ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ویسے تو ہمارے ملک میں بڑے بڑے فنکار پیدا ہوئے ہیں لیکن کچھ فنکار اتنے ورسٹائل تھے کہ آج بھی ان گنت لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی حیات میں ان کی وہ قدر و منزلت نہیں کی گئی جس کے وہ مستحق تھے ۔ ایک ایسے ہی ورسٹائل اداکار تھے ایوب خان۔ ایوب خان وہ فنکار تھے جنہوںنے ریڈیو ، سٹیج ، ٹی وی اور فلموں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کے وہ جوہر دکھائے کہ ایک زمانہ ان کا معترف ہو گیا ۔1937ء میں پشاور کے کوہاٹی دروازہ میں پیدا ہونیوالے ایوب خان کو پنجابی ، پشتو ، اردو اور فارسی زبان پر عبور حاصل تھا ۔ سرکاری ٹی وی کا آغاز 1964ء میں ہوا اور ایوب خان ٹی وی ڈراموں کی پہلی کھیپ سے تعلق رکھتے تھے ۔ اسی طرح ان کا شمار ٹی وی ڈراموں کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے مشہور تھے ۔ ان کو جو کرداردیا جاتا تھا‘ وہ اس میں اس قدر ڈوب جاتے تھے کہ ایسا لگتاکہ یہ کردار ان ہی کیلئے بنا ہے۔ ریڈیو کے سب سے مشہور ڈرامے ’’تلقین شاہ ‘‘ میں ایوب خان نے سلیمان کا کردار ادا کیا ۔ یہ ڈرامہ کئی عشروں تک نشر ہوتا رہا اور اس میں مرکزی کردار صرف تین تھے ۔ ایک اشفاق احمد ، دوسرے نذیر حسینی (ہدایت اللہ ) اور تیسرے ایوب خان (سلیمان ) ۔ اس ریڈیو ڈرامے کی شہرت اب تک برقرار ہے ۔ ایوب خان نے اس کے علاوہ بھی بے شمار ریڈیو ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے سٹیج پر بھی کئی یادگار ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے زیادہ تر صوفی تبسم اور اطہر شاہ خان کے سٹیج ڈراموں میں اپنی فطری اور بے ساختہ اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ ایک دور میں وہ سرکاری ٹی وی پر پروڈکشن مینجر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔ وہ اپنے فن کے ساتھ اتنے مخلص تھے کہ انہوں نے اس کی خاطر پی ڈبلیو ڈی کی نوکری بھی چھوڑ دی ۔ ایوب خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سرکاری ٹی وی پر چلنے والی پہلی پنجابی ڈرامہ سیریز ’’ٹاہلی تھلے ‘‘ کا پہلا مکالمہ بھی انہوں نے ادا کیا ۔ اس کے بعد ان کی ڈرامہ سیریز ’’ اچے برج لہور دے ‘‘ نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ۔ سرکاری ٹی وی کی مقبول ڈرامہ سیریز ’’لاکھوں میں تین ‘‘ کی چند قسطوں میں بھی انہوں نے اپنی خوبصورت اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا ۔ انہوں نے مجموعی طور پر قریباً 600ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ۔ بعض ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کئے لیکن وہ جب بھی ٹی وی سکرین پر نمودار ہوتے تو اپنی بے مثل اداکاری کے نقوش چھوڑ جاتے ۔ ان کے مشہور ترین ڈرامہ سیریز ’’ ٹاہلی تھلے ، اچے برج لہور دے ، جھوک سیال ، جزیرہ ، دھوپ اور سائے ، وارث ، سونا چاندی ، لوک کہانی ، الف نون ، آخر شب ، اور یا نصیب کلینک‘‘ شامل ہیں ۔ غالباً 1975ء میں ان کا ایک ڈرامہ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ یہ عارف وقار کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا جس کی ہدایات آفتاب احمد نے دیں تھیں ۔ اس میں ایوب خان کے ساتھ نثار قادری بھی تھے ۔ یہ ایک اعلیٰ درجے کا ٹی وی ڈرامہ تھا ۔ اس ڈرامے میں یہ بتایا گیا تھا کہ بھوک انسان سے کیا کچھ کروا دیتی ہے۔ اس ڈرامے میں ایوب خان نے ایک بدمعاش کا کردار ادا کیا تھا ۔ انہوں نے اتنی شاندار اداکاری کی کہ ایوارڈ کے مستحق ٹھہرے ۔ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ کو آج بھی بہترین ٹی وی ڈرامہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایوب خان نے ’’ جھوک سیال ‘‘ میں مولوی فضل الرحمان کا کردار ادا کیا ۔ اس کے بعد منو بھائی کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ جزیرہ ‘‘ میں انہوں نے فیروز نائی کا کردار ادا کیا اور اس ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری بہت متاثر کن تھی ۔ اس کے بعد منو بھائی کی ایک اور شہرہ آفاق ڈرامہ سیریز ’’ سونا چاندی ‘‘ ٹیلی کاسٹ کی گئی ۔ اس ڈرامہ سیریز میں ایوب خان نے ماما یعقوب کا کردار ادا کیا اور اپنی بہترین کارکردگی سے ان گنت شائقین کو متاثر کیا ۔ ان کی اداکاری اتنی بے ساختہ اور برجستہ تھی کہ انہیں اب بھی لوگ ماما یعقوب کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ انہوں نے منو بھائی کے ساتھ بہت کام کیا اور وہ ان کے بہت قریب تھے ۔ امجد اسلام امجد کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ وارث ‘‘ نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی ۔ اس ملٹی سٹار ٹی وی سیریز میں عابد علی ، شجاعت ہاشمی ، طاہرہ نقوی ، عظمیٰ گیلانی ، سجاد کشور ، آغا سکندر ، طلعت صدیقی اور محبوب عالم جیسے اداکار ناقابل فراموش اداکاری کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن ماسٹر جی کے کردار میں ایوب خان نے بھی اپنی چھاپ چھوڑی ۔ ایوب خان نے 25فلموں میں بھی کام کیا ۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ’’ دکھ سجناں دے ، ویر پیارا ، گڈو ، قادرا ، چانن اکھیاں دا ، بازی جت لئی‘‘ اور ’’سچائی ‘‘ شامل ہیں ۔ انہوں نے فلموں میں بھی اپنی الگ شناخت بنائی ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں مصطفے قریشی اور ادیب کے ساتھ بھی کام کیا ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں جتنے منفرد کردار ادا کئے‘ اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ وہ بڑے وضع دار اور خوددار انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ میرٹ پر کام کیا اور کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ٹی وی کے سینئر ترین اداکار تھے اور آج بھی ٹی وی کے پرانے اداکار ان کی فنی عظمت کے گن گاتے ہیں ۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں چمچہ گیری نہیں کر سکتا ، چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔3جنوری1987ء کو اس بے بدل فنکار کا جگر کے عارضے کے باعث انتقال ہو گیا ۔ منو بھائی نے ان کی وفات کو 1987ء کا پہلاالمیہ قرار دیا ۔ فنکار برادری نے ان کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ۔ قوی ، مسعود اختر اور اورنگ زیب لغاری جیسے فنکاروں نے ایوب خان کے انتقال کو عظیم نقصان قرار دیا لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت کا تذکرہ از بس ضروری ہے ۔ ایوب خان کی علالت کے دوران فنکار برادری نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ یہی فنکار برادری جس طرح طاہرہ نقوی اور اخلاق احمد کیلئے متحرک ہوئی تھی‘ اس طرح ایوب خان کیلئے میدان میں نہیں آئی ۔ ایوب خان کے مداحین اور ان کے سوگوار خاندان کو آج تک اس کا بے حد ملال ہے ۔ سرکاری ٹی وی نے بھی ان کیلئے کچھ نہ کیا حتیٰ کہ ان کی وفات پر سرکاری ٹی وی پر ان کی یاد میں کوئی پروگرام پیش نہیں کیا گیا البتہ اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے ان کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ ایوب خان کے ساتھ دوسری نا انصافی یہ کی گئی کہ نہ ان کی زندگی میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا اور نہ ہی بعد میں۔یہ حکومتی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے ؟ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ایوب خان کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملنا چاہئے ۔ ایوب خان نے اپنے فن سے ریڈیو اور ٹی وی کی جتنی خدمت کی‘ اس کی بناء پر ان کا نام ریڈیو اور ٹی وی ڈراموں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
موتی مسجد

موتی مسجد

