شیر شاہ سوری
اسپیشل فیچر
(دوسرا اور آخری حصّہ)ذہین، بہادر، عزم وہمت اور بے پناہ خود اعتمادی کا حامل حکم رانشیر شاہ سوری نے دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہونے کے بعد بے شمار انتظامی، اصلاحی، عوامی اور اہم ترین فوجی انتظامات و اصلاحات پر توجہ دیفوجی و رہائشی نوعیت کا مشہور زمانہ روہتاس قلعہ کثیر سرمایے سے تعمیر کروایا جو اپنے محل وقوع اور طرز تعمیر کے سبب بے مثال ہے1530 میں شیر شاہ سوری نے محمود لودھی کے ساتھ مل کر مغلوں پر حملہ کیا۔ دسمبر 1530 میں بابر کے انتقال پر ہمایوں تخت نشین ہوا، لیکن وہ اپنی محلاتی سازشوں اور اندرون ملک خانہ جنگیوں اور بھائیوں کی سازشوں کے سبب ابتدائی نو برس یعنی 1539 تک شیر شاہ کے سدباب یا سرکوبی کی طرف بھرپور توجہ نہ دے سکا۔ 26 جون 1539 کو چونسہ کے میدان جنگ میں مغل فوجوں اور شیرشاہ کی افواج کا بھر پور آمنا سامنا ہوا دونوں فوجیں دریائے گنگا کے کنارے خیمہ زن ہوکر منصوبہ بندی میں مصروف تھیں کہ اچانک شیر شاہ نے کیمو فلاج کرتے ہوئے مغل فوج پر حملہ کردیا۔ بھگ دڑ مچ گئی ہمایوں نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور قریب تھا کہ ڈوب جاتا اس موقع پر نظام نامی ایک سقے نے ہمایوں کو بچالیا مگر ہمایوں کا شاہی حرم، اس کی بیوی ’’بیگہ بیگم‘‘ گرفتار ہوگئی لیکن شیر شاہ نے مثالی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام خواتین کو مع تحائف اعزاز و احترام کے ساتھ نگرانی میں رکھا بعد ازاں انہیں واپس بھجوا دیا۔ متواتر فتوحات او کام یابیوں کے بعد شیر شاہ نے اپنے علاقوں میں اپنے نام کا سکہ جاری کردیا۔ شیر شاہ اور ہمایوں کے درمیان معرکہ 17؍مئی 1540 کو بلگرام میں ہوا۔ شیر شاہ کی فوج 15000 اور ہمایوں کے پاس 40000 فوجی تھے مگر مغل فوج دلیر اور منظم افغانوں کے آگے بے بس رہی، ہمایوں کو راہ فرار اختیار کرنا پڑی اور بالآخر 1543 کو اس نے قندھار میں پناہ حاصل کرلی۔ شیر شاہ سوری نے دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہونے کے بعد بے شمار انتظامی، اصلاحی، عوامی اور اہم ترین فوجی انتظامات و اصلاحات پر توجہ دی۔ شیر شاہ نے سلطنت، ملک کے شمالی علاقوں اور سرحدوں کی حفاظت اور استحکام کی جانب توجہ دیتے ہوئے دریائے جہلم کے قریب ایک زبردست قلعے کی تعمیر کے لیے جگہ منتخب کرتے ہوئے ایک مضبوط ترین فوجی و رہائشی نوعیت کا مشہور زمانہ روہتاس قلعہ کثیرسرمایے سے تعمیر کروایا جو اپنے محل وقوع اور طرز تعمیر کے سبب بے مثال ہے۔ اس کی دلی خواہش تھی کہ اجڈ اور گنوار افغانوں کو نظم وضبط اور ترتیب کے سانچے میں ڈھال دے۔ یوں تو اس کے ان گنت فلاہی و رفاہی کارنامے ہیں جن کے تذکرے کے لیے کئی صفحات درکار ہیں لیکن اس کے عظیم ترین کارناموں میں نہری نظام، کاشت کاری کا نظام، جاگیر داری نظام کو ختم کرکے زمین کی کسانوں میں تقسیم، لگان کے نئے نظام کی روشناسی (یہی نظام آج تک برصغیر پاک و ہند میں رائج ہے) مساکین، غرباء اور مسافروں کے لیے سرائے اور طعام خانوں کا مفت قیام و انتظام، عدالتی نظام کی بہتری اور پنجاب تا بنگال طویل ترین جی ٹی روڈ (گرانڈ ٹرنک روڈ) کے علاوہ تین اہم ترین سڑکیں بھی تعمیر کیں۔ اس کے عہد میں چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری اور دیگر جرائم ناپید و مفقود تھے۔ عوام زر و مال کے ساتھ ہزاروں میل کا سفر بے خوف وخطر طے کرسکتے تھے اور یہی عالم امن وامان اورنگزیب عالم گیر کے دور حکومت میں بھی تھا۔جنوری 1543 میں شیر شاہ نے اپنے بیٹے جلال خان کی کمان میں ایک فوج مالوہ کے راجپوت سردار پورن ملک کی سرکوبی کے لیے بھیجی۔ پورن مل مسلمانوں کا شدید ترین دشمن تھا اس نے ہزارہا مسلمان عورتوں کو ہندوئوں کے تصرف میں دے رکھا تھا اور لاتعداد نوجوان لڑکیوں کو رقاصا بنا رکھا تھا۔ پورن مل کو شکست دینے کے بعد شیر شاہ نے پورن مل سمیت ہزارہا راجپوتوں کو تہہ تیغ کرکے مسلم دشمنوں کا خاتمہ کردیا۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ پورن مل اور اس کے امراء و رئوسا نے اپنی بیویوں، بیٹیوں کو خود اپنے ہاتھوں صرف اس اندیشے کے تحت قتل کردیا کہ کہیں شیر شاہ کے فوجی انہیں پامال اور بے عزت نہ کریں جب کہ متعصب ہندو مورخین نے اس قتل و غارت گری کا الزام شیر شاہ پر لگایا ہے۔ اس قضیے سے نمٹنے کے بعد جودھ پور کے مہاراجہ کی کثیر فوج کو بھی اپنی جنگی مہارت اور فوجی سوجھ بوجھ سے شکست دی، پھر سارے راجپوتانے، چتوڑ اور میواڑ کو بھی فتح کرلیا۔ دہلی کو واپسی کے دوران شیر شاہ نے مشہور قلعہ لالنجر کا نومبر 1544 میں محاصرہ کرلیا۔ محاصرے کے طول کھینچنے پر شیر شاہ نے جو حکمت عملی اپنائی اس کے بارے میں ’’تاریخ دائودی‘‘ کا مصنف لکھتا ہے ’’شیر شاہ نے محاصرے کے بعد قلعے کی فصیلوں میں بارودی سرنگیں بچھائیں۔ ایک بلند ٹیلا تیار کروایا جس کے اوپر سے سارے قلعے کے اندر کا سارا منظر نظر آتا تھا پھر اس ٹیلے پر توپیں نصب کروا دیں۔ اس سارے کام میں تمام سپاہی دن رات سات ماہ تک کام کرتے رہے تھے۔‘‘بلآخر 22 مئی 1545 کو قلعے پر حملہ کیا گیا جو ناکام رہا، دوسرے حملے کی شیر شاہ نے خود کمان سنبھالی، گھمسان کی جنگ ہوئی۔ بارودی دھماکوں سے افغانوں کو بھی نقصان پہنچا لیکن ایک بارودی گولہ جو قلعے کے اندر پھینکا جارہا تھا قلعے کی دیوار سے ٹکرا کر واپس بارود کے ڈھیر پر آگرنے سے قیامت خیز دھماکہ ہوا جس کی زد میں شیر شاہ خود بھی آگیا اور شدید مجروح ہوگیا لیکن زخموں سے چور چور شیر شاہ اس حالت میں بھی کمان کرتا رہا اور احکامات دیتا رہا حتیٰ کہ قلعہ فتح ہوگیا۔ فتح کی خبر ملنے پر شیر شاہ کے زخمی لبوں سے ’’یا اللہ تیرا شکر ہے‘‘ کے الفاظ ادا ہوئے اور اس نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ 22 مئی 1545 ہی اس کی تاریخ انتقال ہے۔ تدفین سہسرام میںہوئی۔شیر شاہ کا قول تھا کہ ’’عظیم لوگوں کو ہمیشہ چاق و چوبند اور مستعد رہنا چاہیے‘‘ اسی کا ایک اور قول تھا ’’بادشاہ پر رب العالمین کی عبادت فرض ہے۔ عبادت سے ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ بادشاہ کے کاموں میں خدا کی عنایت اور برکت شامل ہوجاتی ہے۔ بادشاہ کو دیکھتے ہوئے رعایا بھی خدا کی عبادت اور اطاعت کی طرف راغب ہوجاتی ہے۔ بادشاہ رعایا کے سامنے اطاعت الہٰی اور عبادت رب کا عملی نمونہ پیش کرے تو یہ زیادہ موثر بات ہوسکتی ہے‘‘ شیر شاہ حد درجہ انصاف پسند حکم ران تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک بار دربار میں ایک ہندو نے شکایت کی کہ شیر شاہ کے بیٹے نے اس کی بیوی کے آگے پان تھوکا ہے۔ شیر شاہ نے فوراً سرِ عام انکوائری کروائی اور الزام ثابت ہوجانے پر حکم دیا کہ ہندو بھی اسی طرح شہزادے کی بیوی کے آگے پان تھوک کر اپنی تذلیل کا بدلہ لے لے تاکہ آئندہ مملکت میں کسی کو دوسرے کی بے عزتی کرنے کی جرأت نہ ہو۔شیر شاہ سوری کے جانشین کم زور ثابت ہوئے۔ اس کا بیٹا جلال خان اسلام شاہ سوری کا لقب اختیار کرکے تخت نشین ہوا اور 1554 میں اس کے انتقال کے بعد صرف ایک سال کی مدت میں کئی بادشاہ تخت پر بیٹھے۔ جلال خان کے بارہ سالہ بیٹے کو قتل کرکے مبارک خان المعروف محمد عادل شاہ تخت پر بیٹھا۔ اس کے بعد تاریخ کا مشہور کردار، ’’ہیمو بقال‘‘ نامی ہندو وزیر تخت نشین ہوا لیکن مغلوں سے ایک جنگ کے دوران جب اس کی فوج فتح کے قریب تھی، نامعلوم سمت سے آنے والا ایک تیر اس کی آنکھ سے دماغ تک پہنچ کر ہلاکت کا باعث ہوا۔ اب سکندر شاہ سوری بادشاہ بنا ہی تھا کہ 1555 میں ہمایوں نے واپس آکر لاہور اور دہلی پر قبضہ کرلیا اور ابھی انتظامی امور کی تکمیل اور استحکام میں مصروف و منہمک ہی تھا کہ 1556 میں اسے بھی موت کا بلاوا آگیا۔تاریخ کے بغور مطالعے سے ایک عجیب و غریب مماثلت شیر شاہ سوری اور میسور کی مملکت، سلطنت خدا داد کے ٹیپو سلطان شہید میں پائی جاتی ہے کہ دونوں کا دورِ حکومت نہایت مختصر رہا۔ بیش تر وقت جنگوں اور میدان جنگ میں شمشیر بدست گزرا لیکن دونوں نے حقیقی معنی میں عوام اور مملکت کی فلاح و بہبود کے ہزار ہا کارنامے انجام دیے، دونوں پابند شریعت تھے اور دونوں ہی میدانِ جنگ میں شہادت پاکر نہ صرف تاریخ میں امر ہوگئے بلکہ ایک انوکھی تاریخ بھی رقم کرگئے۔