شمسی توانائی ایک نعمت
اسپیشل فیچر
شمسی توانائی خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، د ھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی سولر انرجی یا شمسی توانائی کہلاتی ہے۔ دھو پ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔سورج اپنی توانائی ایکسرے سے لے کر ریڈیو ویو کے ہر ویو لینتھ پر منعکس کرتا ہے۔ اسپکٹرم کے چالیس فیصد حصے پر یہ توانائی نظر آتی ہے اور پچاس فیصد شمسی توانائی انفرا ریڈ اور بقیہ الٹرا وائلٹ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم جس چیز کی طلب کررہے ہوتے ہیں وہ ہمارے پاس ہی ہوتی ہے مگر اس کی طرف دیر سے متوجہ ہوتے ہیں۔ شمسی توانائی بھی انہی چیزوں میں سے ایک ہے۔اگر ہم آج سے دو چار سال پہلے ہی شمسی توانائی سے بجلی کے حصول پر کام شروع کر دیتے تو دور حاضر میں بجلی کے بحران کا شکار نہ ہوتے۔ ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں سورج کی کرنیں زیادہ دیر تک پڑتی ہیں۔ پاکستان سال کے 365 دنوں میں250سے لے کر320 دنوں تک سورج کی دھوپ سے توانائی کی پیداوار کو یقینی بنا سکتا ہے۔ سورج کی کرنیں قدرت کا وہ عطیہ ہیںجو توانائی کے حصول کے لئے مفید ہیں۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی کرنوںسے چھتیس گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے، شمسی توانائی کے بغیر زمین پر زندگی ممکن نہیں۔ دنیا میں شمسی توانائی کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ان دو اقسام میں سولر تھرمل اور سولر فوٹو وولٹائی (سولر پی وی) شامل ہیں۔سولر تھرمل بجلی پیدا کرنے کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں پانی کو بھاپ کی شکل دی جاتی ہے اور بھاپ کی مدد سے ٹربائنز کو چلایا جاتا ہے جس سے بجلی پید اہوتی ہے۔ گیس یا کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں حرارت آگ سے لی جاتی ہے جبکہ سولر تھرمل میں حرارت آگ کے بجائے براہ راست سورج سے حاصل کی جاتی ہے۔ اِس طریقے میں دھوپ کی شعاعوں کو ایک ہی نقطے پر مرکوز کرتے ہوئے کسی پائپ میں موجود مائع کو گرم کیا جاتا ہے۔ آج کل جو کھانا پکانے کے لئے شمسی چولہوں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ سولر تھرمل طریقہ ہی ہے۔شمسی بیٹریوں کو سائنسی اصطلاح میں فوٹو وولٹک (پی وی) کہا جاتا ہے۔ فوٹو کا مطلب روشنی اور وولٹک سے مراد بجلی ہے۔ فوٹو وولٹائی سیل وہ ایجادات ہیں جو سورج کی روشنی کو جنریٹروں اور تھرمو ڈائنامیک سائیکلز سے گزار کر بجلی میں تبدیل کرتی ہیں۔ فوٹو وولٹائی کا مطلب ہے، ایسی روشنی جو بجلی میں تبدیل ہو جائے اس عمل میں سورج کی روشنی میں شامل فوٹونز سیلی کونز کے آزاد الیکٹرانز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔کسی بھی عام آدمی کے لئے یہ بات قابل غور ہے کہ سورج کی روشنی سے توانائی کا حصول کیسے کیا جاتا ہے۔ شمسی توانائی سے توانائی کے حصول کے لئے بنیادی عنصر سولر سیل کہلاتا ہے۔ جب سورج کی شعاعیں پینل پر پڑتی ہیں تو سولر سیل کے ذریعے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سولر پینل بیس سے پچیس برس کے لئے کارآمد ہو سکتا ہے۔ سولر پی وی کی مزید اقسام میں جن میں تھن فلم، کنسنٹریٹڈ اور ایکٹو سولر انرجی شامل ہیں۔تھن فلم سولر سیل کو تھن فلم فوٹو وولٹک بھی کہا جاتا ہے۔ تھن فلم سولر سیل کو ایک یا ایک سے زیادہ فوٹو وولٹک مواد کی پتلی تہوں کو جمع کر کے بنایا جاتا ہے اور یہ شمسی توانائی کو بجلی بنا کر اپنے اندر محفو ظ کر لیتی ہیں۔ اس طرح کی بیٹری توانائی کی کم مقدار کو محفوظ کرتی ہے مگر اس کا سامان پاکستان میں کم قیمت پر دستیاب ہے۔ سلیکون تھن فلم بیٹری کے لئے ایمورپھس، پروٹو کرسٹلائن، نینو کرسٹیلائن اور بلیک سلیکون استعمال ہوتا ہے۔ تھن فلم بیٹریز کا وزن کم ہوتا ہے اس لئے ان بیٹریز کو باآسانی بڑی بڑی عمارتوں کی چھت پر لگایا جاتا ہے۔کنسنٹریٹڈ سولرسسٹم میں لینز اور شیشوں کی مدد سے سورج کی توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ جب سورج کی کرنیں توانائی میں تبدیل ہوتی ہیں تو یہ سٹم ٹربائن یا برقی توانائی کے جنریٹر کو چلاتی ہیں اور برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال کی سخت ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کی عوام بجلی کے بحران میں الجھی ہوئی ہے اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہمیں ایسی توانائی استعمال کرنی ہو گی جوملکی توانائی کی بچت بھی کرے اور عوام کو بلا تعطل توانائی کی فراہمی بھی ممکن ہو شمسی توانائی اس اعتبار سے بہترین ہے۔ پاکستان میں بجلی کے حصول کے متبادل ذرائع کے لئے حکومت پاکستان کے خصوصی بورڈ نے گزشتہ چند برسوں میں ملک بھر میں متعدد دیہاتوں میں سولر پلانٹ نصب کئے ہیں۔ جن میں راولپنڈی، تربت، ڈیرہ غازی خان ، قلات،قلعہ سیف ، چیچر، گجرات کے نام معروف ہیں۔ پاکستان میں سب سے برا مسئلہ جس کی وجہ سے توانائی کے مسائل قابو نہیں ہو پاتے وہ یہ ہے کہ حکومت ایک دفعہ شمسی پینلز تو نصب کر دیتی ہے مگر پھر دوبارہ ان پینلز کی طرف توجہ نہیں دیتی جس سے وہ خراب ہو جاتے ہیں۔ توانائی کی کمی ، قدرتی ذخائر ، پٹرول ، بجلی اور گیس کی شکل میں اس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کے تحت دور دراز دیہاتوں کے لئے سورج کی روشنی اور صنعتوں کے لیے ہوا کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر عمل درآمدشروع کیا گیا۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کے اس منصوبے کا آغاز ملک میں متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کیلئے حکومتی سطح پر ایک ادارہ الٹرنیٹیو انرجی ڈیویلپمنٹ بورڈ (اے ای ڈی ای بی) قائم کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد ملک میں متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔پاکستان گزشتہ کئی سال سے بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے اور آئندہ آنے والے چند برسوں میں اس صورتحال کے مزید بھیانک ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے بجلی پیدا کرنے والے متبادل ذرائع کی جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شمسی توانائی پاکستان میں بڑے پیمانے پر بجلی کے بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں اگر مقامی طور پر سولر پینلز کی تیاری کا کام عمل میں لایا جائے تو یہ نہایت موزوں ثابت ہو سکتا ہے۔ کم قیمت ہونے کے ساتھ ساتھ عوام تک ان کی رسائی بھی قدرے آسان ہو گی۔ اگر سولر سیل بیرون ملک سے درآمد کیا جائے تو ایک عشاریہ بارہ والٹ کے ایک سولر سیل کی قیمت ایک یو ایس ڈالر ہے جبکہ پینل کے لئے زیادہ سولر سیلز کی ضرورت ہوتی ہے۔، اگر ہم پورے ملک کو بجلی کی فراہمی کے لئے سیلز درآمد کرتے ہیں تو یہ لاگت کروڑوںبلکہ اربوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ دوسری جانب خستہ حال معاشی صورتحال کے پیش نظر اتنے بڑے پیمانے پر سولر سیلز درآمد نہیں کئے جا سکتے۔ اس لئے ہمارے پاس مقامی طور پر سولر سیلز کی تیاری کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اس ضمن میں خام مال، ہنرمندوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ سولر سیلز اعلیٰ معیار کے سلیکون سے تیار کئے جاتے ہیں،جسے کوارٹزکہا جاتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقے اس قدرتی نعمت سے مالا مال ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خام مال کو صفائی کے عمل سے گزارنے کے بعد قابل استعمال بنایا جائے اور اس سے سولر سیلز کی تیاری کی جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات میں اس قیمتی دھات سے مقامی افراد گھروں کی تعمیر کرتے ہیں۔فرش پر بطور ماربل جبکہ دیواریں کھڑی کرنے کے لئے اینٹوں کے طور پر اس دھات کے ٹکڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ سولر سیلز کی تیاری میں دوسرا اہم خام مال ریت کے ذرات ہیں۔ جنہیں سلیکا بھی کہا جاتا ہے۔ جس کی ایک بڑی مقدار دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ سولر سیلز کی تیاری میں استعمال ہونے والے دونوں بنیادی عناصر کے ذخائر ہمارے ملک میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ افرادی قوت کی کمی ہے اگر پاکستان شمسی توانائی کے استعمال پر توجہ دے تو ہم دن میں براہ راست شمسی توانائی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح لوڈشیڈنگ بھی ختم ہو جائے گی اور ملکی توانائی پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ ٭…٭…٭