لیلیٰ کے ہٹے کٹے مجنوں

لیلیٰ کے ہٹے کٹے مجنوں

اسپیشل فیچر

تحریر :


عشق لیلی میں صبیحہ اور سنتوش مرکزی کرداروں میں تھے ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ میںانور کمال پاشا نے اسلم پرویز اور بہار کو لیلیٰ مجنوں کے کرداروں میں لیا تھا۔ دیکھا جائے تو دونوں ہیرو مجنوں بننے کے قابل نہ تھے۔ مجنوں تو وہ شخص تھا جو لیلیٰ کے عشق میں سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ لیلیٰ کی انگلیاں اور مجنوں کی پسلیاں بلاوجہ تو مشہور نہ ہوئی تھیں۔ ان دونوں فلموں کے مجنوں ماشااللہ تندرست اور ہٹے کٹے تھے۔ شوٹنگ فوراً شروع ہو گئی۔ اداکاروں اور ہنرمندوں نے نگار خانوں میں شب و روز اپنا ٹھکانا بنا لیا۔ اخباروں میں ہر روز ان دونوں فلموں کی تیاریوں کی خبریں شائع ہوا کرتی تھیں۔ باقی لوگ دلچسپی سے تماشا دیکھ رہے تھے۔پاشا صاحب نے فلم کی پبلسٹی کا یہ طریقہ نکالا کہ اونٹ پر عربی لباس میں لیلیٰ مجنوں جیسے کردار بیٹھے ہوتے تھے۔ آگے پیچھے تانگوں اور ریڑھیوں پر فلم کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوتے تھے اور لائوڈ اسپیکر پر اعلان ہوتا رہتا تھا مگر جب دونوں فلمیں ایک ہی دن ریلیز ہوئی تو منشی دل کا پلہ بھاری ہو گیا۔ ’’عشق لیلیٰ ‘‘ سپر ہٹ ہو گئی۔ اس فلم میں بارہ گانے تھے، جن میں سے بعض گانے تو آٹھ منٹ دورانیہ کے بھی تھے۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک گانا ختم ہوتے ہی دوسرا گانا شروع ہو گیا۔ اس فلم کے لئے صفدر نے بہت اچھا میوزک بنایا تھا۔ قتیل شفائی کے لکھے ہوئے گانے بھی بہت خوب تھے۔ اس پر سنتوش اور صبیحہ کی جوڑی۔ فلم بینوں کی تو عید ہو گئی۔ یہ فلم سپر ہٹ ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں انور کمال پاشا صاحب کی ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ نہ ہی اس کے گانے مقبول ہوئے۔ حالانکہ اس کی موسیقی رشید عطرے نے ترتیب دی تھی جنہیں عشق لیلیٰ کے موسیقار صفدر اپنا استاد مانتے تھے۔یہ دونوں مقابلے جیتنے کے بعد منشی دل کی خود اعتمادی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا، لیکن ہم نے ان کے برتائو میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔ وضع دار اور با مروّت آدمی تھے، جن دنوں مقابلے میں فلمیں بنائی جا رہی تھیں تو ظاہر ہے کہ فلمی دنیا میں خوب گہما گہمی تھی۔ فقرے بازی بھی ہوتی تھی ،پھر انور کمال پاشا تو فقرے چُست کرنے میں ماہر تھے۔ وہ منشی صاحب کے بارے میں جو بھی کہتے تھے وہ ان تک پہنچ جاتا تھا، مگر جواب میں انہوں نے کبھی کوئی تلخ و ترش بات نہ کی۔بات یہاں سے شروع ہو ئی تھی کہ اسلم پرویز کا سب سے پہلے منشی دل نے اپنی فلم ’’سوہنی‘‘ کے لئے اسکرین ٹیسٹ لیا تھا۔ ابھی وہ کوئی فیصلہ کرنے بھی نہ پائے تھے کہ اسلم پرویز کے ستاروں کی گردش میں کچھ تیزی آ گئی اور وہ انور کمال پاشا کی نظروں میں آگئے۔ نظروں میں تو خیر پہلے بھی تھے، لاہور میں کون سی جگہ تھی جہاں اسلم پرویز ٹِپ ٹاپ ہو کر نظر نہیں آتے تھے، مگر جب پاشا صاحب کو معلوم ہوا کہ وہ اداکار بننے کے بھی خواہش مند ہیں ،تو انہوں نے اپنی فلم ’’قاتل‘‘ میں انہیں سائیڈ رول کے لئے منتخب کر لیا۔ ’’قاتل‘‘ انور کمال پاشا کی بہت ہٹ فلم تھی، مگر اس فلم کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں تین ایسے نئے چہرے پیش کئے گئے تھے ،جو آگے چل کر فلمی آفق پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے۔ ان میں سے ایک تو اسلم پرویز ہی تھے جنہیں معاون اداکار کے طور پر کاسٹ کیا گیا تھا۔ دوسرے اکمل تھے۔ اکمل مشہور و معروف اداکار اجمل کے چھوٹے بھائی تھے۔ لمبے تڑنگے، خوش شکل، گورا رنگ، بڑی بڑی آنکھیں، ستواں ناک، قدرے گھنگریالے بال، مگر یہ سب خوبیاں رکھنے کے باوجود بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ فلمی دنیا میں وہ میک اَپ مین کے طور پر داخل ہوئے تھے بلکہ میک اَپ بوائے کہنا زیادہ مناسب ہوگا ،اس لئے کہ وہ ان دنوں نوخیز تھے۔ وہ چُپ چاپ کافی عرصے تک میک اَپ مین چارلی کے معاون رہے،پھر خود بھی میک اَپ مین بن گئے ،دوسروں کے چہروں کو سنوارتے تھے، مگر خود اپنی طرف سے بے پروا تھے۔(فلمی الف لیلہ از علی سفیان آفاقی)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بیس سال پرانے نظریے کی تجرباتی تصدیق

