ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ویسے تو ہمارے ملک میں بڑے بڑے فنکار پیدا ہوئے ہیں لیکن کچھ فنکار اتنے ورسٹائل تھے کہ آج بھی ان گنت لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی حیات میں ان کی وہ قدر و منزلت نہیں کی گئی جس کے وہ مستحق تھے ۔ ایک ایسے ہی ورسٹائل اداکار تھے ایوب خان۔ ایوب خان وہ فنکار تھے جنہوںنے ریڈیو ، سٹیج ، ٹی وی اور فلموں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کے وہ جوہر دکھائے کہ ایک زمانہ ان کا معترف ہو گیا ۔1937ء میں پشاور کے کوہاٹی دروازہ میں پیدا ہونیوالے ایوب خان کو پنجابی ، پشتو ، اردو اور فارسی زبان پر عبور حاصل تھا ۔ سرکاری ٹی وی کا آغاز 1964ء میں ہوا اور ایوب خان ٹی وی ڈراموں کی پہلی کھیپ سے تعلق رکھتے تھے ۔ اسی طرح ان کا شمار ٹی وی ڈراموں کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے مشہور تھے ۔ ان کو جو کرداردیا جاتا تھا‘ وہ اس میں اس قدر ڈوب جاتے تھے کہ ایسا لگتاکہ یہ کردار ان ہی کیلئے بنا ہے۔ ریڈیو کے سب سے مشہور ڈرامے ’’تلقین شاہ ‘‘ میں ایوب خان نے سلیمان کا کردار ادا کیا ۔ یہ ڈرامہ کئی عشروں تک نشر ہوتا رہا اور اس میں مرکزی کردار صرف تین تھے ۔ ایک اشفاق احمد ، دوسرے نذیر حسینی (ہدایت اللہ ) اور تیسرے ایوب خان (سلیمان ) ۔ اس ریڈیو ڈرامے کی شہرت اب تک برقرار ہے ۔ ایوب خان نے اس کے علاوہ بھی بے شمار ریڈیو ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے سٹیج پر بھی کئی یادگار ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے زیادہ تر صوفی تبسم اور اطہر شاہ خان کے سٹیج ڈراموں میں اپنی فطری اور بے ساختہ اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ ایک دور میں وہ سرکاری ٹی وی پر پروڈکشن مینجر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔ وہ اپنے فن کے ساتھ اتنے مخلص تھے کہ انہوں نے اس کی خاطر پی ڈبلیو ڈی کی نوکری بھی چھوڑ دی ۔ ایوب خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سرکاری ٹی وی پر چلنے والی پہلی پنجابی ڈرامہ سیریز ’’ٹاہلی تھلے ‘‘ کا پہلا مکالمہ بھی انہوں نے ادا کیا ۔ اس کے بعد ان کی ڈرامہ سیریز ’’ اچے برج لہور دے ‘‘ نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ۔ سرکاری ٹی وی کی مقبول ڈرامہ سیریز ’’لاکھوں میں تین ‘‘ کی چند قسطوں میں بھی انہوں نے اپنی خوبصورت اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا ۔ انہوں نے مجموعی طور پر قریباً 600ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ۔ بعض ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کئے لیکن وہ جب بھی ٹی وی سکرین پر نمودار ہوتے تو اپنی بے مثل اداکاری کے نقوش چھوڑ جاتے ۔ ان کے مشہور ترین ڈرامہ سیریز ’’ ٹاہلی تھلے ، اچے برج لہور دے ، جھوک سیال ، جزیرہ ، دھوپ اور سائے ، وارث ، سونا چاندی ، لوک کہانی ، الف نون ، آخر شب ، اور یا نصیب کلینک‘‘ شامل ہیں ۔ غالباً 1975ء میں ان کا ایک ڈرامہ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ یہ عارف وقار کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا جس کی ہدایات آفتاب احمد نے دیں تھیں ۔ اس میں ایوب خان کے ساتھ نثار قادری بھی تھے ۔ یہ ایک اعلیٰ درجے کا ٹی وی ڈرامہ تھا ۔ اس ڈرامے میں یہ بتایا گیا تھا کہ بھوک انسان سے کیا کچھ کروا دیتی ہے۔ اس ڈرامے میں ایوب خان نے ایک بدمعاش کا کردار ادا کیا تھا ۔ انہوں نے اتنی شاندار اداکاری کی کہ ایوارڈ کے مستحق ٹھہرے ۔ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ کو آج بھی بہترین ٹی وی ڈرامہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایوب خان نے ’’ جھوک سیال ‘‘ میں مولوی فضل الرحمان کا کردار ادا کیا ۔ اس کے بعد منو بھائی کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ جزیرہ ‘‘ میں انہوں نے فیروز نائی کا کردار ادا کیا اور اس ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری بہت متاثر کن تھی ۔ اس کے بعد منو بھائی کی ایک اور شہرہ آفاق ڈرامہ سیریز ’’ سونا چاندی ‘‘ ٹیلی کاسٹ کی گئی ۔ اس ڈرامہ سیریز میں ایوب خان نے ماما یعقوب کا کردار ادا کیا اور اپنی بہترین کارکردگی سے ان گنت شائقین کو متاثر کیا ۔ ان کی اداکاری اتنی بے ساختہ اور برجستہ تھی کہ انہیں اب بھی لوگ ماما یعقوب کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ انہوں نے منو بھائی کے ساتھ بہت کام کیا اور وہ ان کے بہت قریب تھے ۔ امجد اسلام امجد کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ وارث ‘‘ نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی ۔ اس ملٹی سٹار ٹی وی سیریز میں عابد علی ، شجاعت ہاشمی ، طاہرہ نقوی ، عظمیٰ گیلانی ، سجاد کشور ، آغا سکندر ، طلعت صدیقی اور محبوب عالم جیسے اداکار ناقابل فراموش اداکاری کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن ماسٹر جی کے کردار میں ایوب خان نے بھی اپنی چھاپ چھوڑی ۔ ایوب خان نے 25فلموں میں بھی کام کیا ۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ’’ دکھ سجناں دے ، ویر پیارا ، گڈو ، قادرا ، چانن اکھیاں دا ، بازی جت لئی‘‘ اور ’’سچائی ‘‘ شامل ہیں ۔ انہوں نے فلموں میں بھی اپنی الگ شناخت بنائی ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں مصطفے قریشی اور ادیب کے ساتھ بھی کام کیا ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں جتنے منفرد کردار ادا کئے‘ اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ وہ بڑے وضع دار اور خوددار انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ میرٹ پر کام کیا اور کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ٹی وی کے سینئر ترین اداکار تھے اور آج بھی ٹی وی کے پرانے اداکار ان کی فنی عظمت کے گن گاتے ہیں ۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں چمچہ گیری نہیں کر سکتا ، چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔3جنوری1987ء کو اس بے بدل فنکار کا جگر کے عارضے کے باعث انتقال ہو گیا ۔ منو بھائی نے ان کی وفات کو 1987ء کا پہلاالمیہ قرار دیا ۔ فنکار برادری نے ان کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ۔ قوی ، مسعود اختر اور اورنگ زیب لغاری جیسے فنکاروں نے ایوب خان کے انتقال کو عظیم نقصان قرار دیا لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت کا تذکرہ از بس ضروری ہے ۔ ایوب خان کی علالت کے دوران فنکار برادری نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ یہی فنکار برادری جس طرح طاہرہ نقوی اور اخلاق احمد کیلئے متحرک ہوئی تھی‘ اس طرح ایوب خان کیلئے میدان میں نہیں آئی ۔ ایوب خان کے مداحین اور ان کے سوگوار خاندان کو آج تک اس کا بے حد ملال ہے ۔ سرکاری ٹی وی نے بھی ان کیلئے کچھ نہ کیا حتیٰ کہ ان کی وفات پر سرکاری ٹی وی پر ان کی یاد میں کوئی پروگرام پیش نہیں کیا گیا البتہ اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے ان کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ ایوب خان کے ساتھ دوسری نا انصافی یہ کی گئی کہ نہ ان کی زندگی میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا اور نہ ہی بعد میں۔یہ حکومتی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے ؟ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ایوب خان کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملنا چاہئے ۔ ایوب خان نے اپنے فن سے ریڈیو اور ٹی وی کی جتنی خدمت کی‘ اس کی بناء پر ان کا نام ریڈیو اور ٹی وی ڈراموں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد دائی انگہ:مغلیہ طرز تعمیر کا شاندار نمونہ

