مظفر ؔوارثی .....کیا کہوں اے دنیا والو...!
اسپیشل فیچر
اُردو کے معتبرنعت نگاراور جدید غزل گومظفر ؔوارثی کی28جنوری کو چوتھی برسی نہایت عقیدت واحترام سے منائی جا رہی ہے۔وہ چار برس قبل کافی عرصہ علیل رہنے کے بعد 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ مظفرؔوارثی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ قدرت نے بیک وقت اُنھیں جوشخصی خواص اورفنی خوبیاں عطاکی تھیں ،وہ کم ہی لوگوں کونصیب ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاعرعموماًخوش الحانی سے محروم ہوتے ہیں، لیکن مظفرؔوارثی کے ہاںاُسلوب کی انفرادیت کے ساتھ خوش الحانی بھی تھی۔اُن کے گلے میں لحن ِداؤدی کی جو شیرینی تھی، اُس نے ایک زمانے تک سماعتوں میں رس گھولے رکھا۔۔۔! (یہ اُس کی عطا ہے، جسے پروردگاردے)مظفر ؔوارثی کا پورا نام محمد مظفر الدین احمد تھا۔ وہ 23دسمبر 1933ء کو میرٹھ کے محلہ سرائے بیگم میں علامہ صوفی وارثی میرٹھی کے ہاں پیدا ہوئے، جو جمعیت علمائے ہند سے وابستہ اہم سیاسی شخصیت اور علامہ محمد اقبالؒ کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔اقلیم شعروسخن میں مظفرؔوارثی کوہرصنف ِسخن پرملکہ حاصل تھا، لیکن اُن کی جامعیت کاصحیح اندازہ آج تک کوئی کرہی نہیں سکا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اُنھیں عالمگیرشہرت نعت گوئی سے حاصل ہوئی، تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ اُنھوں نے غزل، نظم، ہائیکو اور نثر کے میدان میں جوکارہائے نمایاں انجام دئیے، ادبی شخصیات، ہم عصرشعرااورناقدین نے اُنھیں قابل ِغورہی نہیں سمجھا۔مظفرؔوارثی صاحب بنیادی طورپرغزل کے شاعر تھے،تاہم بھرپورغزل کہتے کہتے وہ کائنات ِنعت میں داخل ہوئے، تواس عظیم صنف ِسخن کووسیع ترشعری وحدت میں پُرودیا۔اُستاد شاعراحسان دانشؔ نے زیر نظر تحریر میں جس فراخ دِلی سے مظفرؔوارثی کی عظمت فن کااعتراف کیاہے ،وہ بجائے خودلائق ِدادوتحسین ہے:’’نئی طرزکے لکھنے والوں میں جدیدغزل کا معیارمظفرؔوارثی کی غزل سے قائم ہوتاہے۔ اگر یہ شاعرنہ ہوتا،تونہ جانے یہ نئی نسل کاقافلہ کہاں کہاں اور کدھر کدھر بھٹکتا پھرتا۔۔۔ غزل میں رومانیت، نفسیات ، فلسفہ اورمنظرنگاری یوں توسبھی اچھے شاعروں میں ملتی ہے، لیکن طریق ِاظہار، اُسلوب، بیان اورنئے پن کا خوبصورت اندازجو مظفرؔ وارثی کے یہاں ملے گا،وہ اس ہجوم ِشاعراں میں کسی کے یہاں نہیں۔ میَں پھرکہوں گاکہ اس دَورکی غزل کا معیار مظفرؔوارثی کی شاعری سے ہی قائم ہوگااوراس سے کم درجے کی شاعری شاعروں کوفن کاروں کی صف میں نہیں آنے دے گی‘‘۔ لیکن اس کے برعکس اگر ناقدانہ جائزہ لیا جائے،تو ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ پچاس برسوں میں غزل کے کئی انتخاب منصہ شہود پر جلوہ گر ہو چکے،مگرمظفرؔ وارثی کاتذکرہ کسی ایک میں بھی نہیں ملتا۔ اُنھیںمکمل طورپرنظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام قارئین کواُن کی غزل گوئی کے اوصاف کاپوری طرح علم ہی نہیں۔دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ مظفرؔ وارثی کی نعتیں کل بھی معروف تھیں اور آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ اُنھیں نعت گوئی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میںصدارتی تمغہ برائے حسن ِکارکردگی سے بھی نوازاگیا۔اُن کے دل و دماغ میں حُبِ رسول ﷺ کا جذبہ ہر وقت موجزن رہتا تھااور اسی سر شاری میں اُنھوں نے یہ نعت لکھی : میرا پیمبرؐ عظیم تر ہے کمالِ خلاق ذات اُس کیجمالِ ہستی حیات اُس کیبشر نہیں عظمتِ بشر ہےمیرا پیمبرؐ عظیم تر ہےشعور لایا کتاب لایاوہ حشر تک کا نصاب لایادیا بھی کامل نظام اُس نےاور آپ ہی انقلاب لایاوہ علم کی اور عمل کی حد بھیازل بھی اُس کا ہے اور ابد بھیوہ ہر زمانے کا راہبر ہےمیرا پیمبرؐ عظیم تر ہےوہ آدمؑ و نوحؑ سے بھی زیادہبلند ہمت بلند ارادہوہ زُہد عیسیٰ ؑ سے کوسوں آگےجو سب کی منزل وہ اُس کا جادہہر اک پیمبر نہاں ہے اُس میںہجومِ پیمبراں ہے اُس میںوہ جس طرف ہے خدا اُدھر ہےمیرا پیمبرؐ عظیم تر ہےبس ایک مشکیزہ اک چٹائیذرا سی جو ایک چارپائیبدن پہ کپڑے بھی واجبی سےنہ خوش لباسی نہ خوش قبائییہی ہے کل کائنات جس کیگنی نہ جائیں صفات جس کیوہی تو سلطان بحر و بر ہےمیرا پیمبرؐ عظیم تر ہےجو اپنا دامن لہو سے بھر لےمصیبتیں اپنی جان پر لےجو تیغ زن سے لڑے نہتاجو غالب آکر بھی صلح کر لےاسیر دشمن کی چاہ میں بھیمخالفوں کی نگاہ میں بھیامین ہے صادق ہے معتبر ہےمیرا پیمبرؐ عظیم تر ہےوہ خلوتوں میں بھی صف بہ صف بھیوہ اِس طرف بھی وہ اُس طرف بھیمحاذ و ممبر ٹھکانے اُس کےوہ سر بسجدہ بھی رس بکف بھیکہیں وہ موتی کہیں ستارہوہ جامعیت کا استعارہوہ صبح تہذیب کا گوہر ہےمیرا پیمبرؐ عظیم تر ہے مذکور نعت کے علاوہ مظفر وارثی کی نعتیں ’’ یا رحمت للعالمین‘‘،’’ تو کجا من کجا‘‘ بھی بہت مشہور ہوئیں، اُن کی لکھی حمد ’’کوئی تو ہے ،جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے‘‘کو نصرت فتح علی خان نے اپنے مخصوص انداز میں گا کر عالم گیر شہرت سے ہم کنار کیا۔ بھارت کے نامور نقاد اور ادیب (ظ انصاری ) مظفر ؔوارثی کے بارے میں ’’سچاشاعر‘ ‘کے عنوان سے ایک تقریب میں کچھ یوں گویا ہوئے تھے: ’’جس دَورمیں ہم جی رہے ہیں،اُس میں آرٹ ہویاسائنس ،سیلزمین شپ بڑی اہمیت اختیارکرگئی ہے۔دیکھایہ جاتاہے کہ پیکنگ کیسی ہے۔ اگر کہو اندر لہسن کی گانٹھ ہے، توقیمت اکنی اورکہوکہ اس کانام لہسوناہے اورکمپنی کانام انٹرنیشنل ٹریڈنگ کارپوریشن ہے ،توپیکنگ کی قیمت باقی پندرہ آنے۔یہی ادب میں ہورہاہے اوربہت عرصے سے ہورہاہے ،لیکن ہمارے معززمہمان جنابِ مظفرؔوارثی جن کے اعزازمیں یہ محفل برپاہے اورجنھیں سننے کے لیے میَں حاضرہوا، اُن کے کلام سے انسپائریشن ملی۔ پہلے تواُن سے میری ملاقات نہیں تھی، پڑھتا رہتا تھا، اُن کانام آتا، توغورسے پڑھتا ،لیکن تعارف صحیح آج ہوا۔مجھے ایسامحسوس ہوتاہے کہ وہ شاعری جس میں شاعرکوجھانکاجاسکے،مظفرؔوارثی کی ہے۔