ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ویسے تو ہمارے ملک میں بڑے بڑے فنکار پیدا ہوئے ہیں لیکن کچھ فنکار اتنے ورسٹائل تھے کہ آج بھی ان گنت لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی حیات میں ان کی وہ قدر و منزلت نہیں کی گئی جس کے وہ مستحق تھے ۔ ایک ایسے ہی ورسٹائل اداکار تھے ایوب خان۔ ایوب خان وہ فنکار تھے جنہوںنے ریڈیو ، سٹیج ، ٹی وی اور فلموں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کے وہ جوہر دکھائے کہ ایک زمانہ ان کا معترف ہو گیا ۔1937ء میں پشاور کے کوہاٹی دروازہ میں پیدا ہونیوالے ایوب خان کو پنجابی ، پشتو ، اردو اور فارسی زبان پر عبور حاصل تھا ۔ سرکاری ٹی وی کا آغاز 1964ء میں ہوا اور ایوب خان ٹی وی ڈراموں کی پہلی کھیپ سے تعلق رکھتے تھے ۔ اسی طرح ان کا شمار ٹی وی ڈراموں کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے مشہور تھے ۔ ان کو جو کرداردیا جاتا تھا‘ وہ اس میں اس قدر ڈوب جاتے تھے کہ ایسا لگتاکہ یہ کردار ان ہی کیلئے بنا ہے۔ ریڈیو کے سب سے مشہور ڈرامے ’’تلقین شاہ ‘‘ میں ایوب خان نے سلیمان کا کردار ادا کیا ۔ یہ ڈرامہ کئی عشروں تک نشر ہوتا رہا اور اس میں مرکزی کردار صرف تین تھے ۔ ایک اشفاق احمد ، دوسرے نذیر حسینی (ہدایت اللہ ) اور تیسرے ایوب خان (سلیمان ) ۔ اس ریڈیو ڈرامے کی شہرت اب تک برقرار ہے ۔ ایوب خان نے اس کے علاوہ بھی بے شمار ریڈیو ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے سٹیج پر بھی کئی یادگار ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے زیادہ تر صوفی تبسم اور اطہر شاہ خان کے سٹیج ڈراموں میں اپنی فطری اور بے ساختہ اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ ایک دور میں وہ سرکاری ٹی وی پر پروڈکشن مینجر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔ وہ اپنے فن کے ساتھ اتنے مخلص تھے کہ انہوں نے اس کی خاطر پی ڈبلیو ڈی کی نوکری بھی چھوڑ دی ۔ ایوب خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سرکاری ٹی وی پر چلنے والی پہلی پنجابی ڈرامہ سیریز ’’ٹاہلی تھلے ‘‘ کا پہلا مکالمہ بھی انہوں نے ادا کیا ۔ اس کے بعد ان کی ڈرامہ سیریز ’’ اچے برج لہور دے ‘‘ نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ۔ سرکاری ٹی وی کی مقبول ڈرامہ سیریز ’’لاکھوں میں تین ‘‘ کی چند قسطوں میں بھی انہوں نے اپنی خوبصورت اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا ۔ انہوں نے مجموعی طور پر قریباً 600ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ۔ بعض ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کئے لیکن وہ جب بھی ٹی وی سکرین پر نمودار ہوتے تو اپنی بے مثل اداکاری کے نقوش چھوڑ جاتے ۔ ان کے مشہور ترین ڈرامہ سیریز ’’ ٹاہلی تھلے ، اچے برج لہور دے ، جھوک سیال ، جزیرہ ، دھوپ اور سائے ، وارث ، سونا چاندی ، لوک کہانی ، الف نون ، آخر شب ، اور یا نصیب کلینک‘‘ شامل ہیں ۔ غالباً 1975ء میں ان کا ایک ڈرامہ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ یہ عارف وقار کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا جس کی ہدایات آفتاب احمد نے دیں تھیں ۔ اس میں ایوب خان کے ساتھ نثار قادری بھی تھے ۔ یہ ایک اعلیٰ درجے کا ٹی وی ڈرامہ تھا ۔ اس ڈرامے میں یہ بتایا گیا تھا کہ بھوک انسان سے کیا کچھ کروا دیتی ہے۔ اس ڈرامے میں ایوب خان نے ایک بدمعاش کا کردار ادا کیا تھا ۔ انہوں نے اتنی شاندار اداکاری کی کہ ایوارڈ کے مستحق ٹھہرے ۔ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ کو آج بھی بہترین ٹی وی ڈرامہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایوب خان نے ’’ جھوک سیال ‘‘ میں مولوی فضل الرحمان کا کردار ادا کیا ۔ اس کے بعد منو بھائی کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ جزیرہ ‘‘ میں انہوں نے فیروز نائی کا کردار ادا کیا اور اس ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری بہت متاثر کن تھی ۔ اس کے بعد منو بھائی کی ایک اور شہرہ آفاق ڈرامہ سیریز ’’ سونا چاندی ‘‘ ٹیلی کاسٹ کی گئی ۔ اس ڈرامہ سیریز میں ایوب خان نے ماما یعقوب کا کردار ادا کیا اور اپنی بہترین کارکردگی سے ان گنت شائقین کو متاثر کیا ۔ ان کی اداکاری اتنی بے ساختہ اور برجستہ تھی کہ انہیں اب بھی لوگ ماما یعقوب کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ انہوں نے منو بھائی کے ساتھ بہت کام کیا اور وہ ان کے بہت قریب تھے ۔ امجد اسلام امجد کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ وارث ‘‘ نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی ۔ اس ملٹی سٹار ٹی وی سیریز میں عابد علی ، شجاعت ہاشمی ، طاہرہ نقوی ، عظمیٰ گیلانی ، سجاد کشور ، آغا سکندر ، طلعت صدیقی اور محبوب عالم جیسے اداکار ناقابل فراموش اداکاری کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن ماسٹر جی کے کردار میں ایوب خان نے بھی اپنی چھاپ چھوڑی ۔ ایوب خان نے 25فلموں میں بھی کام کیا ۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ’’ دکھ سجناں دے ، ویر پیارا ، گڈو ، قادرا ، چانن اکھیاں دا ، بازی جت لئی‘‘ اور ’’سچائی ‘‘ شامل ہیں ۔ انہوں نے فلموں میں بھی اپنی الگ شناخت بنائی ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں مصطفے قریشی اور ادیب کے ساتھ بھی کام کیا ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں جتنے منفرد کردار ادا کئے‘ اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ وہ بڑے وضع دار اور خوددار انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ میرٹ پر کام کیا اور کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ٹی وی کے سینئر ترین اداکار تھے اور آج بھی ٹی وی کے پرانے اداکار ان کی فنی عظمت کے گن گاتے ہیں ۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں چمچہ گیری نہیں کر سکتا ، چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔3جنوری1987ء کو اس بے بدل فنکار کا جگر کے عارضے کے باعث انتقال ہو گیا ۔ منو بھائی نے ان کی وفات کو 1987ء کا پہلاالمیہ قرار دیا ۔ فنکار برادری نے ان کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ۔ قوی ، مسعود اختر اور اورنگ زیب لغاری جیسے فنکاروں نے ایوب خان کے انتقال کو عظیم نقصان قرار دیا لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت کا تذکرہ از بس ضروری ہے ۔ ایوب خان کی علالت کے دوران فنکار برادری نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ یہی فنکار برادری جس طرح طاہرہ نقوی اور اخلاق احمد کیلئے متحرک ہوئی تھی‘ اس طرح ایوب خان کیلئے میدان میں نہیں آئی ۔ ایوب خان کے مداحین اور ان کے سوگوار خاندان کو آج تک اس کا بے حد ملال ہے ۔ سرکاری ٹی وی نے بھی ان کیلئے کچھ نہ کیا حتیٰ کہ ان کی وفات پر سرکاری ٹی وی پر ان کی یاد میں کوئی پروگرام پیش نہیں کیا گیا البتہ اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے ان کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ ایوب خان کے ساتھ دوسری نا انصافی یہ کی گئی کہ نہ ان کی زندگی میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا اور نہ ہی بعد میں۔یہ حکومتی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے ؟ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ایوب خان کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملنا چاہئے ۔ ایوب خان نے اپنے فن سے ریڈیو اور ٹی وی کی جتنی خدمت کی‘ اس کی بناء پر ان کا نام ریڈیو اور ٹی وی ڈراموں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جسم پر درجنوں بائنڈر کلپس  لگا نے کا عالمی ریکارڈ

