ہی کھیلوں کی صنعت پر حکومت کا کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے۔ تاجر جس فارمولے کے تحت قیمتیں مقرر کریں یا بڑھائیں کوئی روکنے والا نہیں۔ اگر اس پر سروے کیا جائے تو تیار ہونے والے مال کی لاگت اورقیمت فروخت میں زمین آسمان کا فرق واضح ہوتا ہے۔کھیلوں کی صنعت میں زیادہ منافع دیکھ کر کئی ایسے صنعتکاروں نے اس انڈسٹری کارخ کیا جو ناتجربہ کار تھے۔ ان کی ناتجربہ کاری بھی اس کے زوال کا سبب بنی۔ غیر ہنرمند طبقے اور کم اجرتوں پر رکھے جانے والا سٹاف کوالٹی کے اس معیار کو کیسے چھو سکتا تھا جوکبھی پاکستان کی پہچان تھا۔ چنانچہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کوالٹی پر سمجھوتہ کرنے والے ان نئے صنعت کاروں نے عالمی منڈی میں پاکستان کیلئے بنے ہوئے عالمی برادری کے اتحاد کودھوکہ دیا جس کی وجہ سے انہوںنے دیگرممالک کی منڈیوں کا رخ کیا ہے۔ہمارے ہاں اکثر دوسروں کی دیکھا دیکھی کام کرنے کا رواج ہے۔ اگر کوئی شخص کھیلوںکی صنعت میں کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے مارکیٹ کا سروے کرنا چاہیے۔ طلب اور رسد کے مابین فرق کو سمجھنا چاہیے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسے پروڈکشن سے مارکیٹ تک کے تمام رموز سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ اکثر سرمایہ کار مخصوص رقم سے کاروبار شروع کر لیتے ہیں جواکثر ناکامی سے دوچار ہوتا ہے اس کی وجہ اس مثال سے ڈھونڈی جا سکتی ہے ۔ ایک نوجوان ایک کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے کھیلوں کے سامان کی دکان کھولتا ہے اس نے اپنی کل پونجی کاروبار میں جھونک دی۔ اس سے اگلا مرحلہ ورائٹی کا پورا کرنا۔ اس کی دکان پر خریدار آتے ہیں لیکن پوری ورائٹی نہ ہونے کی وجہ سے بن کچھ خریدے چلے جاتے ہیں۔ دو تین ماہ تک اس دکان کے بارے میں یہ تاثر بندھ جاتا ہے کہ یہاں ورائٹی کی کمی ہے۔ لہٰذا وہ دکان بالآخر فلاپ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں کاروبار اس انداز سے کرنے سے بھی اس صنعت کو نقصان ہوتا ہے۔سیالکوٹ جیسے کھیلوں کے سامان بنانے کی ہب میں اس وقت دراڑ پڑ ی جب اسے دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑا۔ کرکٹ کا سامان بنانے والی ایک معروف پاکستانی فرم کے منیجنگ ڈائریکٹر بڑے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہتے ہیںکہ لوڈشیڈنگ نے کاروبار تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے سٹیٹ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ رواں سال میں برآمدات کا حجم 24.1 بلین سے 24.6 بلین ڈالر کے درمیان رہا جبکہ ہدف 25.8 بلین کا تھا۔ اگر پاکستانی ادارے مقرر کردہ ہدف کو بھی پورا کرنے میں ناکام ہیں تو اس کی قیمت پاکستان کو ہی بھگتنا پڑے گی۔ کھیلوں کی صنعت کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے؟کھیلوں کی صنعتوں کو فروغ دیکر ملک کی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل تجاویز پر غور کرنا ہوگا۔-1 مقامی سطح پر کھیلوں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ملکی منڈی میں کھیلوں کے سامان کی زیادہ سے زیادہ کھپت ہوسکے۔-2 لوڈشیڈنگ کے خاتمے تک اس صنعت کی بحالی کیلئے سیالکوٹ شہر کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تاکہ چھوٹا تاجر اور صنعتکار جوجنریٹر اور بجلی پیدا کرنے کیلئے ڈیزل جلانے کی استعداد نہیں رکھتا ۔اس کا کارخانہ چلتارہے۔-3 حکومت اور کھیلوں کی وزارت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اس صنعت کو فروغ دینے کے بہت سے پیمانے ہیں۔ سیالکوٹ میں نوجوان کاریگروں کی ٹریننگ کیلئے فنی ادارے قائم کیے جائیں۔ برآمدات کو بہتر بنانے کیلئے مقامی تاجروں کوعالمی خبروں، نمائشوں سے آگاہ رکھے اور مصنوعات کی پروڈکشن بڑھانے کیلئے زیادہ سے زیادہریلیف دیا جائے ۔-4 کم شرح سود پر قرضوں کا فوری اجراء کیاجائے۔-5 نئی عالمی منڈیوں کی تلاش کی جائے۔-6 غیرمعیاری سامان بنانے والے اداروں کوبلیک لسٹ کردیاجائے۔-7 کھیلوں کے سامان بنانے والے اداروں اور تاجروں کو خصوصی مراعات دی جائیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور برآمدات بڑھ سکیں۔