چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی طاہرہ نقوی نے صرف26 برس کی عمر پائی لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا

چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی طاہرہ نقوی نے صرف26 برس کی عمر پائی لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


پاکستان میں طویل دورانیے کے ٹی وی ڈراموں کا آغاز غالباً 1981ء میں ہوا تھا۔ محمد نثار حسین (MNH) ٹی وی ڈراموں کی تاریخ کا بہت بڑا نام ہے۔ انہوں نے بے شمار طویل دورانیے کے ڈراموں کی ہدایات کے فرائض سرانجام دیئے۔ بلاشبہ محمد نثار حسین کا نام اس حوالے سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔1981ء میں طویل دورانیے کے متعدد یادگار ڈرامے پیش کیے گئے۔ ان میں سے ایک ڈرامہ ’’زندگی بندگی‘‘ تھا۔ جو ہرلحاظ سے ایک شاندار ڈرامہ تھا۔ اس ڈرامے میں ہمارے ٹی وی فنکاروں کا فن بھی اوج کمال کو پہنچ گیا تھا۔ خاص طور پر عابد علی اور نوجوان فنکارہ طاہرہ نقوی نے ایسی شاندار اداکاری کی جسے اب تک بھلایا نہیں جا سکا۔ طاہرہ نقوی کا تکیہ کلام ’’چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی‘‘ آج بھی لوگوں کے حافظے سے محو نہیں ہوسکا۔ طاہرہ نقوی وہ فنکارہ تھیں جنہوںنے صرف 26 برس کی عمر پائی لیکن اپنے فن کے انمٹ نقوش چھوڑ گئیں۔ وہ حسین و جمیل بھی تھیں اور قدرت نے انہیںدلکش آواز سے بھی نوازا تھا۔20 اگست1956ء کو ڈسکہ میں پیدا ہونے والی طاہرہ نقوی نے اپنے فن کا آغاز ریڈیو سے کیا اور سب سے پہلے اپنے آپ کو ریڈیو آرٹسٹ کی حیثیت سے منوایا۔ اس کے بعد وہ ٹی وی ڈراموں کی طرف آئیں۔ انہیں امجد اسلام امجد کی ڈرامہ سیریل ’’وارث‘‘ سے بہت شہرت ملی۔ ویسے تو اس ڈرامہ سیریل کے سبھی فنکاروں کو بہت پذیرائی ملی جن میں عابد علی، شجاعت ہاشمی، ایوب خان، اورنگزیب لغاری، فردوس جمال، طلعت صدیقی، غیور اختر، منور سعید، نگہت بٹ اور خاص طور پر محبوب عالم شامل تھے۔ ان سب کے علاوہ عظمیٰ گیلانی، آغا سکندر،سجاد کشور اور طاہرہ نقوی نے بھی اپنے کردار بڑی مہارت سے نبھائے۔ اس حقیقت سے انکار بہت مشکل ہے کہ ’’وارث‘‘ کے سبھی فنکاروں نے کمال کی اداکاری کی اور ثابت کیا کہ ٹی وی ڈراموں کا کوئی ثانی نہیں۔ طاہرہ نقوی نے عظمیٰ گیلانی کے ساتھ مل کر فطری اداکاری کی انتہائی عمدہ مثال قائم کی۔ اس کے علاوہ ان کے مشہور ڈراموں میں ’’دوریاں، محفوظ ماموں، منزل، خانہ بدوش، دہلیز، گھر آیا مہمان اور ایک حقیقت ایک افسانہ‘‘ کے کچھ ڈرامے شامل ہیں۔ طاہرہ نقوی کے بارے میں اہل فن کی متفقہ رائے یہ ہے کہ وہ اداکاری کے حقیقت پسندانہ اسلوب (Realistic school of thought) سے وابستہ تھیں۔ جذباتی اداکاری کرنے میں ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ وہ دور تھا جب روحی بانو، خالد ریاست ، عظمیٰ گیلانی، ثروت عتیق، بندیا، فائزہ حسن، نیلوفر علیم اور مدیحہ گوہر کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا۔ ان جیسی اداکارائوں کے ہوتے ہوئے اپنی ایک الگ شناخت بنانا بڑا مشکل کام تھا۔ یہ طاہرہ نقوی کی خداداد صلاحیتوں کا اعجاز تھا کہ انہوں نے کم عمری میں ہی اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت وہ کر دکھایا جو ہر کسی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ بلاشبہ حسن و نفاست کا مجموعہ تھیں اور انہوں نے ٹی وی کی اکثراداکارائوں کو متاثر کیا۔طاہرہ نقوی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے مکالمے بولنے کا انداز بھی نہایت متاثر کن تھا۔ وہ کبھی اوورایکٹنگ کا شکار نہیں ہوئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے دور میں بھی جو ٹی وی ڈرامہ آرٹسٹ کام کر رہے تھے وہ فنی لحاظ سے بلند قامت تھے۔ اسے طاہرہ نقوی کی خوش بختی کہا جاسکتا ہے کہ جنہیں ایسے بلند پایہ آرٹسٹوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اگر کسی بھی اعلیٰ درجے کے فنکار کو معمولی کردار بھی دیا جائے تو وہ اس میں بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے سب کو حیران کردیتا ہے۔ بھارتی فلمی صنعت میں جب آرٹ فلموں کی ابتدا ہوئی تو کئی اداکاروں نے ان آرٹ فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرنا شروع کر دیئے جو ان کے شایان شان نہیں تھے لیکن ان فنکاروں نے اپنی قابلیت اور تخلیقی جوہر سے یہ ثابت کیا کہ کردار چھوٹا ہو یا بڑا، اداکاری کا معیار ارفع ہونا ضروری ہے۔2007 ء میں بھارت کے مشہور ہدایت کار گوندنہلانی پاکستان آئے تھے۔ غالباً کوئی فلم فیسٹیول تھا۔ عثمان پیرزادہ کے گھرفلمی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے جب اپنی فلم ’’اردھ ستیہ‘‘ کا ذکر کیا تو ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے اپنی اس معرکۃ آلارا فلم میں اوم پوری اور سمیتا پاٹیل کو اہم کردار دیئے لیکن نصیرالدین شاہ کو چھوٹا سا کردار دیا گیا۔ آخر کیوں؟ اس پر انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ آپ نے یہ غور نہیں کیا کہ اس چھوٹے سے کردار میں بھی نصیرالدین شاہ نے غضب کی اداکاری کی اور وہ اپنی چھاپ چھوڑ گئے۔ بات اداکاری کے اعلیٰ معیار کی ہے، کردار کی نہیں۔ گوند نہلانی نے سو فیصد درست کہا تھا۔ مرحومہ طاہرہ نقوی نے بھی کئی ٹی وی ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کیے لیکن ان کے فن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔معروف افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس یونس جاوید کی رائے میں روحی بانو کے بعد طاہرہ نقوی وہ فنکارہ تھیں جو اپنے کردار میں ڈوب جاتی تھیںاور ایسا لگتا تھا کہ طاہرہ نقوی اسی کردار کیلئے پیدا ہوئی تھیں۔ یونس جاوید کا کہنا ہے کہ بلاشبہ روحی بانو ٹی وی ڈراموں کی بلند پایہ اداکارہ تھیں لیکن اس حقیقت کو مدنظر رکھنا پڑے گا کہ انہیںبہت کم وقت ملا۔ اگر زندگی نے طاہرہ نقوی سے وفا کی ہوتی اور انہیںدس برس اور مل گئے ہوتے تو وہ فن کے آسمان کا سب سے روشن ستارہ ہوتیں۔ کوئی دوسری اداکارہ ان کی ہمسری کا دعویٰ نہ کرسکتی۔ لیکن یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں۔طاہرہ نقوی نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا جن میں ’’بدلتے موسم‘‘ اور ’’میاں بیوی راضی‘‘ کے نام شامل ہیں۔ بدلتے موسم میں ان کے ساتھ شبنم اور ندیم جیسے منجھے ہوئے فنکار تھے۔ لیکن ان دونوں فلموں میں انہوں نے معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ فلموں میں کام کرنا شاید ان کے مزاج میں شامل نہیں تھا۔ یا پھر انہیں فلمی ماحول پسند نہیں آیا۔ہم اپنے قارئین کوبتاتے چلیں کہ طاہرہ نقوی شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر فوجی افسر تھے۔ اپریل 1982ء میں وہ شدید بیمار ہوگئیں۔ مرض کی تشخیص ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کے لئے ٹی وی فنکاروں نے چندہ جمع کرنے کے لئے بھی مہم چلائی اوراس زمانے میں دو لاکھ روپے جمع کیے گئے۔ اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ طاہرہ نقوی کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیجا جائے۔ لیکن حکومت نے بے حسی کا مظاہرہ کیا اور اس معاملے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔2جون 1982ء کو طاہرہ نقوی نے داعی اجل کو لبیک کہا اور یوں چھوٹی سی گڑیا ہمیشہ کیلئے سو گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مریم زمانی مسجد