شاہی قلعہ لاہور میں فنِ تعمیر کا شاہکارشاہی قلعہ لاہور میں واقع موتی مسجد مغل دور کی تعمیرات میں ایک نہایت دلکش اور روحانی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کی گئی یہ مسجد اپنے حسن، سادگی اور روحانی وقار کے باعث تاریخی و مذہبی دونوں حوالوں سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مغل فنِ تعمیر کی روایت میں یہ مسجد نہ صرف جمالیاتی خوبیوں کی نمائندہ ہے بلکہ اس دور کی مذہبی اور ثقافتی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔موتی مسجد کی تعمیر 1654ء میں مغل شہنشاہ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ شاہجہاں کا زمانہ مغل فنِ تعمیر کے عروج کا دور سمجھا جاتا ہے۔ اسی عہد میں تاج محل جیسی عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی۔ اُس دور کی عمارتوں میں سنگِ مرمر کا استعمال، نفیس نقش و نگار اور متوازن طرزِ تعمیر نمایاں نظر آتے ہیں۔لاہور کے شاہی قلعے کے مغربی حصے میں واقع یہ مسجد نسبتاً چھوٹے سائز کی ہے مگر اس کی خوبصورتی اور نفاست اسے قلعے کی اہم ترین عمارتوں میں شامل کرتی ہے۔ اسے مکمل طور پر سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کیا گیا جو راجستھان کے علاقے مکرانہ کی کانوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ یہ سنگِ مرمر اپنی چمک اور پائیداری کی وجہ سے مغل عمارتوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔موتی مسجد کا نام اس کے سفید اور چمکدار سنگِ مرمر سے منسوب ہے۔ سنگِ مرمر کی چمک کسی موتی کی طرح محسوس ہوتی ہے اسی لیے اسے موتی مسجد کہا جاتا ہے۔ مغل دور میں مساجد کو قیمتی پتھروں کے ناموں سے منسوب کرنے کی روایت بھی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسی نام کی مساجد آگرہ اور دہلی میں بھی موجود ہیں۔موتی مسجد شاہی قلعہ لاہور کے مغربی جانب واقع ہے۔ قلعے کی مجموعی عمارتیں زیادہ تر شمال جنوب سمت میں تعمیر کی گئی ہیں مگر مسجد کی سمت اس اصول سے مختلف ہے۔مسجد تک رسائی ایک چھوٹے سے دروازے کے ذریعے ہے جو شمال مشرقی سمت میں واقع ہے۔ یہ دروازہ قلعے کے مکتب خانہ کے قریب واقع ہے۔ جب کوئی شخص اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ایک طویل اورخاموش برآمدہ آتا ہے۔ یہ برآمدہ ماحول میں ایک خاص سنجیدگی اور خاموشی پیدا کرتا ہے۔جب زائر اس برآمدے سے گزر کر مسجد کے صحن میں داخل ہوتا ہے تو اچانک سفید سنگِ مرمر سے بنی روشن اور چمکتی ہوئی عمارت سامنے آ جاتی ہے۔ یہ منظر نہایت دلکش اور روح پرور محسوس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ایک پاکیزہ اور روحانی ماحول میں قدم رکھ دیا گیا ہو۔موتی مسجد کی پیشانی پانچ حصوں یا محرابی دہانوں پر مشتمل ہے۔ درمیان والا حصہ قدرے آگے کی طرف ابھرا ہوا ہے جو اسے نمایاں کرتا ہے۔ پانچ محرابی دہانوں پر مشتمل یہ طرزِ تعمیر مغل فنِ تعمیر کا ایک پسندیدہ انداز تھا۔اس طرز کو مریم زمانی مسجد میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بعد میں یہی انداز مغل دور کی بیشتر بڑی مساجد میں اختیار کیا گیا۔تاہم موتی مسجد کی ساخت میں ایک اہم فرق بھی ہے۔ اس میں مغربی دیوار کے ساتھ دو عرضی راہداریاں بنائی گئی ہیں جبکہ مریم زمانی مسجد میں صرف ایک راہداری ہے۔ اس تبدیلی نے مسجد کے اندرونی حصے کو زیادہ کشادہ اور متوازن بنا دیا۔موتی مسجد کی بیرونی شکل و صورت نسبتاً سادہ اور غیر نمائشی ہے۔ مغل دور کی کئی عظیم عمارتوں کے برعکس اس مسجد میں زیادہ تزئین و آرائش نظر نہیں آتی۔ لیکن یہی سادگی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔ سفید سنگِ مرمر کی سطح سورج کی روشنی میں چمکتی ہے اور عمارت کو ایک خاص وقار عطا کرتی ہے۔مسجد کے صحن اور نماز گاہ میں داخل ہونے کے بعد جو سکون اور خاموشی محسوس ہوتی ہے وہ اس کے روحانی ماحول کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک روحانی مقام بھی سمجھی جاتی ہے۔ثقافتی اور تاریخی اہمیتلاہور کا شاہی قلعہ برصغیر کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مغل دور میں یہ قلعہ شاہی رہائش گاہ اور حکومتی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس قلعے کے اندر موجود عمارتیں مغل فنِ تعمیر کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرتی ہیں۔ موتی مسجد ان عمارتوں میں خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ مغل دور کی مذہبی تعمیرات کی بہترین مثال ہے۔ یہ مسجد نہ صرف سیاحوں بلکہ تاریخ اور فنِ تعمیر کے ماہرین کی بھی توجہ کا مرکز ہے۔شاہی قلعہ آنے والے سیاح موتی مسجد کی خوبصورتی اور سکون بخش ماحول سے ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد نہ صرف مغل فنِ تعمیر کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم حصہ ہے۔

