بچے کی دُعا : اِقبال کی ایک ما خُوذ نظم
اسپیشل فیچر
بانگ درا میں گیارہ ایسی نظمیںپائی جاتی ہیں جو امریکی و برطانوی شعراء کی انگریزی نظموں سے متُاثر ہونے کی وجہ سے اِقبال کی ماخوذ نظمیں کہلاتی ہیں*****1924 میں شائع ہونے ہونے والا علامہ اِ قبال کا پہلا شعری مجموعہ ’’بانگِ درا‘‘ اِس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں جہاں اقبال کی خوب صورت پیغام کی حامل طبع زاد منظومات پڑھنے کو ملتی ہیں، وہیں اِس مجموعے میں گیارہ ایسی منظومات بھی پائی جاتی ہیں جو امریکی و برطانوی شعراء کی گیارہ مختلف انگریزی نظموں سے متُاثر ہونے کی وجہ سے اِقبال کی ماخوذ نظمیں کہلاتی ہیں اِن ہی ماخوذ نظموں میں سے ایک نظم ’’بچے کی دعا ‘‘بھی ہے، بّرصغیر کے تعلیمی اِداروں میں طلبہ آج بھی اِس نظم کو درس گاہوں میں تدریسی اوقات سے قبل ہونے والی اسمبلی میں لہک لہک کر پڑھتے ہیں۔مذکُورہ نظم ایک برطانوی شاعرہ متیلدا بیتھم ایڈورڈز (Matilda Betham Edwards) کی ایک نظم Child\'s Hymn سے ماخوذ ہے۔ ایک پادری کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اخلاقی اور مذہبی قدروں کی تعلیم انہیں گھر سے حاصل ہوئی اور اِسی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ یہ خوب صورت نظم ان کے قلم سے تخلیق ہوئی۔ اِقبال کی یہ نظم اپنے پیغام، روح، مزاج اور مشرقی رنگ کی وجہ سے ماخوذ نظم کے بجائے کوئی طبع زاد نظم معلوم ہوتی ہے۔ شاعر اپنے لہجے کو کِس طرح ایک بچے کے لہجے میں تبدیل کرتا ہے یہ سب ہمیں اِس نظم میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ دونوں طبع زاد اور ماخوذ نظمیں، ہم دردی، حبُ اُلوطنی اور محبت کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کو خُدا سے مُخاطب ہونے اور اِس کے حضور اپنی حاجتوں کو خوب صورت طریقے سے پیش کر نے کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔اِقبال کی ماخوذ نظم اور متیلدا بیتھم ایڈورڈز کی طبع زاد نظم کے متن ُملا حظہ فرمائیےاِقبال کی نظم ’’بچے کی دعا ‘‘لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری!دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہوجائے!ہر جگہ میرے چمکنے سے اُجالا ہوجائے!ہو مرے دم سے یوں ہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینتزندگی ہو میری پروانے کی صورت یاربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یاربہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنامیرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اُس رہ پہ چلانا مجھ کوMatilda Betham Edwards کی نظم ’’Child\'s Hymn‘‘God make my life a little lightwithin the world to glowA little flame that burneth brightwhere i may go.God make my life a little flowerThat giveth joy to all,Content to bloom in native bower,Although the place be small, God make my life a little song.That comforteth the sad,That helpeth others to be strong,And maketh the singer glad.God make my life a little staffWhereon the weak may rest,That so what health and strength i have,May serve my neighbours best.God make my life a little hymnOf tenderness and praise,Of faith that never waneth dimIn all his wonderous ways.