ادب کی دنیا

ادب کی دنیا

اسپیشل فیچر

تحریر :


حلقۂ اربابِ ذوق (ٹی ہائوس) کا اجلاسحلقۂ اربابِ ذوق پاک ٹی ہائوس میںنئی نسل کے نمایندہ نظم گو ڈاکٹر جاوید انور کی یاد میں اُن کی تیسری برسی کے موقع پر غلام دستگیر ربانی کی صدارت میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔سیکریٹری حلقہ ڈاکٹر غافر شہزاد نے ڈاکٹر جاوید انور کی کئی نظمیں سنائیں اور اُن کے شاعری، تخلیقی سفر اور شخصیت کے حوالے سے گفت گو سے تقریب کا آغاز کیا۔ مضامین پڑھنے اور گفت گو کرنے والوں میں غلام دستگیر ربانی،ڈاکٹر ناہید شاہد، قائم نقوی،علی اصغر عباس، شفیق احمد خان، ڈاکٹر امجد طفیل، اعجاز رضوی،زاہد حسن اور اشرف سلیم شامل تھے۔ڈاکٹر جاوید انور 1980ء کی دہائی میں علمی و ادبی حلقوں میں متعارف ہونے والے نظم گو شاعر تھے، جنھوں نے بہت کم عرصے میں اپنا نام اور پہچان بنائی۔اُن کی نظمیں فنون، ماہ نو اور دیگر ادبی رسائل میں شائع ہوئیں۔ اُن کے تین شعری مجموعے: ’’شہر میں شام‘‘،’’ اشکوں میں دھنک‘‘ اور ’’بھیڑئیے سوئے نہیں‘‘ شائع ہوئیں جب کہ چوتھا مجموعہ ’’برزخ کے پھول‘‘ اشاعتی مراحل میں ہے۔مقررین نے کہا کہ دیارِ غیر میں زندگی کے آخری برس گزارنے کے باوجود اُن کا ربط لاہور سے قائم رہا،وہ عالمی ادب پر گہری نظر رکھتے تھے۔اُن کی بے وقت کی موت نے اُردو ادب کو ایک توانا اور منفرد نظم گو شاعر سے محروم کر دیا۔اس اجلاس میں میں غلام دستگیر ربانی،ڈاکٹر ناہید شاہد، قائم نقوی،علی اصغر عباس، شفیق احمد خان، ڈاکٹر امجد طفیل، ڈاکٹر غافر شہزاد، اعجاز رضوی،زاہد حسن اور اشرف سلیم، جمیل احمد عدیل،شاہدہ دلاور شاہ،جاوید قاسم، فیصل زمان چشتی،فیضان رشیدو دیگر احباب شامل تھے۔حلقۂ اربابِ ذوق(ایوان ِ اقبال) کا جلسہحلقۂ اربابِ ذوق کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس 16نومبر کو ایوان اقبال میں زیر صدارت مظفر بخاری منعقد ہوا۔ پچھلے ہفتے کی کارروائی کی توثیق کے بعد سب سے پہلے جاوید اطہر نے ’’پاکستان کی لوک داستانیں‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون پیش کیا،جس پر رشید مصباح نے کہا کہ ایسی تحریر، تحقیق کے اُصولوں پر مبنی ہونی چاہیے، جس پر مضمون نگار نے عمل نہیں کیا۔ زیر نظر مضمون میں جن داستانوں کا ذ ِکر کیا گیا ہے، اُن میں سے کئی داستانیں ایسی ہیں جنھیں ہم لوک داستانیں نہیںکہہ سکتے: مثلاً یوسف زلیخا لوک داستان نہیں ۔ دوسرے،رزمیہ داستانوں کو لوک داستانوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مضمون نگار کو چاہیے تھا کہ سب سے پہلے وہ لوک داستان کی تعریف کرتے اور پھر اُس تعریف کی روشنی میں آگے بڑھتے۔ خالد محمود کا خیال تھا کہ اخبارات اور رسائل ایسے مضامین تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد شائع کرتے ہیں اور اُن کا معیار کافی بلند ہوتا ہے، مگر اس طرح کی فہرست سازی کو کسی ادبی زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ مضمون نگار کی تحقیق ہمیں حقائق کا پتا نہیں دیتی۔اس کے بعد حماد نیازی نے غزل پیش کی، جس کا مطلع تھا ’’لہو میں خواب سی تاثیر ہے‘ کہانی ہے؍ فرو ِغ بوئے اساطیر ہے، کہانی ہے۔‘‘ جاوید اطہر نے ردیف قافیے کے استعمال کو سراہتے ہوئے ،اسے ایک اچھی غزل قرار دیا جب کہ حماد حسن کا خیال تھا کہ کچھ پتا نہیں چلتا آیا اس غزل میں تسلسل وغیرہ نام کی کوئی چیز ہے کہ نہیں۔ توقیر عباس نے اسے جدید غزل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مطلع کہنا بہت مشکل تھا، مگر شاعر نے مہارت سے کام لیا ہے اور غزل کو اس کی جکڑ بندی سے نجات دلائی ہے۔ آخر میںمنور عثمانی نے ’’ایک کردار اپنے خالق سے‘‘ کے عنوان سے ایک انشائیہ پڑھا ،جس پر عامر فراز،رشید مصباح و دیگر نے مفصل گفت گو کی۔