ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج کے لاثانی اداکار ایوب خان

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ویسے تو ہمارے ملک میں بڑے بڑے فنکار پیدا ہوئے ہیں لیکن کچھ فنکار اتنے ورسٹائل تھے کہ آج بھی ان گنت لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی حیات میں ان کی وہ قدر و منزلت نہیں کی گئی جس کے وہ مستحق تھے ۔ ایک ایسے ہی ورسٹائل اداکار تھے ایوب خان۔ ایوب خان وہ فنکار تھے جنہوںنے ریڈیو ، سٹیج ، ٹی وی اور فلموں میں اپنی خداداد صلاحیتوں کے وہ جوہر دکھائے کہ ایک زمانہ ان کا معترف ہو گیا ۔1937ء میں پشاور کے کوہاٹی دروازہ میں پیدا ہونیوالے ایوب خان کو پنجابی ، پشتو ، اردو اور فارسی زبان پر عبور حاصل تھا ۔ سرکاری ٹی وی کا آغاز 1964ء میں ہوا اور ایوب خان ٹی وی ڈراموں کی پہلی کھیپ سے تعلق رکھتے تھے ۔ اسی طرح ان کا شمار ٹی وی ڈراموں کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے مشہور تھے ۔ ان کو جو کرداردیا جاتا تھا‘ وہ اس میں اس قدر ڈوب جاتے تھے کہ ایسا لگتاکہ یہ کردار ان ہی کیلئے بنا ہے۔ ریڈیو کے سب سے مشہور ڈرامے ’’تلقین شاہ ‘‘ میں ایوب خان نے سلیمان کا کردار ادا کیا ۔ یہ ڈرامہ کئی عشروں تک نشر ہوتا رہا اور اس میں مرکزی کردار صرف تین تھے ۔ ایک اشفاق احمد ، دوسرے نذیر حسینی (ہدایت اللہ ) اور تیسرے ایوب خان (سلیمان ) ۔ اس ریڈیو ڈرامے کی شہرت اب تک برقرار ہے ۔ ایوب خان نے اس کے علاوہ بھی بے شمار ریڈیو ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے سٹیج پر بھی کئی یادگار ڈراموں میں کام کیا ۔ انہوں نے زیادہ تر صوفی تبسم اور اطہر شاہ خان کے سٹیج ڈراموں میں اپنی فطری اور بے ساختہ اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ ایک دور میں وہ سرکاری ٹی وی پر پروڈکشن مینجر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔ وہ اپنے فن کے ساتھ اتنے مخلص تھے کہ انہوں نے اس کی خاطر پی ڈبلیو ڈی کی نوکری بھی چھوڑ دی ۔ ایوب خان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سرکاری ٹی وی پر چلنے والی پہلی پنجابی ڈرامہ سیریز ’’ٹاہلی تھلے ‘‘ کا پہلا مکالمہ بھی انہوں نے ادا کیا ۔ اس کے بعد ان کی ڈرامہ سیریز ’’ اچے برج لہور دے ‘‘ نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ۔ سرکاری ٹی وی کی مقبول ڈرامہ سیریز ’’لاکھوں میں تین ‘‘ کی چند قسطوں میں بھی انہوں نے اپنی خوبصورت اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا ۔ انہوں نے مجموعی طور پر قریباً 600ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ۔ بعض ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کئے لیکن وہ جب بھی ٹی وی سکرین پر نمودار ہوتے تو اپنی بے مثل اداکاری کے نقوش چھوڑ جاتے ۔ ان کے مشہور ترین ڈرامہ سیریز ’’ ٹاہلی تھلے ، اچے برج لہور دے ، جھوک سیال ، جزیرہ ، دھوپ اور سائے ، وارث ، سونا چاندی ، لوک کہانی ، الف نون ، آخر شب ، اور یا نصیب کلینک‘‘ شامل ہیں ۔ غالباً 1975ء میں ان کا ایک ڈرامہ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ یہ عارف وقار کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا جس کی ہدایات آفتاب احمد نے دیں تھیں ۔ اس میں ایوب خان کے ساتھ نثار قادری بھی تھے ۔ یہ ایک اعلیٰ درجے کا ٹی وی ڈرامہ تھا ۔ اس ڈرامے میں یہ بتایا گیا تھا کہ بھوک انسان سے کیا کچھ کروا دیتی ہے۔ اس ڈرامے میں ایوب خان نے ایک بدمعاش کا کردار ادا کیا تھا ۔ انہوں نے اتنی شاندار اداکاری کی کہ ایوارڈ کے مستحق ٹھہرے ۔ ’’ سونے کی چڑیا ‘‘ کو آج بھی بہترین ٹی وی ڈرامہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایوب خان نے ’’ جھوک سیال ‘‘ میں مولوی فضل الرحمان کا کردار ادا کیا ۔ اس کے بعد منو بھائی کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ جزیرہ ‘‘ میں انہوں نے فیروز نائی کا کردار ادا کیا اور اس ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری بہت متاثر کن تھی ۔ اس کے بعد منو بھائی کی ایک اور شہرہ آفاق ڈرامہ سیریز ’’ سونا چاندی ‘‘ ٹیلی کاسٹ کی گئی ۔ اس ڈرامہ سیریز میں ایوب خان نے ماما یعقوب کا کردار ادا کیا اور اپنی بہترین کارکردگی سے ان گنت شائقین کو متاثر کیا ۔ ان کی اداکاری اتنی بے ساختہ اور برجستہ تھی کہ انہیں اب بھی لوگ ماما یعقوب کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ انہوں نے منو بھائی کے ساتھ بہت کام کیا اور وہ ان کے بہت قریب تھے ۔ امجد اسلام امجد کے لکھے ہوئے ڈرامے ’’ وارث ‘‘ نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی ۔ اس ملٹی سٹار ٹی وی سیریز میں عابد علی ، شجاعت ہاشمی ، طاہرہ نقوی ، عظمیٰ گیلانی ، سجاد کشور ، آغا سکندر ، طلعت صدیقی اور محبوب عالم جیسے اداکار ناقابل فراموش اداکاری کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن ماسٹر جی کے کردار میں ایوب خان نے بھی اپنی چھاپ چھوڑی ۔ ایوب خان نے 25فلموں میں بھی کام کیا ۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ’’ دکھ سجناں دے ، ویر پیارا ، گڈو ، قادرا ، چانن اکھیاں دا ، بازی جت لئی‘‘ اور ’’سچائی ‘‘ شامل ہیں ۔ انہوں نے فلموں میں بھی اپنی الگ شناخت بنائی ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں مصطفے قریشی اور ادیب کے ساتھ بھی کام کیا ۔ ایوب خان نے ٹی وی ڈراموں میں جتنے منفرد کردار ادا کئے‘ اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ وہ بڑے وضع دار اور خوددار انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ میرٹ پر کام کیا اور کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ٹی وی کے سینئر ترین اداکار تھے اور آج بھی ٹی وی کے پرانے اداکار ان کی فنی عظمت کے گن گاتے ہیں ۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں چمچہ گیری نہیں کر سکتا ، چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔3جنوری1987ء کو اس بے بدل فنکار کا جگر کے عارضے کے باعث انتقال ہو گیا ۔ منو بھائی نے ان کی وفات کو 1987ء کا پہلاالمیہ قرار دیا ۔ فنکار برادری نے ان کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ۔ قوی ، مسعود اختر اور اورنگ زیب لغاری جیسے فنکاروں نے ایوب خان کے انتقال کو عظیم نقصان قرار دیا لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت کا تذکرہ از بس ضروری ہے ۔ ایوب خان کی علالت کے دوران فنکار برادری نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ یہی فنکار برادری جس طرح طاہرہ نقوی اور اخلاق احمد کیلئے متحرک ہوئی تھی‘ اس طرح ایوب خان کیلئے میدان میں نہیں آئی ۔ ایوب خان کے مداحین اور ان کے سوگوار خاندان کو آج تک اس کا بے حد ملال ہے ۔ سرکاری ٹی وی نے بھی ان کیلئے کچھ نہ کیا حتیٰ کہ ان کی وفات پر سرکاری ٹی وی پر ان کی یاد میں کوئی پروگرام پیش نہیں کیا گیا البتہ اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے ان کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ ایوب خان کے ساتھ دوسری نا انصافی یہ کی گئی کہ نہ ان کی زندگی میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا اور نہ ہی بعد میں۔یہ حکومتی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے ؟ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ایوب خان کو پرائیڈ آف پرفارمنس ملنا چاہئے ۔ ایوب خان نے اپنے فن سے ریڈیو اور ٹی وی کی جتنی خدمت کی‘ اس کی بناء پر ان کا نام ریڈیو اور ٹی وی ڈراموں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
فائر فائٹر روبوٹ

فائر فائٹر روبوٹ

آگ کے شعلوں میں دو منٹ تک ڈٹا رہنے والاٹیکنالوجی کی دنیا میں روبوٹس کو مسلسل ایسے کاموں کیلئے تیار کیا جا رہا ہے جو انسانوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک حیرت انگیز مثال چین میں سامنے آئی ہے، جہاں ''تیان لانگ‘‘ (Tianlang) نامی چار ٹانگوں والے روبوٹ نے کھلی آگ اور شدید گرمی کے سامنے ایک خصوصی آزمائشی مشق کامیابی سے مکمل کی ہے۔ ''تیان لانگ‘‘ کا مطلب ''آسمانی بھیڑیا‘‘ یا ''اسکائی وولف‘‘ ہے۔ اس روبوٹ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ایسے ماحول میں بھی کام کر سکے جہاں انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہوں۔آزمائشی مشق کے دوران تیان لانگ نے حرارت برداشت کرنے والا خصوصی حفاظتی لباس پہن رکھا تھا۔ اسے کھلی آگ اور شدید درجہ حرارت کا سامنا کروایا گیا اور روبوٹ نے 500 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 932 ڈگری فارن ہائیٹ تک کی گرمی میں تقریباً دو منٹ تک اپنی فعالیت برقرار رکھی۔ عام انسان کیلئے ایسا ماحول چند لمحوں میں ہی ناقابل برداشت اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس روبوٹ نے انتہائی بلند درجہ حرارت میں ثابت قدم رہ کر یہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں روبوٹک ٹیکنالوجی فائر فائٹنگ جیسے خطرناک شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔یہ روبوٹ ''ووبا انٹیلی جنٹ‘‘ (Wuba Intelligent)نامی چینی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کا مقصد محض ایک ایسا روبوٹ بنانا نہیں جو آگ برداشت کر سکے بلکہ اسے مستقبل میں فائر فائٹرز کیلئے ایک ابتدائی امدادی اور نگرانی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اس تصور کے مطابق جب کسی عمارت، فیکٹری، گودام یا دوسرے مقام پر شدید آگ بھڑک اٹھے تو فائر فائٹرز کو فوری طور پر اندر داخل کرنے کے بجائے پہلے تیان لانگ جیسے روبوٹ کو آگ کے علاقے میں بھیجا جا سکے گا۔