جسم پر درجنوں بائنڈر کلپس لگا نے کا عالمی ریکارڈ

انسانی تاریخ ایسے افراد کے حیرت انگیز کارناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی غیرمعمولی صلاحیت، عزم اور منفرد سوچ کے ذریعے دنیا کو حیران کر دیا۔ کوئی بلند ترین چوٹی سر کرتا ہے، کوئی رفتار یا طاقت کا نیا ریکارڈ قائم کرتا ہے، جبکہ بعض لوگ روزمرہ استعمال کی عام اشیاء کو بھی غیرمعمولی کارنامے کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ ایک امریکی شہری نے بظاہر معمولی نظر آنے والی بائنڈر کلپس کو اپنی منفرد مہارت کا وسیلہ بناتے ہوئے جسم پر درجنوں کلپس لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ یہ انوکھا کارنامہ نہ صرف حاضرین کیلئے حیرت کا باعث بنا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ غیرروایتی خیالات، مستقل مزاجی اور تخلیقی انداز انسان کو عالمی شہرت اور منفرد اعزازات سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔عام طور پر بائنڈر کلپ میں انگلی پھنس جائے تو شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے، لیکن کچھ لوگوں کیلئے یہی تکلیف ایک طویل عرصے سے دیکھے گئے گنیز ورلڈ ریکارڈ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے رابرٹ فریڈرک کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے جسم پر سب سے زیادہ بائنڈر کلپس لگوانے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے رابرٹ ثابت قدمی سے کھڑے رہے، جبکہ ان کے دوست نے ان کے جسم پر مجموعی طور پر 58 بائنڈر کلپس لگا دیں۔رابرٹ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ سے سمجھتا تھا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ کا باضابطہ اعزاز حاصل کرنا دنیا کی سب سے شاندار بات ہوگی۔ بلاشبہ، اپنے دیرینہ خواب کو حقیقت کا روپ دینے پر وہ بے حد مسرور اور پرجوش تھے۔شدید تکلیف کے باوجود رابرٹ کا کہنا تھا کہ وہ اس عالمی ریکارڈ کو اپنی ذاتی کامیابی کے طور پر حاصل کرنے کیلئے پُرعزم تھے، اگرچہ اس منفرد کوشش میں انہیں اپنے دوستوں کی بھرپور مدد بھی حاصل رہی۔ اپنے دوستوں نکولس مِل سیپ اور میتھیو الگینالڈو کے ہمراہ رابرٹ ہفتے کے روز امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں واقع لیفٹیننٹ ایرک لوئیڈ میموریل پارک پہنچے، جہاں انہوں نے جسم پر سب سے زیادہ بائنڈر کلپس لگوانے کے عالمی ریکارڈ کی کوشش کی۔ تینوں دوستوں نے پوری منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ اس منفرد چیلنج کو مکمل کیا، جس کے نتیجے میں رابرٹ ایک نئے گنیز ورلڈ ریکارڈ کے حامل بن گئے۔رابرٹ نے اپنی ریکارڈ کوشش کیلئے عام استعمال ہونے والی بائنڈر کلپس استعمال کیں۔ انہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ان قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کی، جن کے مطابق ریکارڈ بنانے کیلئے ایسی چیز استعمال کرنا ضروری تھا جو عام طور پر ہر شخص کو آسانی سے دستیاب ہو۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے ایک انچ (2.5 سینٹی میٹر) سائز کی سیاہ رنگ کی بائنڈر کلپس کے 48، 48 کلپس والے دو پیکٹ استعمال کیے۔آخرکار پارک کی بنچوں کے قریب مناسب جگہ ملنے پر رابرٹ نے اپنی ریکارڈ کوشش کی تیاری شروع کر دی۔ انہوں نے چند منٹ تک خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر اس تکلیف دہ آزمائش کیلئے تیار کیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ عالمی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے انہیں شدید چبھن اور درد کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ہوگا۔