پِلاک میںکتاب ’’ حرف ِ تندور‘‘ کی تقریبپنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر(پِلاک)لاہور کے زیر اہتمام اصغر فہیم کی کتاب ’’حرف ِ تندور:ارمغانِ حجاز، پیام مشرق تے مشہور اُردو نظماں دا منظوم پنجابی ترجمہ‘‘ کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا گیا ،جس کی صدارت ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے کی جب کہ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی نے بطورِ مہمانِ اعزاز اور صوفیہ بیدار نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں راجا نیئر، ندیم بھابھہ، رانا سردار پرویز اور نبیل نجم شامل تھے۔ تقریب میں شہر کی معروف علمی، ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ ڈاکٹر صغرا صدف ڈائریکٹر پِلاک نے اس کتاب کو اقبال شناسی کے حوالے سے ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا اور کہا کہ اقبالؔ جیسی عظیم ہستیوں کا پنجابی میں ترجمہ کرنے سے پنجابی زبان کا دامن وسیع ہوگا۔ تقریب میں نقابت کے فرائض خاقان حیدر غازی نے ادا کیے۔ شاکر شجاع آبادی کے اعزاز میں تقریبپِلاک کے زیر اہتمام معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کے ساتھ ایک شام کا انعقاد کیا گیا، جس میں پارلیمانی سیکریٹری رانا محمد ارشد اور معروف شاعرہ نوشی گیلانی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز پر ممتاز ملک نے تلاوت کلام پاک اور عبد المجید چٹھہ نے نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر دانشوروں اور شاعروں نے شاکر شجاع آبادی کی شاعری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جب کہ محمد سعد فاروق اور عمران شوکت علی نے ان کی شاعری کو گا کر حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ اظہارِ خیال کرنے والوں میں احمد رضا، حکیم سلیم اختر، سعید خان، ندیم بھابھہ، ممتاز راشد، اعتبار ساجد، منفعت عباس رضوی، سرفراز سید، صوفیہ بیدار و دیگر شامل تھے۔ ڈاکٹر صغرا صدف ڈائریکٹر پِلاک نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور شاکر شجاع آبادی کے کلام کو بہت سراہا۔ پارلیمانی سیکریٹری رانا محمد ارشد نے شاکر شجاع آبادی کے کلام کو سراہنے کے ساتھ اُنھیں حکومتِ پنجاب کی طرف سے سکالر شپ دینے کا اعلان بھی کیا۔ تقریب کے اختتام پر شاکر شجاع آبادی کے شاگرد نذر فرید بودلہ نے ان کی شخصیت اور ان کے حاصل کردہ ایوارڈز کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دی۔ بعد ازاں ان کے بیٹے ولید شاکر نے اُن کے ساتھ مل کر اُن کا کلام سنایا۔ اس تقریب کی نقابت خاقان حیدر غازی نے کی۔ ’’تیرے لیے‘‘ کی تقریب ِرونمائی قیصرہ علوی نے لبنانی شاعرہ ہدیٰ النعمانی کی عربی زبان کی شہکار نظم کو ’’تیرے لیے‘‘ کے نام سے مہارت کے ساتھ اُردو کے قالب میں ڈھال کر منظوم ترجمہ نگاری کے اعتبار میں اضافہ کیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار عطاء الحق قاسمی نے روٹری کلب ،اسلام آباد کے زیر اہتمام تقریب ِرونمائی میں صدارتی کلمات میں کیا۔ اُنھوں نے کہاقیصرہ علوی نے عربی دانوں سمیت اُردو ادب کے قارئین کے لیے یہ ایک قابلِ تحسین کام کیا ہے ۔اس تقریب میں لبنان کی سفیر مونا الطاہر نے تقریب میں بطور ِخاص شرکت کی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں نیشنل بُک فائونڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ پروفیسر قیصرہ مختار علوی ایک معزز علمی گھرانے کی چشم و چراغ ہیں۔ اُن کا گھر اسلام آباد کی تہذیبی زندگی کا ایک منور گوشہ ہے ۔پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ تقریباً ایک صدی پیشتر اسرارِ خودی کے تخلیقی عمل میں مصروف علامہ اقبالؔ نے تمنا کی تھی کہ کاش اُردو شاعری نے فارسی شاعری کے ساتھ عربی شاعری کے سرچشموں سے بھی سرسبزی و شادابی کا سامان کیا ہوتا۔ پروفیسر قیصرہ علوی کا عربی شاعری سے اُردو میں کیا ہوا یہ ترجمہ گویا اقبال کی اس صدا پر لبیک کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 ویٹ ڈریس ریہرسل ناکام

