کمالیہ میں چار سو برس قدیم آثار قدیمہ …!
اسپیشل فیچر
یہ2008ء کی بات ہے جب ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 40 کلو میٹر کی دوری پر واقع قصبے کمالیہ کے چک نمبر 742 گ ب سنگرا والا کے نواحی ٹیلے کی کھدائی کرتے ہوئے لگ بھگ چار سو سال قبل ازمسیح کے دور کی تہذیب کے آثار دریافت ہوئے۔یہ کھدائی پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ آرکیالوجی کے 35 طلبہ و طالبات کی ٹیم نے کی تھی لیکن اس کے بعد کھدائی کا سلسلہ چند وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا اور اب یہ مقام مقامی لوگوں کے قبضے میں ہے۔محکمۂ آرکیالوجی کے مطابق یہ ٹیلہ تقریباً دس ایکٹر اراضی پر مشتمل ہے اور دریائے راوی کے کنارے پر سطح سے 65 میٹر اونچائی پر واقع ہے۔یہ کھدائی اس وقت کے رْکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ کی تحریک پر شروع کی گئی تھی جنہیں علاقے کے کسانوں نے مکانات کی تعمیر کے دوران کھدائی میں ملنے والے برتن دیے تھے۔ریاض فتیانہ کا کہنا تھاکہ انہوں نے یہ برتن ملتان میں آرکیالوجی دفتر کوبجھوانے کے بعد وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا کہ اگر اس جگہ کی فوری طور پر کھدائی شروع نہ کی گئی تو ہزاروں سال پْرانی تہذیب کے آثار غائب ہو جائیں گے۔وہ بتاتے ہیں کہ اْن کے خط کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کو فنڈز جاری کیے گئے اور پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی ٹیم نے کھدائی کر کے قدیم تہذیب کے درجنوں برتن بھی دریافت کیے مگر اْس کے بعد مقامی لوگوں کی مزاحمت پر کھدائی کا کام روکنا پڑا جومتعدد بار کی گئی کوششوں کے باوجود دوبارہ شروع نہیںہو سکا۔ ہڑپہ (ساہیوال) میوزیم کے انچارج محمد حسن، جو کمالیہ میں اس ٹیلے کی کھدائی کی نگرانی بھی کررہے ہیں، نے کہاکہ ٹبہ سنگرا والا اور ہڑپہ کا درمیانی فاصلہ صرف 30 کلو میٹر ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ آثار بھی ہڑپہ کی طرح ہزاروں سال پرانی تہذیب کے ہی ہیں۔اْن کے مطابق ٹیلے کی جگہ پر مقامی بااثر لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے جو نہ صرف کھدائی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں بلکہ رفتہ رفتہ آثار قدیمہ کو بھی غائب کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس جگہ کو قبضہ مافیا سے واگزار کروانے اور کھدائی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے گزشتہ سات سال کے دوران متعدد بار ڈی سی او ٹوبہ کو تحریری طور پر درخواست کر چْکے ہیں مگر انتظامیہ اب تک یہ جگہ خالی کروانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کی گئی کھدائی کے نتیجہ میں مذکورہ جگہ سے مٹی کے بنے ہوئے چراغ، خواتین کے ہاتھوں کے کڑے اور دیگر جیولری کے علاوہ کافی تعداد میں برتن دریافت ہوئے ہیں۔حسن کا کہنا تھا کہ حکومتی قوانین کے مطابق آثار قدیمہ کی کھدائی کی جگہ یا اس کے اردگرد دو سو فٹ تک کو ئی تعمیر یا قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ڈی سی او آفس ٹوبہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہا کہ انتظامیہ کی جانب سے اس جگہ کا سروے کروایا گیا تھا۔سروے میںیہ معلوم ہوا تھا کہ 1988ء کے سیلاب کے دوران 80 خاندانوں نے اس ٹیلے پر پناہ حاصل کرتے ہوئے 160 کنال اور 19 مرلے اراضی پر مکانات، قبرستان، ایک دربار اور مسجد تعمیر کی تھی۔ اب یہاں رہائش پذیر خاندانوں کو متبادل جگہ دینا ایک اہم مسئلہ ہے اور انتظامیہ اس کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ اس علاقے کے ایک رہائشی خان محمد نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کئی دہائیوں سے یہاں آباد ہیں اور چونکہ انہوں نے ریاض فتیانہ کو ووٹ نہیں دیئے تھے اس لیے انھوں نے بطور انتقام اْن کی زمین کو آثار قدیمہ کی جگہ قرار دلوا دیا تاکہ انھیں بے گھر کیا جاسکے۔اْن کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر یہ جگہ چھوڑنے والے نہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ کمالیہ کی زمین میں دبی اس صدیوں پْرانی تہذیب اور آثارِ قدیمہ کو کھود کر منظرِ عام پر لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا اس ثقافتی ورثے کو نظر انداز کر کے ضائع کر دیا جاتا ہے؟(بہ شکریہ سجاگ) ٭…٭…٭