خوبصورت لان، خوشگوار ماحول

خوبصورت لان، خوشگوار ماحول

اسپیشل فیچر

تحریر : مہوش اکرم


باغبانی کے شوقین افراد کیلئے اہم مشورے
سرسبز و شاداب باغ کسی بھی گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور انسان کو فطرت کے قریب لے آتا ہے۔ موسمِ گرما میں گھروں کے لان خصوصی توجہ کے متقاضی ہو جاتے ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی گرمی، تیز دھوپ اور پانی کی کمی پودوں کی نشوؤنما کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین باغبانی کے مطابق اگر گرمیوں میں چند ضروری اقدامات کر لیے جائیں تو نہ صرف پودے تندرست رہتے ہیں بلکہ پورا باغ موسم بھر اپنی دلکشی برقرار رکھتا ہے۔ مناسب آب پاشی، گھاس کی تراش خراش، کھاد کا استعمال اور موسمی پھولوں کی شجرکاری ایسے آسان کام ہیں جو باغ کو رنگوں اور خوشبوؤں سے بھر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے چند اہم تدابیر پر عمل کر کے ہر شخص اپنے باغ کو گرمیوں میں بھی خوبصورت اور خوشنما رکھ سکتا ہے۔
موسمِ گرما وہ وقت ہوتا ہے جب گھر کا باغ واقعی گھر ہی کا ایک خوبصورت اور جاندار حصہ بن جاتا ہے۔ کھلے آسمان تلے کھانے کھانے ہوں، دوست احباب کے ساتھ باربی کیو کا اہتمام کرنا ہو یا دھوپ بھری شام میں جھولے پر بیٹھ کر سکون کے چند لمحات گزارنے ہوں، باغ اپنی پوری رعنائی کے ساتھ زندگی میں تازگی اور خوشی کے رنگ بھر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں باغ کی مناسب دیکھ بھال اور تیاری بے حد ضروری سمجھی جاتی ہے۔
جون کا مہینہ باغبانی سے متعلق ان کاموں کو مکمل کرنے کا بہترین ہے جو آنے والے مہینوں میں باغ کو خوبصورت، پرسکون اور دلکش بنائے رکھتے ہیں۔ ماہرین باغبانی کے مطابق اگر چند ضروری اقدامات کر لیے جائیں تو پورے موسم میں رنگ برنگے پھولوں اور سرسبز پودوں کی بہار قائم رکھی جا سکتی ہے۔
پودے مرحلہ وار لگائیں
ماہرین کے مطابق موسمِ گرما میں کھلنے والے پھولوں کے بلب ایک ہی وقت میں لگانے کے بجائے مرحلہ وار لگائیں۔ ہر ہفتے چند بلب لگانے سے پورے موسم میں مسلسل پھول کھلتے رہتے ہیں اور باغ کی رونق برقرار رہتی ہے۔ اگرچہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، تاہم ڈاہلیا اور گلیڈیولس جیسے خوبصورت اور مقبول پھول ابھی بھی لگائے جا سکتے ہیں، جو گرمیوں میں باغ کو رنگوں اور خوشبوؤں سے بھر دیتے ہیں۔
غیر ضروری پودوں کو اکھاڑ دیں
سوکھے یا غیر ضروری پودوں کو ہٹانا اور جڑی بوٹیوں کی صفائی کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو کسی پیشہ ور مالی کی خدمات حاصل کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہر مالی خصوصی آلات کی مدد سے یہ کام زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں انجام دے سکتے ہیں، جس سے باغ کی صفائی اور تزئین و آرائش کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔
پودوں کی تراش خراش کریں
پودوں کی تراش خراش بھی اس موسم میں بہت ضروری ہے۔ دیر سے پھول دینے والے پودوں کی شاخوں کو ترتیب دینا اور غیر ضروری حصوں کو کاٹنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ مناسب تراش خراش سے پودوں کی نشوؤنما بہتر ہوتی ہے اور وہ زیادہ خوبصورتی کے ساتھ پھول دیتے ہیں۔
لان کو بہترین حالت میں رکھیں
خراب یا بے رونق پودے پورے لان کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لان کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تاکہ پورے موسمِ گرما میں یہ سرسبز اور دلکش نظر آئے۔
لان کی اچھی نگہداشت کیلئے گھاس کو مناسب غذائیت فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے معیاری کھادوں اور منظور شدہ مصنوعات کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ گھاس کو درکار تمام غذائی اجزا مل سکیں۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے پانی دینا اور وقتاً فوقتاً گھاس کی کٹائی کرنا بھی اس کی صحت اور خوبصورتی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔مزید برآں، لان پر پڑے ہوئے خشک پتوں، ٹہنیوں اور دیگر کچرے کوصاف کرتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ مٹی کی صحت اور گھاس کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مناسب توجہ اور دیکھ بھال سے آپ کا لان پورے باغ کی دلکشی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
ڈیک اور صحن کی صفائی کریں
گھر کے بیرونی حصے میں موجود پختہ صحن اگر گندے یا خراب حالت میں ہوں تو وہ پورے باغ کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی ان کی اچھی طرح صفائی کرنا ایک سادہ مگر مؤثر اقدام ہے۔ اگر میل کچیل بہت زیادہ جمع ہو چکا ہو یا اس سے سطح کو نقصان پہنچا ہو تو پیشہ ورانہ صفائی کروانا بہتر رہتا ہے۔ صفائی کے بعد لکڑی یا فرش پر تازہ رنگ، پالش یا دھوپ سے بچاؤ کیلئے مخصوص حفاظتی مواد لگانے سے نہ صرف جگہ کی خوبصورتی بحال ہوتی ہے بلکہ یہ گرمیوں کے موسم کے اثرات سے بھی محفوظ رہتی ہے۔
کیاریوں اور کناروں کو سنواریں
صاف ستھرے اور نفاست سے بنائے گئے کنارے لان کی مجموعی خوبصورتی میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ لان اور پھولوں کی کیاریوں کے درمیان بیلچے یا کنارے تراشنے والے آلے کی مدد سے واضح اور سیدھی لکیر بنائی جائے تو باغ فوراً زیادہ منظم اور پیشہ ورانہ انداز کا دکھائی دینے لگتا ہے۔اسی طرح کیاریوں میں درختوں کی چھال کی تازہ تہہ بچھانے سے مٹی کی بے ترتیبی چھپ جاتی ہے اور جڑی بوٹیوں کی افزائش بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہ سادہ سا اقدام باغ کو صاف، نفیس اور پورے موسمِ گرما کیلئے دلکش بنائے رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
باغبانی کے اوزار تیز کر لیں
اپنے باغبانی کے اوزاروں کی دیکھ بھال کیلئے کچھ وقت ضرور نکالیں۔ خاص طور پر قینچیوں اور شاخ تراشنے والے آلات کو اچھی طرح تیز کر لیں، کیونکہ کند اوزار پودوں کی شاخوں کو صاف انداز میں کاٹنے کے بجائے انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس سے پودوں میں بیماریوں اور کیڑوں کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تیز اور معیاری اوزار نہ صرف کام کو آسان بناتے ہیں بلکہ پودوں کی صحت اور خوبصورتی برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’کونکورڈ کا جانشین‘‘ناسا کا نیا سپرسونک طیارہ ’’ایکس59‘‘

