ہڑپہ کو ہڑپہ کیوں کہا جاتا ہے؟

ہڑپہ کو ہڑپہ کیوں کہا جاتا ہے؟

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


ہڑپہ کے کھنڈرات ساہیوال سے 25 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ ہڑپہ کے قدیم کھنڈرات کے ایک حصے پر ہڑپہ گائوں آباد ہے اس گائوں کی بہت سی عمارتیں اور دیگر تعمیرات ہزاروں سال قدیم ہڑپہ شہر سے حاصل کردہ پکی اینٹوں سے ہی تعمیر کی گئی ہیں۔ہڑپہ کو ہڑپہ کیوں کہا جاتا ہے اس کے بارے میں دو اہم روایات ہیں۔ اول ایک قدیم کتاب ’’رگ وید‘‘ کے حوالے سے اس کا قدیم نام ’’ہری بوپا‘‘ تھا جو بعد میں ہڑپہ بن گیا۔ دوئم، بعض ماہرین کی رائے ہے کہ ہڑپہ پنجابی زبان کے لفظ ہڑپ سے نکلا ہے جس کے معنی کھا جانے یا نگل جانے کے ہیں۔ جب اس قدیم شہر پر تباہی آئی تو مقامی لوگوں نے اسے ہڑپ کہنا شروع کر دیا جو بعد میں ہڑپہ کہلانے لگا۔ اس تہذیبی مرکز کے کھنڈرات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر بہت سی قدرتی اور انسانی آفتوں نیز دریائے راوی کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود کسی نہ کسی طور سے اب تک آباد چلا آ رہا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں ہڑپہ سب سے پہلا دریافت شدہ تہذیبی آثار ہے جو 1856ء میں اتفاقاً اور ڈرامائی طور پر دریافت ہوا جب لاہور اور ملتان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی جا رہی تھی۔ کچھ عرصہ تک تو یہ کھنڈرات ان ٹھیکیداروں کے لیے اینٹوں کی ایک کان بنے رہے جو ریلوے لائن بچھانے پر مامور تھے۔ انہی اینٹوں سے ساہیوال سے خانیوال تک ریل کی پٹڑی اور چھوٹے بڑے اسٹیشن تعمیر کئے گئے۔ ہڑپہ کے ملبے سے قدیم تہذیب کی مہریں اور دیگر آثار برآمد ہوئے جنہیں مشہور ماہر آثار قدیمہ جنرل ایگزینڈر کنگھم نے بڑی تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ جنرل کنگھم کی مداخلت پر ہی یہاں سے اینٹوں کی کھدائی رکوائی گئی لیکن اس وقت تک تقریباً آدھے کھنڈرات تباہ ہو چکے تھے۔ ہڑپہ کے موجودہ دریافت شدہ کھنڈرات کا رقبہ 125 ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے۔ ہڑپہ میں آثار قدیمہ کی باقاعدہ کھدائی 1921ء میں شروع ہوئی تو بہت جلد جنوبی ایشیاء کی یہ پہلی تہذیب دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اور دانشوروں کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز بن گئی۔ ہڑپہ شہر کے شمال مغربی حصے میں دریائے راوی کی قدیم گزر گاہ کے کنارے ہڑپہ کی سب سے اہم عمارت ’’عظیم اناج گھر یا غلہ گودام‘‘ کے آثار ہیں۔ یہ غلہ گودام 40 میٹر لمبے اور 35 میٹر چوڑے چبوترے پر بنایا گیا تھا گودام میں چھ چھ کی دو قطاروں میں بارہ کوٹھیاں یا ہال تھے۔ یہ کوٹھیاں چار فٹ اونچے چبوترے پر بنائی گئی تھیں۔ ہر کوٹھی دراصل ایک طویل ہال تھا جس کا فرش لکڑی سے بنایا گیا تھا تاکہ اناج کو نمی سے بچایا جا سکے۔ ہال روشن اور ہوا دار بنائے گئے تھے گودام کی وسیع و عریض عمارت کے دو حصے تھے جن کے درمیان 23 فٹ چوڑی سڑک تھی۔ ہڑپہ کے آثار میں اہم ترین اشیاء مہریں ہیں۔ انہی مہروں سے ماہرین ہڑپہ کے آثار کی قدامت اور تاریخ کا اندازہ لگایا ہے اکثر مہروں پر تحریروں کے ساتھ کسی جانور کی شکل بنائی گئی ہے جن میں ہاتھی، گینڈے، مگرمچھ، بیل اور شیر کی اشکال اہم ہیں مہروں کی تحریر ابھی تک پڑھی نہیں جا سکی۔ زیادہ تر مہریں پتھر سے بنائی گئی ہیں۔ بچوں کے کھلونے جو مٹی سے بنے ہوئے ہیں ان کی عام اشکال انسانوں اور جانوروں سے مشابہہ ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ خوشحال اور کھیلوں کے شوقین تھے بچوں کے کھلونوں میں مختلف حیوانات، پرندے اور بیل گاڑیاں شامل ہیں۔ ہڑپہ سے مٹی کے برتنوں کی کثیر تعداد دریافت ہوئی ہے وہ لوگ مٹی سے ہر طرح کے برتن بنانے میں بڑے ماہر تھے اناج ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے مٹکوں سے لے کر روز مرہ کے استعمال کے برتنوں تک وہ ہر قسم کے برتن کمہار کے چاک پر بنا لیتے تھے۔ برتنوں پر سرخ رنگ کیا جاتا تھا اور سیاہ رنگ کے بیل بوٹے بھی بنائے جاتے تھے۔ ہڑپہ کی قبروں سے مردوں کے ساتھ بڑی تعداد میں دفن کئے گئے برتن بھی ملے ہیں مردوں کو باقاعدہ برتنوں اور ذاتی اشیاء کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ حیات بعدازموت پر یقین رکھتے تھے۔ ہڑپہ میں تقریباً سو سے زیادہ جزوی تدفین کے آثار برآمد ہوئے ہیں۔ بچوں کی لاشیں مٹکوں ہی میں دفن کر دی جاتی تھیں۔1987ء سے اب تک امریکی ماہرین آثار قدیمہ پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے تعاون سے ہڑپہ شہر کے جنوبی حصے میں نئی کھدائی میں مصروف ہیں جس کی بدولت اب تک بے شمار اہم آثار دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں مکانات، سڑکیں، بھٹیاں اور کارخانے وغیرہ شامل ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڑپہ تین بار تباہ ہوا کیونکہ زمین کے نیچے سے جو مکان برآمد ہوئے ہیں وہ ایک ہی بنیاد پر تین مرتبہ تعمیر ہوئے تھے۔ ان مکانات کے صحن بڑے کشادہ اور بڑے سلیقے سے بنائے گئے تھے پانی کے نکاس کا انتظام بھی مناسب تھا۔ زمین کے نیچے سے جو اشیاء یا کتبے برآمد ہوئے ہیں ان پر ایسی زبان لکھی ہے جسے آج تک کوئی نہیں پڑھ سکا اس لیے ہڑپہ کی کوئی ایسی تاریخ نہیں لکھی جا سکی جس پر اعتبار کیا جا سکے۔(پاکستان کے آثارِ قدیمہ)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