مسجد دائی انگہ:مغلیہ طرز تعمیر کا شاندار نمونہ

لاہور اپنی تاریخی مساجد، باغات اور مغلیہ طرزِ تعمیر کے دیگرحوالوں کے باعث برصغیر کا اہم ثقافتی مرکز رہا ہے۔ انہی تاریخی یادگاروں میں مسجد دائی انگہ ایک ایسی عمارت ہے جو اپنی دلکش ساخت، تاریخی اہمیت اور تزئینی حسن کے باوجود نسبتاً کم معروف ہے۔ یہ مسجد لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے اور مغلیہ عہد کی فنکارانہ روایت کا ایک قیمتی نمونہ سمجھی جاتی ہے۔تاریخی پس منظراس مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل دور کے عروج کے زمانے میں ہوئی۔ اس کی تعمیر کا سال 1635ء بتایا جاتا ہے جبکہ بعض کتبوں کے مطابق اس کی تکمیل 1649ء کے قریب ہوئی۔ یہ مسجد مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی دایہ (رضاعی ماں) دائی انگہ نے تعمیر کروائی جن کا اصل نام زیب النساتھا‘ جن کا اپنا مقبرہ یو ای ٹی لاہور کے پاس واقع ہے اور گلابی چوکی کے نام سے بھی معروف ہے ۔دائی انگہ مغل دربار کی بااثر خواتین میں شمار ہوتی تھیں اور شاہی خاندان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس مسجد کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور میں خواتین بھی مذہبی اور فلاحی تعمیرات میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔محلِ وقوع اور شہری اہمیتیہ مسجد لاہور کے تاریخی علاقے نولکھا کے قریب، لاہور ریلوے سٹیشن کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ مغل اشرافیہ اور درباری شخصیات کی رہائش گاہوں کے لیے مشہور تھا۔ وقت کے ساتھ شہری پھیلاؤ نے اس علاقے کی ساخت کو بدل دیا مگر مسجد آج بھی اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ قائم ہے۔شہر کے مصروف تجارتی اور ٹرانسپورٹ مرکز کے قریب واقع ہونے کے باوجود یہ مسجد ایک تاریخی سکون اور روحانیت کا احساس دیتی ہے، جو ماضی اور حال کے امتزاج کی خوبصورت مثال ہے۔مسجد دائی انگہ نے اپنی طویل تاریخ میں کئی ادوار دیکھے۔ مغل سلطنت کے زوال کے بعد سکھ دور میں اس مسجد کو بارود کے گودام کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد برطانوی دور میں اس عمارت کی مذہبی حیثیت ختم کر کے اسے رہائش گاہ اور بعد ازاں ریلوے دفتر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسے دوبارہ مسجد کے طور پر بحال کیا گیا۔ اس بحالی نے اس تاریخی عمارت کو اپنی اصل مذہبی شناخت واپس دلائی۔مغلیہ فن کا خوبصورت نمونہمسجد دائی انگہ کا بنیادی منصوبہ مغلیہ مساجد کے روایتی انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ مسجد تین حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی حصہ سب سے نمایاں ہے۔ مرکزی گنبد بلند جبکہ اطراف کے گنبد نسبتاً چھوٹے ہیں جو توازن اور جمالیاتی حسن پیدا کرتے ہیں۔یہ ترتیب مغلیہ طرزِ تعمیر میں روحانی مرکزیت کی علامت سمجھی جاتی ہے جہاں مرکزی گنبد عبادت کے مقام کو نمایاں کرتا ہے۔مسجد کے سامنے ایک کشادہ صحن موجود تھا، جو اجتماعی عبادت اور مذہبی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ صحن میں وضو کے لیے حوض کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسجد کو مکمل مذہبی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا۔کاشی کاری اور تزئینی حسنمسجد دائی انگہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی شاندار کاشی کاری ہے۔ بیرونی دیواروں پر نیلے، زرد اور نارنجی رنگوں کی ٹائلوں کا استعمال مغلیہ فنِ تعمیر کے اعلیٰ جمالیاتی ذوق کی نمائندگی کرتا ہے۔پیش طاق (بلند مرکزی محرابی دروازہ) اور دیواروں پر کی گئی ٹائل موزیک آرائش اسے لاہور کی دیگر مغلیہ عمارتوں سے جوڑتی ہے۔ یہ آرائش فارسی اور مقامی فنون کے امتزاج کی بہترین مثال ہے۔ابتدائی دور میں مسجد کے اندرونی حصے میں خوبصورت فریسکو (دیواروں پر رنگین نقاشی) موجود تھی۔ وقت گزرنے، موسمی اثرات اور مرمت کے مختلف مراحل کے باعث اصل فریسکو کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور بعد میں کچھ جگہوں پر ٹائلوں کا استعمال کیا گیا۔اندرونی محرابیں گہری اور نفیس انداز میں تعمیر کی گئی ہیں جبکہ دیواروں پر خطاطی کے آثار بھی ملتے ہیں، جو مغلیہ دور کی مذہبی آرائش کی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔مینار اور بیرونی خدوخالمسجد کے اگلے حصے کے دونوں کونوں پر چھوٹے مگر خوبصورت مینار قائم ہیں جن کی بنیاد مربع شکل میں ہے اور اوپر چھتری نما گنبد بنائے گئے ہیں۔ یہ خصوصیت مغلیہ طرزِ تعمیر کی نمایاں علامتوں میں سے ہے۔بیرونی سطح پر ٹائل ورک، محرابی دروازے اور متوازن ساخت اس مسجد کو فنِ تعمیر کے لحاظ سے نہایت اہم بناتے ہیں۔یہ مسجد ایک محفوظ تاریخی ورثہ سمجھی جاتی ہے مگر شہری آبادی میں اضافے، ماحولیاتی اثرات اور غیر پیشہ ورانہ مرمت نے اس کے اصل حسن کو جزوی طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس مسجد کی اصل کاشی کاری اور فریسکو آرائش کی سائنسی بنیادوں پر بحالی نہایت ضروری ہے۔مسجد دائی انگہ لاہور کی ان تاریخی یادگاروں میں شامل ہے جو اپنی خاموش عظمت میں صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ ایک بااثر مغلیہ خاتون کی سرپرستی میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد فنِ تعمیر، روحانیت اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔اگر اس تاریخی مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور مستند طرز پر بحالی کی جائے تو یہ نہ صرف سیاحتی بلکہ علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھی لاہور کے اہم تاریخی مقامات میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یوں مسجد دائی انگہ محض ایک قدیم عمارت نہیں بلکہ ماضی کی شان و شوکت، فن اور مذہبی روایت کی ایک زندہ داستان ہے۔