مریم زمانی مسجد

تاریخی،ثقافتی اور جمالیاتی ورثہمریم زمانی مسجد جسے بیگم شاہی مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لاہور میں مغل دور کی اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے اور برصغیر کی اسلامی تعمیراتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔لاہور قلعہ کے بالمقابل اکبری دروازے کے باہر 1614ء میں تعمیرکی گئی یہ مسجد مغل شہنشاہ اکبر کی اہلیہ ملکہ مریم الزمانی سے منسوب ہے۔یہ مسجد نہ صرف اپنی تاریخی اہمیت کے باعث ممتاز ہے بلکہ اپنے منفرد فنِ تعمیر، تزئین و آرائش اور محلِ وقوع کے اعتبار سے بھی ایک نمایاں ثقافتی ورثہ ہے۔ شاہی قلعے کے دروازے کے بالکل سامنے واقع ہونے سے قلعے اور اس مسجد کے تعلق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ قربت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مسجد شاہی خاندان اور درباری افراد کے لیے بہت اہم رہی ہو گی۔فنِ تعمیرفنِ تعمیر کے لحاظ سے مریم زمانی مسجد مغل طرزِ تعمیر کے ابتدائی ارتقائی دور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً پچاس میٹر مشرق تا مغرب اور پچاس میٹر شمال تا جنوب ہے، جس سے یہ ایک نسبتاً چھوٹی مگر متوازن اور منظم عمارت دکھائی دیتی ہے۔ اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا پانچ محرابی داخلی حصہ ہے جو بعد کے مغل دور میں تعمیر ہونے والی مساجد کا ایک مخصوص اور معیاری عنصر بن گیا۔ یوں یہ مسجد اس طرزِ تعمیر کی اولین مثالوں میں شمار ہوتی ہے جس نے بعد میں مغل مساجد کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔تاریخی ماہرین کے مطابق یہ مسجد لودھی اور مغل طرزِ تعمیر کے درمیان ایک عبوری کیفیت کی عکاسی کرتی ہے‘ تاہم اس کی تعمیر چونکہ اس وقت ہوئی جب مغل سلطنت کو قائم ہوئے تقریباً نوے سال ہو چکے تھے اس لیے اسے مغل معماروں کی جانب سے روایتی افغان اور سلطنت دور کے طرزِ تعمیر کی ایک نئی تشریح قرار دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی پیش طاق (پشتہ نما محراب)، گنبدی ساخت اور کشادہ صحن اس بات کی دلیل ہے کہ مغل معماروں نے سابقہ اسلامی تعمیراتی روایات کو اپناتے ہوئے انہیں اپنے جمالیاتی معیار کے مطابق ڈھالا۔اس مسجد کا تقابلی جائزہ دہلی کی قلعہ کہنہ مسجد سے لیا جائے تو دونوں عمارتوں کے خدوخال میں نمایاں مماثلت نظر آتی ہے۔ قلعہ کہنہ مسجد بھی ایک گنبد دار، پانچ محرابی عمارت ہے جس کے سامنے وسیع صحن موجود ہے۔ یہی خصوصیات مریم زمانی مسجد میں بھی نظر آتی ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ مغل فنِ تعمیر نے سابقہ افغان اور سلطنتی روایت کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا مگر اس میں اپنے مخصوص جمالیاتی عناصر شامل کیے۔تزئین و آرائش تزئین و آرائش کے اعتبار سے مریم زمانی مسجد اپنی نوعیت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس کے اندرونی حصے میں پلاسٹر پر بنے ہوئے مقرنس طرز کے طاق، کثیر رنگی فریسکو پینٹنگ اور باریک نقش و نگار پائے جاتے ہیں۔ جیومیٹریائی ڈیزائن، بیل بوٹے، درختوں کی مثالی تصاویر، گلدان اور پرندوں کی مصوری اس کے داخلی حسن کو مزید نکھارتی ہے۔ اگرچہ بیرونی حصے کی آرائش صدیوں کے موسمی اثرات اور آلودگی کے باعث خاصی متاثر ہو چکی ہے لیکن مرکزی پیش طاق کے اندر موجود مقرنس طاق اور اندرونی فریسکو آج بھی اپنی اصل شان کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی فریسکو آرائش اتنی مشہور تھی کہ لاہور قلعہ کے مشرقی دروازے کو ''مسجدی یا مسیتی دروازہ‘‘ کہا جانے لگا۔ یہ امر اس مسجد کی فنی عظمت اور اس کے ثقافتی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اندرونی سجاوٹ کا انداز جہانگیر اور ابتدائی شاہجہانی دور کی عمارات سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں سنجیدگی، توازن اور باوقار رنگوں کا استعمال نمایاں ہے۔ اس اسلوب میں وہی رسمی اور شائستہ جمالیات نظر آتی ہیں جو مغل دربار کے ذوقِ فن کی نمائندگی کرتی ہیں۔تعمیراتی خصوصیاتتعمیراتی نقطہ نظر سے یہ مسجد مغل دور کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے جب سلطنت اپنی شناخت مستحکم کر رہی تھی اور فنِ تعمیر میں تجرباتی رجحانات موجود تھے۔ اکبر اعظم کے عہد میں شروع ہونے والی مذہبی اور ثقافتی وسعت نے ایسے منصوبوں کو فروغ دیا جن میں روایت اور جدت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اسی فکری تسلسل کے تحت مریم زمانی مسجد جیسی عمارات وجود میں آئیں جو نہ صرف عبادت گاہیں تھیں بلکہ ثقافتی علامت بھی بن گئیں۔اگرچہ بعد کے ادوار میں مغل فنِ تعمیر نے عظیم الشان مساجد کی صورت میں اپنی معراج حاصل کی جیسے بادشاہی مسجد لاہور، تاہم مریم زمانی مسجد کو ایک بنیادی اور ابتدائی نمونے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی سادگی، تناسب اور تاریخی اہمیت اسے مغل فنِ تعمیر کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی مثال بناتی ہے۔آج کے دور میں مریم زمانی مسجد لاہور کے تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور محققین، سیاحوں اور فوٹو گرافروں کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مغل عہد میں تعمیراتی فن صرف عظمت اور شان و شوکت تک محدود نہیں تھا بلکہ جمالیاتی توازن، روحانیت اور فنی باریکیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ صدیوں پر محیط موسمی اثرات کے باوجود اس مسجد کی اصل شناخت بڑی حد تک محفوظ ہے، جو اس کی مضبوط تعمیر اور فنی مہارت کا ثبوت ہے۔

آرٹیمس دوم کی لانچ میں تاخیر کیوں؟

آرٹیمس دوم کی لانچ میں تاخیر کیوں؟

NASA کا چاند کے گرد انسانی خلائی مشن آرٹیمس دوم ایک بار پھر تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث تاخیر کے خدشات سے دوچار ہو گیا ہے۔ خلائی ادارے کے مطابق راکٹ کے نظام میں ہیلیم کے بہاؤ میں تعطل کی نشاندہی کے بعد انجینئرز تفصیلی تکنیکی جائزہ لے رہے ہیں جس کے نتیجے میں مارچ کی تمام ممکنہ لانچ تاریخیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہ مشن جدید خلائی تاریخ کے اہم ترین منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعے تقریباً نصف صدی بعد انسانوں کو دوبارہ چاند کے قریب بھیجا جائے گا۔ناسا کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق تکنیکی ماہرین نے راکٹ کے اپر سٹیج کے ایک اہم نظام میں ہیلیم کے بہاؤ میں رکاوٹ دیکھی ہے۔ ہیلیم راکٹ کے پریشرائزیشن نظام کا بنیادی جزو ہوتا ہے جو ایندھن کے ٹینکوں کے دباؤ کو مستحکم رکھنے اور انجن کی کارکردگی کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس بہاؤ میں معمولی سی خرابی بھی لانچ کے دوران خطرات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے ناسا اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ادارے نے عندیہ دیا ہے کہ راکٹ اور اورائن خلائی جہاز کو لانچ پیڈ سے واپس وہیکل اسمبلی بلڈنگ منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ مزید جانچ، معائنہ اور ممکنہ مرمت کی جا سکے۔ اس عمل کو خلائی اصطلاح میں ''رول بیک‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی اہم تکنیکی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے۔ اگر رول بیک کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کرتا ہے تو مارچ میں لانچ منسوخ ہو سکتی ہیں اور مشن کو اپریل یا اس کے بعد کی تاریخوں تک مؤخر کرنا پڑ سکتا ہے۔آرٹیمس دوم مشن کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ 1972ء کے بعد انسانوں کو پہلی بار چاند کے قریب لے جانے والا مشن ہو گا۔ آخری بار انسان چاند کے مشن پر اپالو 17 کے ذریعے گئے تھے۔ اس کے بعد طویل عرصے تک انسان بردار قمری مشنز معطل رہے اور خلائی تحقیق زیادہ تر مدار یا غیر عملہ مشنز تک محدود رہی۔ اب آرٹیمس پروگرام کے ذریعے ناسا ایک بار پھر قمری تحقیق کو انسانی سطح پر بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔آرٹیمس مشن میں چار خلا بازوں کو تقریباً دس روزہ سفر پر چاند کے گرد بھیجا جائے گا۔ اگرچہ اس مشن میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں تاہم یہ مستقبل کے قمری لینڈنگ مشنز کے لیے عملی بنیاد فراہم کرے گا۔حالیہ ہفتوں میں لانچ سے قبل ہونے والی ویٹ ڈریس ریہرسل یعنی لانچ کی مکمل مشق کے دوران مجموعی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا تھا۔ اس عمل میں راکٹ کو حقیقی لانچ کی طرح ایندھن سے بھرا جاتا ہے اور ہر چیز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاہم اس سے قبل ہونے والے ٹیسٹوں میں مائع ہائیڈروجن کے اخراج، سیلز کی تبدیلی اور لانچ کنٹرول سینٹر کے ساتھ عارضی مواصلاتی خلل جیسے مسائل بھی سامنے آئے تھے۔ ناسا کے مطابق ان مسائل کو انجینئرنگ اصلاحات کے ذریعے بڑی حد تک حل کر لیا گیا مگر ہیلیم سے متعلق حالیہ مسئلہ مزید تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔آرٹیمس دوم مشن میں جدید اورائن خلائی جہاز اور سپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ استعمال کیا جا رہا ہے جو اب تک تیار کیے گئے طاقتور ترین راکٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ راکٹ گہرے خلا کے مشنز کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ اس مشن کے ذریعے نہ صرف خلا نوردوں کے لیے گہرے خلا کے سفر کے عملی تجربات حاصل ہوں گے بلکہ طویل المدتی خلائی رہائش اور بین الاقوامی خلائی تعاون کی راہ بھی ہموار ہو گی۔مزید برآں، آرٹیمس پروگرام کا ایک طویل المدتی مقصد چاند پر پائیدار انسانی موجودگی قائم کرنا اور وہاں تحقیقی انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس کے ذریعے مستقبل میں مریخ سمیت دیگر خلائی مشنز کی تیاری میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق چاند کو ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈکے طور پر استعمال کیا جائے گا جہاں نئی ٹیکنالوجی، توانائی کے نظام اور انسانی بقا سے متعلق تجربات کیے جائیں گے۔ناسا اس وقت آرٹیمس اول کے ڈیٹا سمیت تمام سابقہ ٹیسٹ ریکارڈز کا تقابلی جائزہ لے رہا ہے تاکہ ہیلیم کے مسئلے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