بیس سال پرانے نظریے کی تجرباتی تصدیق

کوانٹم اینٹینگلمنٹ میں نئی پیش رفتکوانٹم فزکس جدید سائنس کی وہ شاخ ہے جس نے مادے اور توانائی کے نہایت باریک ترین ذرات کے رویوں کو سمجھنے میں انقلاب برپا کیا ہے۔ اس میدان میں کئی ایسے مظاہر سامنے آئے ہیں جو عام انسانی تجربے سے بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک حیران کن مظہر کوانٹم اینٹینگلمنٹ ہے جس میں دو یا زیادہ ذرات اس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں کہ ایک ذرہ متاثر ہونے پر دوسرے میں بھی فوری طور پر اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے، خواہ دونوں کے درمیان کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو۔حال ہی میں انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آسٹریا (ISTA) اور جرمنی میں میونخ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسے نظریے کی تجرباتی تصدیق کی ہے جو تقریباً 20 سال قبل پیش کیا گیا تھا۔ اس کامیابی کو کوانٹم کمپیوٹنگ اور مستقبل کے کوانٹم مواصلاتی نظام کی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔کوانٹم اینٹینگلمنٹ کیا ہے؟عام دنیا میں اگر دو اشیاایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو ان کے درمیان براہِ راست تعلق ختم ہو جاتا ہے لیکن کوانٹم دنیا میں ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ بعض حالات میں دو ذرات اس قدر گہرے تعلق میں بندھ جاتے ہیں کہ انہیں الگ الگ سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس کیفیت کو کوانٹم اینٹینگلمنٹ کہا جاتا ہے۔یہ مظہر بیسویں صدی کے شروع سے سائنسدانوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ ابتدا میں اسے صرف ایک نظریاتی تصور سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں متعدد تجربات نے ثابت کیا کہ یہ حقیقتاً موجود ہے۔ اسی وجہ سے اسے جدید طبیعیات کی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔دو دہائیاں قبل سائنسدانوں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ اگر دو کوانٹم بٹس (Qubits) کو ایک خاص قسم کے مشترکہ کوانٹم ماحول یا کوانٹم باتھ سے جوڑ دیا جائے تو وہ بغیر مسلسل بیرونی کنٹرول کے خود بخود اینٹینگلمنٹ کی حالت میں آ سکتے ہیں۔اس وقت یہ خیال دلچسپ ضرور تھا لیکن دستیاب ٹیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ نہیں تھی کہ اس کی عملی جانچ کی جا سکے۔ گزشتہ برسوں میں کوانٹم آلات اور انتہائی حساس تجرباتی تکنیکوں میں نمایاں بہتری آئی جس کے نتیجے میں محققین اس نظریے کو عملی طور پر آزمانے میں کامیاب ہوئے۔