آگ لگنے کے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ صرف شعلے اور بلند درجہ حرارت نہیں ہوتے بلکہ عمارت کے اندر موجود مختلف خطرناک گیسیں بھی انسانی زندگی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے باعث فائر فائٹرز کو سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی اور دیگر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں روبوٹ انسانی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر آگ سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لے سکتا ہے۔تیان لانگ کے ممکنہ فرائض میں آگ کے شعلوں کا مقام معلوم کرنا، نقصان دہ گیسوں کا سراغ لگانا اور پھنسے ہوئے افراد کی تلاش شامل ہیں۔ اگر کسی عمارت میں لوگ آگ کے باعث مختلف کمروں یا منزلوں میں پھنس جائیں تو روبوٹ وہاں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح امدادی کارکنوں کو پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ عمارت کے اندر کہاں خطرہ زیادہ ہے، آگ کس سمت میں پھیل رہی ہے اور ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کہاں موجود ہیں۔چار ٹانگوں والا ڈیزائن بھی اس روبوٹ کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ پہیوں والے روبوٹس کے مقابلے میں چار ٹانگوں والے روبوٹس دشوار گزار اور غیر ہموار سطحوں پر نسبتاً بہتر انداز میں حرکت کر سکتے ہیں۔ آگ سے متاثرہ عمارتوں میں فرش پر ملبہ، ٹوٹی ہوئی اشیا، سیڑھیاں اور دیگر رکاوٹیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں روبوٹ کا متوازن انداز میں چلنا امدادی کارروائیوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔دنیا بھر میں روبوٹکس کے شعبے میں ایسے روبوٹس کی تیاری پر توجہ بڑھ رہی ہے جو انسانوں کی جگہ خطرناک مقامات پر بھیجے جا سکیں۔ فیکٹریوں میں کیمیائی حادثات، زہریلی گیسوں کا اخراج، آتش زدگی، قدرتی آفات اور منہدم عمارتوں میں امدادی کارروائیاں ایسے شعبے ہیں جہاں روبوٹس انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی روبوٹ کو صرف بلند درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بنانا کافی نہیں، اسے مشکل ماحول میں درست فیصلے کرنے، راستہ تلاش کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور قابل اعتماد طریقے سے واپس آنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔تیان لانگ کا حالیہ تجربہ اسی بڑے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی میں دو منٹ تک رہنے کا تجربہ اس امر کی جانچ بھی ہے کہ روبوٹ کا حفاظتی نظام شدید حرارت میں کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔ مستقبل میں ایسے روبوٹس کو مزید جدید سینسرز، کیمروں اور مواصلاتی نظام سے لیس کیا جا سکتا ہے تاکہ فائر فائٹرز دور بیٹھ کر روبوٹ کی مدد سے آگ کے اندرونی حالات کا مشاہدہ کر سکیں۔اس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم پہلو انسانی جان کا تحفظ ہے۔ فائر فائٹرز اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچاتے ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی انہیں ایسے کاموں میں مدد فراہم کر سکتی ہے جن میں غیر ضروری طور پر انسانی زندگی داؤ پر لگتی ہے۔ اگر روبوٹ پہلے ہی خطرناک علاقے کا جائزہ لے لے تو امدادی ٹیم زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی شروع کر سکتی ہے۔تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ روبوٹ فی الحال مکمل طور پر انسانوں کا متبادل نہیں ہیں۔ ہنگامی حالات میں پیچیدہ فیصلے، متاثرین سے براہ راست رابطہ اور بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فوری حکمت عملی اب بھی تربیت یافتہ انسانی ماہرین کی ضرورت رکھتی ہے۔ روبوٹ بنیادی طور پر انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطرات کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔چین کا تیان لانگ اس مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جس میں فائر فائٹرز اکیلے آگ کا سامنا نہیں کریں گے بلکہ ان کے ساتھ ایسے روبوٹ بھی موجود ہوں گے جو شعلوں، دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے درمیان جا کر ضروری معلومات فراہم کریں گے۔ آج جو مشق ایک تجربہ معلوم ہوتی ہے، ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں آگ بجھانے اور انسانی جانیں بچانے کے طریقہ کار کو بدل دے۔

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