’’کونکورڈ کا جانشین‘‘ناسا کا نیا سپرسونک طیارہ ’’ایکس59‘‘

247 ملین ڈالر مالیت کے طیارہ کی پہلی سپرسونک آزمائشی پروازانسان نے ہمیشہ فاصلے سمیٹنے اور سفر کو تیز تر بنانے کا خواب دیکھا ہے۔ بیسویں صدی میں کونکورڈ طیارے نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا، مگر شور، اخراجات اور ماحولیاتی خدشات کے باعث اس کی پروازیں بند ہو گئیں۔ اب ایک بار پھر تیز رفتار فضائی سفر کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ناسا کا جدید سپرسونک طیارہ، جسے ''کونکورڈ کا جانشین‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، نہ صرف آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ روایتی سونک بوم کی بلند اور پریشان کن آواز کو بھی نرم ''تھمپ‘‘ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں بین الاقوامی فضائی سفر پہلے سے کہیں زیادہ تیز، آرام دہ اور مؤثر ہو جائے گا۔ناسا کا 247 ملین ڈالر مالیت کا ''کونکورڈ کا جانشین‘‘ کہلانے والا طیارہ اپنی پہلی سپرسونک آزمائشی پرواز5جون کو کر چکا ہے۔ یہ طیارہ 1,218 میل فی گھنٹہ (1,960 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے، جس کی بدولت لندن اور نیویارک کے درمیان سفر کا دورانیہ صرف چار گھنٹے تک محدود ہو سکتا ہے۔ تاہم، کونکورڈ کے برعکس ناسا کے تجرباتی طیارے ''ایکس 59‘‘ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ سونک بوم کی کان پھاڑ دینے والی دھماکہ خیز آواز کے بجائے نسبتاً نرم ''تھمپ‘‘ پیدا کرے گا۔''ایکس59‘‘ گزشتہ سال اکتوبر میں پہلی بار متعارف کرائے جانے کے بعد سے مختلف آزمائشی پروازوں سے گزر چکا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ وہ طیارے کو زیادہ رفتار اور زیادہ بلندی پر پرواز کیلئے تیار کر رہا ہے، جس میں آواز کی رفتار سے تیز پہلی آزمائشی پرواز بھی شامل ہے۔رواں ماہ میں شروع ہونے والے نئے تجربات کے دوران خلائی ادارہ ''ایکس 59‘‘ کو 43 ہزار فٹ کی بلندی پر 630 میل فی گھنٹہ (1,014 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ رفتار پر اڑانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے بعد ایک ''مشن کنڈیشنز فلائٹ‘‘ ہوگی، جس میں یہ طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر 925 میل فی گھنٹہ (1,490 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار حاصل کرے گا۔ آخر میں پائلٹ 60 ہزار فٹ کی بلندی پر طیارے کو اس کی انتہائی حد تک لے جائیں گے۔ یہ بلندی اور رفتار عام مسافر بردار طیاروں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہوگی۔''ایکس59‘‘ کو خاص طور پر ایک ایسے بڑے مسئلے کے حل کیلئے تیار کیا گیا ہے جو اس وقت سپرسونک فضائی سفر کے وسیع استعمال کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جب کوئی طیارہ آواز کی رفتار سے کم (سب سونک) رفتار پر پرواز کرتا ہے تو وہ اپنے سامنے موجود ہوا کو اسی طرح دھکیلتا ہے جیسے پانی میں چلتی ہوئی کشتی پانی کو چیرتی ہے، جس سے آواز کی لہروں کی صورت میں ارتعاشات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شے آواز کی رفتار تک پہنچ جاتی ہے تو وہ ان آوازی لہروں سے آگے نکلنے لگتی ہے۔ نتیجتاً یہ لہریں ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر ایک طاقتور جھٹکوں والی لہر (شاک ویو) میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپرسونک طیارے مسلسل شاک ویوز پیدا کرتے رہتے ہیں، جنہیں زمین پر موجود لوگ ایک انتہائی بلند اور دھماکے جیسی آواز، یعنی ''سونک بوم‘‘ کی صورت میں سنتے ہیں۔ چونکہ یہ سونک بوم تقریباً 110 ڈیسیبل تک بلند ہو سکتا ہے، جو کسی شور شرابے والے راک میوزک کنسرٹ کی آواز کے برابر ہے، اس لیے گنجان آباد علاقوں کے اوپر سپرسونک پروازوں پر عموماً پابندی عائد ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے ناسا نے ''کوائٹ سپرسونک ٹیکنالوجی‘‘ تیار کرنے پر کام کیا ہے، جس کا مقصد سونک بوم کی تیز دھماکہ خیز آواز کو کم کرکے ایک ہلکی اور مدھم ''تھمپ‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ طیارہ امریکی فضائی و خلائی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے، جسے 2016ء میں ناسا کی جانب سے 247.5 ملین ڈالر مالیت کا ڈیزائن کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔ ''ایکس59‘‘ کا ڈیزائن روایتی طیاروں سے یکسر مختلف ہے۔ اس کی ساخت کے ہر حصے کو اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ سونک بوم کی طاقت منتشر ہو جائے اور اس کی آواز نمایاں طور پر کم ہو جائے، جس سے مستقبل میں سپرسونک سفر کو زیادہ محفوظ، قابلِ قبول اور عام بنایا جا سکے گا۔ کونکورڈ کی تاریخکونکورڈ ایک ٹربو جیٹ سے چلنے والا سپرسونک مسافر طیارہ تھا، جو 1976ء سے 2003ء تک استعمال میں رہا۔ یہ طیارہ آواز کی رفتار سے دو گنا سے بھی زیادہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، یعنی میخ 2.04 کی رفتار سے پرواز کرتا تھا، جو تقریباً 1,354 میل فی گھنٹہ (2,180 کلومیٹر فی گھنٹہ) بنتی ہے۔ اس میں 128 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔کونکورڈ نے پہلی بار 1969ء میں پرواز کی، تاہم اسے بطور تجارتی مسافر طیارہ قابلِ استعمال بنانے کیلئے مزید آزمائشی مراحل سے گزرنا پڑا۔ 1976ء میں یہ باقاعدہ سروس میں شامل ہوا۔ یہ تاریخ میں صرف دو ایسے سپرسونک مسافر بردار طیاروں میں سے ایک تھا جنہیں تجارتی طور پر استعمال کیا گیا۔ دوسرا سوویت یونین کا تیار کردہ طیارہ ''ٹوپولیف ٹی یو144‘‘ تھا، جو 1970ء کی دہائی میں کچھ عرصے کیلئے مسافروں کیلئے استعمال ہوا لیکن تکنیکی مسائل کے باعث جلد ہی سروس سے ہٹا لیا گیا۔کونکورڈ کو مشترکہ طور پر فرانسیسی کمپنی ''Aérospatiale‘‘ اور ''برٹش ایئر کرافٹ کارپوریشن‘‘ نے ایک اینگلو فرنچ معاہدے کے تحت تیار کیا تھا۔ 2000ء میں اس کے واحد حادثے، 2001ء میں11 ستمبر کے حملوں کے بعد فضائی سفر کی طلب میں کمی، اور اس کے ساتھ ساتھ ایئر بس کی جانب سے مرمت اور سپورٹ بند کرنے کے فیصلے نے اس کی سروس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ کونکورڈ کو 2003ء میں ریٹائر کر دیا گیا ۔یہ پہلا طیارہ نہیں تھا جس نے آواز کی رفتار کو عبور کیا ہو۔ یہ اعزاز امریکی طیارے ''بیل ایکس1‘‘ کو بھی حاصل ہے، جسے اکتوبر 1947ء میں کامیابی سے اڑایا گیا۔ راکٹ انجن سے چلنے والا یہ طیارہ 1945ء میں تیار کیا گیا تھا۔ اس نے تقریباً 700 میل (1,127 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔منفرد ڈیزائن''ایکس59‘‘ کا سب سے نمایاں فرق اس کا عام جیٹ طیاروں سے مختلف ڈیزائن ہے۔ خاص طور پر اس کی لمبی اور باریک نوکیلی ناک، جو طیارے کی مجموعی لمبائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتی ہے اور شاک ویو کو توڑنے کیلئے خاص طور پر تیار کی گئی ہے۔ اس منفرد ڈیزائن کا ایک بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ کاک پٹ طیارے کے درمیانی حصے میں واقع ہے اور اس میں سامنے کی طرف دیکھنے والی کوئی کھڑکی موجود نہیں۔ پائلٹ کو سامنے کا منظر دیکھنے کیلئے کیمروں اور آگمینٹڈ ریئلٹی ڈسپلے پر مشتمل نظام استعمال کرنا پڑتا ہے، جسے ایکسٹرنل وژن سسٹم کہا جاتا ہے۔ رفتار اور بلندی کے نئے اہداف حاصل کرنا کوائٹ سپرسونک ٹیکنالوجی کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہی وہ معیار ہیں جن کے ذریعے ناسا اس طیارے کو مستقبل میں امریکی آبادیوں کے اوپر پرواز کیلئے تیار کرنا چاہتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