تجربات سے معلوم ہوا کہ واقعی مخصوص حالات میں دو دور موجود کیوبٹس ایک مشترکہ کوانٹم ماحول کی مدد سے اینٹینگلمنٹ پیدا کر سکتے ہیں اور اس کے لیے بار بار بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس طرح دو دہائیوں پرانا نظریہ بالآخر تجرباتی طور پر درست ثابت ہو گیا۔اس کامیابی کی اہمیتیہ کامیابی صرف ایک نظریے کی تصدیق نہیں بلکہ کوانٹم ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے بھی بہت اہم ہے۔موجودہ کوانٹم کمپیوٹرز میں اینٹینگلمنٹ پیدا کرنے کے لیے پیچیدہ کنٹرول سسٹمز، نہایت درست ٹائم مینجمنٹ اور مسلسل نگرانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نئی تکنیک اس عمل کو نسبتاً آسان اور زیادہ خودکار بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اگر آئندہ برسوں میں اس طریقے کو مزید بہتر بنایا گیا تو ہزاروں یا لاکھوں کیوبٹس پر مشتمل کوانٹم کمپیوٹرز کی تعمیر نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مستقبل کے کوانٹم انٹرنیٹ میں دور دراز مقامات پر موجود کوانٹم آلات کو محفوظ اور مؤثر انداز میں ایک دوسرے سے جوڑنے میں بھی یہ طریقہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔مستقبل کے امکانات اور چیلنجزاگرچہ یہ تجربہ بہت اہم پیش رفت ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق ابھی کافی کام باقی ہے۔ موجودہ تجربات میں دستیاب اینٹینگلمنٹ کا صرف ایک محدود حصہ ہی مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عملی استعمال کے لیے اس ٹیکنالوجی کو مزید مؤثر، مستحکم اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔اس کے باوجود ماہرین پرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں اس میدان میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی۔ بہتر کوانٹم کمپیوٹرز، انتہائی محفوظ مواصلاتی نظام، جدید طبی تحقیق، حساس سینسرز اور پیچیدہ سائنسی مسائل کے حل میں کوانٹم ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔بیس سال پرانے نظریے کی تجرباتی تصدیق اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی نظریات کبھی کبھی اپنی تصدیق کے لیے کئی دہائیاں انتظار کرتے ہیں۔ کوانٹم اینٹینگلمنٹ کے اس نئے تجربے نے نہ صرف ایک اہم نظریاتی پیشگوئی کو درست ثابت کیا ہے بلکہ کوانٹم کمپیوٹنگ اور کوانٹم مواصلات کے مستقبل کے لیے بھی نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔اگرچہ ابھی اس تحقیق کو عملی ٹیکنالوجی میں تبدیل ہونے میں وقت لگے گا، لیکن یہ کامیابی واضح کرتی ہے کہ سائنس مسلسل ترقی کر رہی ہے اور وہ تصورات جو کبھی صرف نظریاتی بحث کا حصہ تھے، آج تجربہ گاہوں میں حقیقت بن رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں ایسی مزید تحقیقات انسان کو کمپیوٹنگ، مواصلات اور سائنسی تحقیق کے بالکل نئے دور میں داخل کر سکتی ہیں۔