افریقہ کے وسیع و عریض خطے میں قدرت نے ایسے بے شمار مناظر تخلیق کیے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی قدرتی شاہکاروں میں جھیل وکٹوریہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ نیلگوں پانی کا یہ وسیع ذخیرہ نہ صرف افریقہ کی عظیم جھیلوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ رقبے کے اعتبار سے براعظم افریقہ کی سب سے بڑی جھیل بھی ہے۔ اپنی وسعت، قدرتی حسن، آبی حیات اور جغرافیائی اہمیت کے باعث جھیل وکٹوریہ دنیا بھر کے ماہرین، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔جھیل وکٹوریہ تقریباً 59 ہزار 947 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا پھیلاؤ کئی چھوٹے ممالک کے مجموعی رقبے کے برابر محسوس ہوتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی استوائی جھیل بھی ہے۔ سطحی رقبے کے اعتبار سے یہ شمالی امریکا کی جھیل سپیریئر کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل قرار دی جاتی ہے۔ یوں جھیل وکٹوریہ کو بیک وقت افریقہ کی سب سے بڑی، دنیا کی سب سے بڑی استوائی اور دنیا کی بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جھیل کی وسعت کا اندازہ اس میں موجود پانی کے ذخیرے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں تقریباً 2,424 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے اور حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی نویں بڑی براعظمی جھیل ہے۔ تاہم اس قدر وسیع رقبے کے باوجود جھیل وکٹوریہ غیر معمولی طور پر گہری نہیں۔ اس کی اوسط گہرائی تقریباً 40 میٹر ہے، جبکہ بعض مقامات پر زیادہ سے زیادہ گہرائی 80 سے 81 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ جھیل کا زیادہ تر حصہ ایک نسبتاً کم گہرے قدرتی نشیبی علاقے میں واقع ہے۔جھیل وکٹوریہ کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا وسیع آبی نکاسی کا علاقہ ہے، جو تقریباً 169,858 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس وسیع خطے سے پانی مختلف راستوں کے ذریعے جھیل میں پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھیل صرف ایک آبی ذخیرے کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ اپنے اردگرد کے وسیع جغرافیائی اور ماحولیاتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔اس عظیم جھیل کا ساحلی علاقہ بھی حیران کن حد تک وسیع ہے۔ اس کی ساحلی پٹی تقریباً 7,142 کلومیٹر طویل ہے۔ جھیل کے اندر متعدد جزائر بھی موجود ہیں، جو اس کے حسن اور جغرافیائی تنوع میں اضافہ کرتے ہیں۔ مجموعی ساحلی طوالت میں جزائر کا حصہ تقریباً 3.7 فیصد بنتا ہے۔ ان جزائر اور ساحلی علاقوں میں مختلف اقسام کے پودے، پرندے اور آبی جانور پائے جاتے ہیں، جس سے یہ خطہ حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے بھی اہم بن جاتا ہے۔جھیل وکٹوریہ کا تعلق صرف قدرتی حسن سے نہیں بلکہ انسانی زندگی سے بھی گہرا ہے۔ اس کے آس پاس آباد لوگوں کیلئے جھیل پانی، خوراک اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مقامی آبادی جھیل سے حاصل ہونے والی مچھلی اور دیگر آبی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جھیل اور اس کے گردونواح میں زراعت، تجارت اور نقل و حمل کی سرگرمیاں بھی صدیوں سے انسانی زندگی کا حصہ رہی ہیں۔وسیع آبی سطح کی وجہ سے جھیل وکٹوریہ مقامی موسم اور ماحول پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ جھیل کے آس پاس کا خطہ نسبتاً مرطوب رہتا ہے اور یہاں کا قدرتی ماحول مختلف جانداروں کیلئے موزوں مسکن فراہم کرتا ہے۔ جھیل کے پانی اور اس سے وابستہ ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنا نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کیلئے اہم ہے۔تاہم جدید دور میں جھیل وکٹوریہ کو مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ آبادی میں اضافے، آبی آلودگی، قدرتی وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بعض علاقوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے جھیل کے قدرتی نظام کیلئے نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس عظیم قدرتی ورثے کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب جھیل کے پانی، آبی حیات اور ساحلی ماحول کی حفاظت کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔جھیل وکٹوریہ دراصل قدرت کی اس عظمت کی ایک خوبصورت مثال ہے جس میں پانی، زمین، آسمان، جزائر، حیاتیاتی تنوع اور انسانی زندگی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی غیر معمولی وسعت اور قدرتی اہمیت اسے صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا قیمتی قدرتی سرمایہ بناتی ہے۔ اس عظیم جھیل کی حفاظت دراصل آنے والی نسلوں کیلئے قدرت کے ایک شاندار تحفے کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میکسیکو زلزلہ19ستمبر1985ء کو میکسیکو شہر میں شدید زلزلہ آیا جس کی شدت8.0ریکارڈ کی گئی۔زلزلے نے گریٹر میکسیکو شہر کے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا، تقریباً5ہزار افراد لقمہ اجمل بنے۔ بعدازاں دو بڑے آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے۔دونوں آفٹر شاکس کی شدت بھی 7.0 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی ۔ اس واقعے میں تین سے چار بلین امریکی ڈالر کے درمیان نقصان ہوا، 412 عمارتیں گر گئیں اور ہزاروں افراد کا جانی و مالی نقصان ہوا۔پیرس کا محاصرہ1870ء میں فرانکوپروشیائی جنگ کے دوران 19ستمبر کو پیرس کا محاصرہ شروع ہوا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس نے دشمن کی افواج کے شدید دباؤ اور مسلسل حملوں کے باوجود تقریباً چار ماہ تک مزاحمت جاری رکھی۔ شہر کے باشندوں اور دفاعی دستوں نے مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، تاہم طویل محاصرے، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی قلت نے حالات انتہائی دشوار بنا دیے۔ بالآخر چار ماہ سے زائد عرصے تک مزاحمت کے بعد پیرس کو دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ یو ٹی اے پرواز 772 کا سانحہ 19ستمبر 1989ء کو فرانسیسی فضائی کمپنی یو ٹی اے کی پرواز 772 نائجر کے صحرائے تنورو کے اوپر محوِ پرواز تھی کہ اچانک ایک بم دھماکے کے نتیجے میں طیارہ فضا میں تباہ ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 170 مسافر اور عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔ یہ واقعہ ہوا بازی کی تاریخ کے المناک ترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ حادثے کے بعد تحقیقات میں بم دھماکے کو طیارے کی تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ماسکو معاہدہ19 ستمبر 1944ء کو فن لینڈ اور سوویت یونین کے درمیان ماسکو جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہوگیا۔ یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فن لینڈ اور سوویت یونین کے مابین ہونے والی جنگ کے اختتام کا باعث بنا۔ معاہدے کے تحت فن لینڈ نے سوویت یونین کے ساتھ جنگ بندی قبول کی اور اپنے فوجی اقدامات روک دیے۔ یوں ایک طویل اور تباہ کن تنازع اختتام پذیر ہوا اور خطے میں امن کی نئی صورتِ حال پیدا ہوئی۔آتش فشاں کا خوفناک دھماکاجزیرے لا پالما پر واقع کومبرے ویئیخا آتش فشاں 19 ستمبر 2021ء کو پھٹ پڑا۔ اس کے نتیجے میں لاوا، راکھ اور آتش فشانی مواد بڑی مقدار میں خارج ہوا، جس سے علاقے میں شدید تباہی پھیلی اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ آتش فشاں تقریباً تین ماہ تک سرگرم رہا اور بالآخر 13 دسمبر 2021ء کو اس کا اخراج رک گیا۔ یہ لا پالما کی تاریخ کے اہم ترین آتش فشانی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔تھائی لینڈبغاوت 19 ستمبر 2006ء کو تھائی لینڈ کی فوج نے حکومت کے خلاف اچانک بغاوت کرتے ہوئے اقتدار سنبھال لیا۔ فوج نے ملک کا آئین منسوخ کردیا اور مارشل لا نافذ کردیا۔ اس کارروائی کے دوران وزیراعظم تھاکسن شیناواترا بیرونِ ملک تھے۔ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر سیاسی نظام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ واقعہ تھائی لینڈ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور ملک میں جمہوری نظام کو شدید دھچکا پہنچا۔

2050 تک  خوراک کی قیمتیں غریبوں کی آمدنی کا نصف نگل سکتی ہیں

2050 تک خوراک کی قیمتیں غریبوں کی آمدنی کا نصف نگل سکتی ہیں

دنیا میں آبادی بڑھنے، قدرتی وسائل پر دباؤ میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ خوراک کا حصول آنے والے برسوں میں کروڑوں لوگوں کے لیے مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق خبردار کرتی ہے کہ 2050ء تک دنیا کے غریب ترین افراد میں سے لاکھوں لوگوں کو اپنی آمدنی کا تقریباً نصف صرف خوراک خریدنے پر خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ صورتحال صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں تعلیم، صحت، رہائش، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے لوگوں کے پاس بہت کم رقم باقی بچے گی۔یہ تحقیق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے وابستہ جینیفر مورس اور ان کے ساتھی محققین نے کی ہے، جس کے نتائج تحقیقی جریدے Earth's Futureمیں شائع ہوئے ہیں۔ محققین نے مستقبل کی صرف ایک ممکنہ تصویر پیش کرنے کے بجائے تقریباً چار ہزار مختلف ممکنہ حالات کا کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیےGlobal Change Analysis Model یعنی GCAM استعمال کیا گیا جو توانائی، پانی، زمین، معیشت، آبادی اور ماحولیاتی نظاموں کے باہمی تعلق کا جائزہ لیتا ہے۔