نیلا رنگ...!
اسپیشل فیچر
دنیا کے تین بنیادی رنگوں میں سے ایک کی مثبت ومنفی خصوصیات کا تذکرہرنگ کی کہانی تین بنیادی رنگوں؛سرخ، زرد اور نیلے سے شروع ہوتی ہے۔ یہ تینوں قدرتی اورفطری ہیں۔یعنی کسی اوررنگ سے وجود میں نہیں آتے۔ اسی لیے انھیں تین بنیادی رنگ کہا جاتا ہے۔ لیکن ان رنگوں کو آپس میں ملایا جائے تو طرح طرح کے رنگ تخلیق ہوتے ہیں۔ یہ ثانوی رنگ کہلاتے ہیں۔ ہرا، لال، نیلا اور پیلا ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ رنگوں کی ان گنت اقسام اور خصوصیات ہیں۔کچھ رنگ گرم اور کچھ ٹھنڈے مانے جاتے ہیں۔ نیلے رنگ کی تمام اقسام کو ٹھنڈا سمجھا جاتا ہے۔ سجاوٹ میں وہ چاہے گھر کی ہو یا لباس کی، رنگوں کا امتزاج اور ترتیب بہت اہم حیثیت رکھتی ہے۔لباس یا آرائش میں اگر ایک ہی رنگ کے ہلکے اور گہرے شیڈ استعمال کیے جائیں تو یہ متضاد رنگوں سے زیادہ بھلے لگتے ہیں۔رنگوں کا استعمال کرتے وقت ان کے اثرات ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ہلکے رنگوں سے روشنی، کشادگی اور تازگی و فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف گہرے رنگ طیش اور طبیعت پر گرانی کا احساس چھوڑتے ہیں۔ اس لیے شبینہ بلب کا رنگ عموماً ہلکا نیلا منتخب کیا جاتا ہے۔ گھروں میں رنگ کرانے کے لیے عموماً سفید، آف وائٹ، نیلا، سلیٹی زیادہ منتخب کیے جاتے ہیں کیوں کہ ان سے کشادگی اور روشنی کا احساس دوچند ہو جاتا ہے۔یوں تو تیز، ہلکے، پُرسکون، بھدے اور متضاد سب ہی رنگ انسانی زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان کی پسند یا ناپسند سے انسان کے کردار، چال چلن اور عادات اطوار کا اندازہ لگانا ممکن ہے۔ آج کل رنگوں کے ذریعے بیماریوں کا علاج بھی ہوتا ہے۔روحانی معالجین رنگوں کی افادیت پر یقین رکھتے اور رنگ و روشنی سے علاج کرتے ہیں۔رنگوں کے اثرات کو قدیم یونانی اور مصری بھی مانتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے اپنے مندروں اور عبادت گاہوں میں خصوصیت سے رنگوں کا استعمال کیا۔ قدیم آیوورویدک کتابوں میں بھی رنگوں سے علاج کے نسخے موجود ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ نسخے نیلے رنگ اور روشنی کے ہیں۔کچے رنگ پکے کرنانیلا کپڑاعموماً رنگ چھوڑ دیتا ہے۔ خواہ وہ آسمانی ہو، گہرا نیلا یا نیوی بلیو۔ اس کو پکا کرنے کے لیے ایک بالٹی میں گرم کھولتا ہوا پانی ڈالیں۔ اس میں ایک چمچ کھانے کا نمک اور پھٹکری ملا کر ۱۰منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ پھر کپڑے ڈالیے۔ ۱۰منٹ بعد پانی ٹھنڈا ہو جائے تو کپڑے نچوڑ کر سائے میں ڈالیں۔ دوبارہ آپ کپڑے کو دھوئیں ،تورنگ نہیں نکلے گا۔نیلے رنگ کی اشیاءنیلے رنگ کی تمام اشیاء دیکھنے، کھانے اور استعمال کرنے سے قدرتی طور پر سکون، اطمینان، ٹھنڈک، خوشی اور پاکیزگی کا احساس ہوتا ہے۔ رنگوں سے علاج کرنے والے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ نیلے رنگ کی غذائیں ہیسٹریا، بے خوابی، السر، غصے، تیزایت، اعصابی دبائو، نسیان، جنون، شور، جوڑوں کے درد، گلے کی سوزش، آنکھوں اور سرکا درد، انفلوانزا، یادداشت کی کمزوری، طبیعت کی گرانی، یرقان اور دماغی تکالیف میں مفید ہیں۔نیلا رنگ کیا ظاہر کرتا ہے؟رنگ ہمارے جسم اور دماغ پر غیر محسوس طریقے سے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ ہماری دلچسپیوں اور ذہنی و جذباتی حرکات کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ نیلا رنگ بتاتا ہے ’’میں پُرامید ہوں، ہار نہیں مانوں گا، ہمت رکھتا اور اعتماد کرتا ہوں۔‘‘ یہ رنگ پسند کرنے والوں میں تجزیاتی اہلیت ملتی ہے۔شفا بخش رنگنیلے رنگ اور روشنی کو روحانی اور جسمانی، دونوں قسم کے علاج میں شفا بخش پایا گیا ہے۔ نیلا لباس، روشنی، اشیا اور نیلی دوا غرض بیماریوں سے شفا کے لیے سب سے زیادہ یہ رنگ استعمال ہوتا ہے۔ جب بھی آپ افسردہ ہوں، سر درد ہو، نسیان میں مبتلا ہوں، بدن اور پٹھوں میں درد یا کھنچائو ہو، تو نیلے رنگ کی اشیا اور لباس کا انتخاب کریں۔ زیادہ سے زیادہ وقت اس رنگ کے زیر اثر گزاریں، شفا پائیں گے۔مثبت خصوصیاتنیلا رنگ پسند کرنے والے دوسروں کا خیال رکھتے ہیں۔ بے حد محتاط ہوتے ہیں۔ خود اپنا تجزیہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ حساس ہوتے ہیں۔ خود پر کنٹرول رکھنا جانتے ہیں۔ نیک سیرت اور بلند کردار کے حامل ہوتے ہیں۔وفا دار ہونے کے ساتھ ساتھ جذباتی بھی بہت ہوتے ہیں۔ دوستی خوب سوچ سمجھ اور پرکھنے کے بعد کرتے، عموماً کم گو اور عقل مند ہوتے ہیں۔ سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ صابر و شاکر ہوتے ہیں۔ پراستقلال اور پرعزم رہتے ہیں۔ اپنے فیصلوں پر ثابت قدم رہتے ہیں۔خواتین خصوصیت سے رحمدلانہ، مشفقانہ اور مادرانہ جذبات کی حامل ہوتی ہیں۔ عموماً اپنے اندر سمٹی رہتی ہیں۔ کسی حد تک قدامت پسند اور فرائض کی بجاآوری کو اپنا نصب العین سمجھتی ہیں۔ ذہن و فطین اور سوجھ بوجھ کی حامل ہوتی ہیں۔ ازدواجی زندگی میں محبت، وفاداری اور خلوص کو اولیت دیتی ہیں۔ لباس کے معاملے میں بہت محتاط ہوتی ہیں۔ خواتین ہوں یا مرد، قابل بھروسا اور دوست کے ساتھ وفادار ہوتے ہیں۔منفی خصویاتنیلے رنگ کے عاشق تخلیقی سوچ اور صلاحیتوں میں پیچھے ہوتے ہیں۔ اپنے منفی اور مثبت خیالات پر سختی سے جمے رہتے اور خود کو ہی درست مانتے ہیں۔ اپنے کاموں، ارادوں اور خود کو ہمیشہ نیک سمجھتے ہیں۔ دوسروں کی تعریف اور شکریہ ادا کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اپنے اعتقادات پر سختی سے یقین رکھتے ہیں اور ان میں لچک پیدا نہیںکرتے۔ ساتھ ہی انھیں اس بات کی بھی فکر رہتی ہے کہ لوگ ان کے متعلق کیا سوچتے ہیں۔٭…٭…٭