توبہ : خدائے بزرگ و برترکی طرف رجوع کر نیکا خوبصورت ذریعہ
اسپیشل فیچر
ہم گناہوں کی دلدل میں پورے کے پورے دھنس گئے ہیں ۔ ہمارے ہاں عدل وانصاف نا پید ہوتا جا رہا ہے۔ہر شخص حسب ِ استطاعت زیادتی کر رہا ہے۔ چھینا جھپٹی ہمارے عمومی رویوں میں رچ بس گئی ہے۔ اخوت و بھائی چارے کی جگہ کینہ بغض، عناد، حسد اور عصبیت آ بسی ہے ۔ ظالم کا ہاتھ روکنے کے بجائے اس کی ڈھارس بندھائی جا تی ہے۔ بھلائی کے کام مختلف النوع پابندیوں میں جکڑے جا رہے ہیں ۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذمہ اٹھانے کے بجائے ہم نے خونِ آدمیت ارزاں ترین شے بنا رکھا ہے ۔ عورتوں اور بچوں کے بنیادی حقوق کی ادائیگی تو درکنار،یہاں تو ان کی بے حرمتی اور تذلیل ایک مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔ دھوکہ دہی،جھوٹ ا ور فراڈ جیسے قبیح ترین افعال معاشرے کے ہر طبقے میں سرائیت کر چکے ہیں ۔ اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ کیے جانے سے لے کر جان بچانے والی جعلی دوائیں تک سرِ عام بِک رہی ہیں ۔ قبضہ گیری،بھتہ خوری، اغواء کاری چوری، ڈکیتی، دھونس، دھمکی ، کمیشن، سفارش اور رشوت عام ہیں۔ رنگ، نسل، ذات پات ، علاقے اور فرقے کی بنیاد پر اِک قتل گاہ سجا دی گئی ہے۔غرضیکہ ! ہماری معاشرت، معیشت اور سیاست سب متاثر ہو چکے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ انہی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہم پر ذلت مسلط کر دی ہے۔سوڈان سے لیکر فلسطین، لیبیا، عراق، شام، افغانستان چیچنیا، مصر اور پاکستان میدان جنگ بنے ہوئے ہیں۔مسلم مملکتیں نحیف و نادار ، اور مسلم نمائندہ تنظیمیں بیساکھیوں کے سہارے لڑ کھڑا رہی ہیں ۔ملائیشیا کے بیشتر علاقوں کومسلمانوں سے چھین لیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے باسی دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں مگر شنو ا ئی کہیں نہیں ۔ مختصر اتنا جانئے کہ ! دنیا بھر میں مسلم اکثریتی خطوں میں ہی شورش برپا ہے۔ جبکہ یورپ سمیت دنیا کے بیشتر غیر مسلم اکثریتی علاقے پر امن ترین ہیں ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ امت مسلمہ اپنے رب کو ناراض کئے بیٹھی ہے۔؟ ان گھمبیر حالات سے نجات اور اخروی فلاح کیلئے ہمیں اللہ کے حضور اپنی لغزشوں پہ اظہارِ ندامت کرتے ہوئے معافیاں مانگنا ہونگیں۔ آیئے! اللہ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف اور آئندہ انہیں نہ دہرانے کاعزمِ مصمم کریں ۔ یہ عمل ’’توبہ‘‘ کہلاتا ہے۔ ذیل کی سطور میں اس حوالے سے چند آیات و احادیث ملاحظہ کیجئے۔ توبہ معرفتِ الٰہی کا سببحضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’بے شک ایک بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے(اللہ کریم)میرے سے خطا ہوگئی ہے مجھے معاف فرما دے ۔‘‘ آپؐ نے فرمایا:’’ اللہ رب العزت فرماتا ہے ’’میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے۔‘‘ (بندے کی اس معرفتِ الہٰی کی وجہ سے) اللہ پاک اسے معاف فرمادیتا ہے۔ پس جتنی دیر اللہ چاہتا ہے وہ گناہ سے باز رہتا ہے۔ پھر ایک اور گناہ کر لیتا ہے ا ور کہتا ہے ’’(اللہ) میں نے گناہ کرلیا ہے تو میرے اس گناہ کو معاف فرمادے‘‘۔ آپؐ نے فرمایا:’’اللہ عز و جل فرماتا ہے ’’میرا بندہ جانتا ہے کہ بے شک اس کا ایک رب جو اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے‘ پس میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا‘‘۔ (صحیح بخاری: حدیث،۷۵۰۷۔صحیح مسلم ح،۲۷۵۸)۔ بار بار کی خطا کے باوجود اللہ کریم ہمیں معاف کیے جاتا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ اللہ سے معافی تو درکنار، اسے پہچان ہی نہیں پائے۔ یہ اللہ کی ہم سے بے پایاں محبت نہیں تو اور کیا ہے۔؟ یہ نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس محبت کے بدلے میں اللہ کو کیا دے رہے ہیں۔؟ توبہ حصولِ رضائے الٰہی کا سببہمارے روز و شب کے معاملات میں رضائے الٰہی کہیں بھی مقدم نہیں ہوتی۔ اللہ کو خوش کرنے کیلئے کوئی جان جوکھوں میں نہیں ڈالنی پڑتی۔ بہت پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے،لمبے چوڑے کام نہیں صرف اِک توبہ ہی اسے بے انتہا خوش اور راضی کر دیتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’یقینا اللہ کریم تم میں سے کسی آدمی کی توبہ سے اس بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی گمشدہ سواری ملے‘‘۔الیٰ آخرہ۔(سنن ابنِ ماجہ: ح، ۴۳۲۳) آپ تصور کریں کہ جنگل و بیابا ں یا تپتے صحرا میں آپ کی اکلوتی امید آپ کی سواری گم جائے یا چھین لی جائے ۔ اور آپ کہیں بھی رابطہ کرنے سے قاصر ہوں آپ کوکچھ سجھائی نہ دے۔ حتیٰ کہ آپ کو چاروں طرف موت ہی موت دِکھے۔ آپ مرنے کا ذہن بنا کے سوجائیں ۔ کچھ دیر بعد آپ کی آنکھ کھلتی ہے تو آپ معجزاتی طور پہ اپنی سواری سامنے پاتے ہیں ۔جو اس وقت آپ کی سواری ہی نہیں ، بلکہ اِک نئی زندگی ہوتی ہے۔ گمان کیجئے کہ اس حالت میں آپ کی خوشی کی انتہا کیا ہوگی۔ ۔؟اللہ کہتا ہے میں اپنے بندے کے توبہ کرنے پہ اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہوں خدا کیلئے کبھی خوش نہ ہونے والے اقربا ء و احباب کو خو ش کرنے کے چکر میں اس رحیم کو ناراض نہ کریں۔ یہی کرتے کرتے کہیں ہم ملکِ عدم نہ سدھار جائیں۔۔؟ پھر کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ چڑیاں کھیت چگ چکی ہوں گی۔ ! یوم الدین تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے ہی رویت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا’’جس آدمی نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے (قیامت کے دن ) سے پہلے توبہ کرلی تو اللہ اسے معاف فرمادے گا‘‘۔(صحیح مسلم:ح، ۲۷۰۳) اگر ہم اپنے گناہ بخشوانے کیلئے بڑھاپے،موت یا قیامت کا انتظار کر رہے ہیں تو یہ بھیانک قسم کی ناسمجھی ہے۔ لیکن کیا کیا جائے ،سارے اسی ڈگر پہ چل رہے ہیں ۔ ہماری سوچ یہ ہے کہ چار دن جوانی ہے یہ بھی انجوائے نہ کی تو پھر جینے کا فائدہ کیا۔ اللہ کا واسطہ ہے کہ کسی انتظار کے چکر میں بالکل نہ پڑیں بلکہ بلا تاخیر اللہ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی توبہ کر لیں ۔ کیا ہم اپنی زندگی متعین کروا کے اس دنیا میں ’’نمودار‘‘ ہوئے۔۔؟ نہیں ناں۔۔؟ کسی کو نہیں پتہ کہ کونسی سانس اس کی آخری سانس ہو۔۔! ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔اللہ معاف کرنے سے کبھی نہیں اکتاتاجناب عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’اے اللہ کے رسول ؐ ہم میں سے کوئی آدمی گناہ کرتا ہے (تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔؟)‘‘ آپ ؐ نے فرمایا:’’(وہ گناہ)اس (بندے) کے حق میں لکھ دیا جاتا ہے ‘‘۔ آدمی کہنے لگا:’’پھر وہ اس سے توبہ کر لیتا ہے (تو کیا اسے معافی مل جاتی ہے۔۔؟ )‘‘ ۔ آپؐ نے فرمایا:’’اس آدمی کو معاف کر دیا جاتا ہے اور اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے‘‘۔وہ شخص کہنے لگا:’’بندہ(اگر )دوبارہ گناہ کرے؟‘‘۔آپ ؐنے فرمایا:’’وہ گناہ اس کے حق میں لکھ دیا جاتا ہے (یاد رکھو!) اللہ (معاف کرنے سے) کبھی نہیں اکتاتا لیکن تم اکتا جاتے ہو‘‘۔(مستدرک امام حاکم:ح،۷۷۳۲)۔ یہ اللہ ہی ہے جو لاکھوں بار خطائیں اور لاکھوں بار معافیاں مانگنے پہ ناراض نہیں ہوتا۔ بلکہ الٹا معافی مانگنے والے پہ خوش ہوتا ہے۔ یہاں انسانوں کے ہاں دوسری سے تیسری بار معافی کی گنجائش کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے۔ توبہ دنیوی آسودگی کا ذریعہہماری اکثریت غربت،مہنگائی،بیروز گاری، بد امنی،جبر و تشدد ،نا انصافی جیسے سماجی اور معاشی مصائب و آلام کی چکی میں پس رہی ہے۔ اور ان مسائل سے نکلنے کی ہر تدبیر ہاتھی کی پیٹھ پہ تنکا ہی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اللہ نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کا سامان کر رکھا ہے۔ اگر ہم اللہ سے توبہ کریں تو حیران کن طور پہ ہمارے حالات یقینا تبدیل ہو سکتے ہیں ۔ اللہ کریم کا ارشاد ہے:’’اور اگر تم اپنے رب سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ ( تواس استغفار و توبہ کے سبب) وہ تمہیں ایک متعین مدت تک آسائشاتِ دنیا سے بہرہ مند کرے گا۔اور ہر فضل والے کو اس کا فضل عطا کرے گا۔۔(سورہ ہود:آیۃ،3)۔ اللہ تعالیٰ نے جب قومِ عاد کی نافرمانیوں کے سبب ان کیلئے 3 سال تک بارش روک لی اور ان کی عورتوں کو بانجھ کر دیا تو جناب ہودؑ نے انہیں توبہ کی ترغیب دلائی تا کہ ان کی یہ بد حالی آسودہ حالی میں بدل پائے۔ اللہ نے ان کے فر مان کو یوں قرآن میں نقل کیا ہے۔ ارشاد ہے:’’اے میری قوم اپنے رب سے بخشش مانگو پھر اس کے سامنے توبہ کرو وہ تم پرآسمان سے موسلا دھار مینہ برسائے گا اور تمہاری طاقت پہ طاقت بڑھائے گا۔ اور تم گنہگار بن کر روگردانی نہ کر و ‘ ‘ ۔ ( ہو د : آ یۃ ،۵۲ )۔ طویل ترین مدت تک جب حضرت نوحؑ کی تبلیغ بے سود رہی تو اللہ کریم نے ان کی نافرمان قوم سے چالیس برس تک بارانِ رحمت روک لی ۔ قحط کی وجہ سے ان کے بچوں کے مرنے سے لے کر مال مویشی تک سب تباہ ہونے لگے۔حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کی خوشحالی کو توبہ سے مشروط کرتے ہوئے فرمایا ’’اپنے رب سے معافی مانگ لو۔ یقینا وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر مسلسل بارش نازل کرے گا۔ اور وہ تمہارے مالوں اوربیٹوں میں اضافہ کردے گا ۔ تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کرے گا‘‘۔(سورہ نوحؑ آیۃ،۱۰تا۱۲)۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم اللہ کو بائی پاس کرکے زندگی کی آسانیاں ملنے کی توقع کئے بیٹھے ہیں ۔ جو محض دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ ہم اللہ کے حضور خلوص دل سے ریاکاری کے بغیر جھک جائیںتو یہ ساری کائنات ہماری قدم بوسی کرے گی۔ جس کیلئے ہم بائولے ہوئے جاتے ہیں ۔ توبہ کا دروازہ قفل زدہ نہیں ہوتاحضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’اگر تمہارے گناہ آسمان کی وسعتوں تک پہنچ چکے ہوں ،(اس حال میں بھی ) اگر تم توبہ کرو تو اللہ تمہاری توبہ ضرور قبول کرے گا‘‘۔(سنن ابنِ ماجہ:ح،۴۲۴۸)۔ کیا ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہمارے گناہ نیکیوں کی نسبت بہت تھوڑے ہیں اور ہمیں توبہ کرنے کی کیا پڑی ہے؟ ہم تو پارسا ہیں یہ توبہ شوبہ تو نا فرمانوں کیلئے ہے۔ جناب! ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ بلکہ ہم رات دن میں جانے انجانے میں پتہ نہیں کیا گُل کھلاتے رہتے ہیں ۔ کیا ہمیں معافی کی کوئی ضرورت نہیں ۔؟ کیا جنت کا ٹکٹ ہماری جیب میں ہے۔؟ آسمانِ دنیا پہ خصوصی آمدحضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐنے فرمایا: ’’اللہ کریم ہر رات ، جب رات کا تیسرا حصہ باقی ہوتا ہے آسمانِ دنیا پر تشریف لاتا ہے اورآواز لگاتا ہے ! کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے؟