انٹر نیشنل ٹریفک لائٹ ڈے

انٹر نیشنل ٹریفک لائٹ ڈے

محفوظ سفر، مہذب معاشرہہر سال 5 اگست کو دنیا بھر میں' ٹریفک لائٹ ڈے‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ٹریفک سگنلز کی اہمیت کو اجاگر کرنا، سڑکوں پر نظم و ضبط کو فروغ دینا اور عوام میں ٹریفک قوانین سے متعلق شعور پیدا کرنا ہے۔ بظاہر سرخ، زرد اور سبز روشنی پر مشتمل یہ نظام بہت سادہ دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں یہی روشنیاں روزانہ لاکھوں افراد کی جان و مال کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، ٹریفک لائٹس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ٹریفک لائٹ کی تاریخٹریفک لائٹ کی تاریخ تقریباً ڈیڑھ صدی پرانی ہے۔ دنیا کی پہلی ٹریفک لائٹ 10 دسمبر 1868ء کولندن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب نصب کی گئی تھی۔ اسے برطانوی انجینئر J. P. Knight نے ڈیزائن کیا تھا، جنہوں نے ریلوے سگنلنگ کے نظام سے متاثر ہو کر سڑکوں کے لیے یہ تصور پیش کیا۔ اس ابتدائی نظام میں گیس سے جلنے والی سرخ اور سبز روشنیاں استعمال ہوتی تھیں مگر ایک حادثے کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔بعد ازاں، گاڑیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ محفوظ اور خودکار نظام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 5 اگست 1914ء کو امریکہ کے شہر کلیولینڈ میں پہلی الیکٹرک ٹریفک لائٹ نصب کی گئی، جسے جدید ٹریفک سگنلز کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اسی تاریخی واقعے کی یاد میں ہر سال 5 اگست کو بین الاقوامی ٹریفک لائٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ بعد میں زرد روشنی کا اضافہ کیا گیا تاکہ ڈرائیوروں کو رکنے یا چلنے سے پہلے احتیاط کا موقع مل سکے۔ٹریفک لائٹ کی اہمیت اور پاکستانٹریفک لائٹ کا بنیادی مقصد سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنا اور حادثات کی روک تھام کرنا ہے۔ سرخ روشنی رکنے، سبز روشنی چلنے اور زرد روشنی احتیاط کی علامت ہے۔ اگر تمام ڈرائیور ان اشاروں کی پابندی کریں تو نہ صرف ٹریفک روانی سے چلتی ہے بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں ٹریفک کے مسائل صرف گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے نہیں بلکہ قوانین پر عمل درآمد کی کمی کی وجہ سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ سرخ بتی کا اشارہ توڑنا، غلط سمت سے گاڑی چلانا، لین کی پابندی نہ کرنا اور تیز رفتاری جیسے عوامل ہر سال ہزاروں حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ ملک عزیز کے تقریباً ہر بڑے شہر میں جدید ٹریفک سگنلزنصب ہیں لیکن ان کی کامیابی کا انحصار شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے پر ہے۔محفوظ ٹریفک کلچر کے لیے ہماری ذمہ داریاںمحفوظ ٹریفک صرف حکومت یا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کم عمری سے ہی ٹریفک قوانین سے آگاہ کریں۔ تعلیمی اداروں میں ٹریفک آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں جبکہ میڈیا بھی اس حوالے سے مزیدکردار ادا کرے۔ڈرائیوروں کو موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، رفتار مقررہ حد میں رکھنی چاہیے، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنانا چاہیے اور ایمبولینس یا دیگر ہنگامی گاڑیوں کو فوری راستہ دینا چاہیے۔ معمولی سی احتیاط ایک بڑی جان بچا سکتی ہے۔ایک محفوظ مستقبل کی طرف قدمبین الاقوامی ٹریفک لائٹ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سڑک پر نظم و ضبط صرف قانون نہیں بلکہ تہذیب، ذمہ داری اور انسانی جان کے احترام کی علامت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ وہاں شہری ٹریفک قوانین پر ہر صورت سختی سے عمل کرتے ہیں۔ ہمارا ملک بھی اسی وقت محفوظ اور مہذب ٹریفک کلچر کی طرف بڑھ سکتا ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سرخ بتی پر رکنے کو وقت کا ضیاع نہیں بلکہ جان بچانے کا ذریعہ سمجھیں، زرد بتی پر احتیاط کریں اور سبز بتی پر بھی ذمہ داری سے آگے بڑھیں۔ یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں بڑے مثبت نتائج پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں سرخ بتی پر رکنے کو وقت کا ضیاع نہیں بلکہ زندگی کا تحفظ سمجھنا چاہیے، زرد بتی پر احتیاط کرنی چاہیے اور سبز بتی پر بھی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر ہر پاکستانی ٹریفک قوانین پر دل سے عمل کرے تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور ہمارا ملک ایک محفوظ، منظم اور مہذب ٹریفک کلچر کی جانب تیزی سے گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی بین الاقوامی ٹریفک لائٹ ڈے کا اصل پیغام ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میرینر 7 کی پرواز5 اگست 1969ء کو ناسا کے خلائی تحقیق کے مشن Mariner 7 نے مریخ کے انتہائی قریب سے کامیاب پرواز کی۔ یہ مشن مریخ کی سطح، فضا اور ماحول کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ خلائی جہاز نے ہزاروں تصاویر زمین پر بھیجیں جن سے معلوم ہوا کہ مریخ کی سطح پر بڑے بڑے گڑھے، برف سے ڈھکے قطبی علاقے اور آتش فشانی ساختیں موجود ہیں۔ Mariner 7 کی کامیابی نے بعد کے خلائی منصوبوں مثلاً وائکنگ،پاتھ فائنڈر،سپرٹ، اپرچونیٹی،کریوسٹی اورپریزروینس جیسے مشنز کی راہ ہموار کی۔ اٹلانٹک ٹیلی گراف کیبل5 اگست 1858 کوبحر اوقیانوس کے نیچے بچھائی گئی پہلی کامیاب اٹلانٹک ٹیلی گراف کیبل مکمل طور پر جوڑ دی گئی۔ اس عظیم منصوبے کا مقصد یورپ اور شمالی امریکہ کے درمیان فوری مواصلاتی رابطہ قائم کرنا تھا۔ اس سے پہلے دونوں براعظموں کے درمیان خبریں بحری جہازوں کے ذریعے پہنچتی تھیں جن میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے۔ کیبل مکمل ہونے کے بعد پیغامات چند منٹوں یا گھنٹوں میں منتقل ہونے لگے، جو اس زمانے میں ایک غیر معمولی سائنسی کامیابی تھی۔ اگرچہ ابتدائی کیبل چند ہفتوں بعد خراب ہوگئی لیکن اس منصوبے نے ثابت کر دیا کہ سمندر کے نیچے طویل فاصلے کی مواصلاتی لائن بچھانا ممکن ہے۔ آج کی فائبر آپٹک انٹرنیٹ کیبلز اسی تصور کی جدید شکل ہیں۔امریکہ میں انکم ٹیکس کا نفاذ5 اگست 1861ء کو صدر ابراہام لنکن نے امریکہ میں پہلا وفاقی انکم ٹیکس نافذ کیا۔ خانہ جنگی سے نمٹنے کے لیے نقد رقم کے حصول کے لیے لنکن اور کانگریس نے 800 ڈالرسے زائد سالانہ آمدنی پر تین فیصد ٹیکس عائد کرنے پر اتفاق کیا۔سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ولیم پٹ فیسنڈن کی قیادت میں کانگریس نے ریونیو ایکٹ کا مسودہ تیار کیا جس پر کافی بحث بھی ہوئی مگرآخر کار کانگریس نے اسے منظور کر لیا اور صدر لنکن نے اس پر دستخط کر دیے۔1861ء کے ریونیو ایکٹ میں چینی، چائے، گندھک، کافی، اور مختلف پھلوں اور جڑی بوٹیوں سمیت درآمدات پر مختلف محصولات لگائے۔ برکینا فاسو میں فوجی بغاوت5 اگست 1983ء کو مغربی افریقہ کے ملک اپر وولٹا (جسے آج برکینا فاسو کہا جاتا ہے) میں ایک فوجی انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں تھامس سنکارا ملک کے صدر بن گئے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خاتمے، زرعی اصلاحات، خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور خود انحصاری کے لیے وسیع اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کیے، عوامی خدمت کو فروغ دیا اور بیرونی امداد پر انحصار گھٹانے کی کوشش کی۔ ان کی اصلاحات نے انہیں افریقہ کے مقبول ترین انقلابی رہنماؤں میں شامل کر دیا۔ 5 اگست 1983ء کا انقلاب افریقی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی افریقہ پر پابندیاں5 اگست 1986ء کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے جنوبی افریقہ کی نسل پرستانہ حکومت کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ اقدام نیلسن منڈیلا اور نسل پرستی کے خلاف عالمی تحریک کی حمایت میں ایک اہم مرحلہ تھا۔ اگرچہ اس وقت منڈیلا جیل میں تھے لیکن دنیا بھر میں ان کی رہائی اور اپارتھائیڈ کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔ امریکی کانگریس کے اس فیصلے نے جنوبی افریقہ پر بین الاقوامی دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا۔ ان اقدامات نے جنوبی افریقہ کی حکومت کو معاشی اور سفارتی طور پر مزید تنہا کر دیا اور اس عالمی دباؤ کے نتیجے میں بالآخر 1990ء میں نیلسن منڈیلا کو رہا کیا گیا اور چند برس بعد اپارتھائیڈ کا خاتمہ ہوا۔