ناسا کےArtemis IIمشن کی حتمی تیاریاںامریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 1972ء کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کو چاند کے قریب لے جانے والے تاریخی مشن کی عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ناسا نےArtemis II مشن کے لیے باقاعدہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انسانوں کی چاند کی جانب واپسی اب محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہے۔یہ مشن نہ صرف امریکی خلائی تاریخ بلکہ پوری انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اپالو پروگرام کے بعد پہلا موقع ہوگا جب انسان زمین کے مدار سے نکل کر چاند کے قریب پہنچیں گے۔ اپالو 17 کے بعد 1972ء میں چاند پر انسانی قدموں کا سلسلہ رک گیا تھا اور اب نصف صدی سے زائد عرصے بعد Artemis پروگرام اس خواب کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن کیوں ضروری ہے؟ناسا کی جانب سے شروع کیا گیا یہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن دراصل ایک مکمل ویٹ ڈریس ریہرسل ہے جس میں لانچ کے تمام مراحل کو اصل مشن کی طرح انجام دیا جاتا ہے۔ راکٹ کو انتہائی سرد ایندھن سے بھرا جاتا ہے، کاؤنٹ ڈاؤن گھڑی چلتی ہے اور صرف چند سیکنڈ پہلے اسے روکا جاتا ہے۔اس مشق کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ راکٹ اور سپیس کرافٹ کے تمام نظام درست کام کر رہے ہیں یا نہیں،عملہ، کنٹرول روم اور زمینی ٹیم میں ہم آہنگی موجود ہے یا نہیں،نیز یہ کہ کسی ممکنہ تکنیکی یا موسمی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ ناسا کے مطابق یہی مشقیں کسی بھی بڑے خلائی حادثے سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔Artemis پروگرام: چاند سے مریخ تکArtemis پروگرام دراصل ناسا کا وہ طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے مقاصد یہ ہیں کہ انسانوں کو چاند تک لے جایا جائے، وہاں مستقل انسانی موجودگی کی بنیاد رکھی جائے،اور پھر اسی تجربے کی بنیاد پر مریخ تک انسانی سفر ممکن بنایا جائے۔Artemis I ایک غیر انسانی مشن تھا جو 2022 ء میں کامیابی سے مکمل ہوا۔Artemis II پہلا مشن ہے جس میں انسان شامل ہوں گے، جبکہArtemis III میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔Artemis II مشن کیا کرے گا؟یہ مشن چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا بلکہ چار خلا باز Orion سپیس کرافٹ میں سوار ہوں گے،چاند کے گرد مخصوص مدار میں سفر کریں گے،خلامیں انسانی جسم، نظام اور آلات کی کارکردگی کو جانچا جائے گااور پھر زمین پر بحفاظت واپس آئیں گے۔ یہ مرحلہ اس لیے ضروری ہے تاکہ چاند پر اترنے سے پہلے تمام خطرات اور تکنیکی چیلنجز کو سمجھا جا سکے۔عملہ اور بین الاقوامی تعاونArtemis II کے عملے میں چار خلا باز شامل ہیں جن میں ایک کینیڈین خلا باز بھی ہے۔ یہ مشن بین الاقوامی خلائی تعاون کی علامت ہے جو مستقبل میں مزید عالمی شراکت داری کی راہیں ہموار کرے گا۔لانچ سے قبل خلا بازوں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ کسی بیماری یا انفیکشن سے محفوظ رہیں کیونکہ خلامیں معمولی صحت کا مسئلہ بھی بڑے خطرے میں بدل سکتا ہے۔موسمی چیلنجز اور ممکنہ تاخیرناسا نے واضح کیا ہے کہ فلوریڈا میں سرد موسم کے باعث لانچ شیڈول میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔ خلائی مشنز میں موسم نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ تیز ہوائیں، درجہ حرارت یا نمی لانچ کو خطرناک بنا سکتی ہے۔ اسی لیے ناساکسی بھی صورت میں جلد بازی کے بجائے محفوظ لانچ کو ترجیح دے رہا ہے۔دنیا کیلئے اس مشن کی اہمیتیہ مشن صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات عالمی سطح پر ہوں گے۔یہ جدید خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت،سائنسی تحقیق کے نئے مواقع،چاند پر وسائل (پانی، معدنیات) کی تلاش اورمستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مشن اس بات کی بھی علامت ہے کہ انسان اب خلاء￿ کو صرف تحقیق نہیں بلکہ مستقبل کی بقا کے ایک راستے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔Artemis II مشن انسانیت کے خلائی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ماضی کے اپالو مشنز کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ مستقبل کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کے قریب لاتا ہے جن میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ پر قدم رکھنا شامل ہے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو آنے والی دہائیوں میں خلاانسان کے لیے ایک نیا گھر بن سکتا ہے۔

