جارج برنارڈ شا
اسپیشل فیچر
جارج برنارڈ شا بیسویں صدی کا ایک اہم ڈرامانویس، آزاد خیال مفکر، عورتوں کے حقوق کا زبردست حامی، تھیٹر کی تاریخ کا اہم ترین نام، موسیقی، ڈرامے اور ادب کا نامور نقاد تھا۔ جارج برنارڈ شا آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں پیدا ہوا۔15 سال کی عمر میں لندن آیا اور پھر لندن کا ہو کر رہ گیا۔جارج برنارڈ شا کا باپ جارج (Carr. Shaw) بہت بڑا شرابی تھا جبکہ اس کی ماں اپنے خاوند سے16 سال چھوٹی تھی۔ اس کی آواز بہت اچھی تھی اور وہ موسیقی میں مہارت رکھتی تھی۔ چنانچہ اس نے لوگوں کو موسیقی سکھانا اور اوپیرا میں گیت گانا شروع کر دئیے۔ ماں نے برنارڈ شا کو بھی موسیقی کی طرف لانے کی کوشش کی۔ برنارڈ شا نے کچھ دلچسپی کا اظہار بھی کیا لیکن وہ لکھنے لکھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ برنارڈ شا کی یہ ’’تھوڑی سی دلچسپی‘‘ اس کی آئندہ زندگی میں بہت کام آئی اور اس کا ذریعۂ روزگار بن گئی۔ڈبلن میں جب برنارڈ شا کے خاندان کو تنگدستی نے گھیرا تو برنارڈ شا کی والدہ اپنے خاوند سے جھگڑ کر اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر لندن چلی گئی اور لندن میں موسیقی سکھانے کا کام شروع کر دیا، برنارڈ شا شرابی باپ کے پاس رہ گیا جس نے مختلف سکولوں میں اسے بھگا بھگا کر تعلیم سے متنفر کر دیا۔ جوں توں کر کے اس نے چھ سکولوں میں پڑھ کر اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر ایک دفتر میں جونیئر کلرک ہو گیا۔ یہ نوکری بھی جب اس کے مزاج کو نہ بھا سکی تو 1876ء میں وہ لندن میں اپنی ماں کے پاس چلا گیا اور 30 سال تک واپس آئر لینڈ نہ گیا، باپ کی موت پر بھی نہیں۔ اس کا باپ جب 1885ء میں فوت ہوا تو اس کے جنازے میں نہ اس کی ماں گئی، نہ بہنیں، نہ برنارڈ شا خود۔اپنے عہد میں سکولوں کی حالت اور ٹیچروں کے کردار سے برنارڈ شا مطمئن نہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ سکول اور سکول ماسٹر دونوں برے ہیں۔ سکول ایسے جیل خانے ہیں جہاں طلباء کو قید کر کے رکھا جاتا ہے۔ سکولوں اور اساتذہ کے سلسلے میں اس کا اور لارڈ بائرن کا تجربہ ملتا جلتا تھا۔ اپنے سارے مشاہدے اور سکولوں میں ’’سزا کاٹنے‘‘ کے تجربات اس نے Treatise on Parents and Children میں کھُل کر تحریر کیے ہیں۔برنارڈ شالندن میں آیا تو خالی جیب تھا۔ اس نے لائبریریوں اور میوزیم میں وقت بتانا شروع کر دیا، ذہن میں ایک لہر اٹھی کہ اسے ناول لکھنا چاہیے۔ بے کاری کے اس زمانے میں اس کی بہن لوسی اپنی موسیقی کی کمائی میں سے ایک پائونڈ ہفتہ وار دیا کرتی تھی۔ اس نے ناول لکھے لیکن ان ناولوں کا بری طرح استقبال کیا گیا اور آخر رزق کمانے کا وسیلہ وہی موسیقی کا فن ٹھہرا جو اس نے چند روز اپنی ماں سے سیکھا تھا۔ اس نے ناول لکھنے سے توبہ کی اور کالم نگاری کی طرف دھیان دیا‘ اسے (Hornet) اخبار میں موسیقی پر کالم لکھنے کا کام مل گیا۔برنارڈ شا 1892ء تک مختلف اخباروں میں تبصرہ نگار، نقاد اور مبصر کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ وہ لندن کے مشہور اخبار(Pall Mall Gazetter) میں موسیقی پر لکھتا تھا۔ (The World) میں وہ ادبی فن پاروں کا تجزیہ کرتا تھا۔(The Star) میں بھی تنقیدی اور تجزیاتی کالم لکھتا تھا۔ یہ کام اس نے سالہا سال تک کیا اور بڑے تیکھے اور بھر پور تبصرے کئے۔ اس کے قلم اور فقرے کی کاٹ بہت تیز تھی۔ لوگ ناراض بھی ہو جاتے تھے مگر وہ پروا نہیں کرتا تھا۔ مثلاً آرٹ گیلری میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی تصویروں کے بارے میں اس کی رائے کچھ اچھی نہ تھی۔برنارڈ شاموٹے سول کے بڑے بڑے اور لمبے بوٹ پہنتا تھا۔ یہ بوٹ عام طور پر پہاڑوں پر چڑھنے والے مہم جو پہنتے تھے۔ ایک بار اس سے کسی نے پوچھا کہ کیا وہ پہاڑوں پر جانے کا شوقین ہے، جو یہ جوتے پہنے ہوئے ہے؟ برنارڈ شا نے جواب دیا:\"No These Boots are for London Art Galleries\"تنقیدی تبصروں، موسیقی کے تجزیوں اور آرٹ گیلریوں کی نمائشوں نے اس کے ذہن کو جب تھکا دیا تو اس نے ڈرا مے لکھنے کی طرف دھیان دیا۔ وہ خود کہتا ہے کہ اس کام نے اسے تقریباً ختم کر دیا تھا۔برنارڈ شانے 25 سال کی عمر میں گوشت کھانا بند کر دیا تھا۔ انگریزی شاعر شیلے، گوشت نہیں کھاتا تھا، وہ سبزی خور تھا، اس نے گوشت کھانے کے خلاف بہت کچھ لکھا۔ برنارڈ شانے اس کی تحریروں سے بہت اثر قبول کیا۔ اس نے گوشت کو ہاتھ تک نہ لگایا،وہ کہا کرتا تھا:\"Animals are our Fellow Creature not to be Slain for Human Food\"(کتاب ’’علم و دانش کے معمار‘‘ سے خطاب)٭…٭…٭