چیٹ بوٹس سے تعلیمی معاونت کیا کریں ،کیا نہ کریں

چیٹ بوٹس سے تعلیمی معاونت کیا کریں ،کیا نہ کریں

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ ChatGPT، Claude، Copilot اور دیگر AI چیٹ بوٹس نے معلومات حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور تعلیمی مسائل حل کرنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ آج کے طلبہ ان ٹولز کو نہ صرف معلومات کے حصول بلکہ مشکل مضامین سمجھنے، ریاضی کے سوالات حل کرنے اور نئے آئیڈیاز کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی نے جہاں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں وہیں تنقیدی سوچ اور طلبہ کے ذہنی ارتقا سے متعلق کئی سوالات بھی جنم دیے ہیں۔پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کیا بتاتی ہے؟امریکہ کے معروف تحقیقی اداریپیو ریسرچ سنٹر نے 2025ء کے دوران 13 سے 17 سال کی عمر کے 1458 امریکی نوجوانوں پر ایک سروے کیا جس کے مطابق 54 فیصد سے زائد امریکی نوجوان تعلیمی کام میں AI چیٹ بوٹس سے مدد لیتے ہیں جبکہ 57 فیصد انہیں معلومات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک ایسا طالب علم موجود ہے جو اپنے زیادہ تر یا تمام تعلیمی کام میں AI کی مدد لیتا ہے۔ اس کے برعکس بڑی تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہے جو AI کو صرف رہنمائی، وضاحت یا مشکل موضوعات سمجھنے کے لیے استعمال کرتی ہے نہ کہ مکمل اسائنمنٹ تیار کرنے کے لیے۔تعلیم میں AI کے فوائدتحقیق کے مطابق نوجوان AI کو سب سے زیادہ ریاضی، سائنس اور تحقیقی مضامین میں استعمال کرتے ہیں۔ AI طلبہ کو مرحلہ وار طریقے سے سوال حل کرنا سکھاتا ہے، مشکل تصورات آسان زبان میں بیان کرتا ہے اور مختلف انداز سے وضاحت کرتا ہے اس وجہ سے بہت سے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں صرف جواب ہی نہیں ملتا بلکہ مسئلہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔تحقیق میں شامل ایک ہائی سکول کے طالب علم نے بتایا کہ وہ اور اس کے دوست AI سے ریاضی اور کیمسٹری کے مشکل سوالات سمجھتے ہیں۔ اس کے مطابق AI انہیں مسائل حل کرنے کے نئے طریقے سکھاتا ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ AI کو پورا کام کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ صرف رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔اسی طرح تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ AI طلبہ کو نئے موضوعات پر تحقیق کرنے، خیالات پیدا کرنے، معلومات کا خلاصہ بنانے اور مختلف ذرائع سے مواد اکٹھا کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے، اگر اسے ذمہ داری سے استعمال کیا جائے۔چیلنجز اور خدشاتاگرچہ AI کے فوائد واضح ہیں لیکن تحقیق نے کئی اہم خدشات بھی اجاگر کیے ہیں۔ تقریباً 59 فیصد نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کے سکولوں میں طلبہ AI کے ذریعے نقل یا غیر دیانت دارانہ طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے AI کے استعمال سے متعلق واضح اصول و ضوابط بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔تحقیق میں شامل ایک طالبہ نے بتایا کہ اس نے اپنی کلاس میں ایک طالب علم کو اپنی ذاتی رائے دینے کے بجائے AI سے یہ پوچھتے دیکھا کہ کسی اشتہار کے بارے میں اس کی رائے کیا ہونی چاہیے۔ اس کے مطابق اس طرح طلبہ اپنی تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو استعمال کرنے کے بجائے AI پر مکمل انحصار کرنے لگتے ہیں جو تعلیمی مقاصد کے خلاف ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ ہر سوال کا جواب AI سے حاصل کریں گے تو ان کی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، آزادانہ سوچ اور تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے AI کو استاد یا ذاتی محنت کا متبادل نہیں۔مستقبل کی تعلیم اور AIتحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد AI کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت نئی ایجادات، تحقیق اور سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر بنائے گی۔ تاہم کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تعلیمی ادارے، اساتذہ، والدین اور طلبہ AI کے استعمال کے لیے مناسب رہنمائی اور اخلاقی اصول اختیار کریں۔سکولوں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو AI کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دیں، ایسے امتحانی نظام متعارف کرائیں جو صرف یادداشت کے بجائے تجزیاتی اور تنقیدی صلاحیتوں کو جانچیں اور طلبہ کو یہ سکھائیں کہ AI سے حاصل ہونے والی معلومات کی تصدیق کیسے کی جائے۔مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس تعلیم کے شعبے میں ایک اہم انقلاب ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ طلبہ کے لیے ایک مؤثر معاون استاد، تحقیقاتی ساتھی اور سیکھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ ان کا استعمال ذمہ داری اور اعتدال کے ساتھ کیا جائے۔ پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق واضح کرتی ہے کہ نوجوان AI کو تیزی سے اپنا رہے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے ایسی پالیسیاں وضع کریں جو AI کے فوائد سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کی تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور علمی دیانت کو محفوظ رکھ سکیں۔ مستقبل کی کامیاب تعلیم وہی ہوگی جس میں انسانی ذہانت اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے کی تکمیل کریں، نہ کہ ایک دوسرے کا متبادل بن جائیں۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت مؤثر معاون کے طورپر کردار ادا کر سکے گی۔