اُن کے شعروں میں خاص طورپرغزلوں میں کرب ،انا،سچائی ،دھوپ چھاؤں،روپ رنگ ، لمحوں کارنگ ،یہ سب کیفیات موجودہیں،یعنی شاعرپوئٹ دی پرسن غزل کے استعاروں میں سے جھانک رہاہے‘‘۔ بقول مظفرؔ وارثی:کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں مِلامیَں تو جگنو کی طرح اپنی ہی مٹھی میں مِلامظفر ؔوارثی نے بیس سے زائد کتابیں تحریر کیں، جن میں غزلیات کا پہلا مجموعہ ’’برف کی نائو‘‘ ہے۔اس کے علاوہ شعری مجموعہ کلام’’ لہجہ‘‘ اور ’’گئے دنوں کا سراغ‘‘ کے عنوان سے لکھی، اُن کی خود نوشت بہت معروف ہوئی۔ دیگر اہم تصانیف میں ’’بابِ حرم‘‘،’’نورِ ازل‘‘، ’’الحمد‘‘، ’’حصار‘‘، ’’ستاروں کی آبجو‘‘،’’کعبہ عشق‘‘،’’کھلے دریچے بند ہوئے‘‘،’’دل سے درِ نبیؐ تک‘‘،’’ظلم نہ سہنا‘‘ اور’’کمند‘‘ شامل ہیں۔مظفرؔوارثی اپنی انفرادی زندگی میں ایک بہادر،نڈراوربے باک انسان تھے۔انفرادی اور اجتماعی حوالے سے اُنھوں نے تمام عمر خیر کا پرچار کیا اور نہایت دیانت داری سے اچھی غزلیں، نعتیں، نظمیں اور گیت لکھتے رہے۔ وارثی صاحب نے قریباً32 اُردو فلموں کے گیت بھی لکھے، لیکن1972 ء میں گیت لکھنے کاسلسلہ بند کردیا۔ 1952ء میں پنجاب یونی ورسٹی میں منعقدہ کل پاک و ہند مشاعرہ اُن کی پہچان بنا اور اسی مشاعرہ کی بنیاد پر اُنھیں سٹیٹ بنک میں نوکری دی گئی اور وہ بطورِ ڈپٹی کرنسی آفیسر ریٹائر ہوئے۔یہاں مظفرؔ وارثی کی چند مشہور غزلیات اور نعتیں پیش ِ خدمت ہیں:کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلازخمِ دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا(لتا منگیشکر اور جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی ایک غزل)مظفرؔ وارثی کا سب سے زیادہ کلام پاکستانی گلوکار مسعود رانا نے گایا۔فلم ’’ ہمراہی‘‘ (1966ء) جس کی موسیقی: تصدق حسین نے ترتیب دی تھی،کے لیے وارثی صاحب کی لکھی ایک قوالی اور چھ گیت ،جو مسعود رانا نے گائے،آج بھی مقبول ہیں:کرم کی اک نظر ہم پر خدارا یا رسول اللّہ………………کیا کہوں اے دنیا والو، کیا ہوں میَں………………ہو گئی زندگی مجھے پیاری………………نقشہ تری جدائی کا اب تک نظر میں ہے………………مجھے چھوڑ کر اکیلا، کہیں دُور جانے والے………………قدم قدم پہ نئے دکھ………………یاد کرتا ہے زمانہ اُنھی انسانوں کوروک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو رسیلے لہجے اور ترنم کے ساتھ پڑھنے والے ممتاز شاعر مظفرؔ وارثی وفات سے دو ایک برس قبل فالج کے ایک حملہ کے بعد قوت گویائی سے محروم ہو گئے تھے اور کسمپرسی کی تصویر بن چکے تھے۔ وہ بولنے کی کوشش کرتے ،لیکن اُن کے ہونٹوں سے حرف ادا نہیں ہوتے تھے اور وہ مجبوری اور بے کسی کی تصویر بن کر ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھنے لگتے ۔ آخری عمر میں وہ رعشہ کے مرض میں بھی رہے اور اپنی یادداشت کھو دینے کے باعث اکثر دوست احباب سے بھی لاتعلق ہو گئے تھے۔ ناجانے اُنھوں نے یہ شعر کب اور کس کیفیت میں لکھا ہو گا:میرے ایک دامنِ عمر میں ہیں نجانے کتنی ندامتیںمیرا خاتمہ بھی بخیر ہو یہی رات دن میَں دعا کروں٭…٭…٭