نظر کمزوری کا مسئلہ

نظر کمزوری کا مسئلہ

ایک عام عادت کا نتیجہ ہو سکتا ہےدنیا بھر میں نظر کی کمزوری، خصوصاً مایوپیا (قریب کی چیزیں صاف اور دور کی دھندلی نظر آنا)، تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ چشم اسے صحت کا عالمی بحران قرار دے رہے ہیں۔ سائنسی جریدوں اور ویب سائٹس مثلاً ScienceAlert پر شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق اس اضافے کی ایک ممکنہ وجہ ہماری روزمرہ کی ایک عام مگر نظرانداز کی جانے والی عادت ہے: طویل عرصے تک اندرونی ماحول میں قریب کی چیزوں پر نظر جمائے رکھنا، خاص طور پر کم روشنی میں۔روایتی طور پر مایوپیا کاذمہ دار سکرین ٹائم کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کو اس مسئلے کا مرکزی سبب سمجھا گیا تاہم تازہ تحقیق ایک اہم نکتہ سامنے لاتی ہے کہ مسئلہ صرف سکرین نہیں بلکہ قریب کا کام ہے ، یعنی کتاب پڑھنا، کاپی پر لکھنا یا موبائل استعمال کرنا ، سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔ اگر یہ سرگرمیاں طویل وقت تک اور کم روشنی میں کی جائیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق جب ہم کسی قریبی شے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو آنکھ کے عضلات سکڑتے ہیں تاکہ فوکس برقرار رہے۔ اسی دوران پتلی (pupil) بھی سکڑتی ہے تاکہ تصویر واضح ہو۔ اگر کمرے کی روشنی کم ہو تو ریٹینا تک پہنچنے والی روشنی کی مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق مسلسل کم روشنی میں نزدیک دیکھنے سے آنکھ کے نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو مایوپیا کے امکانات بڑھا دیں۔یہ نظریہ اس بات سے بھی تقویت پاتا ہے کہ جو بچے زیادہ وقت باہر کھیلتے ہیں ان میں مایوپیا کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی ہے۔ بیرونی ماحول میں قدرتی روشنی زیادہ ہوتی ہے اور آنکھوں کو دور کی اشیا پر فوکس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ دن کی روشنی ریٹینا کو زیادہ متحرک رکھتی ہے جس سے آنکھ کی نشوونما متوازن رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔عالمی سطح پر اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق 2050ء تک دنیا کی تقریباً نصف آبادی مایوپیا کا شکار ہو سکتی ہے اور نوجوانوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تعلیمی دباؤ، مقابلے کا رجحان اور ڈیجیٹل آلات کا بڑھتا استعمال سب اس رجحان میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ شہری زندگی میں بچوں کا زیادہ وقت گھروں اور کلاس رومز میں گزرنا بھی ایک اہم عامل سمجھا جا رہا ہے۔تاہم ضروری ہے کہ اس تحقیق کو حتمی فیصلہ نہ سمجھا جائے۔ سائنس میں کسی ایک مطالعے سے قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاتا۔ جینیاتی عوامل، خاندانی تاریخ، تعلیمی ماحول اور طرزِ زندگی سب مایوپیا کے خطرے کو متاثر کرتے ہیں۔ موجودہ تحقیق ایک مفروضہ پیش کرتی ہے جسے مزید تجربات اور بڑے پیمانے کے مطالعوں کی ضرورت ہے۔اس کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار کرنا دانشمندی ہے، خاص طور پر بچوں اور طلبہ کے لیے۔ چند عملی اقدامات یہ ہو سکتے ہیں: مطالعہ اور سکرین کا استعمال مناسب اور روشن ماحول میں کیا جائے۔ ہر 20 منٹ بعد 20 سیکنڈ کے لیے 20 فٹ دور کسی شے کو دیکھنے کی عادت اپنائی جائے (20-20-20 اصول)۔ روزانہ کم از کم ایک سے دو گھنٹے باہر کھیلنے یا چہل قدمی کا اہتمام کیا جائے۔ کم روشنی میں موبائل یا کتاب کا طویل استعمال ترک کیا جائے۔ باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کروایا جائے۔ مایوپیا کا بڑھتا ہوا رجحان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جدید طرزِ زندگی کے اثرات ہماری آنکھوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر ہم روشنی، وقت اور فاصلہ کے تین اصولوں کو ذہن میں رکھیں تو شاید اس خاموش وبا کی رفتار کو کم کیا جا سکے۔ سائنس ابھی حتمی جواب کی تلاش میں ہے، مگر احتیاط اور اعتدال ہمیشہ بہترین حکمتِ عملی رہتے ہیں۔