کیا ہفتے میں ایک دن ورزش کافی ہے؟

کیا ہفتے میں ایک دن ورزش کافی ہے؟

نئی تحقیق کیا بتاتی ہےصحت مند زندگی کے لیے باقاعدہ ورزش کو ہمیشہ بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے اور عام طور پر ماہرین ہفتے میں کئی دن جسمانی ورزش کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ دل، پھیپھڑوں، عضلات اور جسمانی وزن متوازن رہے۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس ہفتے میں صرف ایک دن ورزش کے لیے وقت ہو تو کیا وہ بھی صحت کے وہی فوائد حاصل کر سکتا ہے جو ہفتے میں تین یا اس سے زیادہ دن ورزش کرنے والے افراد کو حاصل ہوتے ہیں؟ ایک نئی تحقیق نے اس سوال کا ایسا جواب پیش کیا ہے جو لاکھوں مصروف افراد کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتا ہے۔یہ تحقیق ہانگ کانگ یونیورسٹی میں انجام دی گئی اور اس میں چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، ہانگ کانگ بیپٹسٹ یونیورسٹی اور کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کے سائنسدان شریک تھے۔ تحقیق میں موٹاپے کا شکار 315 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ ان کی عمر، جسمانی حالت اور صحت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں 16 ہفتوں تک مختلف ورزشی پروگراموں پر عمل کرایا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ورزش کی تعداد زیادہ اہم ہے یا مجموعی دورانیہ۔شرکاکو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے گروپ نے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ 75 منٹ کی تیز رفتار وقفہ وار چہل قدمی (Brisk Interval Walking) کی۔ اس ورزش میں تیز رفتار چلنے اور نسبتاً آہستہ چلنے کے وقفے شامل تھے تاکہ دل اور پھیپھڑوں پر مناسب دباؤ پڑے۔دوسرے گروپ نے یہی 75 منٹ کی ورزش ہفتے میں تین مختلف دنوں میں کی جبکہ تیسرے گروپ نے اس مخصوص ورزشی پروگرام میں حصہ نہیں لیا اور اسے کنٹرول گروپ کے طور پر رکھا گیا۔16 ہفتوں کے بعد تمام شرکاکے جسمانی وزن، جسم میں چربی، کمر کے گھیر، بلڈ پریشر اور دل کی صحت کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے نتائج نہایت دلچسپ تھے۔ جن افراد نے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ 75 منٹ کی ورزش کی تھی ان میں جسمانی چربی میں کمی، کمر کے گھیر میں کمی اور دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں تقریباً وہی بہتری دیکھی گئی جو ہفتے میں تین دن ورزش کرنے والوں میں ریکارڈ کی گئی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ورزش کی تعداد بالکل غیر اہم ہے بلکہ یہ کہ اگر ورزش کا کل دورانیہ اور شدت ایک جیسی ہو تو بعض حالات میں ایک طویل سیشن بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔یہ نتائج خاص طور پر اُن افراد کے لیے اہم ہیں جو ملازمت، کاروبار یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے ہفتے میں کئی دن ورزش نہیں کر سکتے۔ اب ان کے پاس یہ سائنسی ثبوت موجود ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ ہفتے میں ایک دن بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔کیا ایک دن ورزش کافی ہے؟اگرچہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن انہیں غلط انداز میں نہیں سمجھنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف پیٹ کے موٹاپے میں مبتلا بالغ افراد پر کی گئی تھی ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کے لیے ہفتے میں صرف ایک دن ورزش کرنا ہی بہترین طریقہ ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے بے شمار ایسے فوائد ہیں جو صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں۔ روزانہ یا ہفتے میں کئی دن ورزش کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، نیند بہتر ہوتی ہے، خون میں شوگر کا توازن برقرار رہتا ہے، پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور جسم کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی طرح طویل دورانیے کی ورزش ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ دل کے مریض، ہائی بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد یا دیگر طبی مسائل میں مبتلا افراد کو کسی بھی نئے ورزشی پروگرام سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔آج کی تیز رفتار زندگی میں بہت سے لوگ صرف اس لیے ورزش نہیں کرتے کہ انہیں روزانہ وقت نہیں ملتا۔ یہ تحقیق ایسے افراد کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ اگر وہ ہفتے میں صرف ایک دن بھی مناسب وقت نکال کر مؤثر انداز میں ورزش کریں تو وہ اپنی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔البتہ اس کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نینداور روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بھی صحت مند طرزِ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ صرف ایک دن ورزش کرنے سے باقی تمام غیر صحت مند عادات کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ہانگ کانگ یونیورسٹی اور اس کے بین الاقوامی شراکت دار اداروں کی یہ تحقیق اس تصور کو ایک نئی جہت دیتی ہے کہ ورزش کا فائدہ صرف اس کی تعداد پر منحصر نہیں بلکہ اس کے مجموعی دورانیے اور معیار پر بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ باقاعدگی سے ورزش کرنا اب بھی بہترین حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے لیکن یہ تحقیق ان لوگوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو وقت کی کمی کے باعث ہفتے میں صرف ایک دن ہی ورزش کر سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا مشورہ یہی ہے کہ ہر شخص اپنی عمر اور طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ورزش کا ایسا معمول بنائے جسے وہ مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھ سکے کیونکہ صحت مند زندگی کا راز وقتی جوش میں نہیں بلکہ مسلسل عمل میں ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