نصابی پرندے اور جانور

نصابی پرندے اور جانور

ہمارے بچپن کی طرح ہمارے بہت سے نصابی پرندے اور جانور بھی ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ آئیے انھیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلبل کا بچہ سکول جاتے ہی ہر بچے کی بلبل کے بچے سے شناسائی ضرور ہوجا تی تھی ۔اس کی خوراک صرف پانی اور کھچڑی تھی۔ شاعر نے ایسے شریف النفس بچے کو اڑاکر اچھا نہیں کیا ۔سوال یہ ہے کہ اڑائے جانے پر وہ واپس نہیں آیا تو کہاں گیا ؟۔مرگیا ہو یا بیرون ملک چلا گیاہو۔ اگر زندہ ہوا تو یقینا دادا پردادا ہوگا اور اس درخت کو یاد کرتا ہوگا جہاں اکیلا بیٹھا کرتا تھا ۔ادھر شعرا کے ہاں بلبل کے مذکر یا مونث ہونے پر خوب لے دے ہوئی۔ایک شاعراسے He جبکہ بہت سے شعرا اسے She ثابت کرنے پر بضد ہیں ۔ایک راوی کے مطابق جب بلبل کے بچے کو اڑایا گیا تو وہ غریب الوطنی کے عالم میں چیچہ وطنی کے جنگلات میں آ گیا۔ جہاں ایک رات اسے ایک نصابی جگنو نے اپنی روشنی کے ذریعے گھر تک پہنچایا تھا۔بعد ازاں حیدر علی آتش عندلیب کو مل کر آہ و زاریاں کرنے کی دعوت بھی دیتا رہا مگر قمر جلالوی کی اس خبر پر کہ صیاد و باغباں میں ملاقات ہو چکی ہے ، بلبل نے آنسو بہا بہا کر باغ چھوڑکراپنی خیر منائی۔ پیاسا کوا جگاڑ لگا کر پانی پینے والے کوے کو کون نہیں جانتا؟۔کچھ مورخین اس واقعہ کی صحت پر سوال اٹھاتے ہیں کیونکہ علاقے اور باغ کا محل وقوع متعین ہے نہ واقعہ کا دور واضح ہے ۔کنکریوں کے ذکر سے قیاس ہے کہ کوئی پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہی سیانا کوا بعد میں لومڑی کی خوشامد سے اپنے منہ کا نوالہ گرا بیٹھا۔ کچھ کوئوں کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والوں کو کاٹ لیتے ہیں اور مہمان کی آمد کی خبراہل خانہ کے کان کھا کر دیتے ہیں ۔اسی کوے کا پھوپھی زادکوا ایک بار اپنی چونچ گندھے ہوئے آٹے میں پھنسا بیٹھا تھا ۔نصابی کوے کے خاندان کے بہت سے چشم وچراغ ہنس کی چال چلنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ چوہا ہمارے نصابی چوہے نے جال میں پھنسے شیر کو جالی کاٹ کر آزاد کروایا۔اس عظیم کارنامے پر کمپیوٹر کی ایک ڈیوائس کا نام '' مائوس‘‘ رکھ دیا گیا۔ سچ ہے کہ نسل بگڑتے دیر نہیں لگتی، شیر کے دل میں گھر کرنے والے چوہے کی غلیظ اولادیں انسان کے گھر میں ''بِل‘‘ کردیتی ہیں۔چوہوں کی Gen.Z تو ایسی احمق نکلی کہ گھڑی پہ چڑھ کر ناچتی ہے اور ٹھیک ایک بجنے پر دھڑام سے گر پڑتی ہے۔ تاہم چا لاک بلی کوبے بس کرنے والے ذہین چوہے بھی موجود ہیں ۔ شیر ہمارا نصابی شیر سیاسی شیر کے برعکس کافی دبدبے کا حامل تھا۔ لوگ اس کے نام سے ایک دوسرے کو ڈرایا کرتے تھے ۔شوخا چرواہا تو روز ہی شیر آنے کا ناٹک کرتاتھا جس کا شیر کو علم ہوگیا اور وہ سچ مچ آ گیا۔ شعرا کے ہاں تو شیر کی آمد سے رن کانپ اٹھتا تھا آخر بلی کا بھانجا جو ہوا۔کچھوا اور خرگوش نصاب میں ایک لمبے عرصے تک کچھوے اور خرگوش کا راج رہا ۔کچھوے کی طبعی عمر چالیس سال تک ہوسکتی ہے جبکہ خرگوش دس سال تک جی سکتا ہے۔یوں خرگوش کچھوے سے بہت پہلے دنیا سے گزر گیا ہوگا ،مگر دونوں کے قوم پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔قوم نے اپنے جملہ فرائض کچھوے اور باقی معاملات خرگوش کی رفتار سے طے کرنے کا عہد کرلیا ۔لالچی کتا قصاب کی دکان سے گوشت چوری کرنے والا چور کتا لالچی بھی تھا ۔تاہم ناقدین اسے من گھڑت قصہ کہتے ہیں ورنہ کتے کے گائوں، نہر ، پل اور کتے کی نسل کے بارے میں بھی کچھ وضاحت ضرورہوتی۔اصلاح پسندوں کے مطابق کتا اگر نہ بھونکا ہوتا تو گوشت سے محروم نہ ہوتا ۔ بھلے پطرس بخاری کتوں کو اچھا نہیں سمجھتا تھا مگر ''عرفی‘‘ کو آوازِ سگاں پرکوئی اعتراض نہ تھا۔ لومڑی نصاب میں لومڑی کو ہمیشہ ہی ولن دکھایا گیا ہے ۔لومڑی کے بارے میں راوی اس کا آبائی وطن لکھنا بھول گیا ۔تاہم قیاس ہے کہ انگوروں والی لومڑی '' چمن‘‘ کے علاقہ سے تعلق رکھتی ہوگی ۔پر آج لومڑی انگور کھٹے ہیں کی بجائے انگور مہنگے ہیں کا بہانہ بناتی ہے ۔ایک شاعر کی نصابی گلہری تو پہاڑ سے ٹکرانے کی جرات رکھتی تھی ۔مگر آج اس گلہری کی نسل بد نے کسانوں اور باغبانوں کے ناک میں دم کررکھا ہے ۔ گائے اور بکری ہماری نصابی بکری سراپا ناشکری تھی جبکہ گائے شکر گزار فطرت کی مالک تھی ۔ادھر چار نصابی بیلوں کا اتفاق مثالی تھا ۔جب پھوٹ پڑی تو قسمت بھی پھوٹ چلی ۔ان کے دور کے رشتے داروں کی بڑی کھیپ آج بھی موجود ہے جن میں کولہو کے بیل بھی شامل ہیں ۔ عقاب عقاب باقاعدہ نصابی پرندہ تو نہیں تھا مگر شاعر نے اسے ہمارے ہر نصاب میں گُھسا دیا۔ شاہین (عقاب) غیرتمند اور جفا کش پرندہ تھا مگر اس کے پوتوں پڑپوتوں کی عقابی روح پرواز کر چکی ہے۔انھوں نے پہاڑوں کی چٹانوں کی بجائے قصر سلطانی اور عشرت کدوں میں بسیرا کررکھا ہے۔ اب ان کا اور کرگس کا جہاں ایک ہوچکا ہے۔ ڈھیر سارے شاہین اپنے جام ِ سفال توڑ کر امریکہ و یورپ کو اڑگئے ہیں ۔ مرغی ہماری مشکوک نصابی مرغی پر اس کے لالچی مالک کو سونے کے انڈے کا شک تھا جو مرغی کی مرگ ِ مفاجات پر منتج ہوا۔بعد ازاں ،آنجہانی کی نسل کے ساتھ ساتھ بریلر اور لئیر اقسام بھی منصہ شہود پر آ کر انسان کی کھابہ گیری کی ضامن بنیں۔ البتہ مرغوں کی ایک لڑاکا نسل فن پہلوانی میں اپنا سکہ منوا رہی ہے ۔ گدھا ہمارا نصابی گدھا حسب ِ معمول آج بھی احمق اور مسکین ہے تاہم چائنا نے گدھوں کو درآمد کرکے ان کی اہمیت کو چار چاند لگا دئیے ہیں ۔

آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمٰن  رومانوی و میوزیکل فلموں کے مقبول اداکار (2005-1937ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمٰن رومانوی و میوزیکل فلموں کے مقبول اداکار (2005-1937ء)

٭...27 فروری 1937ء کو مشرقی ہندوستان کے پنچ گڑھ کے گاؤں میں پیدا ہوئے،پورا نام عبدالرحمن تھا۔ ٭...اداکار رحمن مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ ٭...وہ سب سے پہلے 1959ء میں ہدایت کار احتشام کی بنگالی فلم ''ایہہ دیش تمارامر‘‘ میں بطور ولن سامنے آئے۔ ٭...انھوں نے 1958ء سے لے کر 1970ء کے آخر تک کراچی، ڈھاکہ اور لاہور کی فلموں میں کام کیا۔ ٭...ان کی رومانوی اور میوزیکل فلمیں یادگار ثابت ہوئیں اور ان پر بڑے شاندار نغمات عکس بند کیے گئے۔ ٭...1974ء میں سسپنس فلم ''دھماکہ‘‘ میں کام کیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ فلم ابنِ صفی کے ناول سے ماخوذ تھی۔٭...متحدہ پاکستان کے دور کے اس اداکار نے 60 کی دہائی میں بطور ہدایت کار بھی کامیابیاں سمیٹیں۔ ٭... فلم ''پریت نہ جانے ریت‘‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک حادثہ میں وہ اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہوگئے اور انھیں مصنوعی ٹانگ لگوانا پڑی۔٭...انھوں نے بنگالی اور اردو دونوں زبانوں کی فلموں میں کام کیا۔ ٭...اداکارہ شبنم کے ساتھ ان کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔ ٭... 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہ ایک عرصہ پاکستان میں رہے، مگر 90 کی دہائی میں بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔٭...بنگلہ دیش جانے کے بعد رحمن نے وہاں بنگالی فلموں میں کام کیا اور اپنی مقبولیت برقرار رکھی۔ ٭...18 جولائی 2005 ء کو طویل علالت کے بعد ان کا ڈھاکہ میں انتقال ہوا۔ ان پر عکسبند ہوئے مقبول گیت٭... یہ موسم یہ مست نظارے (درشن) ٭...تمہارے لیے اس دل میں اتنی محبت ہے ، (درشن)٭... پیار بھرے دو شرمیلے نین (چاہت)٭...ایسے وہ شرمائے(دو ساتھی) ٭... دیکھو یہ کون آ گیا (دو ساتھی) ٭...دن رات خیالوں میں (درشن)٭... چل دیے تم جو دل توڑ کر (درشن)٭... تمہارے لیے اس دل میں (درشن)٭... اچھا کیا دل نہ دیا (پیاسا)مقبول فلمیںچندا (1962)، تلاش (1963)، بہانہ (1965)، درشن (1967)،گوری (1968ء)، جہاں بجے شہنائی( 1968ء)، پیاسا (1969ء )،دوستی (1971)، چاہت (1974)، ملن(1974ء)، دو ساتھی (1975ء)، دو تصویریں(1977ء)، دوراہا (1978ء) دھماکہ(1979ء) ، تم سلامت رہو (1976ء)

