247 ملین ڈالر مالیت کے طیارہ کی پہلی سپرسونک آزمائشی پروازانسان نے ہمیشہ فاصلے سمیٹنے اور سفر کو تیز تر بنانے کا خواب دیکھا ہے۔ بیسویں صدی میں کونکورڈ طیارے نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا، مگر شور، اخراجات اور ماحولیاتی خدشات کے باعث اس کی پروازیں بند ہو گئیں۔ اب ایک بار پھر تیز رفتار فضائی سفر کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ناسا کا جدید سپرسونک طیارہ، جسے ''کونکورڈ کا جانشین‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، نہ صرف آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ روایتی سونک بوم کی بلند اور پریشان کن آواز کو بھی نرم ''تھمپ‘‘ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں بین الاقوامی فضائی سفر پہلے سے کہیں زیادہ تیز، آرام دہ اور مؤثر ہو جائے گا۔ناسا کا 247 ملین ڈالر مالیت کا ''کونکورڈ کا جانشین‘‘ کہلانے والا طیارہ اپنی پہلی سپرسونک آزمائشی پرواز5جون کو کر چکا ہے۔ یہ طیارہ 1,218 میل فی گھنٹہ (1,960 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے، جس کی بدولت لندن اور نیویارک کے درمیان سفر کا دورانیہ صرف چار گھنٹے تک محدود ہو سکتا ہے۔ تاہم، کونکورڈ کے برعکس ناسا کے تجرباتی طیارے ''ایکس 59‘‘ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ سونک بوم کی کان پھاڑ دینے والی دھماکہ خیز آواز کے بجائے نسبتاً نرم ''تھمپ‘‘ پیدا کرے گا۔''ایکس59‘‘ گزشتہ سال اکتوبر میں پہلی بار متعارف کرائے جانے کے بعد سے مختلف آزمائشی پروازوں سے گزر چکا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ وہ طیارے کو زیادہ رفتار اور زیادہ بلندی پر پرواز کیلئے تیار کر رہا ہے، جس میں آواز کی رفتار سے تیز پہلی آزمائشی پرواز بھی شامل ہے۔رواں ماہ میں شروع ہونے والے نئے تجربات کے دوران خلائی ادارہ ''ایکس 59‘‘ کو 43 ہزار فٹ کی بلندی پر 630 میل فی گھنٹہ (1,014 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ رفتار پر اڑانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے بعد ایک ''مشن کنڈیشنز فلائٹ‘‘ ہوگی، جس میں یہ طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر 925 میل فی گھنٹہ (1,490 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار حاصل کرے گا۔ آخر میں پائلٹ 60 ہزار فٹ کی بلندی پر طیارے کو اس کی انتہائی حد تک لے جائیں گے۔ یہ بلندی اور رفتار عام مسافر بردار طیاروں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہوگی۔''ایکس59‘‘ کو خاص طور پر ایک ایسے بڑے مسئلے کے حل کیلئے تیار کیا گیا ہے جو اس وقت سپرسونک فضائی سفر کے وسیع استعمال کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جب کوئی طیارہ آواز کی رفتار سے کم (سب سونک) رفتار پر پرواز کرتا ہے تو وہ اپنے سامنے موجود ہوا کو اسی طرح دھکیلتا ہے جیسے پانی میں چلتی ہوئی کشتی پانی کو چیرتی ہے، جس سے آواز کی لہروں کی صورت میں ارتعاشات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شے آواز کی رفتار تک پہنچ جاتی ہے تو وہ ان آوازی لہروں سے آگے نکلنے لگتی ہے۔ نتیجتاً یہ لہریں ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر ایک طاقتور جھٹکوں والی لہر (شاک ویو) میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپرسونک طیارے مسلسل شاک ویوز پیدا کرتے رہتے ہیں، جنہیں زمین پر موجود لوگ ایک انتہائی بلند اور دھماکے جیسی آواز، یعنی ''سونک بوم‘‘ کی صورت میں سنتے ہیں۔ چونکہ یہ سونک بوم تقریباً 110 ڈیسیبل تک بلند ہو سکتا ہے، جو کسی شور شرابے والے راک میوزک کنسرٹ کی آواز کے برابر ہے، اس لیے گنجان آباد علاقوں کے اوپر سپرسونک پروازوں پر عموماً پابندی عائد ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے ناسا نے ''کوائٹ سپرسونک ٹیکنالوجی‘‘ تیار کرنے پر کام کیا ہے، جس کا مقصد سونک بوم کی تیز دھماکہ خیز آواز کو کم کرکے ایک ہلکی اور مدھم ''تھمپ‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ طیارہ امریکی فضائی و خلائی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے، جسے 2016ء میں ناسا کی جانب سے 247.5 ملین ڈالر مالیت کا ڈیزائن کنٹریکٹ دیا گیا تھا۔ ''ایکس59‘‘ کا ڈیزائن روایتی طیاروں سے یکسر مختلف ہے۔ اس کی ساخت کے ہر حصے کو اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ سونک بوم کی طاقت منتشر ہو جائے اور اس کی آواز نمایاں طور پر کم ہو جائے، جس سے مستقبل میں سپرسونک سفر کو زیادہ محفوظ، قابلِ قبول اور عام بنایا جا سکے گا۔ کونکورڈ کی تاریخکونکورڈ ایک ٹربو جیٹ سے چلنے والا سپرسونک مسافر طیارہ تھا، جو 1976ء سے 2003ء تک استعمال میں رہا۔ یہ طیارہ آواز کی رفتار سے دو گنا سے بھی زیادہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، یعنی میخ 2.04 کی رفتار سے پرواز کرتا تھا، جو تقریباً 1,354 میل فی گھنٹہ (2,180 کلومیٹر فی گھنٹہ) بنتی ہے۔ اس میں 128 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔کونکورڈ نے پہلی بار 1969ء میں پرواز کی، تاہم اسے بطور تجارتی مسافر طیارہ قابلِ استعمال بنانے کیلئے مزید آزمائشی مراحل سے گزرنا پڑا۔ 1976ء میں یہ باقاعدہ سروس میں شامل ہوا۔ یہ تاریخ میں صرف دو ایسے سپرسونک مسافر بردار طیاروں میں سے ایک تھا جنہیں تجارتی طور پر استعمال کیا گیا۔ دوسرا سوویت یونین کا تیار کردہ طیارہ ''ٹوپولیف ٹی یو144‘‘ تھا، جو 1970ء کی دہائی میں کچھ عرصے کیلئے مسافروں کیلئے استعمال ہوا لیکن تکنیکی مسائل کے باعث جلد ہی سروس سے ہٹا لیا گیا۔کونکورڈ کو مشترکہ طور پر فرانسیسی کمپنی ''Aérospatiale‘‘ اور ''برٹش ایئر کرافٹ کارپوریشن‘‘ نے ایک اینگلو فرنچ معاہدے کے تحت تیار کیا تھا۔ 2000ء میں اس کے واحد حادثے، 2001ء میں11 ستمبر کے حملوں کے بعد فضائی سفر کی طلب میں کمی، اور اس کے ساتھ ساتھ ایئر بس کی جانب سے مرمت اور سپورٹ بند کرنے کے فیصلے نے اس کی سروس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ کونکورڈ کو 2003ء میں ریٹائر کر دیا گیا ۔یہ پہلا طیارہ نہیں تھا جس نے آواز کی رفتار کو عبور کیا ہو۔ یہ اعزاز امریکی طیارے ''بیل ایکس1‘‘ کو بھی حاصل ہے، جسے اکتوبر 1947ء میں کامیابی سے اڑایا گیا۔ راکٹ انجن سے چلنے والا یہ طیارہ 1945ء میں تیار کیا گیا تھا۔ اس نے تقریباً 700 میل (1,127 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔منفرد ڈیزائن''ایکس59‘‘ کا سب سے نمایاں فرق اس کا عام جیٹ طیاروں سے مختلف ڈیزائن ہے۔ خاص طور پر اس کی لمبی اور باریک نوکیلی ناک، جو طیارے کی مجموعی لمبائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتی ہے اور شاک ویو کو توڑنے کیلئے خاص طور پر تیار کی گئی ہے۔ اس منفرد ڈیزائن کا ایک بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ کاک پٹ طیارے کے درمیانی حصے میں واقع ہے اور اس میں سامنے کی طرف دیکھنے والی کوئی کھڑکی موجود نہیں۔ پائلٹ کو سامنے کا منظر دیکھنے کیلئے کیمروں اور آگمینٹڈ ریئلٹی ڈسپلے پر مشتمل نظام استعمال کرنا پڑتا ہے، جسے ایکسٹرنل وژن سسٹم کہا جاتا ہے۔ رفتار اور بلندی کے نئے اہداف حاصل کرنا کوائٹ سپرسونک ٹیکنالوجی کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہی وہ معیار ہیں جن کے ذریعے ناسا اس طیارے کو مستقبل میں امریکی آبادیوں کے اوپر پرواز کیلئے تیار کرنا چاہتا ہے۔