سید نا سعید بن جبیر ؓ
اسپیشل فیچر
سیدنا سعیدؓ بن جبیر اور حجاج بن یوسف کے درمیان ہونے والی تاریخی گفتگو ، جس کے بعد آپؓ کو شہید کردیا گیامکہ کے حاکم خالد بن عبداللہ قسری نے سیدنا سعید بن جبیرؓ کو بغاوت کے جُرم میں گرفتار کرکے بصرہ کے حاکم حجّاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا۔ حجّاج اُن کو دیکھتے ہی شعلہ جوالا بن گیا سیدنا سعید بن جبیرؓ اور ایک قاہر و جابر حاکم حجّاج بن یوسف کے درمیان جو گفتگو ہوئی تاریخ نے اپنے سینے میں اس کو محفوظ کرلیا ہے اس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔حجّاج:۔ تیرا کیا نام ہے؟سعیدؓ:۔ سعید بن جبیرؓحجّاج:۔ نہیں! بلکہ شقی بن کیثُر ہےسعیدؓ:۔ میری والدہ میرے نام کے متعلق تجھ سے بہترجانتی ہےحجّاج:۔ تو اور تیری ماں دونوں بدبخت ہیںسعیدؓ:۔ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے تجھے نہیںحجّاج:۔ میں تیری دنیا کو دہکتی ہوئی آگ میں بدل دوں گاسعیدؓ:۔ اگر میں یہ جانتا کہ عیش وآرام، نفع ونقصان تیرے قبضہ میں ہے تو میں تجھے خدا سمجھتاحجّاج:۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟سعیدؓ:۔ آپؐ ہادیٔ امم ہیں اور حمتِ دو عالم ہیں۔حجّاج:۔ عثمان ؓ اور علی ؓ کے بارے میں تیری کیا رائے ہے؟سعیدؓ:۔ وہ اللہ کے حضور جاچکے ہیں، مجھے نہیں معلوم ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا کیوں کہ میں غیب داں نہیں ہوںحجّاج:۔ خلفاء کے بارے میں تیری کیا رائے ہے؟سعیدؓ:۔ میںان کا وکیل نہیں ہوںحجّاج:۔ خلفاء میں تجھے کون زیادہ پسند ہے؟سعیدؓ:۔ جو میرے اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہےحجّاج:۔ کیا تو بتا سکتا ہے کہ خالق کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کون ہے؟سعیدؓ:۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔حجّاج:۔ کیا تو میری تصدیق کو پسند کرے گا؟سعیدؓ:۔ اگر مجھے تیری محبت ہو تو میں تیری تکذیب ہی کیوں کرتاحجّاج:۔ کم بخت تو ہسنتا کیوں نہیں؟سعیدؓ:۔ وہ مخلوق کس طرح ہنسے جو مٹی سے پیدا کی گئی ہے حالاں کہ مٹی کو آگ کھا جاتی ہےحجّاج:۔ پھر ہم کیوں ہنستے ہیں؟سعیدؓ:۔ سب قلوب برابر نہیں ہوتےحجّاج:۔ (خدام کو حکم دیتے ہوئے) اِس کے سامنے جواہرات پیش کروسعیدؓ:۔ (جواہرات کو دیکھ کر) اگر ان چیزوں کو تونے اس لیے جمع کیا ہے کہ ان کو خدا کی راہ میں خیرات کرکے عذاب آخرت سے نجات حاصل کرسکے تب تو ٹھیک ہے ورنہ یاد رکھ قیامت کے دن ایک اور صرف ایک ہی چیخ ہوگی جو سُن کر دودھ پلانے والی عورتیں اپنے شیرخوار بچوں کو بھول جائیں گی۔حجّاج:۔ (مطربانہ دربار سے) اس کے سامنے ستار اور بانسری بجائوسعیدؓ:۔ (آلات سرور کی آواز سن کر) رونے لگتے ہیںحجّاج:۔ روتا کیوں ہے؟ یہ سامانِ عیش وطرب ہےسعیدؓ:۔ نہیں! باجے کی آواز نے مجھے صورِ قیامت کی یاد تازہ کردی اس کے ساتھ یہ بھی سُوہان روح بن آیا کہ تمہارے یہ سارے آلات لہو ولعب بھی تمہارے لیے وبالِ جان ہےحجّاج:۔ سعیدؓ ! تیری حالت قابل افسوس ہے۔سعیدؓ:۔ وہ شخص قابلِ افسوس نہیں جو آگ سے نجات پا گیاحجّاج:۔ کیا میں نے تجھ پر متعدد بار احسانات نہیں کیے؟سعیدؓ:۔ یہ بالکل صحیح ہے۔حجّاج:۔ ان احسانات کے باوجود تجھ کو میری مخالفت پر کس چیز نے آمادہ کیا؟سعیدؓ:۔ ابنِ اشفت کی بیعت نےحجّاج:۔ (غضب ناک ہوکر) کیا تیری گردن میں امیرالمومنین عبدالملک کی بیعت کا طوق نہیں تھا؟ اب میں تجھ کو ضرور قتل کروں گاسعیدؓ:۔ اللہ نے میرے لیے جو وقت مقرر کردیا ہے میں اس وقت پر ضرور اس کے پاس پہنچوں گاحجّاج:۔ تجھے کس طرح قتل کروں؟سعیدؓ:۔ جس طرح سے تو مجھے قتل کرے گا قیامت کے دن اللہ بھی تجھے اسی طرح قتل کرے گاحجّاج:۔ کیا تو چاہتا ہے کہ تیری جان بخش دی جائے؟سعیدؓ:۔ اگر عفو ہے تو منجانب اللہ ہے مگر تیرے لیے برأت عذر کچھ باقی نہیںحجّاج:۔ (زخمی شیر کی طرح گرجا) لے جائو اس کو، اور قتل کردوسعیدؓ:۔ قتل کا حکم سُن کر سیدنا سعید بن جبیر ؓ مسکرادیےحجّاج:۔ تو قتل کا حکم سُن کر مسکرایا کیوں؟سعیدؓ:۔ میں اس بات پر مسکرایا کہ تو اس واحد قہار کے سامنے کس قدر دلیر ہے اور وہ تیرے حق میں کس قدر رحیم و حلیم ہےحجّاج:۔ (غضبناک ہوکر جلّاد کو حکم دیتا ہے) اسے ہمارے سامنے قتل کروسعیدؓ:۔ نہایت اطمینان کے ساتھ قبلہ رُو ہوکر لیٹ جاتے ہیں اورقرآن شریف کی یہ آیت پڑھتے ہیں ترجمہ: ’’میں سارے مذاہب باطلہ سے الگ ہوکر اپنا رخ صرف اس ذات قدوُس کی طرف پھیرتا ہوں جس نے زمین وآسمان پیدا کیے، اور میں مشرکین میں داخل نہیں۔حجّاج:۔ اس کا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دوسعیدؓ:۔ تم جس طرف منہ پھیرو اللہ اُسی طرف ہے۔ (القرآن)حجّاج:۔ اس کی پیشانی زمین پر رکھ دوسعیدؓ:۔ ’’ہم نے تمہیں زمین ہی سے پیدا کیا اور اَسی میں لوٹائیںگے اِسی مٹی سے دوبارہ بروز حشر اٹھائیں گے‘‘۔ (الفرقان)’’پھر بلند آواز سے کلمۂ شہادت پڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں ’’اے حجّاج! میں تجھے گواہ بناتا ہوں میری اس شہادت پر گواہ رہو اور قیامت میں اللہ کے سامنے میری شہادت کی گواہی تجھے دنیا ہوگی‘‘۔حجّاج:۔ اس گستاخ کو زیادہ بولنے کی مہلت مت دوسعیدؓ:۔ (بلند آواز سے دعا کی) ’’اے اللہ! میرے بعد اس کو کسی شخص کے قتل پر مسلّط نہ کرنا‘‘۔اِدھر حجّاج نے جلّاد کو اشارہ کیا اور اُدھر جلّاد کی تلوار سیدنا سعید ؓ بن جبیر کے سر پر چمکی اورعشقِ الہٰی کے سودے سے بھرا ہوا سر کلمۂ شہادت پڑھتا ہوا زمین پر آگرا۔شہادت کے بعد جسم سے خون کے فوارّے پھوٹنے لگے حجّاج اتنا خون نکلنے پر بہت حیران ہوا اور اپنے طبیب خاص سے اس کی وجہ دریافت کی اس نے کہا دوسرے لوگوں کا خون قتل کا حکم سنتے ہی خشک ہوجاتا ہے لیکن سعیدؓ کی طبیعت بالکل مطمئن تھی اور قتل کا خوف مطلقاً ان کے دل میں نہ تھا اس لیے اُن کے جسم سے خلاف معمول زیادہ خون نکلا۔ جب ان کی شہادت کی خبر اہل کوفہ تک پہنچی تو کہرام مچ گیا لوگ دھاڑیں مارمار کر رو رہے تھے سیدنا خواجہ حسن بصری ؒ نے فرمایا۔ ’’اے اللہ! شقی القلب حجّاج سے سعیدؓ کے خون کا انتقام لے خدا کی قسم! دنیا کے تمام لوگ سعیدؓ کے قتل میں شریک ہوتے تو اللہ ان سب کو نار جہنم میں جھونک دیتا‘‘۔94ہجری میں شہادت پائی۔