آج کا دن

آج کا دن

انٹل(Intel) کا قیام 18جولائی1968ء کودنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی انٹل (Intel) کا قیام امریکی ریاست کیلیفورنیا میں عمل میں آیا۔ اس کمپنی کی بنیاد رابرٹ نوائس اور گورڈن مور نے رکھی۔ انٹل نے مائیکرو پروسیسرز، کمپیوٹر چپس اور دیگر سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی تیاری میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آج انٹل دنیا کی صف اوّل کی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور کمپیوٹر انڈسٹری کی ترقی میں اس کا کردار انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔بلدیاتی تاریخ کا بحران2013ء میں آج کے روز امریکی شہر ڈیٹرائٹ کی مقامی حکومت نے تقریباً 20 ارب ڈالر کے قرضوں کے بوجھ تلے دبنے کے بعد دیوالیہ ہونے کی درخواست عدالت میں جمع کرائی۔ یہ اقدام امریکی تاریخ میں کسی بھی بلدیاتی حکومت کی جانب سے دائر کی جانے والی سب سے بڑی میونسپل دیوالیہ پن کی درخواست تھی۔ اس مالی بحران کی بنیادی وجوہات میں ٹیکس آمدنی کا گھٹنا، صنعتی زوال اور بڑھتے ہوئے مالی واجبات شامل تھے۔سوویت فضائی حادثہ1970ء میں آج کے روز سوویت فضائیہ کا ایک انتونوف اے این22 فوجی طیارہ بحر اوقیانوس (اٹلانٹک) میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس المناک حادثے میں طیارے میں سوار تمام 23 افراد ہلاک ہو گئے۔ اے این22 اس وقت دنیا کے سب سے بڑے ٹربو پروپ فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں میں شمار ہوتا تھا اور اس حادثے نے سوویت فضائیہ کیلئے ایک بڑا نقصان ثابت ہوا۔انڈونیشیا :تباہ کن قدرتی آفت18جولائی 1979ء کو انڈونیشیا کے ایلی وی رونگ (Iliwerung) آتش فشاں پر ایک بڑے لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں سمندر میں طاقتور سونامی پیدا ہوئی۔ اس آفت نے قریبی ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا، 530 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 700 سے زیادہ افراد لاپتا ہو گئے۔ یہ سانحہ انڈونیشیا کی تباہ کن قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے، جس نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا۔ برطانیہ میں بیلٹ ایکٹ کانفاذ1872ء میں آج کے روز برطانیہ میں بیلٹ ایکٹ 1872ء نافذ کیا گیا، جس کے تحت پہلی مرتبہ پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات میں خفیہ رائے شماری کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا گیا۔ اس قانون سے قبل ووٹرز عموماً کھلے عام اپنا ووٹ دیتے تھے، جس کے باعث انہیں سیاسی دباؤیا انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خفیہ بیلٹ کے نفاذ نے ووٹ دہندگان کو آزادانہ اور بے خوف ہو کر اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کا حق فراہم کیا۔ اس قانون کو برطانیہ میں انتخابی اصلاحات کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ڈینٹ بلانش پہلی بار سر ہوئی1862ء میں آج کے روز الپس کے بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑوں میں شمار ہونے والی ڈینٹ بلانش کی چوٹی پہلی مرتبہ کامیابی سے سر کی گئی۔ یہ تاریخی کارنامہ آئرش کوہ پیما لیزلی اسٹیفن، سوئس گائیڈز میلخیور اینڈرگ اور جوہان کرونِگ کے ہمراہ انجام دیا گیا۔ تقریباً 4,357 میٹر (14,295 فٹ) بلند یہ چوٹی اپنی نوکیلی ساخت، برفانی ڈھلوانوں اور دشوار راستوں کی وجہ سے کوہ پیماؤں کیلئے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ اس کامیاب مہم کو الپس میں کوہ پیمائی کے سنہری دور کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ہنر مند نوجوان خوشحال پاکستان