بحری جنگ ''مڈوے‘‘ کا خاتمہدوسری جنگ عظیم کے دوران ایک بہت بڑی بحری لڑائی لڑی گئی جسے ''مڈوے جنگ‘‘ بھی کہا جاتاہے۔اس جنگ کا آغاز پرل ہاربر پر جاپان کے حملے کے چھ ماہ بعد 4جون 1942ء کو ہوا۔امریکہ نے اپنے ماہر اور قابل ایڈمرلز کی سربراہی میں امپیریل جاپان کی بحریہ کو مڈوے اٹول کے شمال میں 7جون1942ء کوشکست دی۔جاپان کی شکست کے ساتھ ہی جنگ کا اختتام بھی ہوا۔فوجی تاریخ دان جان کیگن نے اسے بحری جنگ کی تاریخ کا سب سے حیران کن اور فیصلہ کن معرکہ قرار دیا۔جمیکا میں خوفناک زلزلہ7جون1692ء کو جمیکا میں ایک خوفناک زلزلہ آیا۔جس سے شہر کا بیشتر حصہ سمندر کے نیچے ڈوب گیا اور دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک جمیکا کی پورٹ رائل کو بھی شدید نقصان پہنچا۔اس خوفناک حادثے کے نتیجے میں تقریباً2ہزار افراد ہلاک ہوئے۔بعدازاں زخمی ہونے والے مزید3ہزار افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔جمیکا میں آنے والا یہ زلزلہ آج بھی اس خطے کا بدترین حادثہ تصور کیا جاتا ہے۔ویڈیو ریکارڈنگ نظام بیٹامیکس متعارفسونی نے بیٹا میکس کے نام سے ایک نیا ویڈیو ریکارڈنگ نظام متعارف کرایا۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت صارفین پہلی بار ٹیلی ویژن پروگراموں کو ریکارڈ کرکے بعد میں دیکھنے کے قابل ہوئے۔ بیٹا میکس اپنے دور میں اعلیٰ تصویری معیار کے باعث خاصی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا، تاہم بعدازاں وی ایچ ایس (VHS) فارمیٹ کے ساتھ سخت مقابلے میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود بیٹا میکس کو ویڈیو ریکارڈنگ ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔اخبار ''گزیٹا دے بیونس آئرس‘‘ کی پہلی اشاعت1810ء میں آج کے روزاخبار ''گزیٹا دے بیونس آئرس‘‘ کا پہلا شمارہ شائع ہوا، جو ارجنٹینا کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ یہ اخبار مئی 1810ء کے انقلاب کے بعد نئی حکومت کے سرکاری ترجمان کے طور پر جاری کیا گیا تھا۔اخبار کا مقصد حکومتی فیصلوں، سیاسی حالات اور عوامی معاملات سے متعلق معلومات شہریوں تک پہنچانا تھا۔ ''گزیٹا دے بیونس آئرس‘‘ نے آزادی کی تحریک کے نظریات کو فروغ دینے اور عوامی شعور بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔المناک فضائی حادثہ1989ء میں سورینم ایئرویز فلائٹ 764‘‘ اس وقت تباہ ہو گئی جب وہ ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی کوشش کر رہی تھی۔ تحقیقات کے مطابق پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے طیارہ رن وے کے قریب زمین سے ٹکرا گیا اوراس میں آگ بھڑک اٹھی۔طیارے میں سوار 187 افراد میں سے 176 ہلاک ہو گئے۔ یہ سانحہ سورینام کی تاریخ کے بدترین فضائی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے نے ہوا بازی کے شعبے میں حفاظتی اصولوں،پائلٹ کی تربیت اور لینڈنگ کے طریقہ کار پر ازسرِنو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

