یامحمد صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نور مجسم
اسپیشل فیچر
نعت خوانی ایسا فریضہ ہے جس کی ادائی کے لیے عمر وسِن کی کوئی قید نہیں،نعت خواں کسی بھی عمر کا ہواس کی عقیدت اور محبت ِ رسول ؐ کلام کو بلندیوں پر لے جاتی ہے کہ وہ ہر خاص و عام میںمقبول ہوجاتا ہے۔پندرہ سالہ عروبہ فاطمہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیںاندازہ ہوا کہ انہوں نے کم سنی میں ہی میں اپنی آواز کا دُرست استعمال کرتے ہوئے نعت خوانی کا آغاز کیا اور انتہائی عقیدت سے یہ کام جاری بھی ہے۔جب سوال کیاگیا کہ پہلی نعت کون سی پڑھی تو کہا کہ ’’یا محمد نورِ مجسّم ‘‘ بہت چھوٹی تھی تو زبان پر خود بہ خود جاری ہوئی۔نعتِ رسولِ مقبولؐ ہماری طرف سے ہمارے رہبر و رہ نما کی شان کا بیان ہے جسے ہر نعت خواںدل کی گہرائی سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ نعت خوانی کا حق ادا کرسکے۔عروبہ بھی انہی نعت خوانوں میں سے ایک ہیںجوکم عمری میںہی یہ حق ادا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان سے مختصر ملاقات کااحوال آپ نوجوانوں کی نذر ہے۔عروبہ فاطمہ 16نومبر1998کو کراچی میںپیدا ہوئیں۔ان کے والد محمد آغا بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ والدہ قمر جہاںہائوس وائف ہیں ۔ ا ن کے دوبڑے بھائی ہیں۔ نعتیں پڑھنے کا شوق عروبہ کو دوسری جماعت سے ہوا ۔ نعت خوانی کا آغاز اپنے گھر ہی سے کیا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اچھی آواز بھی دی ہے اور سوز بھی عطا کیا۔ جب پوچھا گیا کہ کس کا کلام پڑھنا پسند کرتی ہیں تو بتایا کہ قریباً سب ہی شعرائے کرام کو پڑھتی ہوں مگر اعلیٰ حضرت رضا خاںبریلوی کا کلام میرے دل کو چھوتا ہے لہذا زیادہ تر انہی کا کلام پڑھتی ہوں۔انہوںنے بتایا کہ ان کے گھر میں سب ہی کی آواز اچھی ہے اور سب ہی نعت پڑھنے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔عروبہ کہتی ہیںکہ خوب صورت لحن اور آواز انہیں ورثے میں ملی ہے لیکن وہ اپنے خاندان میںواحد ہیں جو میڈیا پر آئیں ۔عروبہ فاطمہ، عائشہ باوانی اکیڈمی کی طالب علم ہیں۔وہ والی بال اور تھرو بال کھیلنے کا بہت شوق رکھتی ہیں اور اسکول کی طرف سے کھیلتی ہیںجب کہ اسکول کی طرف سے مقابلوں میںحصّہ بھی لیتی اور انعامات جیتتی رہی ہیں۔ یو ایس کونسلیٹ میں ارتھ ڈے کے حوالے سے ان کا پوسٹر بھی آویزاں ہے۔ نعت کے کئی مقابلوں میں انعامات بھی حاصل کیے۔ انہوں نے بتایا کہ آل پاکستان نعت کمپٹیشن سے بھی انہیں سرٹیفکیٹ ملا۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد ٹی وی چینلز پر بھی مقابلوں میں حصّہ لیا۔عروبہ کا کہنا ہے کہ وہ اب تک سو سے زاید نعتیں ریکارڈ کرواچکی ہیں اور آنے والے سال کے لیے ایک نعتیہ البم پر بھی کام کررہی ہیں۔عروبہ سے جب پوچھا گیا کہ آنکھیں بند کرکے نعت خوانی کیوں کرتی ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ آنکھیںبند کرتی ہوں تو روضۂ رسولؐ کا تصوّر ذہن میں آتا ہے اور میں محو ہوجاتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ نعت خواں ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اگر آواز اچھی ہے تو اسے پالش بھی کیا جائے۔دراصل آواز تو سبھی کے پاس ہوتی ہے لیکن نعت خوانی میں آواز کے اُتارچڑھائو کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔عروبہ کا ماننا ہے کہ آج کل کئی ادارے نعت خوانی کی تربیت فراہم کررہے ہیں لہٰذا سیکھنا بہت ضروری ہے۔ عروبہ فاطمہ اپنی اُستانی غزالہ عارف کا کلام بھی پڑھتی ہیں اور وہی اُن کی آئیڈیل بھی ہیںجب کہ حوریا فہیم جنہوںنے انہیںبچپن میں سکھایا، اُن کا انداز بھی پسند کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نعت خواں کے لیے ضروری ہے کہ مدحت کرنے والا رسول کریم ؐ سے سچا عشق رکھتا ہو۔ اب نوجوانوں میں نعت خوانی کا رجحان بڑھ رہا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے مگر اسے پیشہ نہ بنائیں۔شہرت اورپیسہ کمانے کے مقصدسے نعت خواں نہ بنیںبلکہ عشقِ رسولؐ ہم پر واجب ہے اور اس عشق کاحق ادا کرنے کی کوشش کریں۔*************************************٭عشقِ رسولﷺ ہم پر واجب ہے،اس حق کو ادا کرنے کی کوشش کریں٭مدحت رسولؐ بیان کرنے والا سچا عاشق ہونا چاہیے٭آنکھیںبند کرتی ہوں تو روضۂ رسولﷺ کا تصوّر آتا ہے اور میں محو ہوجاتی ہوں٭حکمت مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے ،حکمت خواہ منافق سے ملے لے لو٭ادب بہترین کمال اور خیرات افضل ترین عبادت ہے٭ سب سے بہترین لقمہ وہ ہوتا ہے جوا پنی محنت سے حاصل کیا جائے٭رزق کے پیچھے اپنا ایمان خراب نہ کرو کیوں کہ رزق انسان کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے مرنے والے کوموت…٭صبر ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی نہ کسی کے قدموں میں اور نہ کسی کی نظروں میں…٭جس نے کسی کو اکیلے میں نصیحت کی اُس نے اُسے سنوار دیا اور جس نے کسی کو سب کے سامنے نصیحت کی اُس نے اُسے مزید بگاڑ دیا۔