رمضان کے مشروب وپکوان: بینز برگر

رمضان کے مشروب وپکوان: بینز برگر

اجزاء :سرخ لوبیہ دوکپ (ابال لیں )،آلو آدھا کلو (ابال لیں )،مشروم ایک کپ (باریک کاٹ لیں )،ادرک، لہسن باریک کٹے ہوئے ،مونگ پھلی آدھا کپ بھنی ہوئی(کوٹ لیں )،نمک حسب ذائقہ ،کالی مرچ ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی ،ہرادھنیا آدھی گڈی ،شملہ مرچ دوعدد باریک کٹی ہوئی، سفید زیرہ ایک چائے کا چمچ ،ہری پیاز آدھا پائو باریک کٹی ہوئی ،بریڈ کرمز دوکپ ،لیموں کا رس تین بڑے چائے کے چمچ ،سویا سا تین بڑے چائے کے چمچ، انڈے دوعدد ، کوکنگ آئل دوبڑے چائے کے چمچ ،ترکیب : ایک چھوٹے فرائنگ پین میں کوکنگ آئل دو بڑے چمچ ڈال کر اس میں باریک کٹے ہوئے مشروم ڈال کر فرائی کریں۔ اب اس میں ادرک ، لہسن باریک کٹاہوا، ہری پیاز اور شملہ مرچ باریک کٹی ہوئی ڈال کر تھوڑی دیر فرائی کریں ساتھ ہی لیموں کا رس یا سویا ساس بھی ملالیں 5منٹ فرائی کریں فرائی ہرے مصالحے کو پلیٹ میں نکال لیں۔ ابالے ہوئے آلو اور ابالے ہوئے سرخ لوبیہ باریک میش کرلیں اس میں نمک، کالی مرچ، (پسی ہوئی ) سفید زیرہ ، مونگ پھلی (پسی ہوئی )اور ہرادھنیا باریک کٹا ہوا ملالیں اب اس میں فرائی ہرامصالحہ ڈال کر اتنا ملائیں کہ تمام چیزیں یکجان ہوجائے۔ اس کے گول یا چپٹے یا حسب پسند کباب بنالیں۔ انڈے پھینٹ لیں کباب کو انڈے میں ڈبو کر اور بریڈ کرمز میں رول کرلیں۔کوکنگ آئل کر سب اینڈڈرائی گرم کرلیں اس میں بینز برگرکباب ہلکی آنچ پر ڈیپ فرائی کریں جب گولڈن برائون ہوجائیں تو نکال کر ٹشو پیپر پر رکھ دیں تاکہ چکنائی جذب ہو جائے سلاد اور کیچپ کے ساتھ ساتھ گرم گرم پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

