بیر کی باتیں!
اسپیشل فیچر
اس پھل کو ججوبا(Jujuba)بھی کہا جاتا ہےبیر برعظیم پاک و ہند کے قدیم ترین پھلوں میں سے ایک ایسا پھل ہے جو کہ ہر طبقہ میں مقبول و عام ہے۔اس پھل کو ججوبا (Jujuba)بھی کہتے ہیں۔ اس کا نباتاتی نام (Ziziphus) ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ پھل گزشتہ چار ہزار سال سے کاشت ہورہا ہے۔ اس وقت یہ دنیا میں چین، افغانستان، شمالی افریقا، ایران، فلسطین، فرانس اور سپین میں بھی کاشت کیا جاتا ہے۔بیر کی چند اقسام ایسی بھی ہیں، جو بغیر بیج کے ہیں، ان کو خشک بھی کیا جاتا ہے اور اُن کو( Dry Dates )کہتے ہیں، لیکن ہمارے ملک میں یہ تازہ حالت میں ہی کھایا جاتا ہے۔ اس کا درخت بڑا سخت جان اور کافی پھیلائو رکھتا ہے اور شاخوں پر کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ اس کا پھل موسم بہار ’’فروری، مارچ‘‘ میں پکتا ہے۔ سندھ میں اس کا پھل پنجاب سے پہلے پک کر بازار میں فروخت ہوتا ہے۔ بیرغذائیت کے لحاظ سے بہت اعلیٰ ہے۔ اس میں حیاتین ۱، ب اور ج کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ حیاتین ’’ج‘‘ ترش پھلوں سے بھی وافر مقدار(150-50گرام) میں پایا جاتا ہے۔ ترش پھلوں میں حیاتین ج صرف 35سے 45ملی گرام ہوتا ہے۔پھل کا کیمیائی تجزیہ درج ذیل گوشوارے میں واضح کیا گیا ہے:پانی 85.1فی صد روغن 0.1فی صدنشاشتہ 12.8 چونا 0.3اجزائے لحمیہ 0.8 فاسفورس 0.3لوہا 0.8 معدنی اجزا 0.4ایک اونس میں 16.00100گرام میں حرارتی اکائی 55.00درج بالا گوشوارہ سے اس کی غذائی خصوصیات بھی نمایاں ہوتی ہیں۔ پہلے اس کے درخت سے لاکھ بھی تیار کی جاتی تھی لیکن آج کل لاکھ کا استعمال زیادہ نہیں۔ دوسرے اس کی لکڑی ہلکی ہونے کی وجہ سے زرعی آلات میں بھی مستعمل ہے اور بطور ایندھن بھی۔٭آب و ہوا:بیر کا پودا مختلف آب و ہوا اور زمین میں کامیابی سے کاشت ہوسکتا ہے۔ اس کا پودا سطح سمندر سے 2ہزار فٹ کی بلندی پر بھی لگایا جا سکتا ہے۔اس کی جڑیں کافی گہری جاتی ہیں اس طرح یہ خشک علاقے میں خوب پھلتا پھولتا ہے۔ اس کی کاشت گرم خشک علاقوں میں بخوبی ہوسکتی ہے۔ اس کو کم آبپاشی اور بارانی علاقوں میں بھی کاشت کرسکتے ہیں۔٭زمین:اس کی کاشت کے لیے ہر قسم کی زمین یعنی زرخیز، غیر کلراوراٹھی جس میں دیگر پھل دار پودے کامیاب نہ ہوں اس کا پودا کامیابی سے بھرپور بار آوری کرتا ہے۔٭افزائش نسل:بیر کے تخمی پودے دوسرے پودوں کی طرح دیر سے پھل لاتے ہیں اور پھل بھی کوالٹی کے لحاظ سے بہتر نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کے تخمی پودوں کو نرسری میں تیار کر کے وہیں ٹی بڈنگ،رِنگ بڈنگ یا ٹی گرافٹنگ کر دی جاتی ہے اور وہیں سے پودوں کو گاچی سمیت نکال کر کھیت میں لگایا جاتا ہے۔ یا تخم کو پہلے گملوں میں اْگا کر کھیت میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ وہیں پر ایک دو سال بعد ٹی بڈنگ کر دی جاتی ہے۔٭کاشتی اُمور:اس کے پودے کھیت میں40X40فٹ کے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں۔ اس طرح فی ایکڑ 36پودے لگیں گے۔ یہ پودا خشک موسم اور گرمی کو بخوبی برداشت کر لیتا ہے۔ پھل لگنے کے بعد اگر وقفے وقفے سے آبپاشی کر دی جائے تو پھل سے زائد آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان پودوں کو فی جوان پودا 8-6سال تک2من دیسی کھاد، پھول آنے سے پہلے اگست ستمبرمیں ڈالیں۔ دیسی کھاد میسر نہ ہونے کی صورت میں یوریا 2کلو+ سپرفاسفیٹ2/1/2 کلو +پوٹاشیم سلفیٹ 2کلو ملا کر اگست میں ڈالی جائے اس سے پھل خوب لگے گا اور سائز بھی بڑا ہوگا۔شروع کے سالوں میں پھل والی شاخوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے سہارا دینا پڑتا ہے۔ پھل کی برداشت کے بعد سوکھی اور ٹوٹی ہوئی شاخیں کاٹ دینی چاہئیں۔ جب زیادہ سوکھی ہوئی شاخیں نظر آئیں تو سارے پودے کی شاخ تراشی ضروری ہے۔ بیر کے پودے کو اس قدر پھل لگتا ہے کہ شاخیں جھک کر زمین پر لگ جاتی ہیں اور پودا چھتری کی مانند نظر آتا ہے۔٭پیداوار:اس کی پیداوار مختلف اقسام میں کم و بیش ہوتی ہے۔ جو کم از کم 2من اور زیادہ سے زیادہ 5من تک ہوتی ہے۔ اس کے پکے ہوئے بیروں کو سیڑھی لگا کر توڑا جاتا ہے۔ پھل کو منڈی میں کریٹوں یا بوریوں میں بھیجا جاتا ہے۔ ہمارے بیر کی مانگ سعودی عرب، افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ہے۔ صوبہ سندھ میں بیر کا پھل جنوری میںپک جاتاہے۔ جبکہ پنجاب میں فروری کے آخر سے اپریل تک ہوتا ہے۔٭اقسام:ہمارے ملک میں اس کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں موٹی اقسام کو پیوندی یا فارمی کہا جاتا ہے، یعنی عمران 15-13-9۔ کریلا،دوسری کاٹھی اقسام ہیں، جن کا پھل گول ہوتا ہے اور یہ سائز میں چھوٹی ہوتی ہیں اور کھانے میں بھی لذیذ نہیں ہوتیں۔ ایک اور قسم کے جنگلی بیر ہوتے ہیں۔ ان کا پودا جھاڑی نما ہوتا ہے جن کو ملھے بیر کہتے ہیں یہ زیادہ تر بارانی علاقوں اور پہاڑی علاقوں میںہوتے ہیں۔ بھیڑ بکریاں ان کے پتوں کو بطور خوراک کھاتی ہیں اور ان پودوں میں جنگلی پرندے بٹیر، تیتر اور خرگوش اپنا ڈیرہ بنا کر رہتے ہیں۔سندھ کی ایک قسم جس کا نام سفید دہلی ( Delhi White) ہے۔ اس کا پھل کافی موٹا اور میٹھا ہوتا ہے اور پیدوار اور آمدن بھی فی ایکٹر زیادہ ہوتی ہے۔ باغبانوں کو یہ قسم لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس کے پودے حیدرآباد، ٹنڈوآدم، خیرپور خاص اور پتوکی سے مل سکتے ہیں۔٭کیڑے اور بیماریاں:بیر کے پودے پر بھی کیڑے اور بیماریاں حملہ کرتی ہیں، جن میں بال دار سنڈی، پھل کی مکھی اور پڈرلی مِلڈیو(P.Mildew)پودوں اور پھل کو کافی نقصان پہنچاتی ہیں۔ بال دار سنڈی پتوں کو کھاتی ہے۔ اور یہ انسانی جسم پر خارش اور سْرخ دھبے کا باعث بن جاتی ہے اور جو کافی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پھل کی مکھی انڈے دے کر کیرے (Drop)کا سبب بنتی ہے۔ پھل میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور پھل کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔ اور کھانے کے قابل نہیں رہتا۔ان کے علاوہ پھپھوندی کی بیماری پتوں اور پھل پر حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ موسم میں نمی آنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح پتوں کی نچلی سطح سفید پوڈرکی طرح ہوجاتی ہے اور پھل بھی صحت مند نظر نہیں آتا۔ اور بازار میں بھائو بھی مناسب نہیں ملتا۔ ان کی روک تھام کے لیے بیر کے درختوں پر پھل لگنے پر کیڑے مارادویات اور بیماری کے سدِباب کے لیے اسپرے ضروری ہے۔ ٭…٭…٭