ویٹ ڈریس ریہرسل ناکام

ناسا کے چاند مشن کی روانگی مؤخرخلائی تحقیق کی دنیا میں ہر پیش رفت جہاں امید کی نئی کرن بن کر سامنے آتی ہے، وہیں بعض اوقات تکنیکی رکاوٹیں بڑے منصوبوں کی رفتار کو سست بھی کر دیتی ہیں۔ ناسا کا انسان بردار چاند مشن ''آرٹیمس ٹو‘‘ بھی اسی نوعیت کی ایک تاخیر کا سامنا کر رہا ہے۔ آخری مرحلے میں کی جانے والی ویٹ ڈریس ریہرسل (wet dress rehearsal) کی ناکامی کے بعد اس اہم مشن کو مارچ تک مؤخر کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی خلائی برادری کی نظریں ایک بار پھر ناسا کی تیاریوں پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یہ مشن نہ صرف انسانوں کی دوبارہ چاند پر واپسی کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ مستقبل میں مریخ سمیت دیگر سیاروں تک رسائی کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ تاہم یہ تاخیر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ خلائی سفر میں احتیاط، جانچ اور مکمل تیاری ہر کامیابی کی اوّلین شرط ہے۔امریکی خلائی ادارہ پہلے 6 سے 11 فروری کے درمیان لانچ ونڈو کو ہدف بنا رہا تھا، تاہم اب مارچ میں لانچ کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ چار خلا بازوں کو چاند کے گرد مدار میں بھیجنے کے اس مشن کو مؤخر کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب آخری مرحلے میں ہونے والی ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ ناکام ہو گئی۔ ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ انجینئرز نے ٹیسٹ کے دوران ٹرمینل کاؤنٹ ڈاؤن آپریشنز کی پہلی مشق کی، تاہم مائع ہائیڈروجن کے اخراج کی شرح میں اچانک اضافہ ہونے کے باعث کاؤنٹ ڈاؤن پانچ منٹ باقی رہنے پر روک دیا گیا۔ ویٹ ڈریس ریہرسل کے دوران زمینی عملہ ''اسپیس لانچ سسٹم‘‘ (SLS) راکٹ میں ایندھن بھرنے، کاؤنٹ ڈاؤن چلانے اور بعدازاں فیول ٹینکس خالی کرنے کی مشق کرتا ہے۔ ریہرسل شروع ہونے کے بعد جلد ہی کئی مسائل سامنے آ گئے۔ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں سرد موسم نے فیولنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالی، جس کے نتیجے میں مائع ہائیڈروجن کا اخراج ہوا اور کارروائی روکنا پڑی۔ اس تاخیر کے باعث آرٹیمس ٹو کے عملے ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوخ اور جیرمی ہینسن قرنطینہ سے باہر آ جائیں گے اور منصوبے کے مطابق کینیڈی اسپیس سینٹر کا سفر نہیں کریں گے۔17 جنوری کو ناسا نے 11 گھنٹے صرف کرتے ہوئے نہایت احتیاط کے ساتھ ''ایس ایل ایس‘‘ راکٹ کو ہینگر سے لانچ پیڈ تک چار میل (6.4 کلومیٹر) کے فاصلے پر منتقل کیا۔ ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کو اس سے قبل غیر متوقع طور پر شدید سرد موسم کے باعث کئی دنوں کیلئے مؤخر کر دیا گیا تھا، کیونکہ سردی راکٹ کے نظام اور اُن جوڑوں (انٹرفیسز) کو متاثر کر سکتی ہے جو ایندھن کے اخراج کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، راکٹ کے محفوظ درجہ حرارت تک گرم ہونے کا انتظار کرنے کے بعد عملے نے ''ایس ایل ایس‘‘ میں دو ملین لیٹر سے زائد انتہائی ٹھنڈا مائع ہائیڈروجن بھرنا شروع کیا، جسے منفی 252 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 423 فارن ہائیٹ) تک ٹھنڈا کیا گیا تھا۔ فوراً ہی ناسا نے ایک ایسے جوڑ میں مائع ہائیڈروجن کے اخراج کو محسوس کیا جو راکٹ کے مرکزی حصے میں ایندھن منتقل کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ایس ایل ایس لانچز کے درمیان تین سال سے زائد وقفے کے باعث ہم مکمل طور پر یہ توقع رکھتے تھے کہ ہمیں چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ پرواز سے پہلے مسائل سامنے لانے اور لانچ کے دن کامیابی کے زیادہ سے زیادہ امکانات پیدا کرنے کیلئے کیے جاتے ہیں۔غیر متوقع اخراج کو درست کرنے کیلئے مائع ہائیڈروجن کا بہاؤ روکنا پڑا، راکٹ کو اتنا گرم ہونے دیا گیا کہ سیلز دوبارہ درست حالت میں آ سکیں اور ایندھن کے بہاؤ میں ضروری رد و بدل کیا گیا۔ بالآخر ناسا تمام ٹینکس کو مرکزی اور عبوری مرحلے میں ایندھن سے بھرنے میں کامیاب ہو گیا، جس کے بعد عملے نے فرضی کاؤنٹ ڈاؤن کا آغاز کیا۔تاہم مشق کے کاؤنٹ ڈاؤن میں صرف پانچ منٹ باقی رہ گئے تھے کہ مائع ہائیڈروجن کے اخراج کی شرح میں اچانک اضافہ ہوا، جس کے باعث لانچ سیکوئنس خودکار طور پر روک دیا گیا۔ہائیڈروجن لیک کے علاوہ، ناسا نے یہ بھی دریافت کیا کہ اورین کریو ماڈیول میں دباؤ برقرار رکھنے والے ایک والو کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے، جس سے مزید تاخیر ہوئی۔ انجینئرز کو ٹیسٹ سے پہلے کے چند ہفتوں کے دوران آڈیو کمیونی کیشن چینلز میں بار بار ڈراپ آؤٹس (رکاوٹوں) کا سامنا بھی رہا اور ریہرسل کے دوران بھی ایسی کئی رکاوٹیں پیش آئیں۔ جیرڈ آئزک مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ہمیشہ کی طرح حفاظت ہماری اوّلین ترجیح ہے، چاہے وہ ہمارے خلا باز ہوں، ہمارا عملہ، ہمارے نظام ہوں یا عوام۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، ہم اسی وقت لانچ کریں گے جب ہمیں یقین ہو گا کہ ہم اس تاریخی مشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ناسا کا کہنا ہے کہ اب اسے مزید وقت درکار ہے تاکہ ٹیمیں ڈیٹا کا جائزہ لے سکیں اور دوسری ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ انجام دے سکیں۔ اب عملہ قرنطینہ سے باہر آ سکے گا، جس میں وہ 11 جنوری کو ہیوسٹن میں داخل ہوئے تھے اور اگلی لانچ ونڈو سے تقریباً دو ہفتے قبل دوبارہ قرنطینہ میں داخل ہوں گے۔جیرڈ آئزک مین نے مزید کہا کہ ٹیم مکمل طور پر ڈیٹا کا جائزہ لے گی، ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کے دوران سامنے آنے والے ہر مسئلے کی جانچ کرے گی، ضروری مرمت کرے گی اور دوبارہ ٹیسٹنگ کا عمل شروع کرے گی۔

