علم فلکیات اور مسلمان محققین
اسپیشل فیچر
٭ ابراہیم بن جندب نے فلکیات کے مشاہدے کے لیے دوربین ایجاد کی ٭ احمد بن سجستانی نے زمین کی گردش کا نظریہ پیش کیا ٭ احمد کثیر الفرغانی نے زمین کا محیط معلوم کیاکہا جاتا ہے کہ یورپ نے فلکیات کی مشعل مسلمانوں سے حاصل کی اور مغربی دنیا کو منور کر دیا لیکن یہ اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیا کہ علم کی یہ روشنی کہاں سے آئی۔ اس حقیقت کا اعتراف دنیا کے مشہور دانش وروں نے اپنے اپنے طور پر کیا ہے کہ مسلمان سائنس دانوں نے ہی مشاہدی تجربات اور تحقیقات کی بنیاد ڈالی۔ ہٹی (Hitti) نے اپنی کتاب \"A short story of Arab\" میں لکھا ہے کہ قرون وسطیٰ میں کسی قوم نے انسانی ترقی میں اتنا حصہ نہیں لیا جتنا کہ مسلمانوں نے۔ ہینری پرمنے (Henri Pirmne) نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے کرہ ارض کی شکل ہی بدل دی۔اب سوال یہ ہے کہ پھر تمام فلکیاتی ترقیاں یورپ سے منسوب کیوں کر ہیں۔ یورپ میں اسلامی فلکیاتی ذخیرہ دراصل بغداد کی بیت الحکمہ نام کی انجمن کے ذریعے پہنچا اس انجمن کو 1832 میں بغداد کی حکومت نے قائم کیا تھا اور اس میں عربوں کی تصنیف شدہ کتابیں لاطینی (Latin) یونانی (Greek) وغیرہ زبانوں میں منتقل کی جاتی تھیں شاید اس کام کا مقصد یورپ میں بھی اپنا نام روشن کرنا تھا لیکن ہوا یہ کہ سب گم نامی کے اندھیروں میں کھو گئے اور اہل یورپ نے اس سے استفادہ کر کے تمام دنیا کو منور کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔جب مسلمان ماہرین فلکیات کی کتابیں یورپ پہنچی تو انہوں نے یہ خطرناک کام انجام دیا کہ ان کے مصنف کے ناموں میں تبدیلی کر کے انہیں یوروپی انداز میں ڈھال کر پیش کیا۔ مثلاً ابن رشد، (Averroes)۔ بوعلی سینا، (Avicenna) اور موسیٰ بن میمون کو (Memunides) لکھا گیا۔ اسی طرح کئی اور ناموں میں بھی تبدیلی کر دی گئی۔ اس سے لوگوں میں یہ تبدیل ہوئے نام مشہور ہوئے۔ درحقیقت اہل یوروپ کی یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہی تھی۔ کہ دنیائے سائنس سے مسلمانوں کی خدمات کے علاوہ ان کے ناموں سے بھی دور رکھا جائے۔ ان کی یہ کوشش کافی حد تک کام یاب بھی رہی لیکن ایسے سیکڑوں تاریخی حوالے دست یاب ہوئے ہیں جو یہ تصدیق کرتے ہیں کہ بلاشبہ عرب مسلمانوں کے ذریعے ہی سائنس اور فلکیات کا سیلاب آیا اور ساری دنیا میں پھیل گیا آج کا جدید فلکیات بھی دراصل مسلمانوں کی تعمیر کردہ بنیاد پر منحصر ہے۔مسلمان فلکیاتی ماہرین کی خدمات کا تعارف اس طرح ہے۔776 میں ابراہیم بن جندب نے سب سے پہلے عجائب الفلک کے مشاہدے کے لیے دوربین ایجاد کی تھی۔ دنیا کا پہلا ماہر فلکیات تھا احمد بن سجستانی جس نے گردش زمین کا نظر یہ پیش کیا تھا۔جابر بنانی نے سورج کی گزرگاہ کا جھکاؤ ساڑھے تئیس درجہ کی جگہ تئیس درجہ 35منٹ دریافت کیا تھا۔ احمد کثیر الفرغانی نے اپنے طریقہ سے زمین کے محیط کی پیمائش معلوم کی جو مسلمہ محیط سے بہت قریب ہے۔ ابن یونس صوفی نے اپنی کتاب ’’الشفائ‘‘ میں حرکت کا قانون بیان کیا ہے اس قانون کو یورپ نے بوعلی سینا کے پانچ سال بعد نیوٹن کی ایجاد کے طور پر ساری دنیا میں مشہور کرا دیا۔