شیر شاہ سوری
اسپیشل فیچر
ہر دور میںاقتدار کے لیے بڑی بڑی جنگیں زور و شور سے لڑی جاتی رہی ہیں۔ ہر طاقت ور نے کم زور کو دَبا کر ا پنی حکومت تو بنالی، لیکن اس منصب کو استقامت کے ساتھ قائم رکھنا بہت کم لوگوں کو نصیب ہُوالیکن کچھ لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو تاریخ میں اَمر کردیا۔اُس کے والدین نے اس کا نام فرید خان رکھا، لیکن تاریخ میں انہیںشیر شاہ سوری کے نام سے جانا جاتاہے۔ وہ اپنے والد کا بڑا بیٹا تھا، لیکن سوتیلی ماں شیرشاہ سوری سے شدید نفرت اور حسد کرتی تھی۔فرید خان اپنی بہادری، فہم و فراست اور معاملہ فہمی کے باعث شیر شاہ بنا۔یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ فریدخان بہار کے حاکم سلطان محمد کے پاس ملازم تھا ۔ایک موقع پر شکار کے دوران فرید خان نے اُس کی جان اُس وقت بچائی ،جب شیر اُس پر حملہ کررہا تھا۔ سلطان محمد نے فرید خان کی بہادری پر اُسے شیر شاہ کا خطاب دیا۔ اُس وقت ابراہیم لودھی تقریباً آدھے ہندوستان کا حکمران تھا۔ ابراہیم لودھی نے ہر علاقے میں اپنے حاکم مقرر کررکھے تھے۔ جونپور کے حاکم امیر جمال خان کے پاس شیر شاہ سوری کے والد حسن خان ملازمت کرتے تھے، امیر جمال خان نے حسن خان کی جرأت و بہادری کی قدر کرتے ہوئے اُسے پانچ سو سپاہیوں کا سالار مقرر کیا اور دو جاگیریں بھی عنایت فرمائیں تھیں۔فرید خان بہت ذہین تھا۔ اُس نے تین برسوں میں فارسی پر عبور اور اَدب، تاریخ اور مذہب میں بھی دسترس حاصل کرلی تھی۔پڑھائی ختم کرنے کے بعد شیر شاہ نے اپنے والد کی دونوں جاگیروں کی باگ ڈور سنبھالی۔ فرید خان کا یہ دور مورخوںکے نزدیک چودہ سو اٹھانوے سے پندرہ سو اٹھارہ عیسوی تک مشتمل ہے ، اسی زمانے میں اُس نے جو کارنامے سر انجام دیے، ان سے ثابت ہوا کہ وہ مستقبل میں زبردست حکمران ثابت ہوگا ۔فریدخان میں ملک کا نظم و نسق چلانے کی زبردست صلاحیتیں تھیں۔ اُس نے پوری جاگیر کو قابل کاشت بنا کر اس کی پیمائش کرائی، نظم و نسق درست کیا، جس کے باعث جاگیر کی آمدنی میں خوب اضافہ ہوگیا۔ پیداوار کا تناسب مقرّر کرکے اس کے حساب سے مالیہ مقرر کیا۔ اس نے مالیہ وصول کرنے والے کارندوں کو سختی سے سمجھادیا کہ وہ کسی کاشت کار سے سختی سے پیش نہ آئیں۔ یوں جاگیر میں خوش حالی اور امن و امان کا دور دورہ شروع ہوگیا اور لوگ شیر خان کو دل و جان سے چاہنے لگے۔ شیر شاہ کی یہ مقبولیت اور ہر دل عزیزی اس کی سوتیلی ماں کو پسند نہ آئی اور اس نے شیر شاہ کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔شیر شاہ اپنی ماں کی سازشوں اور باپ کی بے بسی سے بددل ہو کر اپنے سگے بھائی نظام کے ساتھ آگرہ چلاآیا۔امیر جمال خان فرید خان کا دُشمن ہوچکا تھا کیوں کہ اس نے اس کا مشورہ نہیں مانا تھا کہ دونوں بھائی یعنی فرید خان اور اس کاسوتیلابھائی سلیمان آپس میں جاگیر تقسیم کرلیں ،لیکن قانون کی رو سے جاگیریں بڑے بیٹے فرید خان کی ملکیت تھیں۔ فرید خان نے اپنی حیثیت کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے خوب غور و فکر کے بعد صوبہ بہار کا رُخ کیا۔وہاں شیر شاہ سوری نے جہاں در خان توہانی کی ملازمت اختیار کی جو سلطان محمد کے لقب سے حکومت کررہا تھا اور اسی سلطان محمد کی شیر سے جان بچانے پر اسے شیر شاہ کا لقب دیا اور اس کے منصب میں بھی اضافہ کیا۔شیر خان نے حالات سنبھالنے کے لیے یہی بہترسمجھا کہ وہ واپس اپنی جاگیروں پر چلا جائے۔ اس نے نہ صرف اپنی جاگیریں واپس لیں بلکہ جون پور اور آس پاس کے کچھ علاقوں پر بھی قبضہ جما کر اپنی طاقت کی دَھاک بٹھادی اور اس کے بعد اپریل پندرہ سو ستائیس کو ظہیر الدین بابر کی ملازمت اختیار کی اور اپنی بہادری، محنت اور ذہانت کے بل بہت جلدپر ظہیر الدین بابر کے قریب پہنچ گیا لیکن ظہیر الدین بابر بھانپ گیا کہ شیر شاہ بہت خطرناک آدمی ہے اور وہ مغلوں کو ہندوستان سے نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ (باقی آیندہ)بابر نے شیر شاہ کی کڑی نگرانی کا حکم دیا اور اپنے جاسوس اس کے پیچھے لگادیے۔ شیر شاہ کو معلوم ہوا تو وہ بھاگ کر اپنی جاگیر پر آگیالیکن کچھ عرصے بعدہی اس کا دل یہاں سے اُکتا گیااور وہ دوبارہ سلطان محمد کے پاس چلاگیا۔ سلطان محمداس وقت تک ملک دشمن اور حاسدوں کی چالیں سمجھ چکا تھا۔ اس لیے اُس نے شیر شاہ کی خوب آئو بھگت کی اور اُسے عہدے پر بحال کردیا۔تاہم کچھ عرصے بعد ہی سلطان محمد حاکم بہار کاانتقال ہوگیا۔سلطان محمد کے بعد اس کے بیٹا جلال خان کو،جو ابھی چھوٹا تھا، تخت پر بٹھادیا گیا۔ دوسری طرف ابراہیم لودھی کے بھائی محمود لودھی نے بنگال میں اپنی حکومت بنا رکھی تھی۔ محمود لودھی نے بعض اختلافات کے باعث بہار پر فوج کشی کا حکم صادر فرمایا، مگر اسے شیر شاہ نے شکست فاش دی۔ محمود لودھی نے شیر شاہ کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیا اور جلال خان کے ساتھ مل کر شیر شاہ کے خلاف سازش شروع کردیں۔ شیر شاہ نے ان کی سازشوں کو اپنے پیروں تلے روند کر بہار پر قبضہ کرلیا۔ شیر شاہ سوری نے رفتہ رفتہ اپنی مملکت میں اضافہ شروع کردیا۔ بہت جلد ہی ہندو اور نام نہاد حکمرانوں کا قلع قمع کرکے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مربوط اسلامی حکومت کا نظام قائم کردیا گیا۔شیر شاہ سوری کا دور حکومت صرف پانچ سال(1539ء سے 1545ئ)تک رہا،لیکن اُس نے مختصر سے دورِ اقتدار میں ملک کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں کیں اورعوامی بہبود کے لیے موثر کام سرانجام دیے ۔ سیکڑوں برس گزرنے کے باجود آج بھی عوام اُن سے استفادہ کررہی ہے۔شیر شاہ سوری نے قیام امن، رعایا کی بھلائی، جرائم کا خاتمہ، سلطنت کا استحکام، تجارت میں ترقی، زراعت میں اضافہ اور نظام مالیہ کا اجراء کیا اورچار عظیم سڑکیں تعمیر کرائیں، جن سے آج تک استفادہ حاصل کیا جارہا ہے، پہلی سڑک سنار گائوں جو موجودہ بنگلہ دیش سے شروع ہو کر آگرہ، دہلی اور لاہور سے ہوتی ہوئی دریائے سندھ تک پہنچتی تھی، اسے جرنیلی سڑک کہتے ہیں، اس کی لمبائی ڈیڑھ ہزار کوس تھی، دوسری سڑک آگرہ سے بنارس تک جاتی تھی، تیسری سڑک آگرہ سے جودھ پور تک جاتی تھیں جب کہ چوتھی سڑک لاہور اور ملتان کو ملاتی ہے۔اس کے علاوہ شیر شاہ نے ان سڑکوں پر ایک ہزار سات سو سرائیں تعمیر کروائیں۔ ہر سرائے میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے لیے رہائش اور خوراک کا انتظام الگ الگ تھا۔ ہر سرائے کے ساتھ مسجد اور کنواں تھا، مسجد کے لیے امام کا تقرر کیاجاتا، سامان کی حفاظت کے لیے چوکیدار متعین تھے اور دروازے پرٹھنڈے پانی کے مٹکے رکھے جاتے تھے۔شیر شاہ سوری بے تعصب حکمران تھا، ہندوئوں کو ملازمتیں دے رکھی تھیں، انہیں پوری مذہبی آزادی حاصل تھی، ان کے دیوانی مقدمے ان کی اپنی روایات کے مطابق طے کیے جاتے تھے۔ شیر شاہ سوری کا قول تھا:’’انصاف سب سے بڑا مذہبی فریضہ ہے۔‘‘کالنجر کی مہم اس کی زندگی کی آخری مہم ثابت ہوئی۔ اُس نے نومبر پندرہ سو چوالیس میں کالنجر کا محاصرہ کیا، اس نے فوج کو گولہ بارودکی تیاری کا حکم دیا اور خود نگرانی کرنے لگا۔اس دوران ایک بارودی بھٹی اور بارود خانہ جل گیا۔ جس سے شیر شاہ سوری شدید زخمی ہوا لیکن یہ مردِ مجاہد اس وقت تک زندہ رہا، جب تک اسے قلعہ کالنجر کی فتح کی خبر نہ مل گئی۔ یہ بائیس مئی پندرہ سو پینتالیس کا دن تھا۔ شیر شاہ سوری کا مقبرہ آج بھی سہسرام میں فن تعمیر کا ایک عظیم شاہ کار ہے۔شیر شاہ کے بعد اس کا بیٹا بادشاہ بنا لیکن نہایت ظالم اور سخت گیر ہونے کی وجہ سے وہ حکومت برقرار نہ رکھ سکا، اس کے بعد کئی بادشاہ آئے لیکن کوئی بھی مستحکم حکومت نہ کرسکا اور بالآخر صرف دس سال میں سوری حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