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

حیدرآباد شہر سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میانی کا جنگل سندھ کی تاریخ، فطری حسن اور نوآبادیاتی عہد کی یادوں کا ایک منفرد استعارہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1843ء میں تالپرمیروں اور انگریزوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جو دوبے کی جنگ کے نام سے معروف ہے۔ یہ جنگ17 فروری سے 24مارچ تک جاری رہی۔ اس معرکے میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کے ساتھ ہوش محمد شیدی اور دیگر سپاہیوں کی شہادت ہوئی ۔میجر جنرل سر چارلس نیپیئر نے یہاں بائیس فٹ بلند مینار بطورِ یادگار تعمیر کروایا جس پر جنگ میں مارے جانے والے برطانوی افسران اور سپاہیوں کے نام کی تفصیل بھی درج کروائی گئیں۔اس یادگار سے کچھ دور وہ قبرستان واقع ہے جہاں میر مسجد کے پاس میانی جنگ کے شہداآرام فرما ہیں۔ ان میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کی قبر کے کتبہ پر شہادت کا سال 1843ء درج ہے۔ جنرل میر جان محمد خان تالپر کی شہادت کا دن 16 فروری کو بڑی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ہوش محمد شیدی کی اصل قبر جنرل میر جان محمد خان تالپر کے پہلو میں ہے اور اس پر کتبہ بھی لگا ہوا تھا ۔ نیپیئر نے اس علاقے میں ''جنگل میں گوشۂ نشینی‘‘ کے تصور کے تحت ایک پُرسکون مقام کی بنیاد رکھی جس کا مقصد فطرت سے قربت اور تنہائی میں سکون میسر آنا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ میانی کا جنگل برطانوی دورِ حکومت کا خاموش گواہ بن گیا۔ تقریباً ایک صدی تک یہ جنگل نوآبادیاتی اقتدار کے زیرِ سایہ پروان چڑھتا رہا۔ پھر 1947ء آیا جب برصغیر کی تاریخ نے نیا رخ لیا، یونین جیک اتار دیا گیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ مگر میانی کا جنگل ان تمام تبدیلیوں کے باوجود اپنے اندر بیتے ہوئے وقت کی داستانیں سموئے آج بھی قائم ہے۔یہ جنگل آج بھی سرکاری ملکیت ہے جہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویران کواٹر اور دفتر بیتے وقتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ میانی کا جنگل نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ قدرتی حیات کے اعتبار سے بھی ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ یہاں آبی حیات کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ یہ علاقہ نقل مکانی کر کے آنے والے پرندوں کی ایک اہم آماجگاہ بھی ہے۔میانی کے جنگل میں موجود جھیلیں اور ان کے اطراف پھیلے سبزہ زار قدرتی حسن کی دلکش مثال ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں بلکہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار یہاں آتا ہے وہ بار بار آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جنگل کے اطراف موجود چراگاہیں مقامی مویشیوں کے لیے چارے کا ذریعہ ہیں اور یہی مویشی اس قدرتی منظرنامے میں دیہی زندگی کی خوبصورت جھلک شامل کر دیتے ہیں۔ یہاں قائم واچ ٹاور سے جنگل اور اطراف کے مناظر کا مشاہدہ ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے، جہاں سے فطرت کی وسعت اور خاموشی کا احساس گہرا ہو جاتا ہے۔ اسی جنگل میں شہداء کی قبریں اور یادگاریں سندھ کی تاریخ میں رقم ہونے والی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں۔یوں میانی کا جنگل محض ایک سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ تاریخ فطرت اور انسانی یادداشت کا سنگم ہے جہاں ماضی کی بازگشت اور حال کی زندگی ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ملکہ پکھراج وہ باتیں تیری،وہ فسانے تیرے (2004-1912)

آج تم یاد بے حساب آئے!ملکہ پکھراج وہ باتیں تیری،وہ فسانے تیرے (2004-1912)

