آسمان کی بلندیوں پر اُڑتے اور چہکتے : چھانگامانگا کے پرندے
اسپیشل فیچر
آسمان کی بلندیوں پر اُڑتے اور چہکتے پرندے ہر آنکھ کو اچھے لگتے ہیں ،لیکن اگر یہی پرندے خوبصورت رنگوں میں نظر آئیں تو حیرت کے ساتھ ساتھ قدرت کے کرشمے کا احساس بھی ہوتا ہے۔پرندے ہوا کے مسافر کہلاتے ہیں۔ یہ ہوائوں میں اڑتے اڑتے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پھر جانے کہاں سے آٹپکتے ہیں۔ کچھ تو اگلے ہی روز آجاتے ہیں اور کچھ چند دنوں بعد۔ بعض پرندے سال میں صرف ایک موسم میں نظر آتے ہیں اور کچھ شاید کئی موسموں کے بعد۔رنگ برنگے، خوبصورت اڑتے ہوئے پرندے یقینا آپ کو بہت پسند ہوں گے۔ جب یہ آسمان پر جھنڈ کی شکل میں ہوں تو لگتا ہے کہ دھنک بکھر گئی ہو اور ان کی سریلی اور مدھر بھری آواز تو دل کو مسحور کر دیتی ہے۔دنیا بھر میں پرندوں کی ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد بنیادی قسمیں ہیں اور یہ تعداد پوری دنیا میں پائے جانے والے حیوانات کی اقسام کی مجموعی تعداد کے برابر ہے۔ اگرچہ پرندوں کی ظاہری شکلوں میں خاصا فرق ہوتا ہے لیکن کبھی آپ غور کریں تو آپ کو ان میں بہت ساری باتیں یکساں نظر آئیں گی۔ چونچ ، سر کے پہلوئوں پر واقع دو گول آنکھیں، سر کی مختصر ہڈیاں، لمبی گردن جس پر اٹکا سر چاروں طرف گھوم سکتا ہے۔پاکستان پرندوں کی دولت سے خاصا مالا مال ہے اور یہاں پائے جانے والے پرندوں کی اقسام چھ یا سات سو کے درمیان ہیں جبکہ ان کی ذیلی اقسام دو ہزار سے زائد ہیں اور ان میں سے بعض تو ایسی اقسام ہیں جو دنیا میں کسی اور جگہ نظر ہی نہیں آتیں۔ ضلع قصور میں جو پرندے ملتے ہیں ان میں ایک بڑی تعداد ان پرندوںکی بھی شامل ہے جو موسم گرما تو شمالی ایشیا اور یورپ کے ممالک میں گزارتے ہیں اور موسم سرما کے چند ماہ پاکستان یا کسی اور متعدل آب ہوا والے ملک میں بسر کرتے ہیں۔ اِس ضلع میں پانی اور خشکی دونوں جگہوں پر پائے جانے والے پرندے بکثرت موجود ہیں۔ضلع قصور کے آبی پرندے جھیلوں اور تالابوں کے کنارے پائے جاتے ہیں۔ ان میں کونجیں، مرغابیاں، بطخیں، بگلے، سارس، ہنس، پن ڈبیاں، دیو ہنس، جل کوّے، جل مرغیاں اور ٹیٹریاں، چہے، آبی بٹیر، ابابیلیں، لوّلے وغیرہ شامل ہیں۔کونج پرواز کے دوران زور دار آواز نکالتی ہے اور اپنے لمبے اور چوڑے پروں کی وجہ سے طویل فاصلے تک پرواز کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سارس تو اپنی گردن کی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے۔ مرغابی کا گوشت بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔چھانگا مانگا میںپالتوبطخ اور قدرتی ماحول میں رہنے والی بطخوں کی قسمیں اپنے رنگوں کے لحاظ سے اتنی مختلف ہیں کہ پاکستان کی علاقائی زبانوں میں ان کے مختلف نام مشہور ہیں۔ ان بطخوں میں سرخاب ، سیخ پر، نیل سر، بوہیر، پوکارڈ، چوٹی، ہنجر، چیکو، ہنس اور راج ہنس بھی بطخوں سے ملتے جلتے ہیں۔ یہ بہت خوبصورت پرندہ ہوتا ہے۔بگلاسفید براق پرندہ ہے۔ بگلے مکمل سفید نہیں ہوتے بلکہ سلیٹی اور سیاہی مائل سفید بھی ہوتے ہیں۔ بگلے کے ساتھ ان کے خاندان کے چار اور پرندے بھی مشہور ہیں ان میں بڑے، چمچہ بزے، چھوٹے ہنس اور لق لق ایک دوسرے سے معمولی فرق رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بگلے، بڑے اور لق لق کی 29 اقسام موجود ہیں۔گھمگر والا جھیل چونیاں ، بلوکی ، گنڈا سنگھ میں یہ نومبر سے دسمبر تک کثیر تعداد میں ملتے ہیں۔تیتر چھانگا مانگا میں بہت پایا جاتا ہے اور اس کا گوشت تو بہت ہی مزے کا ہوتا ہے۔ چھانگا مانگا میں بھورے اور برساتی بٹیر پائے جاتے ہیں۔ مرغ اور مرغان، زرین، یہ ہوا میں اڑتے نہیں ہیں۔ یہ بھی چھانگا مانگا میںپایا جاتا ہے۔چھانگا مانگا کے علاقہ میں آزا د مور بھی اپنے خوبصورت پروں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ نرمور اپنے خوبصورت پر پنکھے کی طرح پھیلا لیتا ہے تو بہت خوبصورت لگتا ہے۔ جنگلی کبوتر اور فاختائیں، تلور اور بھٹ تیتر بھی یہاں کے عام پرندے ہیں۔چھانگا مانگا میں چڑیوں کے خاندان سے متعلق جو اقسام مشہور ہیں ان میں چنڈول، پبلیک، مینا، کوّے، ڈومنیاں، پھٹکیاں، طوطیاں، مکھی گیر، کلچڑیاں، گوریا،ممولے، بنے، پہاڑی چڑیا، لٹورے، تلیر، بلبل، قویسے ، سہیلی پرندے، پِدّے، مغنی چڑیاں، تیراک چڑیاں، پھدکیاں، جوز، پھوڑ اور داب پرندے، گل خورے، شکر خورے، عینکئے ،منیا، سہرے ،ورسے، کبیرا المنقار پرندے شامل ہیں۔عینکئے چڑیوں کی آنکھوں کے گر د عینک کی شکل کے حلقے ہوتے ہیں۔ گل خورے پھلوں اور پھولوں کے رس پر زندہ رہتے ہیں۔ تیراک چڑیاں منجمد کرنے والے پانیوں میں بھی تیر کر اپنی خوراک تلاش کرلیتی ہیں۔ مکھی گیر ایسا پرندہ ہے جو حشرات یا مکھیوں کو ہوا سے پکڑ کر کھا جاتا ہے۔ ایک چڑیا، ’’درزی چڑیا‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ اپنا گھونسلہ بنانے کے لئے دو پتوں کو بڑی مہارت کے ساتھ سی لیتی ہے اس طرح لفافے کی شکل کا گھونسلہ بن جاتا ہے۔چھانگا مانگا میںشکاری پرندوں میں چند اقسام کے باز، شِکرے، عقاب، شاہین، چیلیں اور گدھ شامل ہیں۔ ضلع قصور کے میدانی اور ٹیلوںوالے علاقوں میں پائے جانے والے ان پرندوں کے جسم میں ایسے طاقت ور اعضاء ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ اپنے شکار پر قابو پا لیتے ہیں۔باز اپنی تیز بینائی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ بہت قیمتی پرندہ ہے کیونکہ اسے سدھا کر خرگوش، تلور، بطخوں، بگلوں اور دوسرے پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے۔پرندے جو انسانوں سے جلد مانوس ہو جاتے ہیں ان میں طوطے سر فہرست ہیں۔ ان کی ذہانت ، بولنے اور نقل اتارنے کی صلاحیت کی وجہ سے لوگ انہیں بہت شوق سے گھروں میں پالتے ہیں۔ اکثر طوطوں کی عمر پچاس سال سے زائد اور کچھ کی اسّی سال تک ریکارڈ کی گئی ہیں۔ چھانگا مانگا ، بلوکی، سرحدی گنڈاسنگھ والا اور سرائے مغل کے دریائی علاقے میں پائے جانے والے پرندوں میں سب سے زیادہ شور طوطے ہی مچاتے ہیں۔ان کی چار اقسام ضلع قصور میں موجود ہیں۔ہُد ہُد۔۔۔ ضلع بھر میں صرف ایک قسم کا پایا جاتا ہے۔ جبکہ ’’سینگ چونچ‘‘ کی بھی ایک ہی قسم ہے۔ یہ پرواز کرتے ہوئے خاصی تیز آواز نکالتا ہے۔ چمکدار شوخ رنگوں کے پروں والا یہ پرندہ مینا سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔ شہد خورہ چڑیا کی شکل کا پرندہ ہے۔ گردن مروڑ پرندے کی دو اقسام ہمارے یہاں موجود ہیں۔’’کٹھ پھوڑا‘‘ شکار کے دوران اپنی قوت سماعت سے کام لیتا ہے۔ ککو پرندے پرواز کے ماہر پرندے تصور کئے جاتے ہیںاور خاصے فاصلے تک نقل مکانی کر سکتے ہیں۔اُلُّو کو زمانہ قدیم سے ہی بد شگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ اپنی بڑی آنکھوں کے سبب رات اور دن میں بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں اٹھارہ قسموں کے اُلُّو موجود ہیں۔ ان کا سر چاروں طرف آزادی سے حرکت کر سکتا ہے۔ ضلع بھر کے ویران ٹیلوں میں یہ وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔(سید ظفر عباس نقوی کی تصنیف ’’ سیاحتِ ضلع قصور‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