میں اس کی دعا قبول کروں ۔ کون ہے جو مجھ سے (دنیا و آخرت کی بھلا ئیا ں ) مانگے؟ میں اسے عطا کروں ۔کون ہے جو مجھ سے گناہوں کی بخشش چاہتا ہے؟ میں اسے بخش دوں‘‘۔(صحیح بخاری :ح ، ۱ ۲ ۳ ۶)۔ یہ اس کا پیار نہیں تو اور کیا ہے۔؟ہماری سونے جاگنے کی روٹین ہی بڑی الٹ ہے۔ جو آرام کا وقت ہے اسے ہم نے مصروف ترین بنا لیا ہے ۔اور جو اللہ کو منانے اور اس سے اکیلے تنہا راز و نیاز کی گھڑیاں تھیں وہ ہم لمبے لمبے خراٹوں میں گزار دیتے ہیں ۔اسے کاہلی ،سستی اور نا اہلی نہیں بلکہ بد قسمتی کہنا چاہئے کہ ہمیں کچھ دینے کیلئے کوئی ہمارے دروازے پہ دستک دئیے جا رہا ہے ،مگر ہم ہیں کہ جان بوجھ کے گونگے، بہرے اور اندھے بنے ہوئے ہیں ۔ ہم نے شائد یہ سمجھ رکھا ہے کہ جیسے دنیا میں حاملین جاہ و منصب سے ملاقات مخصوص اوقات میں ہو سکتی ہے ۔ بعینہ اللہ سے معافی کیلئے بھی ہاتھ خاص اوقات میں ہی پھیلائے جا سکتے! اللہ کہتا ہے نہیں میرے سامنے جب مرضی آ، جب بھی تیرے اندر ہوک اٹھے تو میرا دروازہ بغیر دربان کے ہمیشہ کھلا ہی پائے گا۔ میں ہر لمحہ تیری سننے اور تجھے معاف کرنے کیلئے حاضر ہوں ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا بیان ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ بے شک اللہ کریم رات کو اپنے ہاتھ پھیلا کے رکھتا ہے تا کہ دن کے گناہگار کو معاف کردے(یعنی بندے سے جو خطائیں دن کے وقت سر زد ہوئیں ، اللہ انہیں معاف کرنے کیلئے رات بھر بے تاب رہتا ہے)اور (اسی طرح) دن کو ہاتھ پھیلا کے رکھتا ہے تا کہ رات کے گناہگار کو معاف کرے۔اللہ کا یہ معمول سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک جاری رہے گا ‘‘۔(یعنی قیامت کے دن تک)۔ (صحیح مسلم : ح،۲۷۵۹)۔ لمبی چوڑی کوئی بات نہیں ،ہم اگر صرف اپنے ایک دن کے کاموں کا جائزہ شام کے وقت لیں ۔ تو آیئنہ ہمیں سب نتیجہ بتا دے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ کیا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ اللہ کی اس ’’ چوبیس گھنٹہ آفر ‘‘سے فائدہ اٹھا لیں ۔ ہم اتنے بے نیاز ہیں کہ دن بھر میں ایک لمحے کیلئے بھی پیچھے مڑ کے نہیں دیکھتے کہ ہم کیا بیج بو آئے ہیں ۔ نہ ہم یہ سوچیں ، نہ فکر لاحق ہو اور نہ ہی دعا ،التجا اور توبہ و استغفار کیلئے دِل پسیجے۔۔ ہم بے حس ہو گئے ہیں ۔ توبہ ذریعہ طہورِ قلبی حضرت ابو ہریرہ ؓ سے ہی ایک اور روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’بے شک مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے پھر اگر وہ (گناہ) سے توبہ ،پہلو تہی اور استغفار کرے تو اس کے دل (سے سیاہ نکتہ) صاف ہو جاتا ہے ۔ اگر مزید گناہ کرے تو سیاہ نکتے بڑھتے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کا دل زنگ آلود ہو جاتا ہے‘‘۔ اسی کیفیت کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ’’دیکھو! ان کی (بد اعمالیوں) کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہو چکے ہیں‘‘۔(المطففین:آیۃ۔۱۴)۔ (جامع ترمذی:ح،۳۳۳۱)۔ اب تو دل کے سیاہ نکتوں سے بات کہیں آگے اندھیر نگر تک جا پہنچی ہے جہاں کچھ سمجھ نہیں آ رہاکہ گناہوں کو کیسے دھویا جائے؟ اور جسم اور روح پہ ظلم کی اٹی گرد کو کیسے صاف کیا جائے؟ یاد رہے! روحانی اور جسمانی حقیقی طہارت توبہ ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ سالہا سال سے لگے گہرے داغ دھبے اور میل کچیل کی صفائی کی پاور توبہ میں ہی ہے۔ دکھوں کا علاجحضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا۔ اللہ کریم اس کیلئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ اور ہر غم سے راحت کا سامان پیدا فرما دے گا۔ اور ایسے مقامات سے رزق عطا فرمائے گا ۔ جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہیں ہو گا‘‘۔(سنن ابو دائود: ح۱۵۱۸)۔ ہمارے کئے کی وجہ سے ہمیں بڑے خمیازے بھگتنے پڑتے ہیں ۔ ارشاد ہے:’’ اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچی ،وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہی تھی‘‘۔(الشوریٰ:آیۃ،۳۰)۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری مفلوک الحالی کی مزید جگ ہنسائی نہ ہو! تو پھر استغفار و توبہ کو اپنے معمولات میں جگہ دینی پڑے گی۔ برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے ذریعہاللہ کا ارشاد ہے:’’مگر وہ آدمی جو توبہ کرے ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ کریم نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ‘‘۔ (الفرقان: آیۃ،۷۰)۔ کیا کمال کا سودا ہے۔۔۔! بلندیِ درجات کا سبب حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’اللہ کریم ایک نیک شخص کے درجات کو جنت میں بلند فرمائے گا۔ تو وہ کہے گا۔ اے میرے رب یہ درجات کی بلندی میرے کس وجہ سے عمل میں آئی؟ اللہ فرمائے گا تیری اولاد کے تیرے لئے استغفار کی وجہ سے‘‘َ۔(مسند احمد:ج،۲۔ ص،۵۰۹)۔ توبہ حصولِ جنت کا ذریعہاللہ کا ارشاد ہے:’’ اے مومنو! اللہ کے آگے پکی سچی توبہ کرو۔ امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کردے گا اور تمہیں باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ اس دن اللہ نبیؐ اور اہلِ ایمان کو رسوا نہیں کرے گا۔(ان کا نورِ ایمان ) ان کے آگے اور دائیں طرف روشنی کر رہا ہوگا۔ وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف فرما یقینا تو ہر شے پر قادر ہے ‘ ‘ ۔ (تحریم:آیۃ،۸)۔ تائبین اولادِ آدم کے بہترین افراد حضرت انس ؓ کا بیان ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا ’’ہر آدم کے بیٹے سے خطا ہو سکتی ہے۔ مگر سب سے بہترین لوگ وہ ہیں جو خطا کے بعد توبہ کرتے ہیں ‘‘ (سنن ترمذی:ح،۲۴۹۹)۔کتے کو پانی کے چند قطرے پلانے پر مغفرت حضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا : ’’ایک بدکار عورت نے کنویں کے دہانے ایک کتے کو ہانپتے دیکھا، وہ پیاس کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا۔ اس (عورت) نے اپنا موزہ اتارا پھر اس کو اپنی چادر کے پلو سے باندھ کر اس (کتے) کیلئے (کنویں سے) پانی نکالا(اور اسے پلایا) اللہ کریم نے اس کی اس نیکی کی وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا‘‘۔(صحیح بخاری:ح،۳۳۲۰)۔ جانوروں پہ تو کیا، ہمیں انسانوں پہ رحم نہیں آتا۔ یہ عملًا کی گئی توبہ ہے جس کا ہمارے ہاں کلی فقدان ہے۔ سرورِ کونینؐ کی استغفارحضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ ہم نبی کریم ؐکی ایک مجلس کی بیٹھک کی استغفار شمار کرتے تو وہ سو مرتبہ ہوتی تھی ‘‘۔(سنن ابو دائود:ح،۱۵۱۶)۔ ہمیں دن بھر میں ایک مرتبہ بھی استغفار کرنے کی فرصت نہیں۔ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اپنے آپکو سدھارنے کا وقت ابھی بھی میسر ہے۔ کل کس نے دیکھی ہے۔؟ اگر توبہ کرکے اپنے آپ کو ایمان میں ڈھالنے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ ذلتیں! ہمارا پیچھا کبھی نہ چھوڑیں گی! حتیٰ کہ براستہ قبر ہمیں جہنم کی وادی میں پھینک کے ہی دم لیں گی ۔ اللہ ہمیں ہدایت کی راہ پہ چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین ٭…٭…٭