٭...ملکہ پکھراج 1912ء میں جموں کشمیر کے ایک گائوں ہمیرپور میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام حمیدہ تھا۔٭...تین برس کی عمر میں انہیں موسیقی کی تربیت کیلئے استاد علی بخش قصوریہ جو استاد بڑے علی خان کے والد تھے کے سپرد کیا گیا۔ ٭... رقص اور موسیقی کی تعلیم دلی میں استاد مومن خان، استاد مولا بخش تلونڈی اور استاد عاشق علی خان سے حاصل کی۔٭...9 برس کی عمر میں مہاراجہ ہری سنگھ والی جموں کشمیر کی تاجپوشی میں شرکت کی اور فن کا مظاہرہ کیا۔٭... ملکہ پکھراج کی گائیکی کا بنیادی اسلوب غزل کو مختلف راگ راگنیوں میں پیش کرنے کا خاص انداز تھا۔٭...ان کی گائی ہوئی حفیظ جالندھری کی غزل 'ابھی تو میں جوان ہوں‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔٭... عبدالحمید عدم کی غزل 'وہ باتیں تیری وہ فسانے تیرے‘ بھی ملکہ پکھراج کی آواز میں بہت مقبول ہوئی ۔٭... لوک گیتوں کے حوالے سے بھی ملکہ پکھراج کی منفرد پہچان تھی۔پہاڑی اور ڈوگری گیتوں کی ماہر تھیں۔٭...بطور فلمسازچار فلمیں '' چاردن‘‘ (1947)، ''ڈاک بنگلہ‘‘( 1947ء)، ''کاجل‘‘( 1948ء) اور'' شمی‘‘ (1950ء) بنائیں۔٭... بطور اداکارہ بھی ایک فلم ''سول میرج‘‘ میں کام کیا ۔٭...بطور پلے بیک سنگردو فلموں ''آزادی وطن‘‘( 1946ء) اور ''شمی‘‘( 1950ء)کے گیت گائے۔٭...ریڈیو پاکستان اور بعدازاں پی ٹی وی لاہور سے بھی یادگار گانے گائے۔٭...انہیں 1982ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔٭...ملکہ پکھراج کے شوہر سید شبیر حسین شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری افسر تھے اور ادب کے حوالے سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔ان کا ایک ناول ''جھوک سیال‘‘ بہت مشہور ہے۔٭...ملکہ پکھراج کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ان کی جانشین بیٹی طاہرہ سید نے ان کے نام اور کام کو آگے بڑھایا ۔ ٭... 4 فروری 2004ء کو ملکہ پکھراج کا 90 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا ۔

آج کا دن

آج کا دن

جارج واشنگٹن امریکہ کا پہلا صدر4 فروری 1789ء کو جارج واشنگٹن کو متفقہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب اس نوآزاد امریکی ریاست میں پہلی صدارتی انتخابی کارروائی کے نتیجے میں عمل میں آیا جو امریکی آئین کی توثیق کے بعد منعقد ہوئی تھی۔ جارج واشنگٹن امریکی جنگِ آزادی میں برطانوی افواج کے خلاف کانٹی نینٹل آرمی کے کمانڈر انچیف رہ چکے تھے اور قوم کے ہیرو کے طور پر جانے جاتے تھے۔یالٹا کانفرنس کا آغاز 4 فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے اختتامی مرحلے میں یالٹا کانفرنس کا آغاز ہوا جو جدید عالمی تاریخ کے سب سے اہم سفارتی اجتماعات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کانفرنس سوویت یونین کے شہر یالٹا (کریمیا) میں منعقد ہوئی جس میں اتحادی طاقتوں کے تین بڑے رہنما شامل تھے، امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ، برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اور سوویت رہنما جوزف سٹالن۔اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جنگ کے بعد کی دنیا کی تشکیل، یورپ کی سیاسی سرحدوں کا تعین، جرمنی کے مستقبل اور اقوامِ متحدہ کے قیام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا۔ یہاں یہ طے پایا کہ جرمنی کو شکست کے بعد چار حصوں (امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور سوویت) میں تقسیم کیا جائے گا۔ سری لنکا میں آزادی کی تقریبات 4 فروری 1948ء کو سری لنکا (اُس وقت سیلون) نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ یہ دن سری لنکن تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور آج بھی وہاں ہر سال یومِ آزادی کے طور پر قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔تقریباً ڈیڑھ سو سال تک برطانوی راج کے زیرِ تسلط رہنے کے بعد سری لنکا کو پرامن سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں آزادی ملی۔ اس آزادی کے حصول میں مقامی سیاسی رہنماؤں، خاص طور پر ڈی ایس سینانائیکے نے اہم کردار ادا کیا جو بعد میں ملک کے پہلے وزیرِ اعظم بنے۔فیس بک کا قیام4 فروری 2004ء کو جدید ڈیجیٹل دنیا کا ایک انقلابی باب کھلا جب فیس بک کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو امریکی طالب علم مارک زکربرگ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے ہاسٹل روم میں شروع کیا۔ ابتدا میں اس کا نام TheFacebook تھا اور یہ صرف ہارورڈ کے طلبہ کے لیے محدود تھا مگر بہت جلد یہ دیگر جامعات اور پھر پوری دنیا تک پھیل گیا۔فیس بک نے انسانی رابطوں کے انداز کو یکسر بدل دیا۔ لوگوں کو تصاویر، خیالات، خبریں اور ذاتی معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے کا نیا پلیٹ فارم ملا۔

انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

حیران کن مماثلت اور نئے سوالاتگزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خصوصاً لینگویج ماڈلز نے انسانی سوچ، زبان اور فہم کے بارے میں ہمارے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ ابتدا میں یہ خیال عام تھا کہ کمپیوٹر اور انسانی دماغ کے درمیان کوئی گہری مماثلت ممکن نہیں مگر حالیہ سائنسی تحقیقات نے اس تصور کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم کی تازہ تحقیق جو ' Nature Communications‘میں شائع ہوئی ہے، اس کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی دماغ زبان کو سمجھنے کے عمل میں حیرت انگیز طور پر ویسے ہی کام کرتا ہے جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے زبان پر مبنی ماڈلز، مثلاً GPT اور LLaMA۔یہ تحقیق بنیادی طور پر اس سوال کا جواب تلاش کرتی ہے کہ انسان بولی گئی زبان کو کس طرح سمجھتا ہے۔ کیا دماغ الفاظ کے معنی کو فوراً مکمل طور پر سمجھ لیتا ہے یا یہ عمل بتدریج انجام پاتا ہے؟ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے چند رضاکاروں کے دماغی سگنلز کا مشاہدہ کیا جب وہ تقریباً تیس منٹ پر مشتمل ایک کہانی سن رہے تھے۔تحقیق میں الیکٹروکارٹیکوگرافی (ECoG) نامی جدید طریقہ استعمال کیا گیا جس کے ذریعے دماغ کی سطح پر پیدا ہونے والی برقی سرگرمی کو انتہائی باریکی سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے محققین کو یہ جاننے کا موقع دیا کہ دماغ زبان کے مختلف مراحل پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔لفظ سے معنی تکاس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ تھا کہ انسانی دماغ زبان کو ایک ہی لمحے میں مکمل طور پر نہیں سمجھتا بلکہ یہ عمل مرحلہ وار ہوتا ہے۔ سب سے پہلے دماغ آوازوں اور الفاظ کی بنیادی ساخت پر توجہ دیتا ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ان الفاظ کو جملوں کے سیاق و سباق میں جوڑ کر معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان مماثلت نمایاں ہوتی ہے۔ جدید AI لینگویج ماڈلز بھی متن یا گفتگو کو تہہ در تہہ پراسیس کرتے ہیں۔ ابتدائی تہیں الفاظ اور ساخت کو دیکھتی ہیں جبکہ بعد کی تہیں مفہوم، سیاق اور معنوی ربط کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دماغی حصے اور AI کی تہیںتحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دماغ کے مختلف حصے زبان کے مختلف پہلوؤں کو سنبھالتے ہیں۔ مثال کے طور پر بروکا ایریا جیسے حصے جو زبان کی تیاری اور فہم سے وابستہ ہیں اس وقت زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں جب جملے کا گہرا مطلب سامنے آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی کردار AI ماڈلز کی آخری تہیں ادا کرتی ہیں جہاں محض الفاظ نہیں بلکہ پورے خیال اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ دماغ کے حیاتیاتی نیورونز اور AI کے مصنوعی نیورل نیٹ ورکس دونوں کا طرزِ عمل حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔روایتی نظریات کو چیلنجیہ نتائج لسانیات اور دماغی سائنس کے کئی روایتی نظریات کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ زبان کے لیے دماغ میں سخت اور واضح قواعد پر مبنی نظام موجود ہے جہاں ہر لفظ اور جملہ ایک طے شدہ اصول کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ مگر نئی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زبان کی فہم ایک لچکدار عمل ہے جو سیاق و سباق، تجربے اور تسلسل پر منحصر ہے۔یہی طریقہ کار مصنوعی ذہانت میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں ماڈلز کسی جامد لغت یا قواعد کے بجائے بڑی مقدار میں ڈیٹا سے سیکھ کر معنی اخذ کرتے ہیں۔انسان اور مشین ، فرق کے باوجود مماثلتاگرچہ یہ کہنا درست نہیں کہ انسانی دماغ اور AI ایک جیسے ہیں۔ دماغ ایک حیاتیاتی نظام ہے جس میں احساسات، شعور اور جذبات شامل ہیں جبکہ AI محض ریاضیاتی ماڈلز اور الگورتھمز پر مشتمل ہے۔ تاہم یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ دونوں میں فنکشنل سطح پر کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں خاص طور پر زبان کے حوالے سے۔یہ مماثلتیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ شاید انسانی فہم اور ذہانت کے کچھ بنیادی اصول ایسے ہیں جو چاہے حیاتیاتی نظام میں ہوں یا مصنوعی، دونوں میں یکساں طور پر کارفرما رہتے ہیں۔مستقبل کے امکاناتاس تحقیق کے اثرات نہ صرف مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ انسانی دماغ کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر AI ماڈلز واقعی انسانی دماغ کے عمل کی عکاسی کرتے ہیں تو مستقبل میں انہیں دماغی بیماریوں، زبان کی خرابیوں اور یادداشت کے مسائل کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ محققین نے اس تحقیق کا ڈیٹا اوپن سورس کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان اس پر مزید کام کر سکیں۔ یہ قدم علم کے اشتراک اور سائنسی ترقی کی ایک عمدہ مثال ہے۔یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعلق محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ زبان، جو انسان کی شناخت کا بنیادی عنصر ہے، اس میدان میں دونوں کے درمیان سب سے مضبوط پل ثابت ہو رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ تحقیق نہ صرف AI کو مزید انسانی بنانے میں مدد دے گی بلکہ ہمیں خود اپنے دماغ کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔

