خوبصورت لان، خوشگوار ماحول
اسپیشل فیچر
باغبانی کے شوقین افراد کیلئے اہم مشورے
سرسبز و شاداب باغ کسی بھی گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور انسان کو فطرت کے قریب لے آتا ہے۔ موسمِ گرما میں گھروں کے لان خصوصی توجہ کے متقاضی ہو جاتے ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی گرمی، تیز دھوپ اور پانی کی کمی پودوں کی نشوؤنما کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین باغبانی کے مطابق اگر گرمیوں میں چند ضروری اقدامات کر لیے جائیں تو نہ صرف پودے تندرست رہتے ہیں بلکہ پورا باغ موسم بھر اپنی دلکشی برقرار رکھتا ہے۔ مناسب آب پاشی، گھاس کی تراش خراش، کھاد کا استعمال اور موسمی پھولوں کی شجرکاری ایسے آسان کام ہیں جو باغ کو رنگوں اور خوشبوؤں سے بھر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے چند اہم تدابیر پر عمل کر کے ہر شخص اپنے باغ کو گرمیوں میں بھی خوبصورت اور خوشنما رکھ سکتا ہے۔
موسمِ گرما وہ وقت ہوتا ہے جب گھر کا باغ واقعی گھر ہی کا ایک خوبصورت اور جاندار حصہ بن جاتا ہے۔ کھلے آسمان تلے کھانے کھانے ہوں، دوست احباب کے ساتھ باربی کیو کا اہتمام کرنا ہو یا دھوپ بھری شام میں جھولے پر بیٹھ کر سکون کے چند لمحات گزارنے ہوں، باغ اپنی پوری رعنائی کے ساتھ زندگی میں تازگی اور خوشی کے رنگ بھر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں باغ کی مناسب دیکھ بھال اور تیاری بے حد ضروری سمجھی جاتی ہے۔
جون کا مہینہ باغبانی سے متعلق ان کاموں کو مکمل کرنے کا بہترین ہے جو آنے والے مہینوں میں باغ کو خوبصورت، پرسکون اور دلکش بنائے رکھتے ہیں۔ ماہرین باغبانی کے مطابق اگر چند ضروری اقدامات کر لیے جائیں تو پورے موسم میں رنگ برنگے پھولوں اور سرسبز پودوں کی بہار قائم رکھی جا سکتی ہے۔
پودے مرحلہ وار لگائیں
ماہرین کے مطابق موسمِ گرما میں کھلنے والے پھولوں کے بلب ایک ہی وقت میں لگانے کے بجائے مرحلہ وار لگائیں۔ ہر ہفتے چند بلب لگانے سے پورے موسم میں مسلسل پھول کھلتے رہتے ہیں اور باغ کی رونق برقرار رہتی ہے۔ اگرچہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، تاہم ڈاہلیا اور گلیڈیولس جیسے خوبصورت اور مقبول پھول ابھی بھی لگائے جا سکتے ہیں، جو گرمیوں میں باغ کو رنگوں اور خوشبوؤں سے بھر دیتے ہیں۔
غیر ضروری پودوں کو اکھاڑ دیں
سوکھے یا غیر ضروری پودوں کو ہٹانا اور جڑی بوٹیوں کی صفائی کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو کسی پیشہ ور مالی کی خدمات حاصل کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہر مالی خصوصی آلات کی مدد سے یہ کام زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں انجام دے سکتے ہیں، جس سے باغ کی صفائی اور تزئین و آرائش کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔
پودوں کی تراش خراش کریں
پودوں کی تراش خراش بھی اس موسم میں بہت ضروری ہے۔ دیر سے پھول دینے والے پودوں کی شاخوں کو ترتیب دینا اور غیر ضروری حصوں کو کاٹنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ مناسب تراش خراش سے پودوں کی نشوؤنما بہتر ہوتی ہے اور وہ زیادہ خوبصورتی کے ساتھ پھول دیتے ہیں۔
لان کو بہترین حالت میں رکھیں
خراب یا بے رونق پودے پورے لان کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لان کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تاکہ پورے موسمِ گرما میں یہ سرسبز اور دلکش نظر آئے۔
لان کی اچھی نگہداشت کیلئے گھاس کو مناسب غذائیت فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے معیاری کھادوں اور منظور شدہ مصنوعات کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ گھاس کو درکار تمام غذائی اجزا مل سکیں۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے پانی دینا اور وقتاً فوقتاً گھاس کی کٹائی کرنا بھی اس کی صحت اور خوبصورتی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔مزید برآں، لان پر پڑے ہوئے خشک پتوں، ٹہنیوں اور دیگر کچرے کوصاف کرتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ مٹی کی صحت اور گھاس کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مناسب توجہ اور دیکھ بھال سے آپ کا لان پورے باغ کی دلکشی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
ڈیک اور صحن کی صفائی کریں
گھر کے بیرونی حصے میں موجود پختہ صحن اگر گندے یا خراب حالت میں ہوں تو وہ پورے باغ کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی ان کی اچھی طرح صفائی کرنا ایک سادہ مگر مؤثر اقدام ہے۔ اگر میل کچیل بہت زیادہ جمع ہو چکا ہو یا اس سے سطح کو نقصان پہنچا ہو تو پیشہ ورانہ صفائی کروانا بہتر رہتا ہے۔ صفائی کے بعد لکڑی یا فرش پر تازہ رنگ، پالش یا دھوپ سے بچاؤ کیلئے مخصوص حفاظتی مواد لگانے سے نہ صرف جگہ کی خوبصورتی بحال ہوتی ہے بلکہ یہ گرمیوں کے موسم کے اثرات سے بھی محفوظ رہتی ہے۔
کیاریوں اور کناروں کو سنواریں
صاف ستھرے اور نفاست سے بنائے گئے کنارے لان کی مجموعی خوبصورتی میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ لان اور پھولوں کی کیاریوں کے درمیان بیلچے یا کنارے تراشنے والے آلے کی مدد سے واضح اور سیدھی لکیر بنائی جائے تو باغ فوراً زیادہ منظم اور پیشہ ورانہ انداز کا دکھائی دینے لگتا ہے۔اسی طرح کیاریوں میں درختوں کی چھال کی تازہ تہہ بچھانے سے مٹی کی بے ترتیبی چھپ جاتی ہے اور جڑی بوٹیوں کی افزائش بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہ سادہ سا اقدام باغ کو صاف، نفیس اور پورے موسمِ گرما کیلئے دلکش بنائے رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
باغبانی کے اوزار تیز کر لیں
اپنے باغبانی کے اوزاروں کی دیکھ بھال کیلئے کچھ وقت ضرور نکالیں۔ خاص طور پر قینچیوں اور شاخ تراشنے والے آلات کو اچھی طرح تیز کر لیں، کیونکہ کند اوزار پودوں کی شاخوں کو صاف انداز میں کاٹنے کے بجائے انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس سے پودوں میں بیماریوں اور کیڑوں کے حملے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تیز اور معیاری اوزار نہ صرف کام کو آسان بناتے ہیں بلکہ پودوں کی صحت اور خوبصورتی برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