معرفت کا مقام
اسپیشل فیچر
حضرت بایزید بسطامی ؒ کے ایک خادم سے روایت ہے کہ ہم نے ایک بار مدینہ منور ہ میں دیکھا کہ ایک بزرگ کے گرد بہت سے لوگ جمع ہیںلیکن وہ بزرگ خاموش ہیں۔ اس بزرگ نے جب لوگوں کی آرزو اور توقعات کا احساس کیا تو رونے لگے۔ لوگوں نے بزرگ سے اپنے اپنے بارے میں خدا سے دعا کیلئے درخواست کی۔ بزرگ کو اور مجھے دیکھ کر حضرت بایزید بسطامی ؒبھی وہاں رک گئے۔ پھر وہ بزرگ فرمانے لگے کہ’’ اللہ کی یہ مخلوق اور بندے اگر اپنے پروردگار کو جان لیتے تو ہرگز ایسا نہ کرتے۔ اگر اللہ کے بندے اللہ کی معرفت حاصل کر لیتے تو وہ خوداس قدر غنی ہو جاتے کہ انہیں کسی سہارے کی ضرورت اور محتاجی ہی نہ رہتی۔ اِس مخلوق خدا کو میرے پاس بھی آ کر کھڑے ہونے کی ضرورت پیش نہ آتی۔‘‘ اِس کے بعد اُس بزرگ نے اپنے پروردگار سے یوں دعا کی کہ ’’اے میرے پروردگار !تو مجھے اِن لوگوں میں اُلجھا کر نہ رکھ دینا۔ کہیں یہی لوگ میرا حجاب نہ بن جائیں اور میں قربِ الٰہی سے محروم ہو جائوں۔ اے پروردگار ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تاکہ میں حجابات میں نہ آئوںاور اے پروردگار ! مجھے اِن لوگوں کے لئے حجاب بنا دے تاکہ میں تیری معرفت سے بیگانہ نہ ہوسکوں۔‘‘ ایک بار حضرت با یزید بسطامی ؒ دوران مناسک حج حجرا سود کے پاس تشریف لائے اور اُسے سلام پیش کیا۔ پھر مقام ابراہیم علیہ اسلام پر چلے گئے۔ مقام ابراہیم علیہ السلام پر کھڑے ہو کر حضرت با یزید بسطامی ؒ نے یوں دعا فرمائی’’ اے میری جان اور روح کے مالک ! تو ہی میرا پروردگار ہے، تیرے کتنے ہی بندے ایسے ہیں کہ جو حجابات میں گرفتار ہیں، لیکن اے مالک ! تو اپنے خاص بندوں کے حجابات دور فرما دیتا ہے۔ یا اللہ پاک! تو اپنے بندوں کے حجابات دور فرما۔ اِس دعا پر حضرت بایزید بسطامی ؒنے آوازسنی، جس میں کہا گیا تھا کہ اے ابو یزید! تیرے پروردگار کا کوئی حجاب اور کوئی پردہ نہیں ہے۔ اللہ اپنے بندوں اور اپنے درمیان کوئی حجاب حائل نہیں رکھتا،بندے اور خدا کے مابین تو کوئی دوری ہے ہی نہیں۔ ‘‘ہاتف کی یہ ندا سن کر حضرت بایزید بسطامیؒ زارو قطار رونے لگے۔خدا سے محبت کا انداز ایک روز حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں آپؑ نے ایک چرواہے کو دیکھا جو محبت الٰہی میں مگن خدا تعالیٰ سے یوں خطاب کر رہا تھا کہ’’ اے میرے محبوب خدا میرے پاس آ کر بیٹھ، مجھ سے باتیں کر، میں تیرے پائوں دھو دھو کر پیوں گا اور قدم چوموں گا۔ تجھے نہلائوں گا، اچھے اچھے کپڑے پہنائوں گا، نرم و گداز بستر تیرے لئے بچھائوں گا، اچھے اچھے کھانے کھلائوں گا اور تو سو جائے گا تو تیرے پائوں دبائوں گا۔‘‘ عشق و محبت کی مستی میں وہ اسی قسم کی باتیں کر رہا تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے اُس کی باتیں سن کر پوچھا کہ تم کس سے یہ باتیں کر رہے ہوں؟