یونانی فلسفیوں کی انسان پر بحث…2
اسپیشل فیچر
یونانی فلسفی روح کو اہم اور جسم کو انسان کا کم تر پہلو سمجھتے تھے جیسا کہ آگسٹائن نے جسم کو فرد کا کم تر پہلو قرار دیا۔ ارسطو نے روح کو ایک ایسی اکائی قرار دیا جو ہر لحاظ سے مکمل ہو۔ یہ روح کی وہ تعریف ہے جو ہمیشہ سے رائج رہی ہے اور جو ہمیں مذہبی عقیدوں سے میسر آئی ہے۔ ارسطو نے روح کو دو حصوں (1) روح حیوانی۔ (2) روح انسانی۔ میں تقسیم کیا۔ ہزاروں برس سے لے کر آج تک روح کو ایسے ہی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے (اور یہ تقسیم کرنے والے انسانی باطن کا مشاہدہ کرنے والے روحانی ماہرین یا باطن سے کسی حد تک واقفیت رکھنے والے فلسفی ہیں) اور آج اس تقسیم کی تصدیق جدید سائنسی تجربات سے بھی ہو رہی ہے۔ روح حیوانی، روح انسانی، یا AURA چکراز کو روح کے حصے قرار دیا جاتا ہے جب کہ یہ مزید لطیف اجسام روح کے حصے نہیں ہیں۔ اور ان لطیف اجسام کو روح کے حصے قرار دینا ایک بڑی غلطی ہے جس نے انسانی علم میں بڑی الجھنیں پیدا کر دی ہیں۔ اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ یہ غلط فہمی انسانی مجموعے کی ترتیب کو سمجھنے میں غلطی کے سبب پیدا ہوئی ہے اور اسی بڑی غلطی نے بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے جس کا ذکر آگے آئے گا۔ یونانی فلسفی نفس سے بھی واقف تھے اور ان کی یہ واقفیت روحانی مشقوں کے نتیجے میں ہونے والے مشاہدات و تجربات کی مرہونِ منت تھی۔ جیسا کہ افلاطون نے موت کے تجربات میں نفس کا تفصیلی تذکرہ کیا اور اس تذکرے میں اس نے نفس کے اعمال و افعال اور خصوصیات کا تفصیلی تذکرہ کیا جو کہ جدید ترین سائنسی تحقیقات سے مماثلت رکھتا ہے۔ فیثاغورث کا خیال تھا کہ انسانوں کی روح موت کے بعد جانوروں کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ نظریہ بھی آج تک جوں کا توں چلا آ رہا ہے اور دنیا میں رائج ہے۔ اور زیادہ تر لوگ اس نظریے کے قائل ہیں (بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے) آج اس نظریے کو کرما یا آواگون (Reincarnation) کا نظریہ کہتے ہیں۔ ہزاروں برس قبل ارسطو نے ’’علم الروح‘‘ (Psychology) کے نام سے کتاب بھی لکھی تھی۔ اگرچہ اب اس کتاب کا فقط نام ہی باقی ہے۔ لیکن اس موضوع پر کتاب کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس دور میں بھی روح کے موضوع پر کسی حد تک سیر حاصل بحث ہوئی ہوگی، کچھ عقائد ہوں گے، کچھ اس دور کے نظریات ہوں گے، کچھ روحانی تجربات یا مشقوں کا تذکرہ ہوگا جیسا کہ افلاطون کے تجربوں کا ذکر آیا۔ در حقیقت انسان اس کا باطنی تشخص اور روحانی خصوصیات ابتداء سے آج تک ایک مخصوص روحانی طبقے کے موضوعات رہے ہیں لیکن علمی میدان میں انسان کے باطن اور باطنی خصوصیات کا تذکرہ پہلی مرتبہ یونانی فلسفیوں نے کیا انہیں کی فلسفیانہ فکر اور انہی کے علم الروح یا یونانی زبان میں Psychology نے آگے بڑھ کر موجودہ سائیکالوجی، پیرا سائیکالوجی، نفس، نفسیات وغیرہ وغیرہ کی شکل اختیار کر لی۔ لیکن آگے چل کر مادہ پرستوں نے روح و نفس کی باطنی خصوصیات کو تو نفسیات یا سائیکالوجی وغیرہ کے عنوانات کے ساتھ قبول کر لیا لیکن روح و نفس کا انکار کر دیا۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ اس غلطی کی وجہ یہ بنی کہ یونانی فلسفیوں نے باطنی خصوصیات کا تذکرہ تو کیا لیکن وہ انسان کے باطن یا روح و نفس کی شناخت قائم نہ کر سکے انہوں نے انسان کو ذہن و روح و جسم کا مرکب تو قرار دیا لیکن وہ اسے ثابت نہ کر سکے لہٰذا ان کے بعد آنے والے مادہ پرستوں نے انسان کے باطنی تشخص کو غیر مرئی مفروضہ قرار دے کر علم کی حدود سے خارج کر دیا۔