کھیل کے میدان آبادکریں
اسپیشل فیچر
اسپورٹس گرائونڈز تعمیر ہوں گے تویوتھ فیسٹول کی ضرورت نہیں رہے گی کھیل عدم توجہی ، ناقص فیصلہ سازی ،لڑائی جھگڑوں اور فنڈز کی قلت کی بھینٹ چڑھ گئےاب جو ہے وہ سدا نہیں تھااور جو تھا وہ بڑا ہی د ل نشین تھا۔کبھی ہم نے بھی فتوحات کے ادوار دیکھے تھے،کبھی ہمارے کھیل کے میدان بھی آباد ہوا کرتے تھے، کبھی ہم بھی کامیابی اور فتح کے جذبوں سے سرشار ہوا کرتے تھے ، کبھی ہم میں بھی کچھ کر دکھانے کا جنون ہوا کرتا تھا، کبھی ہماری سرزمین سے اُبھرنے والے کھلاڑی کھیل کے مختلف میدانوں میں دنیا بھر میں فتوحات کے باب رقم کیا کرتے تھے ۔ آج ایسی فتوحات کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ آج جو محض خواب لگتا ہے ، گزرے زمانوں میں ایک دلفریب حقیقت تھی ۔ وہ زمانہ تھا کہ جس کی یاد آج بھی رگ و پے میں جوش اور توانائی بھر دیتی ہے۔ چاہے وہ ہاکی کا میدان ہو یا اسکواش کے کورٹ یا پھر کرکٹ کی بساط ہو غرض کہ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو کھیلوں کے حوالے سے پاکستان کا ماضی آج بھی کسی درخشاں ستارے کی مانند چمکتا دمکتا دکھائی دے گا اور یہ چمک دمک پاک سر زمین سے جنم لینے والے ان عظیم کھلاڑیوں کی مرہونِ منت ہے کہ جنہیں ہم فراموش کر چکے ہیں۔ صد افسوس ۔۔ہم کس قدر زود فراموش واقع ہوئے ہیں؟ ہم نے کیسے کیسے معتبر اور عظیم کھلاڑیوں کی لازورل کاوشوں کو بھلا دیا کہ جن کی وجہ سے ایک زمانے میں کھیلوں کے میدان میں پوری دنیا میں پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا کرتا تھا ۔ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے مگر ہم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ؟ آج کے حالات کو مدِ نظر رکھا جائے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے ہاکی کے میدان میں چار عالمی کپ سمیت متعدد اعزاز سمیٹ رکھے ہیں ؟ کسی زمانے میں پاکستان کو ہاکی کا ایشیئن جائنٹ کہا جاتا تھا ۔ ایشیائی ممالک کو ہاکی کے فن سے آراستہ کرنے کا سہرا بھی ہمارے سر جاتا ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ دوسرے ممالک کو ہاکی کے اسباق پڑھانے کے بعد ہم اپنے اس انمول ہنر کو فراموش کیونکر کر گئے؟ پاکستان ہاکی کی تباہی کی بڑی وجہ ہاکی کی قدرتی گھاس سے آسٹروٹرف پر منتقلی بتائی جاتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہاکی تو ہمارا کھیل تھا۔چیمپیئن تو ہم تھے لہذا گوروں کوہاکی آسٹروٹرف پر منتقل کرنے سے کیوں نہ روکا گیا؟ اگر ایسا ہو بھی گیا تھا تو جدید دور کے جدید تقاضوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے ہاکی اسٹیڈیمزمیں آسٹروٹرف پچھانے میں دیر کیوں کی گئی؟ اگر ہالینڈ کی جانب دیکھا جائے تو ڈچ سرزمین کے شہر ایمسٹرڈیم جتنے آسٹروٹرف میدان ہیں، پاکستان بھر نہیں ہیں۔ ڈچ قوم نے اپنی ہاکی کوجدت سے آراستہ کیا یہی وجہ ہے کہ عالمی مقابلوں میں ہالینڈ کبھی ٹاپ تھری سے باہر نہیں ہوا ۔ ہم نے کیا کیا؟ ہمارا قومی کھیل عدم توجہی ، ناقص فیصلوں ،آپسی لڑائی جھگڑوں اور فنڈز کی قلت کی بھینٹ چڑھ گیا اور ہم محض بے سروپا دعوے کرتے رہ گئے ۔ یہی حالات آج اسکواش کے بھی ہیں۔ اسکواش وہ کھیل ہے جس میں پاکستان نے دنیا بھر سے سب سے زیادہ کامیابیاں سمیٹ رکھی ہیں ۔ پاکستانی کھلاڑیوںنے مسلسل پانچ دہائیوں تک اسکواش پر حکمرانی کی ۔ اسکواش کے میدانوں کو روشن خان ، جہانگیرخان اور جان شیر خان جیسے کئی قد آور کھلاڑیوں کے انمول فن سے آراستہ کیا جنہوں نے اس میدان میں ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیئے ، کامیابیوں کے وہ باب رقم کئے کہ جن کی مثال آج بھی کہیں نہیں ملتی ۔ لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارا اسکواش سے کبھی کوئی واسطہ ہی نہ ہو ۔ آج پاکستان میں اسکواش کا کھیل پھر کسی جہانگیر خان کامتلاشی ہے ۔ یہ میدان آج پھر کسی جان شیر خان کی راہ تک رہا ہے۔ پاکستان اسکواش کو تعمیرِ نو کی ضرورت ہے مگر سوال یہ ہے کہ بیٹرا اُٹھائے گا کون؟ اگر کرکٹ کی طرف دیکھا جائے تو وہاں بھی حالات کچھ اچھے اشارے نہیں دے رہے ۔ کرکٹ بورڈ میں آئے روز جنم لینے والے تنازعات ، میرٹ کی بجائے پسند و ناپسند اور سفارشات کی بناء پر فیصلے اور کرکٹ بورڈ میں موجود نان کرکٹرز پاکستان کرکٹ کو تباہی کی جانب لے جا رہے ہیں ۔ کرکٹ کی بہتری کے لئے موجودہ نظام سے پیچھا چھڑانا ضروری ہے اوریہ بھی ضروری ہے کہ ادارے پرعرصہ دراز سے مسلط نان کرکٹرز کا خاتمہ کیا جائے ۔ کرکٹ کی تعمیر و ترقی کے لیے ماضی کے اپنے ان ہیروز کی خدمات لی جائیں جنہوں نے اپنے وقت میں ملک سے اندر اور باہر گراں قدر خدمات انجام دے رکھی ہیں اور جو کرکٹ کے معاملات کو احسن طریقے سے سرانجام دینے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔پاکستان کے متعدد اداروں کی طرح آج کھیلوں کے میدان بھی زبوں حالی کا شکار ہیں ۔ کسی بھی ادارے کی تباہی و بربادی کا آغاز اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کی باگ دوڑ ان افراد کے ہاتھوں میں سونپ دی جائے جو اسے چلانے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں ۔ اس کے علاوہ کرپشن اور پسند و ناپسند کی بنا پر فیصلے بھی اداروں کو تباہی کا باعث بنتے ہیں ۔ پنجاب حکومت ہر سال یوتھ فیسٹیول میں پانچ ارب روپوںکی خطیر رقم پاکستان میں کھیلوں کے نام پر خرچ کرتی ہے ۔ جس کا میں سے تین ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ چند دنوں کا کھیل تماشہ رچا کر کئی الٹے سیدھے ریکارڈ قائم کر لئے جاتے ہیں ۔یہ ریکارڈ اصلی ہوتے ہیں یا جعلی ؟ یہ بھی سوالیہ نشان ہے۔لیکن اس طرح کے یوتھ فیسٹیولز سے نہ ہی کھیلوں کو ئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی چند روز کی مشقوں سے کھلاڑی پیدا ہوں گے ۔ بہتر یہ ہے کہ ہر برس پانچ ارب روپے کی رقم برباد کرنے کی بجائے پاکستان کے ہر شہر ، ہر ضلعے میں اسپورٹس گراوٗنڈز تعمیر کر دیئے جائیں۔جب پاکستان کے ہر شہر ، ہر ضلعے میں اسپورٹس کمپلیکس دستیاب ہوں گے تو پھر اسپورٹس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے یوتھ فیسٹیول کی ضرورت نہیں ہو گی ، یہ خود ہی آباد ہو جائیں گے اور کھلاڑی بھی پیدا ہونے لگیں گے ۔اس کے علاوہ اسکولز اور کالجز کی سطح پر بھی کھیلوں کو فروغ دے کر بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔جن ملکوں میں میدان آباد ہوں وہاں اسپتال ویران ہوا کرتے ہیں ۔ ہمیں بھی اپنے اجڑے ہوئے میدان آباد کرنے ہیں ۔ کھیلوں میں اپنے گزرے ہوئے سنہرے دور کو پھر سے آواز دینی ہے۔