درختوں کا عاشق، زمین کا محافظ

درختوں کا عاشق، زمین کا محافظ

اکیلے شخص کا ایک دن میں 45 ہزار سے زائد پودے لگا نے کا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی آج دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔ ایسے حالات میں وہ افراد امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں جو ماحول کے تحفظ کیلئے غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ حال ہی میں کینیڈا کے ایک شہری نے ایک ہی دن میں 45 ہزار سے زائد مینگروو پودے لگا کر نیا ریکارڈ قائم کیا اور درختوں سے اپنی بے مثال محبت کا عملی ثبوت دیا۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ماہر ماحولیات انٹوئن موزیس (Antoine Moses ) کینیا کے ساحلی شہر ممباسا کے کیچڑ زدہ ساحلی علاقے میں تقریباً 24 گھنٹے مسلسل مینگروو کے پودے لگانے میں مصروف رہے۔ وہ جھکی ہوئی کمر اور تھکے ہوئے جسم کے باوجود ایک کے بعد ایک پودا زمین میں نصب کرتے رہے۔ سخت مشقت اور تھکا دینے والے کام کے باوجود ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ ہاتھوں میں مینگروو کے ننھے پودے اور سر پر دھوپ سے بچاؤ کیلئے ٹوپی سجائے، انہوں نے صبح سے رات تک مسلسل محنت جاری رکھی۔ انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران 47,460 مینگروو پودے لگا کر ایک فرد کے ہاتھوں سب سے زیادہ مینگروو درخت لگانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔قدرت اور ماحول سے گہری محبت رکھنے والے انٹوئن موزیس کیلئے یہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کا دوسرا اعزاز ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2021ء میں بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جب انہوں نے کینیڈا کے صوبے البرٹا کے علاقے لاکریٹ میں 24 گھنٹوں کے دوران 23,060 درخت لگا کر ایک فرد کے ہاتھوں سب سے زیادہ درخت لگانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اب انہوں نے مینگروو کے 47,460 پودے لگا کر اپنا ہی ریکارڈ مزید شاندار انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ ان کی یہ کامیابی ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ اور زمین کو سرسبز بنانے کیلئے ان کی غیر معمولی وابستگی اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اپنی دوسری عالمی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انٹوئن موزیس نے گنیز ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو میں کہا کہ دوسرا عالمی اعزاز حاصل کرنا میرے لیے انتہائی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے، خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ اس منصوبے کے مقامی ساحلی آبادیوں، سمندری ماحولیاتی نظام اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ میرے لیے اس کامیابی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ ایک بہت بڑے ماحولیاتی مشن کا حصہ ہے۔انٹوئن موزیس کے مطابق ان کا مقصد محض عالمی ریکارڈ قائم کرنا نہیں بلکہ شجرکاری اور مینگروو جنگلات کے فروغ کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی اور ساحلی علاقوں کے قدرتی نظام کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ دنیا بھر کے لوگوں کیلئے ایک مثبت پیغام ہے کہ انفرادی کوششیں بھی ماحول کے تحفظ میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتی ہیں۔انٹوئن موزیس گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے شجرکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق عالمی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے درکار رفتار اور مہارت حاصل کرنے میں انہیں چار سے پانچ سال لگے۔ انہوں نے 2023ء میں گنیز ورلڈ ریکارڈز کو بتایا کہ کینیڈا میں شجرکاری ایک بڑی صنعت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے کاٹے جانے والے ہر درخت کے بدلے نیا درخت لگانا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے ان کے اندر فطرت اور ماحولیات سے محبت کو پروان چڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ 2021ء میں اپنی زندگی میں 15 لاکھ سے زائد درخت لگانے اور اپنی تکنیک، رفتار اور جسمانی برداشت کو بہتر بنانے کیلئے برسوں محنت کرنے کے بعد عالمی ریکارڈ توڑنا ایک ناقابلِ یقین احساس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں تھا کہ میں نے ایسا کارنامہ انجام دیا جو اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ درخت لگانا جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مشقت طلب کام ہے، میری محنت، لگن اور عزم کو عالمی سطح پر سراہا جانامیرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔اپنا پہلا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد انٹوئن موزیس نے سوشل میڈیا پر اپنی شجرکاری کی سرگرمیوں اور سفر کی ویڈیوز شیئر کرنا شروع کیں۔ ان کے بقول لوگوں کی جانب سے ملنے والا ردِعمل ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ آج انسٹاگرام پر ان کے 16 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں جو ان کے مشن، طرزِ زندگی اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انٹوئن کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زبردست پذیرائی نے مجھے احساس دلایا کہ میں اس کام کو کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر آگے بڑھا سکتا ہوں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ''انٹوموس‘‘ (Antomos) کے نام سے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے وہ وہ مختلف اداروں اور برانڈز کو دنیا بھر میں شجرکاری اور ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد حقیقی ماحولیاتی بہتری کو مؤثر ابلاغ اور مکمل شفافیت کے ساتھ جوڑنا ہے، تاکہ لوگ نہ صرف درخت لگانے کے عمل میں شریک ہوں بلکہ اس کے مثبت اثرات کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔انٹوئن موزیس کی یہ کوشش اس بات کی مثال ہے کہ جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مثبت سماجی اور ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان کا یہ کارنامہ نہ صرف ایک عالمی ریکارڈ ہے بلکہ ماحول کے تحفظ، ساحلی علاقوں کی بقا اور آنے والی نسلوں کیلئے سرسبز و شاداب زمین چھوڑنے کے عزم کی بھی روشن مثال ہے۔انٹوئن موزیس کی داستان اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مستقل مزاجی، محنت اور ماحول سے محبت انسان کو غیر معمولی کامیابیوں تک پہنچا سکتی ہے، جبکہ شجرکاری نہ صرف زمین کو سرسبز بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر اور محفوظ ماحول بھی فراہم کرتی ہے۔