خلا میں ’دوسرا گھر‘  ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

خلا میں ’دوسرا گھر‘ ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

انسان ہمیشہ سے اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ کیا ہماری زمین جیسی کوئی دوسری دنیا بھی ہے جہاں زندگی ممکن ہو؟ جدید دور کے خلائی مشنز اور طاقتور دوربینوں نے ہمیں اس سوال کے قریب پہنچا دیا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسے سیارے کا پتہ لگایا ہے جو بہت زیادہ حد تک زمین سے ملتی ہوئی خصوصیات کا حامل ہے۔ اس دریافت نے فلکیات کے شعبے میں نئی امیدیں جگا دی ہیں۔ زمین جیسا سیارہ؟سائنسدانوں نے دور دراز ستاروں کے ڈیٹاکا دوبارہ جائزہ لیا ہے اور ایک کم روشنی والے سگنل کی بنیاد پر ایک ممکنہ سیارے کی موجودگی کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ سیارہ ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے جو ہمارے سورج جیسا دکھائی دیتا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ زمین سے کچھ فیصد ہی بڑا ہے اور اس کا مدار بھی زمین کے مدار کے بہت قریب ہے ، یعنی اس کے سال کی لمبائی تقریباً ہماری طرح ہے۔ اس سیارے کی دوری تقریباً 146 نوری سال ہے، یعنی یہ ہمارے نظام شمسی سے بہت دور واقع ہے ،لیکن فلکیاتی پیمانے پر قریب ہی سمجھا جاتا ہے۔ کس طرح معلوم ہوا؟یہ دریافت بظاہر پرانے دوربین ڈیٹا کے دوبارہ تجزیے سے سامنے آئی۔ ناسا کے کیپلر سپیس ٹیلی سکوپ نے ہزاروں ستاروں کا مسلسل مشاہدہ کیا اور ان کی روشنی میں وقتاً فوقتاً ہونے والی معمولی کمی کو نوٹ کیا۔ جب کسی ستارے کی روشنی میں بار بار معمولی کمی آتی ہے تو یہ ایک سیارے کے اس کے سامنے سے گزرنے کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس طریقے کو ٹرانزٹ میتھڈ کہا جاتا ہے جو اَب تک کی موزوں ترین تکنیکوں میں سے ایک ہے۔ اس نئے سیارے کے معاملے میں اسی پرانے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کیا گیا تو اس سے اس نئے سیارے کی پہلی جھلک ملی۔ البتہ ابھی تک اسے مکمل طور پر تصدیق شدہ دریافت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مزید مشاہدات اور مطالعے کی ضرورت ہے۔ زمین جیسا سیارہ،کیوں یہ اہم ہے؟ سائنسدان سیاروں کو ' زمین جیسا‘ تب کہتے ہیں جب وہ زمین کے سائز، ستارے کے گرد مدار اور روشنی کی مقدار میں مماثلت رکھتے ہوں۔ اس نئے سیارے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس کا سائز تقریباً زمین جتنا یا تھوڑا بڑا ہے ۔ اس کا مدارزمین جیسا ہے جو ستارے کے گرد تقریباً ایک سال کی مدت میں گردش کرتا ہے۔ یہ ستارہ سورج کی طرح ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیارے کو ملنے والی توانائی بھی زمین جیسی ہو سکتی ہے۔ یہ مماثلتیں سب سے اہم ہیں کیونکہ زمین پر زندگی کا قیام پانی، درجہ حرارت اور روشنی کے مناسب امتزاج پر منحصر ہے۔ اگر کوئی سیارہ صحیح مقدار میں روشنی اور توانائی حاصل کرتا ہے تو وہاں مائع پانی موجود ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یہی زندگی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ کیا یہ واقعی قابلِ حیات ہے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابھی تک معلوم نہیں۔ اگرچہ مدار، حجم اور ستارے کی نوعیت زمین جیسی ہے لیکن ماحول یا زندگی کے بارے میں ابھی کوئی براہِ راست معلومات نہیں ۔اس کے لیے سائنسدانوں کو یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ کیا وہاں کوئی مستقل ماحول ہے؟ صرف کسی سیارے کے وجود سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں گیسوں کا ماحول موجود ہے جو زندگی کو ممکن بنا سکے۔ درجہ حرارت کیا ہے؟ اگر سیارہ بہت ٹھنڈا یا بہت گرم ہو تو مائع پانی موجود رہنا ناممکن ہوگا۔ کئی دوسرے سیارے جیسے HD 137010 b بھی ممکنہ طور پر شدید سرد ہیں۔یہ بھی جاننا ہو گا کہ مذکورہ سیارے کی سطح پرپانی موجود ہے تو وہ مائع کے طور پر موجود ہے یا برف کی شکل میں۔اس سیارے پر زمین جیسے ماحول یا حیات کے شواہد حاصل کرنا بہت پیچیدہ مرحلہ ہے، اس کے لیے مستقبل کی طاقتور خلائی دوربینوں اور مشنز کی ضرورت ہوگی۔بہرکیف یہ نئی دریافت اپنے آپ میں بہت اہم ہے مگر گزشتہ برسوں میں سائنسدانوں نے متعدد ایسے سیاروں کی نشاندہی کی ہے جنہیں ''زمین نما‘‘ سمجھا جاتا ہے:کیپلر 452 بی:سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والا ایک بڑا سیارہ جو زمین کے مدار کے قریب ہے۔ جے جی 1002بی : 16 نوری سال دور ایک ممکنہ قابلِ حیات زمین جیسا سیارہ۔ وولف 1069 بی:جو اپنے ستارے کے مناسب فاصلے پر گردش کرتا ہے اور ممکنہ طور پر یہاں مائع پانی موجودہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کہکشاں میں زمین جیسے سیارے کثرت سے موجود ہو سکتے ہیں البتہ ان کی حیات یا قابلِ رہائش خصوصیات کا فیصلہ مزید تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ سائنس اور مستقبلہر نئی دریافت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات بے پناہ وسیع ہے اور شاید اس میں بے شمار ایسے دنیائیں ہیں جو ہماری زمین سے میل کھاتی ہیں۔ اگر سائنسدان کسی سیارے پر بائیوسگنیچرز یعنی ایسی نشانیاں جو حیاتیاتی عمل کی طرف اشارہ کریں ، دریافت کر لیں تو یہ کہیں زیادہ اہم ہوگا۔ موجودہ دور میں ہم جس سطح پر ہیں وہاں زمین ایسے دیگر سیاروں پر زندگی کی موجودگی یا عدمِ موجودگی کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنابہت مشکل ہے۔ پھر بھی ہر نئی دریافت ہمارے سوالات کے دائرے کو وسیع کر دیتی ہے اور ہمیں حیران کر دیتی ہے کہ شاید ایک دن ہم واقعی ''دوسری زمین‘‘تلاش بھی کر لیں۔