لنڈا سنروڈ: آئس ہاکی کی عمر رسیدہ کھلاڑی کا سفر تمام

لنڈا سنروڈ: آئس ہاکی کی عمر رسیدہ کھلاڑی کا سفر تمام

کھیلوں کی دنیا میں بعض شخصیات محض ریکارڈ نہیں بناتیں بلکہ حوصلے، عزم اور جدوجہد کی ایسی مثال قائم کر جاتی ہیں جو نسلوں کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ 84 سالہ لیجنڈ لنڈا سنروڈ کا دنیا کی معمر ترین خاتون آئس ہاکی کھلاڑی کے طور پر ریٹائر ہونا بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ خبر صرف ایک کھلاڑی کے میدان چھوڑنے کی اطلاع نہیں بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ عمر خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ لنڈا سنروڈ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ آئس ہاکی کیلئے وقف کر کے ثابت کیا کہ کھیل محض نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ جذبہ اور لگن انسان کو ہر عمر میں متحرک رکھ سکتی ہے۔ ان کی شاندار جدوجہد کھیلوں کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔لنڈا سنروڈ(Linda Sinrod)جن کا تعلق امریکہ سے ہے نے گزشتہ برس 7 اپریل کو دنیا کی معمر ترین خاتون ہاکی کھلاڑی کے طور پر آخری بار اپنی اسکیز پہنیں۔ 84 سال اور 198 دن کی عمر میں، انہوں نے کپیٹلز ویمنز ہاکی لیگ کیلئے ورجینیا کے آرلنگٹن میں ٹیم گرے کے ساتھ اپنا آخری میچ کھیلا، جو ان کی ٹیم 5-2 سے ہار گئی۔ لنڈا کیلئے ہمیشہ کھیل کا اصل مقصد صرف سکور نہیں بلکہ کھیل کے ذریعے یادگار اور معنی خیز تجربات حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو بتایاکہ یہ لمحہ ملی جلی کیفیت کا تھا۔ مجھے لگا جیسے میرے لیے ایک دور کا اختتام ہو گیا ہے، کیونکہ میں نے ہاکی کھیلنا اتنے عرصے تک بہت پسند کیا۔ریکارڈ ساز کریئر رکھنے والی لنڈا سنروڈ نے آئس ہاکی کھیلنا 35 سال کی عمر میں شروع کیا۔وہ کالج میں فگر اسکیٹر تھیں، لیکن گریجویشن کے بعد انہوں نے یہ کھیل چھوڑ دیا۔ پھر ایک سردیوں کے دن، جب وہ اپنے گھر کے قریب جمی ہوئی جھیل پر اسکیٹنگ کر رہی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ آئس ہاکی آزمانا چاہیں گی۔1975ء میں خواتین کیلئے اس کھیل کی کوئی پروفیشنل لیگ موجود نہیں تھی اور نہ ہی خواتین کھلاڑیوں کو اولمپک سطح پر پہچان حاصل تھی۔ اگرچہ باصلاحیت لڑکیاں چند آئیوی لیگ یونیورسٹیوں میں کھیل سکتی تھیں، مگر زیادہ تر اسکیٹرز کے پاس اعلیٰ سطح کی ٹیموں میں شامل ہونے کے مواقع نہیں تھے۔ اس کے باوجود، لنڈا کو یہ کھیل اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی کے علاقے کی پہلی خواتین آئس ہاکی ٹیم، ریڈکوٹس کی بانی اراکین میں شامل ہونے کیلئے نام درج کرایا، جہاں انہوں نے 10 سال تک اسکیٹنگ کی۔چالیس کی دہائی کے وسط تک پہنچ کر لنڈا کو لگنے لگا تھا کہ وہ کھیلنے کیلئے بہت زیادہ عمر رسیدہ ہو چکی ہیں، چنانچہ انہوں نے آئس ہاکی سے پہلی بار ریٹائرمنٹ لے لی۔ تاہم تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد، انہوں نے اپنے کچھ پرانے ساتھی کھلاڑیوں کو گوگل پر تلاش کرنا شروع کیا اور سوچنے لگیں کہ اب وہ کیا کر رہے ہوں گے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک پرنس ولیم وائلڈکیٹس ٹیم کی کوچنگ کر رہا تھا، چنانچہ 67 سال کی عمر میں لنڈا نے دوبارہ میدان میں واپسی کا فیصلہ کیا اور اس ٹیم میں شامل ہو گئیں۔لیگ کے زیادہ تر کھلاڑی اس سے کم از کم 20 سال چھوٹے تھے، مگر لنڈا نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ کھیل کا جوش اور اپنی ٹیم کے ساتھیوں کے ساتھ رفاقت ہی وہ طاقت تھی جس نے انہیں مزید آٹھ سال تک کھیل جاری رکھنے پر آمادہ رکھا۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ پہلی بار جب انہوں نے دوبارہ کھیلا تو انہیں کوئی پینلٹی نہیں ملی، لیکن دوسری بار ایک ہی میچ میں انہیں دو پینلٹیز مل گئیں۔ یہ فیصلہ انہیں اس قدر الجھا گیا کہ وہ غلطی سے دوسری ٹیم کے پینلٹی باکس میں جا کر بیٹھ گئیں۔پھر ان کی دوسری ریٹائرمنٹ کا وقت آیا، جب لیگ نے ان سے خود الگ ہونے کو کہا۔ 75 سال کی عمر میں انہیں بتایا گیا کہ وہ اب اتنی مسابقتی نہیں رہیں مگر لنڈا کو اس پر کوئی افسوس نہ ہوا۔ اگر وہ وہاں اسکیٹنگ نہیں کر سکتیں تو وہ کھیلنے کیلئے کوئی اور جگہ تلاش کر لیں گی۔ اسی جذبے کے ساتھ انہوں نے بعد ازاں کپیٹلز ٹیم میں شمولیت اختیار کی اور ایک بار پھر آئس ہاکی کے میدان میں اپنی موجودگی ثابت کی۔لنڈا نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں دوسروں کو یہ کہوں گی کہ کھیلنا شروع کرنے کیلئے کبھی بہت عمر رسیدہ نہیں ہوتے۔ میں نے حقیقت میں 45 سال کی عمر میں کھیل چھوڑ دیا تھا، کیونکہ مجھے لگا کہ میں کھیلنے کے لیے بہت بڑی ہو گئی ہوں، لیکن 67 سال کی عمر میں دوبارہ کھیلنے واپس آ گئی۔مزید یہ کہ خواتین کی ہاکی مردوں کی ہاکی جیسی نہیں ہوتی۔ یہاں چیکنگ نہیں ہوتی اور خواتین ہر شعبے سے تعلق رکھتی ہیں، کھیلتی ہیں اور لطف اٹھاتی ہیں۔ حقیقت میں، تقریباً سب کالج گریجویٹس ہوتی ہیں اور یہ کھیل واقعی بہت مزے دار ہے!

آج تم یاد بے حساب آئے! بیگم خورشید مرزا ریڈیو،ٹی وی اور فلم کی ممتاز اداکارہ (1989-1918ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! بیگم خورشید مرزا ریڈیو،ٹی وی اور فلم کی ممتاز اداکارہ (1989-1918ء)