دیوہیکل بچھوؤں کی پراسرار دنیا بے نقاب

دیوہیکل بچھوؤں کی پراسرار دنیا بے نقاب

سائنسدانوں کے مطابق یہ جاندار زمین کی ابتدائی حیاتیاتی تاریخ کا حصہ تھےزمین کی تاریخ کروڑوں برس پر محیط حیرت انگیز رازوں سے بھری پڑی ہے۔ سائنسدان جب قدیم فوسلز اور چٹانوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ماضی کی ایسی دنیائیں سامنے آتی ہیں جو آج کے انسان کیلئے ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 41کروڑ 50 لاکھ سال قبل موجودہ برطانیہ کے علاقے میں لیبرا ڈور (Labrador) کتے کے برابر جسامت رکھنے والے دیو ہیکل بچھو پائے جاتے تھے۔ یہ خوفناک جاندار اپنے دور کے طاقتور شکاریوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دریافت نے نہ صرف سائنسدانوں کو حیران کیا ہے بلکہ زمین پر زندگی کے ارتقا اور قدیم جانداروں کے بارے میں نئی معلومات بھی فراہم کی ہیں۔ایک نئی تحقیق کے مطابق تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال قبل ایک خوفناک دیوہیکل بچھو جس کی لمبائی 3.2 فٹ (ایک میٹر) تھی، موجودہ برطانیہ کے علاقے میں گھومتا پھرتا تھا۔ یہ بچھو جس کی جسامت لیبراڈور کتے کے برابر تھی اور جس کے طاقتور پنجے 6.3 انچ (16 سینٹی میٹر) سے زیادہ لمبے تھے، ایک انتہائی خطرناک اعلیٰ درجے کا شکاری تھا۔یہ اس وقت کے سیلابی میدانوں میں، جو آج کے انگلینڈ اور ویلز ہیں، اس دور میں موجود تھا جب زمین پر ابھی درخت بھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اسے اپنی نوعیت کا اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا بچھو قرار دیا ہے۔ اس کی جسمانی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خشکی اور پانی دونوں میں آسانی سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ میوزیم کے فوسل آرتھروپوڈز کے کیوریٹر ڈاکٹر رچرڈ جے ہاورڈ کے مطابق جب ہم دیوہیکل آرتھروپوڈز کے بارے میں سوچتے ہیں تو لوگ عموماً بعد کے ادوار کے کاربونی فیرس جنگلات میں پائے جانے والے بڑے ملی پیڈز یا ڈریگن فلائی جیسے کیڑوں کا تصور کرتے ہیں، لیکن یہ اس سے کم از کم 50 ملین سال پہلے موجود تھا، جب زمینی حیات ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جانور کو بچھو کے طور پر تصدیق کرنا ہماری اس سمجھ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتا ہے کہ یہ جاندار کب اور کس طرح اتنے بڑے سائز تک پہنچے۔جن فوسلز کی بنیاد پر ان بچھوئوں کی شناخت کی گئی ہے، وہ دراصل میوزیم میں 150 سال سے زائد عرصے سے محفوظ تھے۔ سائنسدانوں نے جدید سائنسی تجزیاتی طریقوں اور نئے دریافت شدہ فوسل انواع سے موازنہ کر کے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ قدیم جاندار واقعی ایک بچھو ہے اور اپنی نوعیت کی ایک الگ قسم بھی ہے۔یہ جاندار ابتدائی ڈیوونین دور میں جب خشکی پر زندگی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ اس وقت چھوٹے پودے اور فنگس زمین پر پھیلنا شروع ہوئے تھے، جبکہ پیچیدہ زمینی ماحولیاتی نظام جیسے جنگلات ابھی وجود میں نہیں آئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے دیوہیکل آرتھروپوڈز کے برعکس،یہ قدیم جاندار کو اس بلند ماحولیاتی آکسیجن کی سطح سے فائدہ نہیں ملا جو بعد میں جنگلات کے پھیلاؤ سے منسلک تھی۔ اس کے بجائے، اس کی غیر معمولی جسامت ممکنہ طور پر اس ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں بڑے شکاری جانوروں کی تعداد بہت کم تھی، جس کی وجہ سے یہ بچھو اپنے ماحول میں غالب حیثیت اختیار کر سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق، اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یہ جاندار اس وجہ سے اتنا بڑا ہوا کیونکہ اس وقت مقابلہ کرنے والے بڑے شکاری کم تھے، جس نے اسے اپنے ماحول میں برتری حاصل کرنے کا موقع دیا۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس قدیمی جاندار کے پیٹ پر فلیپ نما ساختیں موجود تھیں، جو آج کے کچھ آبی جانداروں جیسے لابسٹر میں پائی جاتی ہیں۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ قدیم جاندار زمین کی تاریخ کے اس اہم دور سے تعلق رکھتا ہے جب جانور پہلی بار سمندر سے باہر خشکی پر زندگی گزارنے کے تجربات کر رہے تھے۔ڈاکٹر گریگ ایجکومب (Dr Greg Edgecombe)، جو نیچرل ہسٹری میوزیم کے ایک ممتاز محقق اور اس تحقیق کے شریک مصنف ہیں، نے کہا کہ اس دور میں خشکی اور سمندر کے درمیان سرحد بہت واضح نہیں تھی۔ ان کے مطابق یہ قدیم جاندار ہمیں یہ سمجھنے میں ایک دلچسپ جھلک فراہم کرتا ہے کہ ابتدائی جاندار بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے مطابق کس طرح ڈھل رہے تھے۔ حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کسی ایسی نسل سے تعلق رکھتا ہو جو ابتدائی طور پر خشکی پر زندگی گزارنے کے بعد دوبارہ پانی میں واپس چلی گئی ہو۔اس جاندار کو پہلی بار 1871ء میں بیان کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے ایک دیوہیکل کرسٹیشین (crustacean) سمجھا گیا تھا، جو کسی لکڑی کے کیڑے (woodlouse) سے مشابہ تھا۔ تاہم، دستیاب فوسلز میں دم جیسے اہم اعضاء کی عدم موجودگی کے باعث ایک صدی سے زائد عرصے تک اس کی درست درجہ بندی ممکن نہ ہو سکی۔ اصل پیش رفت حالیہ برسوں میں دریافت ہونے والے فوسلز کے تقابلی مطالعے سے ہوئی، جس میں بچھوؤں سے متعلق مخصوص جسمانی خصوصیات سامنے آئیں۔ ڈاکٹر رچرڈ نے مزید کہا کہ ایک صدی سے زیادہ پرانے نمونے بھی آج نئے سائنسی انکشافات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید تکنیکوں کے ذریعے ان فوسلز کا دوبارہ مطالعہ زمین پر زندگی کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستانی راکٹ ''رہبر1‘ 6 جون 1962ء کو پاکستان نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلا راکٹ ''رہبر1‘‘ کامیابی سے لانچ کیا۔ یہ تجربہ بلوچستان کے ساحلی علاقے سے انجام دیا گیا۔ اس کامیاب لانچ کے ساتھ پاکستان نہ صرف مسلم دنیا بلکہ جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے خلائی تحقیق کے میدان میں عملی پیش رفت کی۔ اس منصوبے کی قیادت ممتاز سائنس دان ڈاکٹر طارق مصطفی نے کی۔رہبر1 کی کامیابی نے پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور ملک میں خلائی سائنس و تحقیق کے نئے دور کا آغاز کیا۔ پہلا ڈرائیو اِن تھیٹر6جون1933ء کو دنیا کا پہلا ''ڈرائیو اِن تھیٹر‘‘ نیو جرسی میں کھولا گیا۔ ڈرائیو اِن تھیڑ ایک ایسا سینما گھر ہوتا ہے جس میں گاڑیوں کی پارکنگ کے سامنے سکرین نصب کی جاتی ہے جس سے لوگ اپنی کاروں میں رہتے ہوئے فلم دیکھ سکتے ہیں۔ڈرائیو اِن تھیٹر کا افتتاح کیا گیا تو یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ اس سے قبل لوگوں کے دماغ میں صرف ایسے سینما کا ہی تصور تھا جس میں اندھیرے ہال میں کرسیوں پر بیٹھ کر فلم دیکھی جاتی تھی ۔ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر فلم سے لطف اندوز ہونا لوگوں کیلئے منفرد چیز تھی۔''دی گریٹ سیٹل فائر‘‘6جون 1889ء کو سیٹل شہر میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جسے ''دی گریٹ سیٹل فائر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس آگ نے واشنگٹن کے پورے کاروباری مرکز اور ضلع کو تباہ کر کے رکھ دیا۔آگ دوپہر میں لگی اور رات گئے اس پر قابو پایا گیا۔ آ گ ایک ترکھان کی دکان سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے بعد ہنگامی بنیادوں پر شہر کی دوبارہ تعمیر کی گئی تاکہ معمولات زندگی بحال کئے جا سکیں۔ آج بھی اس آگ کو سیٹل شہر کے بدترین حادثے کی طور پر یاد کیا جاتا ہے۔طیاروں کا تصادم6 جون 1971ء کو امریکہ میں ایک ہولناک فضائی حادثہ پیش آیا۔ہیوز ایئرویسٹ فلائٹ 706‘‘امریکی ریاست کیلیفورنیا کے سان گیبریئل مائونٹینز کے اوپر پرواز کے دوران امریکی میرین کور کے ایک جنگی طیارے سے ٹکرا گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ دونوں طیارے تباہ ہو گئے۔ مسافر بردار طیارے میں سوار تمام افراد اور جنگی طیارے کے ایک پائلٹ سمیت مجموعی طور پر 50 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حادثہ امریکی فضائی تاریخ کے المناک فضائی تصادم میں شمار کیا جاتا ہے۔اس سانحے کے بعد فضائی ٹریفک کنٹرول اور فوجی و سول پروازوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کیے گئے۔آپریشن اوورلورڈآپریشن اوورلورڈ نارمینڈی میں لڑی جانے والی جنگ کا کوڈ نام نام تھا۔یہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی افواج کی جانب سے کیا جانے والا آپریشن تھاجس میں جرمنی کے زیر قبضہ مغربی یورپ پر کامیاب حملے کا آغاز کیا گیا۔آپریش کا آغاز6جون1944ء کو نارمینڈی لینڈنگ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ آپریشن میں5ہزار سے زائد بحری جہازوں نے حصہ لیا۔6جون کوایک لاکھ60ہزار فوجیوں نے انگلش چینل عبور کیا اور20لاکھ اتحادی افواج فرانس میں موجود تھیں۔