ہنر مند نوجوان خوشحال پاکستان

ہر سال 15 جولائی کو دنیا بھر میں نوجوانوں کیلئے مہارتوں کا عالمی دن(World Youth Skills Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نوجوانوں میں فنی، پیشہ ورانہ، ڈیجیٹل اور عملی مہارتوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔ آج کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ کامیابی کے لیے عملی مہارت، تخلیقی سوچ، جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نوجوانوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کو قومی ترقی کی بنیاد تصور کرتے ہیں۔ نوجوان سرمایہپاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اگر اس نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم کے ساتھ جدید فنی اور تکنیکی مہارتیں فراہم کی جائیں تو یہ نوجوان ملکی معیشت کو مضبوط، بے روزگاری کو کم اور پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بہت سے نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود عملی مہارتوں سے محروم رہتے ہیں جس کے باعث انہیں روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ تعلیمی نظام کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ عملی تربیت بھی دی جائے۔ہنر ،ترقی اور خود انحصاری آج کا دور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت، ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور فری لانسنگ جیسی مہارتیں نوجوانوں کے لیے کامیابی کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔ پاکستان کے ہزاروں نوجوان آن لائن خدمات فراہم کرکے نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔فنی اور تکنیکی مہارتیں نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بھی بناتی ہیں۔ ایک ہنرمند نوجوان صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہارتوں کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعتوں، نجی شعبے اور والدین سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضروری ہے کہ ہر ضلع میں جدید ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں، صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں، نوجوانوں کو انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں اور خواتین کے لیے بھی مساوی تربیتی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ صرف ڈگری حاصل کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ کسی نہ کسی فنی یا ڈیجیٹل مہارت میں بھی مہارت حاصل کریں۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی وقت کی قدر کرتے ہوئے نئی چیزیں سیکھنے، تحقیق کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہنرمند نوجوان، روشن پاکستان نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ پاکستان نوجوان آبادی کے اعتبار سے ایک خوش نصیب ملک ہے لیکن یہ نعمت اسی وقت قومی طاقت بن سکتی ہے جب نوجوان تعلیم کے ساتھ جدید مہارتوں سے بھی آراستہ ہوں۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، نجی شعبہ اور معاشرہ مل کر نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دیں تو پاکستان بے روزگاری میں کمی، معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور عالمی مسابقت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے امیدوار نہیں بلکہ ہنرمند، خوداعتماد، باصلاحیت اور بااختیار شہری بنایا جائے۔ یہی نوجوان مستقبل میں پاکستان کی معیشت، صنعت، زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی کے معمار ثابت ہوں گے۔ ایک ہنر مند نوجوان ہی ایک مضبوط خاندان، خوشحال معاشرے اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے، لہٰذا ہمیں نوجوانوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کو قومی ترجیح بنانا چاہیے، کیونکہ آج کا ہنرمند نوجوان ہی کل کے روشن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہے۔