٭...بیگم خورشید مرزا 4مارچ 1918ء کو برٹش انڈیا دور میں علی گڑھ میں پیدا ہوئیں اور ان کا اصل نام خورشید جہاں تھا۔٭...ان کا گھرانہ علی گڑھ کے پڑھے لکھے گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ان کے والد شیخ عبداللہ بیرسٹر تھے، جنہوں نے علی گڑھ گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کی بڑی بہن ڈاکٹر رشیدہ تھیں جو انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی اراکین میں سے تھیں اور ان کی دوسری بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔٭...ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی۔ سکول کالج سے فارغ ہونے کے بعد انڈیا کے مختلف تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی سندیں حاصل کیں۔ ٭...1934ء میں ان کی شادی دہلی کے ایک پولیس افسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی اور وہ بیگم خورشید مرزا کہلائیں۔ ٭... رینو کا دیوی کے نام سے ہندوستانی فلمی صنعت میں قدم رکھا۔پہلی فلم ''جیون پرابھت‘‘ 1937ء میں ریلیز ہوئی۔٭...دوسری فلم ''بھابھی‘‘ 1938ء میں ریلیز ہوئی اور سپرہٹ ثابت ہوئی۔ فلم ''نیا سنسار‘‘ بھی ان کی ایک سپرہٹ فلم تھی۔٭...1943ء میں لاہور سے زینت بیگم فلمز کی جانب سے ان کی فلم ''سہارا‘‘ ریلیز ہوئی۔٭...1947ء میں قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا رخ کیا اور یہاں فلمی دنیا کے بجائے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہونے کو ترجیح دی۔٭... ٹیلی ویژن پر ان کا پہلا ڈرامہ ''کرن کہانی‘‘ تھا۔70ء کی دہائی میں بیگم خورشید مرزا ٹی وی کی معروف فنکارہ تھیں۔٭...1974ء میں ان کی ڈرامہ سیریل ''زیر، زبر، پیش‘‘اور ''انکل عرفی‘‘نشر ہوئیں۔٭...1984ء میں ان کی ڈرامہ سیریل ''انا‘‘ بہت مقبول ہوئی۔ ٭... ان کے دیگر معروف ڈراموں میں '' شمع، افشاں، عروسہ، رومی، شوشہ، پناہ، دھند اور ماسی شربتی ‘‘ شامل ہیں۔ ٭...1982ء میں بیگم خورشید مرزا نے اپنی خود نوشت ایک مقامی میگزین میں 9اقساط میں لکھی ۔٭...ان کی سوانح حیات ''A Woman of Substance: The Memoirs of Begum Khurshid Mirza‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جو ان کی بیٹی لبنی کاظم نے مرتب کی تھی۔٭...ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں1985ء میں ''تمغہ حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔ ٭...ان کا انتقال 8فروری 1989ء کو لاہور میں ہوا اور ان کی تدفین میاں میر قبرستان میں کی گئی۔

آج کا دن

آج کا دن

''ہالی وڈ واک آف فیم‘‘ کا قیام8فروری 1960ء کو ''ہالی وڈ واک آف فیم‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ جس کا مقصد فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ اس مشہور فٹ پاتھ پر ستاروں کی شکل میں ان فنکاروں کے نام کندہ کیے جاتے ہیں جنہوں نے تفریحی دنیا میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آج یہ مقام ہالی وڈ کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔فلسطین ، اسرائیل فائر بندی معاہدہ2005ء میں آج کے روز اسرائیل اور فلسطین کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ طے پایا۔ لیکن اسرائیل نے اس معاہدے کو بھی ماضی کے دیگر معاہدوں کی طرح ہوا میں اڑا دیا۔اسرائیل نے بمباری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ معاہدے کی خلاف ورزی کو بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کا نشانہ بنا یا گیا برقی کرسی پر پابندی08فروری 2008ء کو نبراسکا میں سزائے موت دینے کیلئے برقی کرسی پر پابندی عائد کی گئی۔ سزائے موت کے مجرم کو لوہے کی کرسی پر بٹھا کر کرسی میں کرنٹ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ کچھ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجرم کو کرسی کے ساتھ باندھ کر اس کے پاؤں پانی میں ڈال دئیے جاتے تھے۔خلامیں رہنے کا ریکارڈ8فروری1974ء کو تین امریکی خلا باز ڈاکٹر ایڈورڈ گبسن، لیفٹیننٹ کرنل جیرالڈ کار اور لیفٹیننٹ کرنل ولیم پوگ سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 85دن خلاء میں رہنے کے بعد بحفاظت زمین پر واپس پہنچے۔ انہوں نے 85 دن امریکی خلائی اسٹیشن میں گزارے۔ اسی پروگرام میں مزید جدت کے ساتھ خلا اور چاند پر ایسے سٹیشن بنائے جائیں گے جس میں خلا باز طویل عرصے تک قیام کر سکیں گے۔