کوارٹر ہارس ایم کے-1

کوارٹر ہارس ایم کے-1

کیا دنیا میک 5 کی رفتار سے سفر کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟امریکی ایرو سپیس کمپنی Hermeus کے تجرباتی طیارے Quarterhorse Mk 1کی پہلی کامیاب پرواز نے فضائی سفر کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ طیارہ ابھی ابتدائی آزمائشی مراحل میں ہے لیکن اس کی کامیاب پرواز کو مستقبل کے ایسے مسافر بردار جہازوں کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز یعنی میک 5 (Mach5) کی رفتار سے سفر کر سکیں گے ۔کوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی کامیاب پروازگزشتہ برس 21 مئی کو ریاست کیلیفورنیا میں امریکی فضائیہ کے ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے ہوئی۔پرواز کا مقصد طیارے کے ٹیک آف، لینڈنگ، کنٹرول سسٹمز، ایویونکس اور ایروڈائنامکس کی جانچ کرنا تھا۔ کوارٹر ہارس ایم کے1 مستقبل کے ہائپر سانک طیاروں کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔کمپنی کا بنیادی مقصد ایسا مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے جو میک 5 کی رفتار سے پرواز کر سکے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت صرف ایک نئے طیارے کی آزمائش نہیں بلکہ فضائی نقل و حمل میں ایک ممکنہ انقلاب کی بنیاد ہے۔ اگر اس منصوبے میں کامیابی ہو جاتی ہے تو اس صلاحیت کا حامل مسافر بردار طیارہ لندن سے نیویارک کا سفر محض ڈیڑھ گھنٹے کے قریب مکمل کر سکے گا جبکہ موجودہ طیاروں کو یہی فاصلہ طے کرنے میں سات سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔پہلی پرواز کیوں اہم ہے؟کوارٹر ہارس ایم کے 1نے اپنی پہلی پرواز امریکی فضائیہ کے مشہور تجرباتی مرکز ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے کی۔ اس پرواز کا بنیادی مقصد انتہائی تیز رفتار پرواز سے پہلے طیارے کے بنیادی سسٹمز، ایویونکس، لینڈنگ گیئر، کنٹرول سسٹمز اور فضائی استحکام کا جائزہ لینا تھا۔کمپنی کے مطابق ایم کے1 ماڈل کو محض 19 ماہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا،جو جدید ہوابازی کی صنعت میں غیر معمولی رفتار سمجھی جاتی ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ تھی کہ کمپنی روایتی انداز میں کئی سال تحقیق کرنے کے بجائے ''تیار کرو، آزماؤ اور سیکھو‘‘ کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔رفتار اور تکنیکی خصوصیاتبنیادی طور پرایم کے 1 میک 5 کی رفتار کے لیے نہیں بنایا گیا مگر یہ مستقبل میں برق رفتار طیارے بنانے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرنا ہے۔ موجودہ آزمائشی طیارہGE J85 ٹربوجیٹ انجن کا حامل ہے جو بنیادی پرواز اور سسٹمز کی جانچ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔تاہمHermeus کا اصل ہدف ایسے انجن تیار کرنا ہے جو کم رفتار پر عام جیٹ انجن کی طرح کام کریں اور پھر انتہائی تیز رفتار پر رام جیٹ (Ramjet) نظام میں تبدیل ہو جائیں۔ اس ٹیکنالوجی کوTurbine Based Combined Cycle (TBCC) کہا جاتا ہے۔میک 5 کی رفتار تقریباً 6,100 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے اور اس رفتار پر پرواز کرنے والا طیارہ شدید حرارت اور فضائی دباؤ کا سامنا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہائپرسانک طیاروں کی تیاری دنیا کے مشکل ترین انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔سب سے بڑا چیلنجہائپرسانک رفتار پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ انجن نہیں بلکہ حرارت ہوتی ہے۔ جب کوئی طیارہ میک 5 کی رفتار سے فضا میں سفر کرتا ہے تو اس کے اگلے حصے کا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔اس صورتحال میں عام ایلومینیم یا روایتی دھاتی ڈھانچے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے انجینئرز کو خصوصی دھاتوں، جدید کمپوزٹس اور حرارت برداشت کرنے والے مواد کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کوارٹر ہارس پروگرام انہی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ مستقبل کا مسافر بردار طیارہکوارٹر ہارس پروگرام کا حتمی مقصد Halcyon نامی ایک ہائپرسانک مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے۔ کمپنی کے ابتدائی تصورات کے مطابق یہ طیارہ تقریباً 20 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا اور میک 5 کی رفتار سے بین الاقوامی سفر کو موجودہ دور کے مقابلے میں کئی گنا مختصر بنا دے گا۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو نیویارک، لندن، ٹوکیو اور سنگاپور جیسے بڑے شہروں کے درمیان سفر کے اوقات نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے۔تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی سطح پر ہائپرسانک پروازیں شروع ہونے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں کیونکہ رفتار کے ساتھ ساتھ حفاظت، ایندھن کی لاگت، شور، ماحولیاتی اثرات اور سرکاری منظوری جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔مستقبل کی سمتکوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی پرواز اگرچہ ابتدائی قدم ہے لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں سپرسانک اور پھر ہائپرسانک رفتار کے حامل مسافر طیارے بنانے میں کامیابی ہو سکتی ہے اور دنیا ایک بار پھر فضائی سفر کے ایسے انقلاب کی گواہ بن سکتی ہے جس کا خواب کانکورڈ کے دور کے بعد تقریباً ختم ہو چکا تھا۔اب نظریں Quarterhorse کے اگلے ماڈلز پر مرکوز ہیں کیونکہ انہی کی کامیابی یا ناکامی مستقبل کے میک 5 مسافر بردار جہاز Halcyon کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