برطانیہ کا اعلانِ جنگ 4 اگست 1914ء کو برطانیہ نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جس کے بعد پہلی جنگِ عظیم ایک حقیقی عالمی جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس سے چند روز قبل آسٹریا۔ہنگری اور سربیا کے درمیان تنازع شروع ہوا تھا لیکن جرمنی کی جانب سے غیر جانبدار ملک بلجیم پر حملے نے برطانیہ کو مداخلت پر مجبور کر دیا۔ جب جرمنی نے برطانوی الٹی میٹم مسترد کر دیا تو 4 اگست کی رات برطانیہ باضابطہ طور پر جنگ میں شامل ہوگیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی برطانوی سلطنت کے زیرِ انتظام ممالک بھی جنگ کا حصہ بن گئے جن میں برصغیر ہند بھی شامل تھا۔ لاکھوں ہندوستانی فوجیوں نے یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مختلف محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ این فرینک کی گرفتاری4 اگست 1944ء کو نازی جرمنی کی پولیس نے ایمسٹرڈیم میں این فرینک، اس کے خاندان اور ان کے ساتھ چھپے ہوئے دیگر افراد کو گرفتار کر لیا۔ این فرینک تقریباً دو سال تک ایک خفیہ مقام پر اپنے خاندان کے ساتھ چھپی رہی تھی۔ اسی دوران اس نے اپنی روزمرہ زندگی، خوف، امیدوں اور جنگ کے حالات پر مشتمل ایک ڈائری لکھی جو بعد میں دنیا کی مشہور ترین کتابوں میں شامل ہوئی۔ گرفتاری کے بعد انہیں مختلف حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا۔ این فرینک1945 کے اوائل میں برگن بیلسن کیمپ میں بیماری کے باعث وفات پا گئی لیکن اس کے والد اوٹو فرینک زندہ بچ گئے۔ جنگ کے بعد اوٹو فرینک نے این کی ڈائری شائع کروائی جو اَب درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اپر وولٹا کا نام تبدیل 4 اگست 1984ء کو مغربی افریقہ کے ملک اپر وولٹا کا نام تبدیل کرکے برکینا فاسو رکھا گیا۔ یہ فیصلہ صدر تھامس سانکارا نے اپنی حکومت کے پہلے سال کی تکمیل پر کیا۔ برکینا فاسو کا مطلب دیانت دار لوگوں کی سرزمین یا باعزت انسانوں کا وطن ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد نوآبادیاتی دور کی شناخت سے نکل کر ایک نئی قومی شناخت قائم کرنا تھا۔ سانکارا نے صرف نام ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ زرعی اصلاحات، خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور خود انحصاری کے لیے بھی بڑے اقدامات کیے۔ اگرچہ ان کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی لیکن آج بھی انہیں افریقہ کے اہم انقلابی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بیروت بندرگاہ دھماکہ 4 اگست 2020ء کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر ایک ہولناک دھماکہ ہوا جسے جدید تاریخ کے سب سے بڑے غیر ایٹمی دھماکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق بندرگاہ کے گودام میں کئی برسوں سے تقریباً 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ غیر محفوظ حالت میں رکھا گیا تھا۔ آگ لگنے سے یہ کیمیکل پھٹ گیا جس سے پورا شہر لرز اٹھا۔ اس سانحے میں 200 سے زائد افراد جاں بحق، سات ہزار سے زیادہ زخمی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ بندرگاہ، ہسپتالوں، رہائشی علاقوں اور کاروباری مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اربوں ڈالر کا معاشی خسارہ ہوا۔ جیسی اوونز کا تمغہ 4 اگست 1936ء کو امریکی ایتھلیٹ جیسی اونزنے برلن اولمپکس میں 100 میٹر دوڑ کا طلائی تمغہ جیتا۔ یہ اولمپکس نازی جرمنی کے حکمران ایڈولف ہٹلر کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئے تھے جہاں آریائی نسل کی برتری کا بھرپور اظہار کیا گیا۔ اوونز، جو ایک افریقی نژاد امریکی کھلاڑی تھے، نے نہ صرف 100 میٹر بلکہ مجموعی طور پر چار طلائی تمغے جیت کر اس نسل پرستانہ نظریے کو دنیا کے سامنے غلط ثابت کیا۔ ان کی غیر معمولی کارکردگی کھیلوں کی تاریخ کی عظیم ترین کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ امریکہ واپس آنے پر بھی انہیں نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وقت کے ساتھ وہ مساوات، عزم اور انسانی وقار کی علامت بن گئے۔