وہ محبوب کون ہے جس کی اِس قدر زیادہ خدمت کرنے کا تم اظہار کر رہے ہو؟ چرواہا بولا کہ میرا محبوب میرا خدا ہے ، میں اپنے خدا سے خطاب کر رہا ہوں، یہ ساری خدمتیں میں اُسی کی کروں گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سن کر فرمانے لگے ۔’’ ارے نادان ! توبہ کر، یہ تمہاری باتیں خدا تعالیٰ کے متعلق تو سراسر کفر ہیں بے خبر ! خدا تعالیٰ تو اِن سب باتوں سے پاک اور منزہ ہے، یہ تم کیا بک رہے ہو توبہ کرو اور ایسی باتوں سے خدا کی پناہ مانگو۔‘‘چرواہے نے یہ ڈانٹ ڈپٹ سنی تو ڈر گیا اور سوچنے لگا کہ ہائے میں نے یہ کیا کیا؟ میں نے تو یہ سب باتیں محبت سے کی تھیں۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ایسی باتیں خدا کی شان میں ہرگز لائق نہیں،یہ سوچ کر کچھ ایسا ڈرا کہ وہاں سے اٹُھ کر وحشت کے عالم میں دوڑا اور جنگل میں چلا گیا اور اِسی ڈر سے رونے لگا۔ اُدھر چرواہاجنگل کی طرف بھاگا اور اِدھر جبریل امین علیہ السلام وحی لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا’’ حضور ! خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ آپؑ نے کیا کیا؟ میرا وہ طالب صادق چرواہا میری محبت میں یہ سب باتیں کر رہا تھا۔ میں اُس کی باتیں سن رہا تھا اور میں جانتا تھا کہ اُسے مجھ سے محبت ہے لیکن اِن باتوں سے میرا منزہ ہونا اُس کے علم میں نہ تھا، یہ باتیں اُس کی زبان پر تھیںلیکن اُس کی نیت اچھی تھی۔ دل اس کا میری محبت سے معمور تھا۔ اے موسیٰ ! تم نے اُس کے لفظوں کو دیکھا لیکن اُس کی نیت کا کچھ خیال نہ کیا۔ میں لفظوں کو نہیں، دل کو دیکھتا ہوں۔ اے موسیٰ ! میں نے تجھے اِس لئے معبوث فرمایا ہے کہ تم میرے بندوں کو میرے ساتھ ملائو، لیکن تم تو میرے بندوں کو مجھ سے بھگانے لگے ہو۔ جائو اُسے جنگل سے واپس لا کر اُسے ہماری خوشنودی کا پیغام سنائو۔‘‘یقین کا درجہمعروف بزرگ حضرت حبیب عجمیؒ کا مکان بصرے کے چوراہے پر تھا، ایک دن آپ ؒنے کپڑے نکال کر چوراہے پر رکھ دیئے اور خود کہیں نہانے کے لئے چلے گئے۔ اتفاق سے حضرت حسن بصری ؒ کا اُس طرف سے گزر ہوا تو آپؒ نے اُن کا لباس شناخت کر کے خیال کیا کہ یہ تو حبیب عجمیؒ کہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اگر کوئی اُٹھا کر چل دے تو کیا ہو گا۔ اس خیال کے تحت آپؒ کپڑوں کی حفاظت کے لئے وہاں ٹھہرے رہے جب حبیب عجمیؒ واپس آئے تو حضرت حسن بصری ؒسے پوچھا کہ آپ ؒیہاں کیوں کھڑے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم اپنا لباس کس کے بھروسے پر چھوڑ کر چل دیئے۔اگر کوئی اُٹھا لے جاتا تو کیا ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ اُسی کے بھروسے پر چھوڑ کر گیا تھا جس نے حفاظت کے لئے آپؒ کو یہاں تک پہنچا دیا۔ منقول ہے کہ حضرت حسن بصری ؒ ایک مرتبہ حبیب عجمی ؒ کے پاس تشریف لے گئے تو اُس وقت اُن کے یہاں جو کی ایک روٹی اور تھوڑا سا نمک موجود تھا، وہی بطور تواضع آپؒ کے سامنے رکھ دیا ۔ جب انہوں نے کھانا شروع کر دیا تو ایک سائل آ پہنچا ، حضرت حبیب عجمی ؒ نے وہ روٹی آپؒ ؒکے سامنے سے اُٹھا کر سائل کو دیدی۔ اس پر حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ آپ میں شائستگی ضرور ہے لیکن علم نہیں، کیا یہ معلوم نہیں کہ مہمان کے سامنے سے اِس طرح پوری روٹی اُٹھا کر نہیںدینی چاہئے، ایک ٹکڑا توڑ کر دے دیتے ۔ یہ سن کر وہ خاموش رہے، لیکن کچھ ہی دیر کے بعد ایک غلام سر پر خوان نعمت رکھے ہوئے حاضر ہوا جس میں تمام قسم کے نفیس کھانے موجود تھے اور اس کے ہمراہ پانچ سو درہم بھی تھے۔ آپؒ نے وہ درہم تو غریبوں میں تقسیم کر دیئے اور کھانا حضرت بصری ؒکے سامنے رکھ کر خود بھی کھانے بیٹھ گئے اور کھانے سے فراغت کے بعد حضرت حسن بصری ؒ سے فرمایا کہ آپؒ کا شمار نیک لوگوں میں تو ضرور ہوتا ہے ،لیکن کاش یقین کا درجہ بھی حاصل ہوتا تو کیا بات تھی۔ایک مرتبہ حضرت حسن بصری ؒ مغرب کی نماز کے وقت آپ ؒکے یہاں پہنچے، لیکن آپؒ نماز کے لئے کھڑے ہو چکے تھے۔ حسن بصری ؒ نے جب یہ دیکھا کہ آپؒ الحمد کے بجائے الہمد (چھوٹی ہاء) سے قرات کر رہے ہیں تو یہ خیال کر کے کہ آپؒ چونکہ قرآن کا تلفظ صحیح ادا نہیں کر سکتے، اس لئے آپؒ کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ چنانچہ اُنہوں نے علیحدہ نماز پڑھی۔ اُسی رات خواب دیکھااور عرض کی یااللہ تیری رضا کا ذریعہ کیا ہے؟ اِرشاد ہوا تونے ہماری رضا پائی لیکن اس کا مقام نہیں سمجھا۔آپ ؒنے پوچھا وہ کونسی رضا تھی؟ ارشاد ہوا کہ اگر تو نماز میں حبیب عجمیؒ کی اقتداء کر لیتا تو تیرے لئے کافی تھا، تونے اُس کی ظاہری عبادت کا تصور تو کیا لیکن اُس کی نیت نہیں دیکھی۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حسن بصریؒ حجاج بن یوسف کے سپاہیوں سے چھپتے ہوئے حضرت حبیب عجمی ؒ کی عبادت گاہ میں پہنچ گئے۔جب سپاہیوں نے حبیب عجمی ؒ سے معلومات کیں تو اُنہوں نے صاف صاف بتا دیا کہ حسن عبادت گاہ کے اندر ہیں، لیکن پورے عبادت خانے کی تلاشی کے باوجود بھی حضرت حسن ؒ کا سراغ نہ مل سکا۔حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں کہ سات مرتبہ سپاہیوں نے میرے اوپر ہاتھ رکھالیکن مجھے نہ دیکھ سکے۔ پھر سپاہیوں نے حضرت حبیب ؒ سے کہا کہ حجاج تم کو جھوٹ بولنے کی سزا دے گا۔ آپ ؒنے فرمایا کہ حسن میرے سامنے عبادت گاہ میں داخل ہوئے تھے اگر وہ تمہیں نظر نہیں آئے تو اِس میں میرا کیا قصور ہے۔ چنانچہ دوبارہ پھر تلاشی لی گئی لیکن اُن کو نہ پا کر سپاہی واپس چلے گئے۔ حضرت حسنؒ نے باہر نکل کر حضرت حبیب ؒ سے کہا کہ آپؒ نے تو اُستادی کے حق کا بھی کچھ پاس نہیں کیا اور صاف صاف اُنہیں میرا پتہ بتا دیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ میں نے سچ سے کام لیا اس لئے آپؒ محفوظ رہے اور اگر میں جھوٹ سے کام لیتا تو پھر یقینا ہم دونوں گرفتار کر لئے جاتے۔ یہ سن کر حضرت حسنؒ نے پوچھا کہ آخر آپ ؒنے کیا پڑھ دیا تھا کہ جس کی وجہ سے میں سپاہیوں کو نظر نہ آ سکا۔ آپؒ نے فرمایا کہ دو مرتبہ آیت الکرسی ، دو مرتبہ قل ھواللہ احد اور دو مرتبہ آمن الرسول پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ حسن کو تیرا حوالے کیا تو ہی اُن کی حفاظت کرنا۔ اللہ نے تمہاری حفاظت کی۔پانچ آدمی اللہ کی حفاظت میں ہیںحضرت معاذبن جبلؓ فرماتے ہیں میںنے حضور اکرم ؐ کو فرماتے ہوئے سُناہے’’جو آدمی اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ، جوکسی بیمار کی عیادت کرنے جاتا ہے ،جو صبح یا شام کو مسجد میں جاتا ہے ،جو مدد کرنے کے لیے امام کے پاس جاتا ہے اور جو گھر بیٹھ جاتا ہے، کسی کی بُرائی یا غیبت نہیں کرتا،یہ سب اللہ کی حفاظت میں ہوتے ہیں۔‘ ‘ (حیاۃ الصحابہ، جلد2، صفحہ 815)٭٭٭آنحضرت محمد مصطفی ﷺ کی زیارت کا طریقہبزرگوں نے لکھا ہے کہ اگر کسی کو نبی کریم ؐ کی زیارت کا شوق ہو، وہ جمعہ کی رات دو رکعت نفل نماز اِس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد11 مرتبہ آیۃ الکرسی اور 11 مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد 100 مرتبہ یہ دُرود شریف پڑھے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ اِلنَّبِیِّ الاُمِّیِّ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔اگر کوئی شخص چند مرتبہ یہ عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اسے حضور ِاقدسؐ کی زیارت نصیب فرمادیتے ہیں، بشرط یہ کہ شوق اور طلب کامل ہو، گناہوں سے بھی بچتا ہو۔ (اصلاحی خطبات، جلد 2، صفحہ 104)آٹھ قسم کے لوگ، جن سے قبر میں سوال نہیں کیا جائے گاشامی میں لکھا ہے کہ جن سے قبر میں سوال نہیں کیا جائے گا ،وہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں:شہید،اسلامی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا،مرضِ طاعون سے فوت ہونے والا،طاعون کے زمانہ میں طاعون کے علاوہ کسی مرض سے فوت ہونے والا، جبکہ وہ اس پر صابر اور ثواب کی اُمید رکھنے والا ہو، صدیق،بچّے،جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہونے والااور ہر رات سورئہ تبارک (سورئہ مُلک) پڑھنے والا۔بعض حضرات نے اس سورۃکے ساتھ سورئہ سجدہ کو بھی ملایا ہے اور اپنے مرضِ موت میں قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدْ پڑھنے والا، اور شارحؒ نے اشارہ فرمایا ہے کہ ان میں انبیائے کرام کا اضافہ کیا جائے گا، اس لیے کہ وہ صدیقین سے درجے میں بڑھے ہوئے ہیں۔ (شامی، جلد 1، صفحہ 872)٭…٭…٭