ورلڈ ٹریڈ سینٹر بم دھماکہ26 فروری 1993ء کو نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے زیرِ زمین پارکنگ ایریا میں بم دھماکہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔یہ واقعہ عالمی دہشت گردی کے ابتدائی بڑے حملوں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں سکیورٹی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تحقیقات کے نتیجے میں شدت پسند نیٹ ورک کے افراد کو گرفتار کیا گیا اور عدالتوں نے انہیں سزائیں سنائیں۔ اس واقعے کے بعد بلند و بالا عمارتوں، عوامی مقامات اور انفراسٹرکچر کی سیکیورٹی کے نظام کو مزید سخت بنایا گیا۔ کمیونسٹ بالادستی کا خاتمہ26 فروری 1990ء کو سوویت یونین کی سپریم سوویت نے آئینی شق 6 کو ختم کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جس کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی کی یک جماعتی بالادستی کا خاتمہ شروع ہوا۔ یہ فیصلہ سرد جنگ کے اختتام اور جمہوری اصلاحات کی طرف ایک اہم قدم تھا۔ اس دور میں گورباچوف کی پالیسیوں نے سیاسی لبرلزم اور معاشی اصلاحات کو فروغ دیا۔ اس آئینی تبدیلی نے سوویت ریاست کے سیاسی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے راستہ ہموار کیا۔سوویت یونین میں جمہوری رجحانات میں اضافہ ہوا مگر ساتھ ہی ریاستی اتحاد کمزور ہوتا گیا۔ ناروے :تیل کی دریافت 26 فروری 1969ء کو ناروے کے شمالی سمندر میں تیل کی تلاش کے اہم منصوبوں میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی جس نے ملک کی معیشت کی بنیاد تبدیل کر دی۔ بعد ازاں ناروے دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔ اس دریافت نے نہ صرف قومی آمدنی میں اضافہ کیا بلکہ سماجی بہبود کے نظام کو بھی مضبوط کیا۔ ناروے نے تیل کی دولت سے خودمختار ویلتھ فنڈ قائم کیا جو آج دنیا کے سب سے بڑے فنڈز میں شمار ہوتا ہے۔ تیل کی دریافت کے نتیجے میں صنعتی ترقی، توانائی کی خود کفالت اور عالمی توانائی کی منڈی میں ناروے کا اثر و رسوخ بڑھا۔بامیان مجسموں کو تباہی26 فروری 2001ء کو افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے دنیا کے قدیم ترین تاریخی ورثے میں شامل بامیان کے بدھ مجسموں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ مجسمے تقریباً 1500 سال پرانے تھے اور افغانستان کے صوبہ بامیان کی پہاڑیوں میں تراشے گئے تھے۔ اقوام متحدہ، یونیسکو اور متعدد اسلامی ممالک نے اس فیصلے کی مذمت کی۔یہ واقعہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے ایک بہت بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے کیونکہ بامیان کے مجسمے بدھ مت تہذیب اور قدیم شاہراہِ ریشم کی تاریخ کے اہم آثار تھے۔ اس سانحے نے دنیا بھر میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا اور جنگ زدہ علاقوں میں آثارِ قدیمہ کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔برطانیہ کا ایٹمی پروگرام26 فروری 1952ء کو برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ برطانیہ نے کامیابی کے ساتھ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے پروگرام میں اہم پیش رفت کر لی ہے۔ یہ اعلان سرد جنگ کے دور میں کیا گیا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایٹمی طاقت کی دوڑ جاری تھی۔برطانیہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنی عالمی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتا تھا، نے دفاعی خودمختاری کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کو ضروری سمجھا۔ اس اعلان کے بعد اسی سال اکتوبر میں برطانیہ نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا، جس سے وہ دنیا کی تیسری ایٹمی طاقت بن گیا۔