رمضان کے مشروب وپکوان:لقمی سموسہ

رمضان کے مشروب وپکوان:لقمی سموسہ

اجزاء: میدہ ایک کلو، گھی آدھا کلو، قیمہ ایک کلو،مرچ سیاہ، نمک، پیاز،لہسن حسب ضرورت۔ترکیب:میدہ میں گھی ملا کر خوب ملیے اور دودھ سے گوندھئے۔ ایک کلو قیمہ کو دو پیازہ کی طرح پکایئے۔ تیاری کے بعد مصالحہ سادہ تیار کر کے میدہ کی پوریاں بنا کر دوپارہ کر لیجیے اورآدھی پوری میں بھرکر ہر ایک پوری کے دو سموسے بنا لیجیے۔ اگر میوہ ڈالنا ہو تو قیمہ کی بجائے کشمش ثابت اخروٹ، پستہ اور بادام کو کوٹ کر کے بھر دیجیے۔پائن ایپل سن شائناجزاء : انناس کے ٹکڑے ایک پیالی، کینو کا رس دو پیالی، برائون شوگر تین کھانے کے چمچ، کُٹی ہوئی برف حسب پسند۔ترکیب: بلینڈر میں انناس کے ٹکڑے اور ایک پیالی پانی ڈال کر بلینڈ کریں، جب انناس پانی کے ساتھ یکجان ہو جائے تو اس میں برائون شوگر، کینو کا رس اور کٹی ہوئی برف ڈال کر بلینڈ کر لیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!اے آر خاتون رومانی ناولوں کی مصنفہ (1965-1900ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!اے آر خاتون رومانی ناولوں کی مصنفہ (1965-1900ء)

٭... 1900ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں، اصل نام امت الرّحمن خاتون تھا۔٭...اس دور کے رواج کے مطابق ان کی تعلیم و تربیت گھر پر مکمل ہوئی۔ وہ ابتدائی عمر ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتی تھیں۔ ٭... اے آر خاتون نے اپنے شوق اور ادب میں دلچسپی کو مضمون نگاری کی شکل میں دوسروں کے سامنے رکھا اور حوصلہ افزائی نے انھیں باقاعدہ لکھنے پر آمادہ کیا۔٭...1929ء میں ان کا پہلا ناول ''شمع ‘‘منظرِ عام پر آیاجو برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیب اور اقدار کے پس منظر میں تحریر کیا گیا تھا۔ ٭...ان کے کئی ناول اردو ادب میں کلاسیکی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں افشاں،ہالہ،تصویر،شمع،چشمہ،رْمانہ،فرحانہ،زیور،عصمہ،شمع اور پروانہ،دل کی دنیا،محبت ایک خواب،پیار کا پیکر قابل ذکر ہیں۔ ٭...ان کے ناولوں کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ مگر دلکش اسلوب ہے، جو قاری کو ابتدا سے لے کر اختتام تک جکڑے رکھتا ہے۔٭... انہوں نے اپنی کہانیوں میں مشرقی تہذیب اور معاشرتی اقدار کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔٭...انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اردو ادب میں منفرد پہچان بنائی۔٭...اے آر خاتون کا ناول ''افشاں‘‘ 1970ء کے اواخر میں پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا تھا جو اپنے وقت کا مقبول ترین ڈرامہ ثابت ہوا۔٭...قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آ گئی تھیں اور یہاں بھی تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ ٭...24 فروری 1965ء کو ان کا لاہور میں انتقال ہوا۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگ ِ کرنال1739ء میں ہونے والی جنگِ کرنال میں 24فروری کو ایران کے طاقتور حکمران نادر شاہ نے مغل بادشاہ محمد شاہ کو شکست دی۔ یہ جنگ موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر کرنال کے قریب لڑی گئی۔ مغل فوج تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ناقص حکمت عملی کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ اس شکست کے نتیجے میں نادر شاہ نے دہلی پر قبضہ کیا اور بے پناہ دولت لوٹ کر ایران لے گیا۔بغداد پیکٹ1955ء میں آج کے دن ''بغداد پیکٹ‘‘ کا قیام ہوا، جس میں ترکی، عراق، پاکستان اور ایران شامل تھے۔ کچھ عرصے بعد اس کا نام بدل کر ''سینٹو‘‘ کر دیا گیا۔ بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکا اور عراق بھی اس میں شامل ہو گئے۔ جولائی 1958ء میں عراق میں انقلاب آیا اور نئی حکومت نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس طرح اس کے مرکزی دفاتر بھی بغداد سے انقرہ منتقل ہو گئے۔ چودہ سال فعال رہنے کے بعد یہ تنظیم 16 فروری 1979ء کو معدوم ہو گئی۔ اس کا مقصد وسطی ایشیا میں اشتمالیت کے فروغ کو روکنا تھا۔مصری وزیر اعظم کا قتل24فروری 1945ء کو مصر کے وزیراعظم احمد ماہر پاشا کو پارلیمنٹ میں سرکاری فرمان پڑھنے کے فوراً بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں اہم سیاسی اعلان کر رہے تھے۔ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ احمد ماہر پاشا کا قتل مصر کی سیاست میں ایک بڑا سانحہ سمجھا جاتا ہے۔

 شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع شیخ زید جامع مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین تعمیرات اور سیاحوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے مزین یہ عظیم الشان مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ اتحاد، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔یہ مسجد متحدہ عرب امارات کے بانی صدر شیخ زید بن سلطان النہیان کے وژن کا عملی نمونہ ہے، جن کی خواہش تھی کہ ایک ایسی جامع مسجد تعمیر کی جائے جو اسلامی تہذیب کی خوبصورتی اور وسعتِ نظر کی عکاسی کرے۔ 1996ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم منصوبہ 2007ء میں مکمل ہوا۔ مسجد میں بیک وقت تقریباً چالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش موجود ہے، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں شامل کرتی ہے۔شیخ زید مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 82 سفید گنبد اور چار بلند و بالا مینار ہیں جو تقریباً 107 میٹر کی بلندی تک پہنچتے ہیں۔ مرکزی صحن میں سنگِ مرمر پر کی گئی نفیس پھولدار نقش و نگاری دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ مسجد کے اندر نصب عظیم الشان کرسٹل فانوس جرمنی سے تیار کروا کر لائے گئے، جبکہ مرکزی ہال میں بچھا قالین ہاتھ سے بْنے ہوئے دنیا کے بڑے قالینوں میں شمار ہوتا ہے جو ایرانی ماہرین کا تیار کردہ ایک شاہکار ہے۔ یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے رہنمائی کے خصوصی انتظامات موجود ہیں تاکہ وہ اسلامی تعلیمات اور فن تعمیر کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہو سکیں۔ خاص طور پر غروبِ آفتاب کے وقت مسجد کا منظر، جب سفید گنبد سنہری روشنی میں نہا جاتے ہیں، دلکش اور یادگار ہوتا ہے۔ شیخ زید جامع مسجد دراصل جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی نئی جہتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی روحانیت اور عصری جمالیات ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ ابو ظہبی کی یہ عظیم مسجد آج نہ صرف امارات کی پہچان ہے بلکہ عالمِ اسلام کیلئے فخر کا باعث بھی ہے۔