 مستقبل کی حیران کن ٹیکنالوجی

مستقبل کی حیران کن ٹیکنالوجی

شیشے کے ایک ٹکڑے میں دو ملین کتابوں کا ڈیٹادنیا میں ڈیٹا کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہر روز اربوں فائلیں، تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات تخلیق ہو رہی ہیں مگر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ معلومات آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکیں گی؟ روایتی سٹوریج ڈیوائسز جیسے ہارڈ ڈرائیوز، میگنیٹک ٹیپس اور SSD عموماً چند سال یا زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں تک قابلِ اعتماد رہتی ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے ایک حیران کن ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس میں شیشے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر ڈیٹا ہزاروں سال تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔یہ نئی ٹیکنالوجی امریکی ادارے مائیکروسافٹ ریسرچ کے سائنسدانوں نے تیار کی ہے جسے پروجیکٹ سلیکا کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں عام شیشے کے ایک باریک مربع ٹکڑے میں لیزر کی مدد سے ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس چھوٹے سے شیشے میں تقریباً دو ملین کتابوں کے برابر معلومات محفوظ کی جا سکتی ہیں اور تحقیق کے مطابق یہ ڈیٹا کم از کم 10 ہزار سال تک محفوظ رہ سکتا ہے۔شیشے میں ڈیٹا لکھنے کا طریقہاس ٹیکنالوجی میں انتہائی طاقتور اور نہایت مختصر دورانیے کی لیزر شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں جنہیں فیمٹو سیکنڈ لیزر کہا جاتا ہے۔ فیمٹو سیکنڈ دراصل وقت کی انتہائی چھوٹی اکائی ہے جو ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتی ہے۔ یہ لیزر شعاعیں شیشے کے اندر نہایت باریک تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں جن کے ذریعے ڈیجیٹل معلومات کو کوڈ کیا جاتا ہے۔ لیزر کے ذریعے شیشے کے اندر ننھے ننھے تین جہتی نقاط بنائے جاتے ہیں جنہیں ووکسَل (Voxel) کہا جاتا ہے۔ ہر ووکسل دراصل ایک چھوٹے ڈیجیٹل پکسل کی طرح ہوتا ہے جو ڈیٹا کا ایک حصہ محفوظ کرتا ہے۔ ان ووکسلز کو مختلف گہرائیوں اور تہوں میں ترتیب دے کر بہت زیادہ مقدار میں معلومات ذخیرہ کی جا سکتی ہیں۔ حیران کن گنجائشسائنسدانوں نے تجربے کے طور پر تقریباً 12 مربع سینٹی میٹر کے ایک شیشے کے ٹکڑے میں 4.8 ٹیرابائٹ ڈیٹا محفوظ کیا۔ یہ مقدار تقریباً دو ملین کتابوں یا پانچ ہزار ہائی ڈیفینیشن فلموں کے برابر ہے۔ اس ڈیٹا کو شیشے کے اندر سینکڑوں تہوں میں محفوظ کیا گیا، جس سے سٹوریج کی گنجائش کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہزاروں سال تک محفوظ ڈیٹااس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ اس کی پائیداری ہے۔ روایتی سٹوریج ڈیوائسز وقت کے ساتھ خراب ہو جاتی ہیں جبکہ شیشے میں محفوظ ڈیٹا کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بجلی یا مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تجربات میں شیشے کو انتہائی درجہ حرارت تک گرم کر کے بھی جانچا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ معلومات 10 ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔مزید یہ کہ شیشے کی یہ سٹوریج ٹیکنالوجی پانی، حرارت، مقناطیسی میدان اور دیگر بیرونی اثرات کے مقابلے میں بھی بہت زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اسے طویل مدتی محفوظ آرکائیوز کے لیے بہترین سمجھا جا رہا ہے۔