 جدید ٹیکنالوجی کا کمال دنیا کا مضبوط ترین سوٹ کیس متعارف

جدید ٹیکنالوجی کا کمال دنیا کا مضبوط ترین سوٹ کیس متعارف

یہ بیگ ''الٹرا میٹرکس‘‘ نامی مادے سے تیار کیا گیا ہےجدید دور میں سفر محض ایک ضرورت نہیں بلکہ طرزِ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، تاہم مسافروں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ آج بھی خراب، ٹوٹے پھوٹے یا ضائع ہونے والے سامان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ آئے روز ایئرپورٹس پر مسافر اپنے نقصان زدہ سوٹ کیس دیکھ کر شکوہ کرتے نظر آتے ہیں، جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ سفر کی خوشی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے کہ معروف کمپنی ''ماؤس‘‘ (Mous) نے ایک ایسا سوٹ کیس متعارف کرایا ہے جو انتہائی سخت حالات میں بھی محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔''ماؤس‘‘ کا متعارف کرایا گیا سوٹ کیس سفر کے سخت ترین حالات میں برسوں تک قائم رہنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ جدید طرز کا سخت خول والا بیگ ''الٹرا میٹرکس‘‘ (UltraMatrix) نامی خاص مادے سے تیار کیا گیا ہے، جو ایک مضبوط پولی پروپلین کمپوزٹ ہے اور اصل میں ہوابازی کے شعبے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔کمپنی کے مطابق، پولی پروپلین کے ریشوں کو غیر معمولی مضبوطی کیلئے کھینچ کر سیدھا کیا جاتا ہے، پھر انہیں بُن کر اور حرارت کے ذریعے جوڑ کر ایک واحد کمپوزٹ شیٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس میں نہ کوئی گوند استعمال ہوتی ہے، نہ ریزن اور نہ ہی کوئی کمزور جوڑ ہوتا ہے۔یہ مضبوط ڈھانچہ دباؤ پڑنے پر ٹوٹنے کے بجائے لچک اختیار کرتا ہے، ضرب کی توانائی کو پھیلا دیتا ہے اور دوبارہ اپنی اصل شکل میں آ جاتا ہے۔یہ انتہائی درجہ حرارت میں بھی مضبوط رہتا ہے، سردی میں ٹوٹنے سے محفوظ اور گرمی میں نرم ہونے سے مزاحمت رکھتا ہے۔ اس سوٹ کیس کو آخری درجے کے امتحان سے گزارنے کیلئے ماؤس نے اسے ہوائی جہاز کی کھڑکی سے باہر پھینکا اور حیران کن طور پر یہ صرف چند خراشوں کے ساتھ محفوظ رہا۔ماؤس کمپنی عام طور پر اپنے مضبوط فون کیسز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں کمپنی نے بیگز اور سامانِ سفر کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے۔ پہلے بیک پیکس کی ایک رینج متعارف کرائی گئی اور اب سخت خول والا سوٹ کیس پیش کیا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق، زیادہ تر ہارڈ شیل سوٹ کیس ایک ہی انداز میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ موٹے اور بھاری خول جو چند بار گرنے کے بعد پھٹ جاتے ہیں، ہلتے ڈولتے ہینڈلز، شور مچانے والے پہیے اور ایسے زِپ جو دباؤ برداشت نہیں کر پاتے۔ماؤس کا کہنا ہے کہ سفر ویسے ہی ایک مشکل عمل ہے، ایسے میں یہ مناسب نہیں کہ سوٹ کیس بھی ساتھ چھوڑ دے۔ اسی لیے کمپنی نے ہائی پرفارمنس فون کیسز اور دیگر سازوسامان کی تیاری سے حاصل ہونے والا تمام تجربہ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا سوٹ کیس تیار کیا ہے جو مایوس نہ کرے۔ الٹرا میٹرکس خول نہ صرف انتہائی مضبوط ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر ہلکا بھی ہے۔ درحقیقت پورے سوٹ کیس کا وزن صرف چھ پاؤنڈ (تقریباً 2.8 کلوگرام) ہے۔اکثر مسافر جانتے ہیں کہ سوٹ کیس کے مرکزی جسم کے علاوہ پہیے اور ہینڈلز سب سے پہلے خراب ہوتے ہیں۔ اسی مسئلے سے بچنے کیلئے ماؤس نے اپنے سوٹ کیس میں اعلیٰ معیار کے ہینوموٹو پہیے اور 46 حصوں پر مشتمل مضبوط ٹیلی اسکوپک ہینڈل استعمال کیا ہے، جو کم شور، کم ہلچل اور ہموار چلنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔''ماؤس ‘‘کو اپنے اس سوٹ کیس کی مضبوطی پر اس قدر اعتماد ہے کہ کمپنی ابتدائی خریداروں کو تاحیات وارنٹی فراہم کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سوٹ کیس اس وقت کوڑے دان میں چلے جاتے ہیں جب ان کا کوئی پہیہ یا ہینڈل ٹوٹ جاتا ہے، لیکن ہمارا سوٹ کیس ایسا نہیں ہوگا۔ اہم حصے جیسے پہیے، ہینڈل، لاک اور بیج گھر پر ہی ایک سادہ پیچ کس کی مدد سے بدلے جا سکتے ہیں۔ دیگر بیشتر مسائل کیلئے کمپنی کی محدود تاحیات وارنٹی 25 سال تک مرمت یا تبدیلی کی سہولت فراہم کرے گی۔ ماؤس کا ہارڈ شیل کیبن سوٹ کیس اس وقت پری آرڈر کیلئے دستیاب ہے، جس کی قیمت 319.99 پائونڈ مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس کی ترسیل مئی 2026ء میں متوقع ہے۔یہ جدید سوٹ کیس اپنی مضبوطی، پائیداری اور انقلابی ڈیزائن کے باعث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے، حتیٰ کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ہوائی جہاز سے باہر پھینکے جانے کے باوجود بھی نقصان سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سفر کے تجربے کو محفوظ بنانے کی جانب اہم قدم ہے بلکہ سامان کی تیاری کے شعبے میں ایک نئی سوچ اور جدت کی عکاس بھی ہے۔