 سنہری مسجد

سنہری مسجد

مغلیہ عہدِ زوال میں تعمیر ہونے والا شاہکارلاہور کے قدیم فصیل بند شہر کی گلیوں اور بازاروں میں جا بجا تاریخی عمارتیں ملتی ہیں مگر سنہری مسجد اپنی منفرد شناخت اور دلکش طرزِ تعمیر کے باعث خاص مقام رکھتی ہے۔ کشمیری بازار کے چوک میں واقع یہ مسجد مغلیہ عہد کے آخری دور کے فنِ تعمیر کا ایک اہم نمونہ سمجھی جاتی ہے۔ سنہری مسجد کی تعمیر اس وقت ہوئی جب مغلیہ سلطنت اپنے زوال کی جانب گامزن تھی، اسی لیے اس کی ساخت اور انداز میں روایتی مغل طرزِ تعمیر کے ساتھ ایک مختلف جمالیاتی رجحان بھی نظر آتا ہے۔تعمیر کا پس منظرسنہری مسجد کی تعمیر 1753ء میں نواب بھکاری خان نے کروائی جو اُس زمانے میں لاہور کے ایک سرکاری عہدیدار تھے اور گورنر میر معین الملک المعروف میر منوں کے دورِ حکومت میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ یہ مسجد ایسے مقام پر تعمیر کی گئی جہاں ایک سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی اور اس وقت یہ جگہ کشمیری بازار کے چوک میں ایک خالی قطعہ زمین تھی۔اس مقام کی اہمیت اور مصروفیت کے باعث مسجد کی تعمیر کے حوالے سے مقامی حکام کو خدشہ تھا کہ چوک میں عمارت کی تعمیر سے آمدورفت میں خلل پیدا ہوگا۔ اسی وجہ سے نواب بھکاری خان کو علماسے خصوصی فتویٰ حاصل کرنا پڑا تاکہ اس جگہ مسجد کی تعمیر کو مذہبی اور سماجی جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس واقعے سے اس دور کے شہری نظم و نسق اور مذہبی حساسیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔سنہری مسجد لاہور کے تاریخی بازاروں کے مرکز میں واقع ہے، جو اسے ایک منفرد شہری شناخت عطا کرتی ہے۔ عام طور پر مساجد کھلے اور وسیع مقامات پر تعمیر کی جاتی تھیں مگر یہ مسجد ایک مصروف تجارتی مرکز میں واقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔فصیل بند شہر کے ہنگامہ خیز ماحول، تنگ گلیوں اور قدیم بازاروں کے درمیان اس مسجد کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی اور سماجی زندگی شہر کے قلب میں ہی پروان چڑھتی تھی۔ مسجد کا محلِ وقوع اسے صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی و ثقافتی نشانی کی اہمیت بھی دلاتا ہے۔طرزِ تعمیر اور فنی خصوصیاتسنہری مسجد کا طرزِ تعمیر مغلیہ فنِ تعمیر سے متاثر ضرور ہے مگر اس میں روایتی مغل ڈیزائن کی کلاسیکی ہم آہنگی نسبتاً کم اور تزئین و آرائش کا ایک منفرد انداز زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ مسجد کے گنبد سنہری رنگ کے باعث خاص توجہ حاصل کرتے ہیں جن کی وجہ سے اسے سنہری مسجد کہا جاتا ہے۔مسجد کے تین گنبد اور بلند مینار اس کی بیرونی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ داخلی حصے میں محرابوں اور نقش و نگار کی سادہ مگر دلکش آرائش دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسجد اگرچہ بادشاہی مسجد جیسی عظیم الشان نہیں مگر اپنی نفاست اور مقامی شہری انداز کے باعث ایک منفرد تعمیراتی شناخت رکھتی ہے۔تاہم معروف ماہرِ تعمیرات کامل خان ممتازنے سنہری مسجد کے طرزِ تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مغلیہ فنِ تعمیر کی اصل روح سے انحراف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قریب سے جائزہ لینے پر اس مسجد میں مغلیہ طرز کے عناصر میں بگاڑ واضح نظر آتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ گنبدوں کی ساخت روایتی مغل گنبدوں کے بجائے غیر معمولی حد تک ابھری ہوئی ہے، جبکہ دیگر تزئینی عناصر میں بھی ایک غیر روایتی انداز جھلکتا ہے۔ ان کے مطابق دیواروں کی کنگریاں(merlons) سانپ کے پھنے جیسی شکل اختیار کر چکی ہیں اور ستونوں کے ڈیزائن میں نباتاتی اشکال کا غلبہ نظر آتا ہے۔یہ تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں فنِ تعمیر کی کلاسیکی سادگی اور توازن کمزور پڑنے لگا اور اس کی جگہ نمائشی انداز نے لے لی۔مغلیہ عہد کے زوال کی عکاسیسنہری مسجد کی تعمیر کا زمانہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا جس کا اثر فنِ تعمیر پر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ بادشاہی مسجد سے کر یں تو فرق نمایاں نظر آتا ہے۔ بادشاہی مسجد میں جہاں تناسب، وسعت اور شاہانہ وقار نمایاں ہے وہیں سنہری مسجد میں محدود جگہ، نسبتاً چھوٹے پیمانے اور تزئینی عناصر کی کثرت دکھائی دیتی ہے۔یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور کے آخری مرحلے میں وسائل، سیاسی استحکام اور تعمیراتی معیار میں نمایاں تبدیلی آ چکی تھی۔ثقافتی اور مذہبی اہمیتسنہری مسجد محض ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ آج بھی ایک فعال عبادت گاہ ہے جہاں نمازی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ کشمیری بازار اور اندرونِ لاہور کے تاجر اور مقامی افراد اس مسجد سے گہرا روحانی تعلق رکھتے ہیں۔رمضان المبارک اور جمعہ کے اجتماعات کے دوران اس مسجد کا ماحول روح پرور ہو جاتا ہے۔ ہے۔آج کے دور میں سنہری مسجد لاہور کے اہم تاریخی ورثے کا حصہ ہے اور سیاحوں، محققین اور فوٹو گرافروں‘ ویڈیو گرافروں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ چونکہ محققین اور فوٹوگرافروں (خصوصاً تاریخی فنِ تعمیر میں دلچسپی رکھنے والوں) کے لیے یہ مسجد ایک اہم موضوع ہے اس لیے اس کی دستاویزی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