اس ماڈل نے دنیا کو 32 جغرافیائی خطوں میں تقسیم کیا جبکہ ہر خطے کی آبادی کو آمدنی کے لحاظ سے مزید 10 گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس طرح محققین یہ دیکھنے میں کامیاب ہوئے کہ وسائل کی کمی یا قیمتوں میں اضافہ مختلف آمدنی والے لوگوں کو کس طرح مختلف انداز میں متاثر کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق مستقبل میں خوراک، پانی اور توانائی کی سکیورٹی کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان سب کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔افریقہ اور جنوبی ایشیا پر زیادہ دباؤ کا خدشہتحقیق کے درمیانی یا median نتائج کے مطابق افریقہ کے کئی حصوں اور جنوبی ایشیا میں خوراک کے مسائل نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر مغربی، مشرقی اور جنوبی افریقہ کے غریب ترین 10 فیصد لوگوں کے لیے 2050 ء تک خوراک پر آمدنی کا تقریباً نصف خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے قیمتوں میں اضافہ بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ان کے بجٹ میں خوراک پہلے ہی سب سے بڑا خرچ ہوتی ہے۔اس تحقیق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مستقبل کا بحران صرف خوراک کی قیمتوں تک محدود نہیں ہوگا۔ پانی اور توانائی بھی کئی علاقوں میں بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں آبادی میں اضافہ اور زیرِ زمین پانی کا زیادہ استعمال پانی کی قلت کو بڑھا سکتا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ اور جنوبی افریقہ میں گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور بعض علاقوں کا فوسل فیولز پر انحصار توانائی کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔یوں ایک غریب خاندان کو بیک وقت تین سمتوں سے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے: خوراک مہنگی ہو، پانی محدود ہو اور بجلی یا توانائی بھی مہنگی ہو جائے۔ اگر آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے تو خاندان کو بنیادی ضروریات میں سے کسی ایک پر سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان کیلئے اس وارننگ کا مطلب؟پاکستان کے لیے اس تحقیق کے نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا بنیادی کردار ہے اور گندم، چاول، چینی، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر زرعی اجناس نہ صرف ملکی خوراک کا حصہ ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے روزگار سے بھی منسلک ہیں۔اگر مستقبل میں پانی کی دستیابی کم ہوتی ہے، زرعی زمین پر دباؤ بڑھتا ہے یا موسم زیادہ غیر یقینی ہوتا ہے تو اس کے اثرات پیداوار اور خوراک کی قیمتوں دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔ خصوصاً کم آمدنی والے خاندان سب سے پہلے متاثر ہوں گے کیونکہ ان کے بجٹ میں خوراک پہلے ہی بڑا حصہ رکھتی ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال کا ایک اہم حل صرف زیادہ فصل پیدا کرنا نہیں بلکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار، جدید آبپاشی، بہتر بیج، فصلوں کے ضیاع میں کمی، ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات اور پانی کے مؤثر استعمال کی طرف تیزی سے بڑھنا ہے۔ اسی طرح ایسی زرعی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو کسان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دیں۔مستقبل کی پیش گوئی، انتباہمحققین نے واضح کیا ہے کہ ان کا ماڈل یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ 2050ء میں لازماً یہی صورتحال پیدا ہوگی۔تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مستقبل میں آمدنی، آبادی، زمین کا استعمال، توانائی کا نظام، پانی کی دستیابی، صارفین کے رویے اور موسمیاتی پالیسی سب مل کر لوگوں کی زندگی پر اثر ڈالیں گے۔یہ تحقیق حکومتوں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم انتباہ بھی ہے۔ اگر مستقبل میں خوراک کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے تو صرف خوراک کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید، پانی کے پائیدار استعمال، توانائی کے سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع اور زمین کے دانش مندانہ استعمال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا میں خوراک کتنی پیدا ہوگی بلکہ یہ بھی ہے کہ کون اسے خریدنے کی استطاعت رکھتا ہوگا۔ اگر کروڑوں افراد اپنی آمدنی کا نصف یا اس سے زیادہ خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہو گئے تو خوراک کی دستیابی کے باوجود عالمی سطح پر ایک سنگین معاشی اور انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ اسی لیے یہ تحقیق مستقبل کی ایک یقینی تصویر سے زیادہ ایک بروقت تنبیہ ہے کہ آج کے فیصلے آنے والی نسلوں کی خوراک، پانی اور توانائی کی سکیورٹی کا تعین کریں گے۔

عالمی یوم اوزون اور اس کی اہمیت

عالمی یوم اوزون اور اس کی اہمیت

