امریکی صدر ابراہم لنکن کی زندگی کے پوشیدہ حقائق
اسپیشل فیچر
ابراہم لنکن امریکہ کے ہر دلعزیز اور خدا کی طرف سے امریکی عوام کیلئے ایک تحفہ تھے۔ ان کے دور حکومت میں امریکہ نہ صرف اپنے پائوں پر کھڑا ہوا بلکہ ترقی کے وہ زینے بھی چڑھ گیا جس کا صرف خواب دیکھا جاسکتا ہے۔ ترقی کا یہ عالم ہے کہ آج دنیا کی سپرپاور ہے۔ لنکن کی حکومت کی تعریف تو ان کے بدترین دشمن بھی کرتے تھے اسی لئے کہ لنکن نے کسی خاص طبقے کی بجائے عام آدمی کی زندگی کو بہتر اور سہل بنانے کے اقدامات اٹھائے تھے۔ابراہم لنکن 12 فروری 1809ء کو امریکی ریاست کینٹیکی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے۔ زندگی کے ابتدائی تلخ سال اسی قصبے میں گزارے۔ نوسال کی عمر میں لنکن کی والدہ کسی پراسرار بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہوئی تو لنکن کی بڑی بہن سارا نے ان کی دیکھ بھال اور پرورش کی ،یہاں تک کہ 1819 ء ان کے والد نے دوسری شادی کرکے گھر بسالیا۔کینٹیکی کے جنگلوں میں پلنے والا یہ بچہ امریکہ کا 16 واں صدر بنا۔ اس کی زندگی پرخار راستوں سے چلتی ہوئی واشگٹن ڈی سی تک پہنچی تو وہ منصب صدارت پر فائز ہوئے۔ ان کی ساری زندگی ایک کھلی کتاب رہی ہے لیکن اس کے باوجود چند ایسے حقائق بھی ہیں جو شاید آپ کے علم میں نہ ہوں تو آئیے ابراہم لنکن کی زندگی کے ان پہلوئوں پر بات کرتے ہیں :-1 موت سے پہلے سیکرٹ سروس ادارے کا اجراءآپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ امریکہ میں سیکرٹ سروس ادارے کا اجراء ابراہم لنکن نے کیا اور اس اقدام سے امریکی صدر ہر طرح کی دھمکیوں اور خطرات سے محفوظ ہو جاتے لیکن ستم ظرفی دیکھیں کہ 15 اپریل 1885 ء کو اس بل پر دستخط کیے اور اس سے اگلے ہی روز وہ قتل ہوگئے۔ لنکن کو والکس بوتھ نے گولی کا نشانہ بنایا۔ اس ادارے کی تشکیل کا بنیادی مقصد امریکی صدر کی جان کو محفوظ بنانا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کرنا تھا۔ لنکن کے قتل کے بعد تو گویا اس ادارے کا ایجنڈا تبدیل کر دیا گیا۔-2 لنکن ایک باصلاحیت پہلوان بھی تھےابراہم لنکن ایک باصلاحیت پہلوان بھی تھے۔ ان کے پٹھے بہت مضبوط اور ڈیل ڈھول بہت ہی پرکشش تھا۔ وہ مصمم ارادوں سے اپنے ہدف پر قابو پانے کیلئے چھپکتے۔ مختلف کتابوں سے یہ حوالہ ملتا ہے کہ لنکن نے 300 کشتیوں میں سے صرف ایک میں شکست کھائی۔ انہیں کشتیوں میں اعزازی طور پر فیم آف ہال سے بھی نوازا گیا۔ وہ اس قدر طاقتور تھے کہ اکثر پہلوان ان سے کشتی لڑنے سے گریزاں رہتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے 1831 ء میں اس وقت کے معروف میلبورن چیک آرم سٹرونگ کو چیلنج کرلیا۔ یہ چیلنج قبول ہوا تو ابراہم نے اس نوجوان پہلوان کو پچھاڑ کے رکھ دیا۔-3 لنکن کی لاش چرانے کی کوشش1876ء میں شکاگو کے چند لٹیروں نے آک ریج قبرستان میں واقع ان کی قبر سے ابراہم لنکن کی میت چرانے کی کوشش کی۔ اس قبر کی حفاظت کیلئے صرف ایک سپاہی تعینات تھا۔ لٹیروں کا یہ منصوبہ تھا کہ وہ اس امریکی صدر کی لاش کے عوض امریکی حکومت سے تاوان لیں گے اور لاش واپس کریں گے۔ ان کا مطالبہ دو لاکھ امریکی ڈالر تھے اوراس کے ساتھ ساتھ امریکی جیلوں سے چند ساتھیوں کی رہائی کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ اس کی بھنک پڑنے پر امریکی سیکرٹ سروس ادارے نے ابراہم کی لاش کو قبر سے نکال کر کسی نامعلوم قبرستان منتقل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں دس فٹ گہری پکی قبر میں دفنایا گیا ہے۔-4 لنکن موجد بھی تھےابراہم لنکن وہ واحد امریکی صدر ہیں جنہیں خدا نے شاندار اور ذہین فطین دماغ عطا فرمایا تھا۔ وہ جب بھی فارغ بیٹھتے کسی نہ کسی بے مثال خیال پر غور کرنا شروع کر دیتے اور ہر مرتبہ کوئی انوکھا آئیڈیا لیکر بھی اٹھتے۔ انہوں نے سمندر میں چلنے والی کشتیوں کے بادبانوں کے حوالے سے ایک نیا طریقہ متعارف کروایا جس کی مدد سے کشتی اور بادبان کا مکمل کنٹرول کشتی کے کپتان کے ہاتھ میں آ گیا۔ اس طریقہ کار میں انہوں نے ریئر چیمبرز کو باہم جوڑ کر کسی خاص زاویے سے بادبانوں کو باندھا اور پھر کپتان کو اپنی مرضی سے کشتی کی رفتار اور سمت تعین کرنے کا حق دے دیا۔ اپنی اس ایجاد کو انہوں نے باقاعدہ رجسٹرڈ کرواکے اپنے نام کروایا۔ گویا اس ایجاد کے بانی کی حیثیت سے آج بھی امریکی دستاویزات میں ان کا نام درج ہے۔-5 اسلحہ سے دلچسپی کا عالمامریکی صدارتی رہائشی گاہ وائٹ ہائوس کولمبیا ریاست کے ایک ضلع میں واقع ہے اور اس ضلعی انتظامیہ نے سختی سے کسی قسم کے اسلحہ چلانے پر پابندی کر رکھی تھی لیکن بطور صدر ابراہم لنکن نے کچھ بندوقوں کا جانچ کاری ذاتی طور پرکی۔ انہوں نے گھر سے دور ضلع کی حدود سے نکل کر گھاس کے جنگل میں لیٹ کر یہ بندوق چلائی۔ابراہم لنکن کو شروع سے اسلحہ سے بہت رغبت تھی اور امریکی صدر بننے کے بعد تو اپنے شوق کی تکمیل میں انہوں نے امریکی فوج کیلئے بہترین اسلحہ خریدنے کی منظوری بھی دی۔ وہ سول وار میں امریکی دستوں کے پاس پائے جانے والے اسلحے کے حوالے سے خود خیال رکھتے تھے۔-6 قتل کی کئی کوششیں15اپریل 1865ء کو فورڈ تھیٹر میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور جانبر نہ ہوسکے اور لقمہ اجل بن گیا۔ یہ وہ کامیاب حملہ تھا جس میں لنکن کی جان چلی گئی اس سے قبل 1861ء میں بھی ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جب وہ کسی سرکاری دورے پڑے۔ لنکن کے محافظوں کو بھنک پڑ گئی اور وہ اپنے صدر کی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نیمجرموں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری ایلن ینکرٹن کے اس تھی جو اپنی حکمت عملی میںکامیاب رہے اور امریکی صدر کو بچالیا۔-7 لنکن کہاں سوتے تھےوائٹ ہائوس بنیادی طور پر امریکی صدر کی رہائش گاہ ہے جس میں مختلف دفاتر بھی ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ لنکن کبھی بھی اپنے بیڈ روم میں سوئے نہیں تھے اپنی معیاد عہدہ صدارت میں وہ ہمیشہ اپنے دفتر میں ہی سویا کرتے تھے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں وہ کیبنٹ میٹنگ کرتے اور اہم فائلوں پر دستخط کیا کرتے تھے۔ آج بھی وائٹ ہائوس کے بیڈ روم میں لنکن کے دور کا فرنیچر پڑا ہوا ہے۔-8 اپنی موت سے آگاہ تھےیہ کہا جاتا ہے کہ لنکن کو اپنی موت کا پتہ تھا وہ جانتے تھے کہ جلد ہی قتل کر دیئے جائیں گے یہاں تک کہ ایک دن انہوں نے اپنی موت سے متعلق خواب دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ وائٹ ہائوس لوگوں سے بھرا پڑا ہے اور کسی کی موت واقع ہوئی ہے۔ وہ چلتے ہوئے مشرقی کمرے کی طرف آئے تو وہاں کسی کی لاش پڑی ہوئی تھی جب انہوں نے اس لاش کی بابت دریافت کیا تو وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ لاش ابراہم لنکن کی ہے یہ خواب چند ہی دنوں بعد حقیقت بن گیا۔ وہ تھیٹر دیکھنے گئے تو وہاں ایک اداکار والکس بوتھ نے انہیں گولی مار دی۔-9پالتو جانوروں سے محبتابراہم لنکن اور ان کا خاندان پالتو جانوروں سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس کی وجہ شاید ان لوگوں نے زندگی کا ابتدائی حصہ جنگل میں گزارا جہاں خاندان کا اہم حصہ ان کے پالتو جانور بھی ہوا کرتے تھے۔ صدر بننے سے قبل ابراہم لنکن کا ایک پالتو کتا ہوا کرتا تھا جس کا نام فیدرو تھا۔ یہ کتا لنکن سے بہت مانوس تھا لیکن صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد جب لنکن اپنے ہوم ٹائون سے واشنگٹن شفٹ ہوئے تو طویل سفر کی وجہ سے فیڈرو کو ہمراہ نہ لائے۔ یہاں وائٹ ہائوس میںانہوں نے دو بکریاں پالیں جن کا نام نانکو اور نینی تھا۔ پالتو جانوروں سے محبت کی وجہ سے بھی لنکن لوگوں میں بہت مقبول تھے۔-10 انوکھا اعزاز متحدہ امریکہ ابتدا میں 13ریاستوں کے یکجا ہونے سے تشکیل پایا۔ ابراہیم لنکن نے چار مارچ 1861 ء میں جیمز بچنن سے صدارت کا چارج لیا اور اس کے بعد وہ اپنے قتل ہونے تک صدارتی عہدے پر فائز رہے۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ امریکہ کہ یہ 16 ویں صدر ان 13ریاستوں میں سے کسی ایک سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ لنکن سے قبل گزرے 15 صدور کا تعلق انہی 13ریاستوں سے تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