فلسفیانہ تحریکیں! رواقیت(Stoicism)
اسپیشل فیچر
رواقیت کا بانی زینو334) ق م۔262 ق م:(Zeno یونانی النسل نہیں ہے۔ وہ قبرص سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر پیشہ شخص تھا۔ ایک تجارتی سفر میں اس کا جہاز ڈوب گیا اور تقدیر اسے ایتھنز لے آئی۔ یہاں ایک کتب فروش کی دکان پر زینو فن(Xenophon) کی کتاب میں سقراط کے حالات زندگی پڑھ کر اسے فلسفیوں سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا اور اس نے دکاندار سے پوچھا کہ ایسے لوگ کہاں ہوتے ہیں، اتفاق سے اس وقت ایک کلبی ادھر سے گزر رہا تھا دکاندار نے اس کا تعارف زینو سے کروا دیا۔ اس طرح زینو کلبی مکتب فکر میں شامل ہوگیا۔ اگرچہ بعد میں وہ اس سے متنفر ہوگیا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’کلبیت‘‘ نے اس کا پیچھا ساری عمر نہیں چھوڑا۔آگے بڑھنے سے پیشتر بہتر ہوگا کہ کلبیت(Cynicism) پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے، مگر اس سے بھی پہلے ایک کہانی سنیئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک روز سقراط ایک ریہڑے کے قریب سے گزرا، جس پر دنیا جہان کی چیزیں برائے فروخت سجی ہوئی تھیں۔ سقراط کافی دیر کھڑا انہیں دیکھتا رہا اور سوچتا رہا۔ آخرکار اس کی زبان سے نکلا:’’یہاں کتنی چیزیں ایسی ہیں، جن کی مجھے ضرورت نہیں‘‘یہی وہ فقرہ ہے، جس کو سقراط کے ایک ہونہار شاگرد انیٹس تھینس(Antisthenes) نے ماٹو بنا کر ایک نئے مکتب فکر ’’کلبیت‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یونانی زبان میں’’کلب‘‘ کے معنی ’’کتا‘‘ کے ہیں اور اس تحریک کو یہ نام غالباً ’’گلیمرس‘‘ فلسفی دیوجانس(Diogenes, the Cnic) سے ملا۔ جس نے کتے کی مانند بے سرو سامان زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ بلاشبہ اس کی شہرت اس کے استاد انیٹس تھینس پر غالب آگئی۔ وہ ایک بدنام زمانہ مہاجن کا بیٹا تھا، جسے جعلی سکے بنانے کے جرم میں سزا بھی ہوئی تھی۔ شاید اسی وجہ سے ابتدا میں انیٹس تھینس اس کو پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن دانش کے طلب گار دیوجانس نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا اور استاد سے وہ سب کچھ حاصل کرکے رہا، جس کی اسے طلب تھی۔خیر ہم ذکر کر رہے تھے، زینو اور اس کی رواقیت کا۔ کلبیت سے جدا راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دینے کے باوجود رواقیت ہمیشہ اس کے زیرسایہ سفر کرتی رہی۔ سقراط کو رواقین کی تاریخ میں ولی کا درجہ حاصل رہا۔ دراصل سقراط کی جسمانی آرام و آسائش سے بے پروائی، خوراک اور لباس کے معاملے میں سادگی، گرم و سرد موسم سے بے نیازی، مقدمے کے دوران اس کا پروقار رویہ، اس کا جیل سے فرار ہونے سے انکار اور موت کا جرأت اور سکون سے سامنا… یہ تمام باتیں ایسی ہیں، جنہیں رواقین نے خفی قلم سے اپنے پرچم پر درج کر لیا تھا۔رواقی یا Stoic یونانی لفظ Stoa سے مستعار ہے دراصل زینو اپنے پیروکاروں کو ایک برآمدے یا پورچ یاPortico میں اکھٹے کرکے درس دیا کرتا تھا اور Portico یونانی لفظStoa ہی کا ہم معنی ہے۔زینو کی موت خودکشی سے ہوئی اور اس کی جگہ ’’کلین تھس‘‘(Cleanthes) نے لی اور ’’کلین تھس‘‘ کا جانشین ’’کریسی پس‘‘ (Chrysippus) بنا۔ کریسی پس کے بعد’’پانی ٹی اس‘‘(Panaetius) اور ’’پوزی ڈونی اس‘‘(Posidonius) سامنے آئے۔ روسی شہنشاہ سسرو’’پوزی ڈونی اس‘‘ ہی سے متاثر تھا اور رومیوں میں رواقیت کے پھیلائو کا ذمہ دار بھی۔ بہرحال’’کریسی پس‘‘ کو رواقیت کا سب سے اہم نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ رواقین حسی ادراک کو علم کا ذریعہ جانتے ہیں اور صداقت کو موصنوعی قرار دیتے ہیں۔ وہ مادے کو کائنات کی اصل مانتے ہیں۔ حتیٰ کہ روح اور مادہ کی تفریق ہی کے قائل نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ روح مادہ ہی کی ایک صورت ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو تعلق انسانی روح کا انسانی جسم سے ہے، وہی تعلق خدا کا کائنات سے ہے۔ اس طرح رواقیوں نے ایک قسم کے ’’مادی وحدت الوجود‘‘ کی خبر دی۔ مادے کو کائنات کی اصل قرار دینے والے رواقی آتش یا آگ کو مادے کی اصل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آتش کل یعنی خدا سے کائنات کی تکوین ہوئی ہے۔ عالم کو بنانے کے لیے قدرت نے اپنے آتشی بخار کو ہوا میں تبدیل کیا اور پھر پانی میں۔ اس پانی میں وہ بطور قوت صانع موجود ہے۔ جس سے مٹی وجود میں آئی۔ تکوین کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آئیگا، جب ہر شے دہکتی ہوئی عالمگیر آتش میں بدل جائے گی اور اس آتش سے ایک بار پھر عالم نو وجود میں آئے گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس لیے کہ جبری میکانیت کا یہی اصول ہے۔ رواقی اپنے فلسفہ اخلاق میں علم کو نیکی کا درجہ دیتے ہیں مگر وہی علم جو عملی زندگی میں ممدو معاون ثابت ہو۔ ان کے یہاں جذبات و خواہشات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ غم و الم سے نجات کے لیے چاہتے ہیں کہ جذبات و خواہشات کو سرے سے ختم کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’زندگی فطرت کے مطابق بسر کرو‘‘۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ زندگی عقل کے مطابق بسر کرو۔ رواقین کلبیت کے زیراثر ضرور رہے تھے، مگر انہوں نے فرد کی داخلی آزادی کے لیے معاشرتی بندھنوں سے اس قدر انحراف نہیں کیا، اس لیے جب وہ یہ کہتے تھے کہ ’’زندگی فطرت کے مطابق بسر کرو‘‘ تو وہ انسان کی انفرادی فطرت کی بات نہیں کر رہے ہوتے تھے۔ بلکہ اس سے ان کی مراد چاروں طرف پھیلی عمومی اور الوہی فطرت تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ تمام انسان عمومی فطرت کے مطابق زندگی بسر کریں۔ یہ عالمگیر برادری کی تشکیل کا خواب تھا، جس میں رنگ نہیں تھا، نسل نہیں تھی قوم نہیں تھی، ملک نہیں تھا۔ گویا وہ ایک کاسمو پلیٹن شہر (Cosmopolitan City) کا تصور پیش کر رہے تھے۔ رواقین تقدیر پرستی میں ایک قدم آگے نکل گئے۔ وہ کہتے ہیں، ہمیں دنیا میں جو ناانصافیاں نظر آتی ہیں، وہ اس کا عیب نہیں، بلکہ یہ نغمہ ازلی کے زیرو بم ہیں۔ سو، نوشتہ تقدیر سے نالاں ہونا یا اس کا شکوہ کرنا عبث ہے۔ مرد کامل وہی ہے جو دنیا کے آلام و مصائب پر صابر و شاکر ہے۔(ظفر سپل کی کتاب’’ورثہ ٔدانش ِیونان‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