ہر سال 16 ستمبر کواوزون کی فضائی تہہ کے تحفظ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں اوزون کی تہہ کی اہمیت، اس کو لاحق خطرات اور اس کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ اوزون کی تہہ زمین کے گرد موجود فضا کا ایک نہایت اہم حصہ ہے جو سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹر وائلٹ (UV) شعاعوں کو جذب کرکے زمین پر موجود انسانوں، جانوروں اور پودوں کو ان کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ اگر اوزون کی تہہ نہ ہوتی تو زمین پر زندگی کا موجودہ نظام شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا تھا۔اوزون کی تہہ کیوں اہم ہے؟اوزون آکسیجن کی ایک خاص شکل ہے جس میں آکسیجن کے تین ایٹم شامل ہوتے ہیں۔ زمین کی فضا میں اوزون مختلف مقامات پر موجود ہے لیکن اس کی سب سے اہم مقدار اسٹریٹوسفیئر میں تقریباً 15 سے 35 کلومیٹر کی بلندی پر پائی جاتی ہے۔ یہی حصہ عام طور پر اوزون کی تہہ کہلاتا ہے۔سورج کی روشنی ہمارے لیے زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن اس میں الٹرا وائلٹ شعاعیں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض شعاعیں انسانی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اوزون کی تہہ ان شعاعوں کی بڑی مقدار کو جذب کرکے زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔اگر اوزون کی تہہ کمزور ہو جائے تو انسانوں میں جلد کے کینسر، آنکھوں کی بیماریوں، خصوصاً موتیا اور مدافعتی نظام کو نقصان پہنچنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح پودوں، فصلوں، سمندری حیات اور دیگر جانداروں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اوزون کی حفاظت دراصل زمین پر زندگی کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اوزون کو لاحق خطرات اور انسانی سرگرمیاںبیسویں صدی میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ بعض صنعتی کیمیکلز اوزون کی تہہ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان میں خاص طور پر کلورو فلورو کاربنز (CFCs) اور بعض دیگر اوزون کو ختم کرنے والے مادے شامل تھے۔ یہ کیمیکلز ماضی میں فریج، ایئر کنڈیشنر، ایروسول سپرے اور مختلف صنعتی مصنوعات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے تھے۔جب یہ مادے فضا کی بلند سطحوں تک پہنچتے ہیں تو سورج کی شعاعوں کے اثر سے ایسے کیمیائی ذرات پیدا کر تے ہیں جو اوزون کے مالیکیولز کو توڑ دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں اوزون کی تہہ کمزور ہونے لگتی ہے۔1980ء کی دہائی میں انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں نمایاں کمی، جسے عام طور پر اوزون ہول کہا جاتا ہے، عالمی تشویش کا باعث بنی۔ اس مسئلے نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ ماحولیاتی مسائل کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری نے مونٹریال پروٹوکول پر اتفاق کیا جو 16 ستمبر 1987ء کو منظور ہوا۔ اس معاہدے کے تحت اوزون کو نقصان پہنچانے والے متعدد کیمیکلز کے استعمال اور پیداوار کو مرحلہ وار کم کیا گیا۔ اسی تاریخی معاہدے کی یاد میں 16 ستمبر کو عالمی یومِ اوزون منایا جاتا ہے۔عالمی یومِ اوزون کی اہمیتعالمی یومِ اوزون ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومتوں یا سائنسدانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا فرض بھی ہے۔اس دن کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ عالمی تعاون کی کامیابی کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ مونٹریال پروٹوکول کو اکثر بین الاقوامی ماحولیاتی تعاون کی کامیاب مثال قرار دیا جاتا ہے کیونکہ مختلف ممالک نے مشترکہ مسئلے کو تسلیم کرکے ایسے اقدامات کیے جن سے اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادوں میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملی۔یہ دن ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ اگر دنیا کے ممالک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو بڑے ماحولیاتی مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اوزون کی تہہ کا تحفظ صرف آج کی نسل کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ہمیں ایسے صنعتی اور گھریلو طریقے اختیار کرنے چاہئیں جو ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچائیں۔ ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشننگ کے شعبے میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کا استعمال، نقصان دہ کیمیکلز سے گریز اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد اس سلسلے میں اہم اقدامات ہیں۔ہمارا کردار اور مستقبل کی ذمہ داریاںاوزون کی حفاظت ایک عالمی کامیابی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی ہے۔ ہمیں مسلسل نگرانی، تحقیق اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کی ضرورت ہے۔ صنعتوں کو ایسے کیمیکلز اور آلات استعمال کرنے چاہئیں جو اوزون کی تہہ کے لیے محفوظ ہوں جبکہ حکومتوں کو ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔عام شہری بھی اپنے کردار کے ذریعے اس کوشش کا حصہ بن سکتے ہیں۔ توانائی کا محتاط استعمال، ماحول دوست مصنوعات کا انتخاب، پرانے کولنگ آلات کی مناسب تلفی اور ماحولیاتی قوانین کی پابندی جیسے اقدامات مجموعی طور پر مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی یومِ اوزون صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ زمین کے مستقبل کے تحفظ کا عہد ہے۔ اوزون کی تہہ ہمیں سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے والی قدرتی ڈھال ہے۔ اس کا تحفظ انسانی صحت، زراعت، حیاتیاتی تنوع اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میکسیکو کی تحریکِ آزادی 16 ستمبر 1810ء کو میکسیکو کی آزادی کی وہ تحریک شروع ہوئی جس نے بالآخر میکسیکو کو سپین کی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزاد کرایا۔ اس دن کی صبح پادری میگوئل ایدالگو و کوستیّا نے شہر دولوریس میں چرچ کے لوگوں کو جمع کیا اور سپین کے خلاف بغاوت کی اپیل کی۔ ان کی اس تاریخی پکار کو گریتو دے دولوریس یعنی دولوریس کی پکار کہا جاتا ہے۔ اس اعلان نے مقامی باشندوں، خصوصاً مقامی اور مخلوط نسل کی آبادی میں آزادی کے لیے ایک بڑی تحریک پیدا کی۔ باغی فوج تیزی سے بڑی ہوتی گئی اور چند ہی ہفتوں میں اس نے کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ ایدالگو کو 1811ء میں گرفتار کرکے قتل کر دیا گیا لیکن آزادی کی جنگ جاری رہی۔ تقریباً گیارہ سال کی جدوجہد کے بعد 1821ء میں میکسیکو نے سپین سے آزادی حاصل کی۔ می فلاور کا امریکہ کا سفر16 ستمبر 1620ء کو مشہور بحری جہاز می فلاور انگلینڈ کے شہر پلائموتھ سے شمالی امریکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس جہاز پر تقریباً 102 مسافر سوار تھے۔ ان لوگوں کا مقصد امریکہ میں نئی زندگی شروع کرنا تھا۔ می فلاور اس سے پہلے ایک دوسرے جہاز سپیڈ ویل کے ساتھ سفر شروع کر چکا تھا لیکن سپیڈ ویل میں خرابی پیدا ہونے کے باعث اسے واپس آنا پڑا۔ آخرکار می فلاور اکیلا ہی امریکہ روانہ ہوا۔ تقریباً 66 دن کے سفر کے بعد مسافر شمالی امریکہ کے علاقے کیپ کاڈ پہنچے۔ می فلاور کا سفر امریکی تاریخ میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے شمالی امریکہ میں انگریزی آبادکاری کی تاریخ کا ایک اہم باب شروع ہوا۔ اسی سفر کے دوران می فلاور معاہدہ بھی وجود میں آیا جسے بعد کی جمہوری سیاسی روایت کے اہم ابتدائی نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جنرل موٹرز کا قیام 16 ستمبر 1908ء کو امریکہ میں جنرل موٹرز کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کمپنی کے قیام میں کاروباری شخصیت ولیم سی ڈیورنٹ کا بنیادی کردار تھا۔ اس وقت امریکہ میں گاڑیوں کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی تھی لیکن بہت سی چھوٹی چھوٹی کار ساز کمپنیاں الگ الگ کام کر رہی تھیں۔ ڈیورنٹ کا خیال تھا کہ مختلف کار ساز کمپنیوں کو ایک بڑے کاروباری گروپ کے تحت اکٹھا کیا جائے تو زیادہ مضبوط اور کامیاب کمپنی بنائی جا سکتی ہے؛ چنانچہ انہوں نے جنرل موٹرز کو ایک ایسی مرکزی کمپنی کے طور پر قائم کیا جو مختلف گاڑی ساز اداروں کو اپنے تحت شامل کر سکے۔ جنرل موٹرز نے امریکی گاڑیوں کی صنعت کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا اور کئی دہائیوں تک دنیا کی بڑی کار ساز کمپنیوں میں شامل رہی۔ پاپوا نیو گنی کی آزادی16 ستمبر 1975ء کو پاپوا نیو گنی نے آسٹریلیا سے آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ملک بن گیا۔ اس سے پہلے پاپوا نیو گنی کے مختلف علاقے آسٹریلوی انتظام کے تحت رہے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہاں سیاسی اور انتظامی خودمختاری کی طرف پیش رفت شروع ہوئی۔ 1970ء کی دہائی میں مقامی سیاسی قیادت نے مکمل آزادی کی طرف قدم بڑھائے۔ سر مائیکل سومارے اس عمل کی اہم سیاسی شخصیات میں شامل تھے اور انہیں پاپوا نیو گنی کے بانی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آزادی کے موقع پر آسٹریلوی پرچم اتارا گیا اور پاپوا نیو گنی کا اپنا قومی پرچم لہرایا گیا۔ اسی دن ملک نے باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست کی حیثیت اختیار کی۔صابرا شتیلا قتل عام16 ستمبر 1982ء کو بیروت کے فلسطینی مہاجر کیمپوں صبرا اور شتیلا میں تاریخ کا بدترین قتلِ عام ہوا۔ تین دن (16 تا 18 ستمبر) تک جاری رہنے والے اس ہولناک سانحے میں 3500 سے پانچ ہزار تک نہتے فلسطینی اور لبنانی شہری شہید کیے گئے اور گھروں میں آگ لگا دی گئی۔ لبنان کی عیسائی ملیشیا نے ان کیمپوں میں گھس کر قتل عام کیا جبکہ اسرائیلی فوجی اِن کیمپوں کو گھیرے میں لیے رہے۔ صبرا و شاتیلا کا سانحہ آج بھی فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کی ایک دردناک علامت سمجھا جاتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس قتلِ عام کو نسل کشی کا واقعہ قرار دیا تھا۔