کریملن :روسی طاقت، تاریخ اور سیاست کا عظیم استعارہ

کریملن :روسی طاقت، تاریخ اور سیاست کا عظیم استعارہ

دنیا کے چند ایسے مقامات ہیں جو اپنی عظمت، تاریخی گہرائی اور سیاسی وقار کے باعث صدیوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اور کریملن ان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ماسکو کے قلب میں واقع یہ عظیم الشان قلعہ نما مجموعہ صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ روس کی تاریخ، اقتدار اور قومی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کریملن کا نام سنتے ہی ذہن میں روسی ریاستی طاقت، سیاسی فیصلوں اور عالمی سفارت کاری کی ایک طویل داستان ابھر آتی ہے۔کریملن کی بنیاد پندرھویں صدی میں رکھی گئی، جب ماسکو روسی ریاست کے مرکز کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ابتدا میں یہ لکڑی کے قلعے کی صورت میں موجود تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے پتھر اور اینٹوں سے مضبوط قلعے میں تبدیل کیا گیا۔ مختلف روسی بادشاہوں اور حکمرانوں نے اس کی توسیع اور آرائش میں اپنا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں آج یہ ایک شاندار تاریخی و ثقافتی ورثہ بن چکا ہے۔کریملن نامی شہر ماسکو کے اندر واقع ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے ''شہر کی حفاظت کرنے والا قلعہ‘‘۔یہ نام ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب شہروں کو ڈیزائن کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف دفاع کو مدنظر رکھنا ایک اہم نظریہ تصور کیا جاتا تھا۔ 14 ویں صدی میں جیسے ہی ماسکو کی اہمیت میں اضافہ ہوا ویسے ہی کریملن کی ا ہمیت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کی شاندار تعمیرات کا بیشتر حصہ 15ویں صدی کے اختتام پر منظر عام پر آیا جب تعمیر نو کا کام وسیع پیمانے پر شروع ہوا۔آج کا کریملن متوازی دیواروں کے اندر واقع ہے جن کی حفاظت میناروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اونچا ترین مینار 73.15 میٹر(240 فٹ) بلند ہے۔کریملن کے اندر کئی اہم عمارتیں واقع ہیں، جن میں عظیم کریملن محل، آرمری چیمبر اور متعدد گرجا گھر شامل ہیں۔ کیتھیڈرل اسکوائر میں موجود گرجا گھر روسی آرتھوڈوکس چرچ کی مذہبی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں صدیوں تک تاج پوشی کی تقریبات انجام دی جاتی رہیں۔ یہ عمارتیں نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ فن تعمیر کے لحاظ سے بھی بے مثال ہیں۔کریملن کا سیاسی کردار بھی غیر معمولی رہا ہے۔ زاروں کے دور سے لے کر سوویت یونین اور موجودہ روسی فیڈریشن تک، یہ مقام اقتدار کا مرکز رہا ہے۔ آج بھی روسی صدر کا سرکاری دفتر کریملن میں واقع ہے، جس کے باعث یہ عالمی سیاست کا ایک اہم محور بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف روس بلکہ دنیا بھر کے حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کریملن اپنی مضبوط دیواروں اور بلند و بالا برجوں کے باعث دفاعی نقطٔ نظر سے بھی ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے سرخ رنگ کے برج ماسکو کی پہچان بن چکے ہیں۔ سیاح جب ریڈ اسکوائر سے کریملن کی جانب نگاہ ڈالتے ہیں تو انہیں روسی تاریخ کی عظمت کا واضح احساس ہوتا ہے۔ یہاں موجود عجائب گھر، تاریخی ہتھیار، شاہی لباس اور قیمتی نوادرات روسی تہذیب و تمدن کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ آرمری چیمبر میں محفوظ تاج، تخت اور شاہی جواہرات سیاحوں کو ماضی کے شاہانہ دور میں لے جاتے ہیں۔کریملن کی عمارات میں زیادہ متاثر کن عمارت گرینڈ کریملن پیلس ہے جس کی تعمیر نو 1838-39ء میں سر انجام دی گئی تھی کیونکہ 1812ء کی آتشزدگی کے دوران یہ جل گیا تھا اور یہ وہ آتشزدگی تھی جس کی بنا پر اہل روس فرانسیسی حملہ آوروں کو اپنے ملک سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ محلات کے ہال زاروں کے دربار کی شان و شوکت کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ سینٹ جارج ہال میں روس کے عظیم ہیروجات کے نام پتھر کی میزوں پر کندہ ہیں۔ اس ہال کا فرش بیس مختلف اقسام کی لکڑیوں سے بنا ہوا ہے۔یوں کریملن محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ ہے، جو روس کے عروج و زوال، اس کی جدوجہد اور اس کی عالمی حیثیت کی داستان سناتی ہے۔ یہ مقام آج بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے اور آنے والی نسلوں کو روسی تاریخ کی عظمت سے روشناس کرا رہا ہے۔