خطہ ٔ پونچھ کی تاریخ سے ایک ورق
اسپیشل فیچر
ریاست پونچھ کشمیر سے ملحقہ جموں سے شمال کی طرف واقع ہے جو نہایت سرسبز وشاداب پہاڑی خطہ اور خوشنما وادی ہے۔ علاقہ پونچھ کا سلسلہ ہمالیہ کے عظیم الشان پہاڑ ’’پیر پنجال‘‘ کے دامن میں اپنے گوناں گوں قدرتی مناظر کے باعث مشہور ہے۔ جو کشمیر کے جنوبی محاذ پر واقع ہے۔ علاقہ پونچھ کا رقبہ 1600 مربع میل جبکہ 1940ء میں اس کی آبادی تین لاکھ ستاسی ہزار نفوس پر مشتمل ومنقسم تھی۔ تقسیم سے قبل اس خطہ میں 95 سے 96 فی صد مسلمان اڑھائی سے تین فیصد ہندو اور ایک سے ڈیڑھ فیصد سکھ آبادی تھی۔اس محدود خطہ پر بمشکل دیگر ممالک کی آج تک مختلف حکومتیں مسلط وفرمانروا رہ چکی ہیں۔ عرصہ دراز تک اولاً اس کے حکمران ہندو راجپوت رہے۔ پھر جب کشمیر میں مسلمانوں کا عمل دخل ہوا تو یہ علاقہ ان کے زیراقتدار آگیا۔ خطہ پونچھ کو خاص اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب یہاں 17ویں صدی عیسوی میں مغل بادشاہوں اور امراء نے گرمیوں میں دربار لگانا شروع کیے۔ بادشاہ کے قیام کے دوران اس چھوٹے سے دارالخلافہ میں عجیب چہل پہل ہوتی اس دوران یہاں لاہور سمیت متحدہ پنجاب کے مختلف شہروں سے تاجروں، سوداگروں اور امراء کی آمدورفت میں بھی اضافہ ہوا۔ریاست پونچھ 15ویں صدی عیسوی سے ہی مسلمان ریاست چلی آرہی ہے۔ 15 ویں صدی عیسوی میں اس ریاست پر جودھ پور خاندان کے ہندو راٹھور راجپوت راجہ نے اسلام قبول کرلیا۔ محمد دین فوق نے اپنی تصنیف تاریخ اقوام پونچھ (کشمیر) میں لکھا ہے۔’’قریباً پانچ سو سال تک یہاں اسلامی حکومت رہی۔ راجہ رستم خاں کی وفات کے بعد سلطنت میں انحطاط وتنزل ہونا شروع ہوا۔ جب 18ویں صدی کی ابتداء میں اندرونی بدنظمیوں کے باعث پونچھ کی مرکزی حکومت کا اقتدار جاتا رہا تو دیہات وامصار میں ملدیاں، سدھن، دلی، تھکیال، فیروزال، راٹھور، گکھڑ، ڈہونڈنت وغیرہ قوموں نے حصے بانٹ لیے۔ علاقہ تھکیال میں تھکیال اور ڈومال وغیرہ اقوام نے تھکیال کو مساوی حصوں میں تقسیم کر لیا۔ تحصیل مہنڈر کا زیریں علاقہ درہ شیر خان، سیہڑہ، بٹل، مندہول، بلنوٹی مینکوٹ وغیرہ پر دُولی قابض ہو گئے اور شمالی حصہ میں پیروزال اور گجر اقوام دندناتی رہیں۔ سوہرن کے علاقہ پر گوجر اور علاقہ منڈی کے 24 گائوں پر کاشمیری خواجگان کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اسی طرح تحصیل سدھونتی میں سدھن اور بدہن قوم کے مختلف قبائل متصرف ہو گئے۔ علاقہ باغ کا وہ حصہ جو حدود کشمیر کے ملحق کوہالہ وچکار کے علاقہ سے متصل ہے۔ ڈھونڈ خاندان کے سرداروں اور نمبرداروں نے بانٹ لیا۔ باقی علاقے پر تیزیال، ملدیال وغیرہ مقدم بن گئے۔ صدر پونچھ پر علاقہ کہوٹہ سے دیگوار تک چوہدریان سدہرون کی راجگی قائم ہو گئی۔ پونچھ کے صدر مقام اور اردگرد کے نزدیک دیہاتوں پر ان دنوں شمس خان ملدیال راجہ تھا۔ اس عجیب وغریب اور بے ترتیب حکومت کو پونچھ میں ’’آپ راجی‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ غرضیکہ ہر گائوں میں متعدد راجے اور ہر گھر میں کئی خودساختہ مقدم تھے۔ لوٹ مار ان مختلف قبائل کا معمولی شغل تھا۔ خانہ جنگیوں اور فسادات میں اور باہمی آویزشوں میں ان کی بسر اوقات ہوتی تھی۔‘‘مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جب علاقہ جموں راجہ گلاب سنگھ وراجہ دھیان سنگھ صاحبان کو تفویض کیا تو راجہ گلاب سنگھ نے علاقہ کو وسیع کرنے کیلئے راجہ سلطان خان والئی بھمبر اور اگر خان وغیرہ راجوری کے مسلم راجگان کو گرفتار کرکے اس علاقہ پر دیوان دلباغ رائے کو گورنر (کار دار) اور بمشورہ دستور المعظم راجہ دھیان سنگھ جی شمس خان راجہ پونچھ کو دلباغ رائے کا مشیر مقرر کیا۔شمس خاں کو پونچھ کی بجائے کار دار کے پاس رہنا پڑتا تھا۔ راجہ گلاب سنگھ جو بعد میں مہاراجہ گلاب سنگھ کہلایا۔ شمس خاں کے مقامی اقتدار کو مٹانے کیلئے اس کی تقرری کے خلاف تھا اور ان کی منشاء کے مطابق دیوان دلباغ رائے بھی اندرونی طور پر اس کے خلاف تھا۔ شمس خان نے جب تیور بدلے دیکھے تو کسی اطلاع واجازت کے بغیر پونچھ چلا آیا اور اسی معمولی بہانے پر اس کو باغی وسرکش قرار دیا گیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے اپنے بیٹے میاں اودہم سنگھ کو بہ منظوری دربار لاہوربہ صلاح راجہ دھیان سنگھ فوج جرار دے کر کوٹلی کے راستے پونچھ پر حملہ آور ہونے کو روانہ کیا اور مشاورت جنگی کیلئے اس نوجوان شہزادہ کے ہمراہ میان لعب سنگھ وزور آور سنگھ سلہریہ کو بھیجا۔ اس فوج نے دریائے جہلم کو منگلا کے مقام پر سے عبور کرکے علاقہ کو تاخت و تاراج کیا اور قلعہ منگ کو بلا مزاحمت تسخیر کرلیا۔ گوشمس خان نے اپنی بریت اورواپسی کی معقول وجوہات اور وفاداری پر قائم رہنے کیلئے ایک مفصل عرضداشت دربار لاہور میں روانہ کی مگر راجہ گلاب سنگھ وراجہ دھیاچونکہ تسخیر پونچھ مطلوب تھی۔ اس لیے یہ رضداشت ناقابل التفات سمجھی گئی۔٭…٭…٭