مستقبل میں ممکنہ استعمالماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد روزمرہ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کے لیے اسٹوریج فراہم کرنا نہیں بلکہ طویل مدتی ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا ہے۔ مثال کے طور پر: قومی یا عالمی تاریخی ریکارڈ، موسمیاتی اور سائنسی ڈیٹا، ثقافتی اور ادبی ورثہ، حکومتی دستاویزات۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ دنیا کی بڑی لائبریریاں اور آرکائیوز لاکھوں کتابوں اور دستاویزات کو شیشے کی چھوٹی پلیٹوں میں محفوظ کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج انسانیت بے شمار ڈیجیٹل معلومات تخلیق کر رہی ہے لیکن موجودہ سٹوریج ٹیکنالوجی اس معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنے کے قابل نہیں۔ اس صورتحال کو بعض ماہرین ڈیجیٹل ڈارک ایج کا خطرہ بھی قرار دیتے ہیں یعنی آنے والی نسلیں ممکن ہے ہمارے دور کی معلومات تک رسائی نہ حاصل کر سکیں۔ شیشے پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی اس مسئلے کا ممکنہ حل فراہم کر سکتی ہے۔شیشے میں ڈیٹا محفوظ کرنے کی یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل کے ڈیجیٹل آرکائیوز کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک چھوٹے سے شیشے کے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنا سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیران کن پیش رفت ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگتی ہے تو ممکن ہے کہ آنے والی صدیوں میں انسانی علم و تہذیب کے بڑے ذخیرے شیشے کے ننھے ٹکڑوں میں محفوظ ہوں۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

تکہ سموسہاجزا: چکن بریسٹ: دو عدد، لیموں کا رس: دو چمچ، تکہ مسالہ: دو سے تین چمچ، سموسہ پٹی دس عدد، انڈہ: ایک عدد (پھینٹا ہوا)، لہسن ادرک کا پیسٹ: ایک چمچ، نمک حسب ِضرورت۔ترکیب: چکن بریسٹ پر اچھی طرح تکہ مسالہ لگا کر ایک گھنٹے کے لیے میری نیٹ کر لیں۔ ایک پین میں دو سے تین کھانے کے چمچ تیل گرم کرکے اس میں چکن ڈال کرکے پکائیں یہاں تک کہ چکن گل جائے۔ اب اسے فوڈ پروسیسر میں پیس لیں اور باقی کے تمام اجزابھی شامل کردیں۔پھر سموسہ پٹی میں چکن مکسچر رکھ کر سموسہ کی شکل میں لپیٹ لیں اور انڈا لگا کر کناروں کو بند کر لیں۔ گرم تیل میں سنہرا ہونے تک ڈیپ فرائی کریں۔ کھجور کا شربت کھجور کا شربت تیار کرنے کیلئے حسب ضرورت کھجور لے کر رات بھر پانی میں بھگودیں۔ صبح اُٹھ کر کھجور کو ہاتھوں سے ملیں، اسے اتنی دیر تک ملیں کہ تمام کھجوریں اور ان کے ریشے پانی میں حل ہوجائیں۔ کھجور کے اس شربت میں دودھ بھی ملایا جاسکتا ہے۔ صبح کا بھگویا ہوا شام کو استعمال کریں اور شام کا بھگویا ہوا صبح استعمال کریں۔ کھجور کا شربت معدہ کی تیزابیت، پیاس کی شدت ، ہاتھ پاؤں کی جلن، منہ کی خشکی ، لعاب دہن کا کم ہونا اور قبض وغیرہ کا بہترین علاج ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

پیرس کمیون کا قیام 18 مارچ 1871ء کو پیرس میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی جسے پیرس کمیون کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب فرانس اورپروشیا جنگ میں فرانس کو شکست ہوئی اور حکومت نے جرمنی کے ساتھ صلح کا فیصلہ کیا۔پیرس کے شہریوں اور قومی محافظ دستے نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور شہر میں ایک انقلابی حکومت قائم کر لی جس نے مزدوروں کے حقوق، مفت تعلیم اور ریاست و کلیسا کی علیحدگی جیسے اصلاحی اقدامات شروع کیے۔یہ حکومت تقریباً دو ماہ تک قائم رہی۔ اس کے باوجود پیرس کمیون کو مزدور تحریکوں اور انقلابی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ برلن انقلاب 18 مارچ 1848ء کو برلن میں عوامی بغاوت ہوئی جو جرمن انقلابات 1848ء تا 1849ء کا اہم حصہ تھی۔ اس تحریک کا مقصد آئینی حکومت قائم کرنا، شہری آزادیوں کو بڑھانا اور سیاسی اصلاحات حاصل کرنا تھا۔ اُس وقت پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم چہارم حکمران تھے۔ جب عوام نے اصلاحات کا مطالبہ کیا تو مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ عوامی دباؤ کے باعث بادشاہ کو اصلاحات کا اعلان کرنا پڑا اور فوج کو وقتی طور پر شہر سے واپس بلانا پڑا۔ یہ تحریک مکمل کامیاب نہ ہو سکی لیکن اس نے جرمنی میں جمہوریت اور قومی اتحاد کی تحریک کو مضبوط کیا۔ پہلی خلائی چہل قدمی 18 مارچ 1965ء کو سوویت خلا باز الیکسی لیونوف نے انسانی تاریخ کی پہلی خلائی چہل قدمی کی۔ لیونوف تقریباً بارہ منٹ تک خلا میں رہے اور ایک حفاظتی رسی کے ذریعے جہاز کے ساتھ منسلک تھے۔مشن کے دوران ایک خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی کیونکہ خلا میں دباؤ کی وجہ سے ان کا خلائی لباس سخت ہو گیا اور وہ آسانی سے جہاز میں واپس داخل نہیں ہو پا رہے تھے۔ بڑی مہارت سے انہوں نے لباس کا دباؤ کم کیا اور محفوظ طریقے سے واپس جہاز میں داخل ہو گئے۔ یہ تجربہ بعد کے خلائی پروگراموں کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔ گیلی پولی کی لڑائی پہلی جنگ عظیم کے دوران 18 مارچ 1915ء کو گیلی پولی مہم کا ایک اہم مرحلہ پیش آیا۔ اس دن اتحادی افواج نے آبنائے داردانیلز پر بڑا بحری حملہ کیا تاکہ استنبول تک راستہ حاصل کیا جا سکے۔اتحادی ممالک جن میں برطانیہ اور فرانس شامل تھے، نے عثمانی سلطنت کے دفاعی مورچوں پر شدید گولہ باری کی تاہم عثمانی افواج نے سخت مزاحمت کی اور کئی اتحادی جنگی جہاز تباہ ہو گئے۔یہ جنگ عثمانی سلطنت کے لیے ایک بڑی دفاعی کامیابی سمجھی جاتی ہے ۔ترکی میں آج بھی 18 مارچ کو اس جنگ کی یاد منائی جاتی ہے۔ کریمیا کا الحاق 18 مارچ 2014ء کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا کہ کریمیا کو روس میں شامل کر لیا گیا ہے۔یہ فیصلہ ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد کیا گیا تھا جسے یوکرین اور کئی مغربی ممالک نے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں روس اور مغربی ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی اور روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔یہ واقعہ بعد میں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی اور تنازع کا ایک اہم سبب بن گیا۔

مسجد خواجہ اویس کھگہ

مسجد خواجہ اویس کھگہ

ملتان میں فن تعمیر کا شاہکارملتان جو صدیوں سے صوفیا کرام اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہا ہے، اپنے تاریخی مقامات اور صوفیانہ ورثے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں متعدد مساجد اور مزار ایسے ہیں جو نہ صرف مذہبی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ فن تعمیر کا شاندار نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں مقام خواجہ اویس کھگہ مسجد ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کی منفرد خصوصیات کی حامل ہے اور صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے ساتھ واقع ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی تاریخ کے بارے میں مصدقہ تاریخی معلومات کی کم دستیاب ہیں لیکن مورخین کا اندازہ ہے کہ یہ مسجد غالباً سولہویں سے اٹھارہویں صدی کے دوران تعمیر کی گئی ۔ اس مسجد کے فن تعمیر میں وہ تمام عناصر نمایاں ہیں جو مغلیہ دور کے حسنِ تعمیر کی پہچان ہیں۔ اس کے بلند گوشہ دار مینار، آرائشی کام اور محرابیں عکاسی کرتی ہیں کہ یہ عمارت مغلیہ فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں کوئی گنبد موجود نہیں، اس کے بجائے مسجد کے گوشوں میں بلند و بالا مینار نصب کیے گئے ہیں جو چھوٹے چھوٹے پویلین یا چتریوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ تکنیک عمارت کے حجم کو بڑا اور باوقار دکھاتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے تاج محل میں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوا ہے۔ اس کی بناوٹ اور حجم کی ترتیب مسجد کو نہ صرف دیکھنے میں دلکش بناتی ہے بلکہ کشادہ اور کھلے ماحول کا احساس بھی دلاتی ہے جو روحانی سکون اور عبادت کے لیے موزوں ہے۔مسجد کے اندر کا منظر بھی دلکش ہے۔ محراب نہایت نفیس اور خوبصورت کام سے مزین ہے۔محراب کی آرائش اس بات کا ثبوت ہے کہ مسجد کی تعمیر میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر بھی کس قدر توجہ دی گئی ہے۔ محراب کے ارد گرد کی دیواروں پر نقش و نگار اور جیومیٹریکل نمونے مسجد کے اندرونی حصے کو روحانی اور جمالیاتی تاثر دیتے ہیں، جو ہر زائر کو متاثر کرتا ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی موجودہ حالت اور مرمت کی صورتحال بھی قابلِ ذکر ہے۔کچھ سال پہلے مسجد کی جزوی مرمت کی گئی ہے۔ مرمت کے کام کو نہایت نفاست اور اصل فن تعمیر کی مکمل احتیاط کے ساتھ انجام دیا گیا۔ مرمت کے دوران مسجد کے فن تعمیر کے تمام عناصر کو برقرار رکھا گیا جس سے مسجد کی تاریخی اور جمالیاتی اہمیت محفوظ رہی۔ اس عمل نے نہ صرف عمارت کی حفاظت کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تاریخی ورثے کو برقرار رکھا۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کا جغرافیائی محل وقوع بھی اس کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ مسجد ملتان سے ملحقہ بستی دائرہ میں صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے بالکل نزدیک واقع ہے۔ مزار کے قرب میں واقع ہونے کی وجہ سے مسجد میں آنے والے زائرین کو عبادت کے ساتھ ساتھ صوفیانہ ماحول کا بھی تجربہ ہوتا ہے جو ملتان کی صوفیانہ روایت کو اجاگر کرتا ہے۔مسجد کا فن تعمیر جو آج بھی زائرین اور تاریخ کے شائقین کو اپنی طرف کھینچتا ہے، مغلیہ دور کے ثقافتی اور مذہبی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا مواد، آرائش کے انداز اور تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں عمارت سازی محض فعالیت کے لیے نہیں بلکہ جمالیات اور روحانیت کے امتزاج کے لیے کی جاتی تھی۔ مسجد کے کھلے صحن، بلند مینار، اور محراب کی نفاست ایک ایسا توازن پیدا کرتے ہیں جو عبادت کرنے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد نہ صرف مذہبی حوالے سے بلکہ تاریخی اور ثقافتی حوالے سے بھی اہم ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مغلیہ فن تعمیر کی خصوصیات صرف بڑی شاہی عمارتوں تک محدود نہیں ، صوفیاکے مقامات میں بھی یہ حسن و جمال موجود ہے۔ آج کے دور میں جہاں تاریخی عمارتوں کی حفاظت اور مرمت ایک چیلنج بنی ہوئی ہے خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک مثال ہے کہ کس طرح مہارت اور توجہ کے ساتھ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ملتان کی تاریخی اور روحانی فضا میں خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف شہر کے ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو روحانی سکون اور جمالیاتی لطف فراہم کرتی ہے۔ اس مسجد کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی فن تعمیر میں جمالیات، اور روحانیت کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔ زائرین، تاریخ کے شائقین اور فن تعمیر کے ماہرین کے لیے یہ مسجد ایک لازمی مقام ہے جہاں وہ مغلیہ دور کے فن تعمیر کی باریکیاں اور صوفیانہ ماحول کو بیک وقت محسوس کر سکتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ خواجہ اویس کھگہ مسجدایک منفرد تاریخی عمارت ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کے اہم عناصر، صوفیانہ روحانیت اور خوبصورتی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ مسجد کا کھلا صحن ہو، بلند مینار ہوں یا نفیس محراب، ہر عنصر اپنے اندر ایک کہانی سناتا ہے جو ملتان کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔یہ مسجد آنے والی نسلوں کے لیے ایک ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہے جو مغلیہ فن تعمیر کی عظمت اور صوفیانہ روایت کی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔

عالمی یومِ سماجی خدمت

عالمی یومِ سماجی خدمت

معاشرتی بہتری میں سماجی کارکنوں کا کرداردنیا بھر میں ہر سال مارچ کے تیسرے ہفتے میں ورلڈ سوشل ورک ڈے منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن 17 مارچ کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد سماجی کارکنوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور معاشرے میں انسانی ہمدردی، سماجی انصاف اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ سماجی کارکن وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں سماجی خدمت کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولیات کی قلت اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سماجی کارکن معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں اور ضرورت مند افراد تک مدد پہنچانے کے لیے مختلف اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔پاکستان میں سماجی خدمت کا تصور نیا نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہماری مذہبی اور ثقافتی روایات میں موجود ہیں۔ اسلام میں انسانیت کی خدمت کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی سرگرمیوں کی صورت میں پاکستانی معاشرے میں مدد اور تعاون کی روایت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیمیں بھی سماجی خدمات کے میدان میں سرگرم ہیں۔پاکستان میں کئی معروف سماجی اور فلاحی تنظیمیں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں غریب اور نادار افراد کو طبی سہولیات، تعلیم، خوراک اور مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران بھی امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتی ہیں۔ ان اداروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی خدمت کے جذبے کے ساتھ اگر منظم انداز میں کام کیا جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں سماجی کارکنوں کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وسائل کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی آفات اور بعض علاقوں میں سماجی مسائل کی پیچیدگی ان کے کام کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت اور حکومتی سطح پر مضبوط پالیسیوں کی کمی بھی سماجی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں سماجی کارکن خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سماجی کارکنوں کی خدمات کو سراہیں اور ان کے کام کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ یہ دن اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ معاشرے کی بہتری صرف حکومت یا چند اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی مدد کرے اور سماجی مسائل کے حل میں حصہ لے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں نوجوان آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، اگر انہیں سماجی خدمت کی طرف راغب کیا جائے تو یہ ملک کے لیے ایک بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں رضاکارانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا، کمیونٹی سروس کے پروگرام متعارف کرانا اور سماجی شعور بیدار کرنا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔ اس طرح نوجوان نسل نہ صرف معاشرے کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکے گی بلکہ ان کے حل میں عملی کردار بھی ادا کرے گی۔ سماجی خدمت دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں بہت سے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں سماجی کارکنوں کی خدمات بے حد قیمتی ہیں۔ عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمدردی، تعاون اور سماجی انصاف کے اصولوں کو فروغ دے کر ہم ایک زیادہ منصفانہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