الٹرا پروسیسڈ غذائیں : دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ

الٹرا پروسیسڈ غذائیں : دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ

جدید سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں (Ultra-processed foods) کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق ایسی غذائیں زیادہ کھانے والوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ تقریباً 47 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔الٹرا پروسیسڈ غذائیں کیا ہیں؟الٹرا پروسیسڈ غذائیں وہ صنعتی مصنوعات ہیں جو فیکٹریوں میں تیار کی جاتی ہیں اور جن میں چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائی، مصنوعی ذائقے، رنگ اور کیمیائی اجزاشامل کیے جاتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس، پیک شدہ سنیکس، پراسیسڈ گوشت، انسٹنٹ نوڈلز اور تیار شدہ فاسٹ فوڈ اس کی عام مثالیں ہیں۔ان غذاؤں کی تیاری کے دوران قدرتی غذائی اجزاکم ہو جاتے ہیں جبکہ مصنوعی اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ان کی غذائی افادیت متاثر ہوتی ہے۔ایک تحقیق جس میں امریکی قومی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں ہزاروں بالغ افراد شامل تھے۔ محققین نے شرکاکی روزمرہ خوراک کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ ان کی کل کیلوریز میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا کتنا حصہ ہے۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو افراد زیادہ تر الٹرا پروسیسڈ خوراک کھاتے تھے ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ تھا۔ یہ اضافہ عمر، جنس، تمباکو نوشی اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود برقرار رہا۔سوزش اور میٹابولک مسائل کا کردارماہرین کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں جسم میں سوزش (Inflammation) بڑھا سکتی ہیں۔ جسم میں سوزش کی زیادہ مقدار دل کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔اسی طرح یہ غذائیں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں جس میں موٹاپا، انسولین مزاحمت، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی خرابی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر دل کی بیماریوں کی بنیاد بنتے ہیں۔عالمی سطح پر بڑھتا ہوا رجحانتحقیق کے مطابق بعض ترقی یافتہ ممالک میں بالغ افراد کی روزمرہ خوراک کا تقریباً 60 فیصد اور بچوں کی خوراک کا 70 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر مشتمل ہے۔ یہ شرح تشویشناک ہے کیونکہ ان غذاؤں کا تعلق پہلے ہی موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں سے جوڑا جا چکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سہولت، کم قیمت اور جارحانہ مارکیٹنگ نے ان مصنوعات کو عام زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ بعض ماہرین اس مسئلے کو ماضی میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جس طرح سگریٹ کے نقصانات کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے میں دہائیاں لگیں اسی طرح الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی بھی وقت لے سکتی ہے۔غذائی صنعت کی بڑی کمپنیاں ان مصنوعات کی تیاری اور تشہیر میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں جس سے صحت عامہ کے اقدامات کو چیلنج درپیش ہے۔مختلف مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال ذیابیطس، بعض اقسام کے کینسر، ذہنی دباؤ اور قبل از وقت موت کے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان غذاؤں کے اثرات صرف دل تک محدود نہیں بلکہ مجموعی صحت پر پڑتے ہیں۔حل کیا ہے؟ماہرین صحت کے مطابق مسئلے کا حل صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ پالیسی سطح پر بھی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ صحت بخش غذاؤں کی دستیابی کو آسان اور سستا بنانا، غذائی تعلیم کو فروغ دینا اور فوڈ لیبلنگ کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تازہ سبزیاں، پھل، دالیں اور کم پراسیسڈ غذائیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور پیک شدہ، میٹھی اور زیادہ نمک والی مصنوعات کا استعمال محدود کریں۔