وائیجر1:کائنات کی وسعتوں کا مسافر

وائیجر1:کائنات کی وسعتوں کا مسافر

لائٹ ڈے سے کتنا دور؟جب انسان نے خلا کی وسعتوں کو سمجھنے کا سفر شروع کیا تو اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ نظامِ شمسی سے باہر کی دنیا کے بارے میں بھی جان سکے۔ اسی مقصد کے تحت امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 ستمبر 1977ء کو voyager 1 خلائی تحقیقاتی مشن روانہ کیا۔ اس خلائی جہاز کا بنیادی مقصد مشتری (Jupiter) اور زحل (Saturn) سمیت بیرونی سیاروں کا مطالعہ کرنا تھا مگر یہ مشن توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب ثابت ہوا۔آج تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود وائجر 1 خلا میں مسلسل محو پرواز ہے اور یہ انسان کا تیار کردہ سب سے طویل دوری پر موجود خلائی آلہ ہے اب بین النجمی خلا (Interstellar Space) میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یہ ابھی تک روشنی کے صرف ایک دن کے سفر کے برابر فاصلہ بھی مکمل نہیں کر سکا۔گزشتہ سال دسمبر میں وائجر پراجیکٹ کی منیجر سوزی ڈاڈ نے سی این این کو بتایا تھا کہ نومبر 2026ء میں وائجر 1زمین سے ایک لائٹ ڈے کے فاصلے پر پہنچ جائے گا۔ نوری سال اور نوری دن؟عام طور پر ہم نوری سال (Light Year) کے بارے میں سنتے ہیں لیکن لائٹ ڈے بھی فاصلے کی ایک اہم اکائی ہے۔ اس سے مراد وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک دن میں طے کرتی ہے۔روشنی کی رفتار تقریباً 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جو کائنات میں معلوم ہونے والی سب سے زیادہ رفتار ہے۔ اسی رفتار سے روشنی ایک دن میں تقریباً 25.9 ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتی ہے۔دوسری طرف وائجر 1 تقریباً 61 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے، جو انسانی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بے حد تیز رفتار ہے مگر روشنی کی رفتار کے مقابلے میں یہ انتہائی سست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً پچاس برس کے مسلسل سفر کے باوجود یہ ابھی تک ایک لائٹ ڈے کے فاصلے تک نہیں پہنچ سکا۔یہ حقیقت نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ہمیں یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ کائنات کتنی وسیع اور ناقابلِ تصور حد تک بڑی ہے۔وائجر 1 کی کامیابیاںوائجر 1 نے اپنے سفر کے دوران سائنس کو بے شمار قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس نے مشتری کے گرد موجود چاند، زحل کے حلقوں، سیاروں کے ماحول اور مقناطیسی میدانوں کے بارے میں ایسی معلومات بھیجیں جنہوں نے فلکیات کی دنیا میں نئی راہیں کھول دیں۔2012 ء میں وائجر 1 نے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کیا، جب یہ ہیلیوسفیئر (Heliosphere) سے نکل کر بین النجمی خلا میں داخل ہونے والا پہلا انسانی ساختہ خلائی آلہ بن گیا۔ اس کے بعد سے یہ مسلسل ایسے علاقے سے معلومات بھیج رہا ہے جہاں پہلے کبھی کوئی انسانی مشن نہیں پہنچا ۔اگرچہ اب اس کے کئی سائنسی آلات بند کیے جا چکے ہیں تاکہ محدود توانائی کو بچایا جا سکے لیکن اس کے بعض آلات اب بھی فعال ہیں اور زمین تک قیمتی سائنسی ڈیٹا بھیج رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق آنے والے چند برسوں میں اس کی توانائی مزید کم ہو جائے گی جس کے بعد اس سے رابطہ ختم ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ خلائی جہاز اربوں سال تک خلا میں اپنا سفر جاری رکھے گا۔کائنات کی وسعت کا خاموش پیغاموائجر 1 کی کہانی صرف ایک خلائی مشن کی داستان نہیں بلکہ یہ انسانی جستجو، سائنسی ترقی اور کائنات کی بے پناہ وسعت کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ جب ہم سنتے ہیں کہ تقریباً پچاس سال تک مسلسل سفر کرنے والا خلائی جہاز بھی روشنی کے صرف ایک دن کے سفر کے برابر فاصلہ مکمل نہیں کر سکا تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ستاروں، کہکشاؤں اور کائنات کے درمیان فاصلے ہماری روزمرہ زندگی کے پیمانوں سے کہیں زیادہ عظیم ہیں۔یہ مشن آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک علامت ہے کہ علم کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے ایک دن انسان ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر لے جو موجودہ رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہو لیکن فی الحال وائجر 1 انسانی تاریخ کے سب سے کامیاب اور طویل المدت خلائی مشنز میں شمار ہوتا ہے۔وائجر 1 آج بھی خاموشی سے خلا کی تاریکی میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف سائنسدانوں کے لیے معلومات کا خزانہ ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہماری زمین اس وسیع کائنات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور ابھی دریافت کی جانے والی دنیا ہمارے تصور سے کہیں زیادہ بڑی اور پراسرار ہے۔