ماہر علم فلکیات ابو الوفا بوز جانی (وفات 1011) نے ثابت کیا کہ سورج میں کشش ہوتی ہے اور سورج کی کشش سے اس کی گردش کرتا ہے اس نے یہ بھی بتایا کہ چاند کی گردش زمین کے گرد ہوتی ہے اور سورج کی کشش سے اس کی گردش میں خلل پڑ جاتا ہے۔ اسی کو چاند کا گھٹنا اور بڑھنا کہا جاتا ہے۔ اس کو سولہویں صدی کے سائنس داں ٹائکو براہی (Tycobrahi) سے منسوب کرا دیا گیا۔علم فلکیات کا ماہر اور جغرافیہ داں ابو ریحان البیرونی نے زمین کی محیط کی پیمائش معلوم کی تھی، البیرونی نے سورج کے مشاہدے کے بعد ارض البلد اور طول البلد معلوم کرنے کا طریقہ ایجا د کیا تھا جس میں سورج کے فاضل راسی اور میلا کے ذریعے عرض البلاد نکالنے کے عام طریقوں کا بیان ہے۔ البیرونی نے زمین کی محوری گردش کو بھی بیان کیا ہے۔عمر خیام کو لوگ فلسفی اور شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ لیکن علم ہیئت میں اس کے ماہر ہونے کو کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ اس نے شمسی سال کی جو تعداد معلوم کی وہ دور جدید کے علماء کی تحقیق سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔ صرف 48 سیکنڈ کا فرق ملتا ہے۔ خیام نے شمسی سال 365 دن 5 گھنٹے 49 منٹ کا حساب کیا۔ اور جدید تحقیق سے 365 دن 5 گھنٹے 49 منٹ اور 48 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ محمد بن محمد ادریس دنیا کا سب سے پہلا عظیم جغرافیہ داں ہے جس نے اپنی مشہور و معروف تصنیف ’’نذھت المشتاق فی احتراق الافاق‘‘ میں پہلی بار دنیا کے گول ہونے کی بات لکھی تھی۔عبد الرحمن خازن نے انکشاف کیا کہ کسی چیز کا وزن سطح زمین پر جتنا ہوتا ہے وہ ہوا میں اس سے کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کا وزن پانی میں کم ہو جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ زمین کے چاروں طرف ہوا کا غلاف اس لیے ہے کہ زمین اس کو اپنی طرف کھنچتی ہے چناں چہ زمین سے جتنا اوپر ہوتے جاتے ہیں ہوا کم ہوتی جاتی ہے۔قزدینی (وفات 1283) نے زمین کے اپنے محور پر سورج کے اطراف گھومنے اور اس کی وجہ سے موسم بدلنے کا انکشاف کیا۔ قزدینی نے یہ بھی کہا کہ چاند زمین اور سورج کے ارد گرد گھوم رہا ہے اس نے یہ بھی کہا کہ سورج از خود بھی حرکت میں ہے۔ان کے علاوہ کچھ ایسی بھی دریافتیں ہوئی ہیں جن کا تاریخی پس منظر ہمارے سامنے نہیں ہے لیکن وہ یورپی ماہرین فلکیات کے ناموں سے منسوب کی جاتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی کھوج کی جائے۔ اور ان کو مع ثبوت دنیا کے سامنے رکھا جائے۔ تاکہ ان عظیم ماہرین کو ان کا واجب حق حاصل ہو سکے۔ اور عالم اسلام کا سر بھی فخر سے اونچا ہو جائے۔مختصر میں مسلمانوں کی فلکیاتی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے۔(1) اجرام سمادی کی حرکات کی زیجوں کا مرتب کرنا۔(2) سب سے پہلے سال کی درست مدت کا تعین کرنا۔(3) چاند کے زیادہ سے زیادہ ارتفاع کا اختلاف دریافت کرنا۔(4) چاند کے اس تیسرے اختلاف کا معلوم کرنا جو آفتاب کے فاصلے سے پیدا ہوتا ہے اور اس جیسے اختلاف حرکت قمر کہتے ہیں اس کا اکثاف 1601 میں ٹیکو براہی سے منسوب کیا جاتا ہے۔(5) استقبال معدل النہار کا ٹھیک معلوم کرنا۔