چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی طاہرہ نقوی نے صرف26 برس کی عمر پائی لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا

چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی طاہرہ نقوی نے صرف26 برس کی عمر پائی لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


پاکستان میں طویل دورانیے کے ٹی وی ڈراموں کا آغاز غالباً 1981ء میں ہوا تھا۔ محمد نثار حسین (MNH) ٹی وی ڈراموں کی تاریخ کا بہت بڑا نام ہے۔ انہوں نے بے شمار طویل دورانیے کے ڈراموں کی ہدایات کے فرائض سرانجام دیئے۔ بلاشبہ محمد نثار حسین کا نام اس حوالے سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔1981ء میں طویل دورانیے کے متعدد یادگار ڈرامے پیش کیے گئے۔ ان میں سے ایک ڈرامہ ’’زندگی بندگی‘‘ تھا۔ جو ہرلحاظ سے ایک شاندار ڈرامہ تھا۔ اس ڈرامے میں ہمارے ٹی وی فنکاروں کا فن بھی اوج کمال کو پہنچ گیا تھا۔ خاص طور پر عابد علی اور نوجوان فنکارہ طاہرہ نقوی نے ایسی شاندار اداکاری کی جسے اب تک بھلایا نہیں جا سکا۔ طاہرہ نقوی کا تکیہ کلام ’’چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی‘‘ آج بھی لوگوں کے حافظے سے محو نہیں ہوسکا۔ طاہرہ نقوی وہ فنکارہ تھیں جنہوںنے صرف 26 برس کی عمر پائی لیکن اپنے فن کے انمٹ نقوش چھوڑ گئیں۔ وہ حسین و جمیل بھی تھیں اور قدرت نے انہیںدلکش آواز سے بھی نوازا تھا۔20 اگست1956ء کو ڈسکہ میں پیدا ہونے والی طاہرہ نقوی نے اپنے فن کا آغاز ریڈیو سے کیا اور سب سے پہلے اپنے آپ کو ریڈیو آرٹسٹ کی حیثیت سے منوایا۔ اس کے بعد وہ ٹی وی ڈراموں کی طرف آئیں۔ انہیں امجد اسلام امجد کی ڈرامہ سیریل ’’وارث‘‘ سے بہت شہرت ملی۔ ویسے تو اس ڈرامہ سیریل کے سبھی فنکاروں کو بہت پذیرائی ملی جن میں عابد علی، شجاعت ہاشمی، ایوب خان، اورنگزیب لغاری، فردوس جمال، طلعت صدیقی، غیور اختر، منور سعید، نگہت بٹ اور خاص طور پر محبوب عالم شامل تھے۔ ان سب کے علاوہ عظمیٰ گیلانی، آغا سکندر،سجاد کشور اور طاہرہ نقوی نے بھی اپنے کردار بڑی مہارت سے نبھائے۔ اس حقیقت سے انکار بہت مشکل ہے کہ ’’وارث‘‘ کے سبھی فنکاروں نے کمال کی اداکاری کی اور ثابت کیا کہ ٹی وی ڈراموں کا کوئی ثانی نہیں۔ طاہرہ نقوی نے عظمیٰ گیلانی کے ساتھ مل کر فطری اداکاری کی انتہائی عمدہ مثال قائم کی۔ اس کے علاوہ ان کے مشہور ڈراموں میں ’’دوریاں، محفوظ ماموں، منزل، خانہ بدوش، دہلیز، گھر آیا مہمان اور ایک حقیقت ایک افسانہ‘‘ کے کچھ ڈرامے شامل ہیں۔ طاہرہ نقوی کے بارے میں اہل فن کی متفقہ رائے یہ ہے کہ وہ اداکاری کے حقیقت پسندانہ اسلوب (Realistic school of thought) سے وابستہ تھیں۔ جذباتی اداکاری کرنے میں ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ وہ دور تھا جب روحی بانو، خالد ریاست ، عظمیٰ گیلانی، ثروت عتیق، بندیا، فائزہ حسن، نیلوفر علیم اور مدیحہ گوہر کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا۔ ان جیسی اداکارائوں کے ہوتے ہوئے اپنی ایک الگ شناخت بنانا بڑا مشکل کام تھا۔ یہ طاہرہ نقوی کی خداداد صلاحیتوں کا اعجاز تھا کہ انہوں نے کم عمری میں ہی اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت وہ کر دکھایا جو ہر کسی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ بلاشبہ حسن و نفاست کا مجموعہ تھیں اور انہوں نے ٹی وی کی اکثراداکارائوں کو متاثر کیا۔طاہرہ نقوی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے مکالمے بولنے کا انداز بھی نہایت متاثر کن تھا۔ وہ کبھی اوورایکٹنگ کا شکار نہیں ہوئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے دور میں بھی جو ٹی وی ڈرامہ آرٹسٹ کام کر رہے تھے وہ فنی لحاظ سے بلند قامت تھے۔ اسے طاہرہ نقوی کی خوش بختی کہا جاسکتا ہے کہ جنہیں ایسے بلند پایہ آرٹسٹوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اگر کسی بھی اعلیٰ درجے کے فنکار کو معمولی کردار بھی دیا جائے تو وہ اس میں بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے سب کو حیران کردیتا ہے۔ بھارتی فلمی صنعت میں جب آرٹ فلموں کی ابتدا ہوئی تو کئی اداکاروں نے ان آرٹ فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرنا شروع کر دیئے جو ان کے شایان شان نہیں تھے لیکن ان فنکاروں نے اپنی قابلیت اور تخلیقی جوہر سے یہ ثابت کیا کہ کردار چھوٹا ہو یا بڑا، اداکاری کا معیار ارفع ہونا ضروری ہے۔2007 ء میں بھارت کے مشہور ہدایت کار گوندنہلانی پاکستان آئے تھے۔ غالباً کوئی فلم فیسٹیول تھا۔ عثمان پیرزادہ کے گھرفلمی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے جب اپنی فلم ’’اردھ ستیہ‘‘ کا ذکر کیا تو ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے اپنی اس معرکۃ آلارا فلم میں اوم پوری اور سمیتا پاٹیل کو اہم کردار دیئے لیکن نصیرالدین شاہ کو چھوٹا سا کردار دیا گیا۔ آخر کیوں؟ اس پر انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ آپ نے یہ غور نہیں کیا کہ اس چھوٹے سے کردار میں بھی نصیرالدین شاہ نے غضب کی اداکاری کی اور وہ اپنی چھاپ چھوڑ گئے۔ بات اداکاری کے اعلیٰ معیار کی ہے، کردار کی نہیں۔ گوند نہلانی نے سو فیصد درست کہا تھا۔ مرحومہ طاہرہ نقوی نے بھی کئی ٹی وی ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کیے لیکن ان کے فن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔معروف افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس یونس جاوید کی رائے میں روحی بانو کے بعد طاہرہ نقوی وہ فنکارہ تھیں جو اپنے کردار میں ڈوب جاتی تھیںاور ایسا لگتا تھا کہ طاہرہ نقوی اسی کردار کیلئے پیدا ہوئی تھیں۔ یونس جاوید کا کہنا ہے کہ بلاشبہ روحی بانو ٹی وی ڈراموں کی بلند پایہ اداکارہ تھیں لیکن اس حقیقت کو مدنظر رکھنا پڑے گا کہ انہیںبہت کم وقت ملا۔ اگر زندگی نے طاہرہ نقوی سے وفا کی ہوتی اور انہیںدس برس اور مل گئے ہوتے تو وہ فن کے آسمان کا سب سے روشن ستارہ ہوتیں۔ کوئی دوسری اداکارہ ان کی ہمسری کا دعویٰ نہ کرسکتی۔ لیکن یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں۔طاہرہ نقوی نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا جن میں ’’بدلتے موسم‘‘ اور ’’میاں بیوی راضی‘‘ کے نام شامل ہیں۔ بدلتے موسم میں ان کے ساتھ شبنم اور ندیم جیسے منجھے ہوئے فنکار تھے۔ لیکن ان دونوں فلموں میں انہوں نے معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ فلموں میں کام کرنا شاید ان کے مزاج میں شامل نہیں تھا۔ یا پھر انہیں فلمی ماحول پسند نہیں آیا۔ہم اپنے قارئین کوبتاتے چلیں کہ طاہرہ نقوی شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر فوجی افسر تھے۔ اپریل 1982ء میں وہ شدید بیمار ہوگئیں۔ مرض کی تشخیص ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کے لئے ٹی وی فنکاروں نے چندہ جمع کرنے کے لئے بھی مہم چلائی اوراس زمانے میں دو لاکھ روپے جمع کیے گئے۔ اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ طاہرہ نقوی کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیجا جائے۔ لیکن حکومت نے بے حسی کا مظاہرہ کیا اور اس معاملے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔2جون 1982ء کو طاہرہ نقوی نے داعی اجل کو لبیک کہا اور یوں چھوٹی سی گڑیا ہمیشہ کیلئے سو گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ناسا کی کوشش ناکام

ناسا کی کوشش ناکام

خلائی دوربین زمین سے ٹکرانے کا خطرہخلائی تحقیق نے انسان کو کائنات کے بے شمار رازوں سے آگاہ کیا ہے، لیکن خلا میں بھیجے گئے مصنوعی آلات اور سیٹلائٹس کی واپسی ہمیشہ ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہی ہے۔ ناسا کی ایک خلائی دوربین کو بچانے کیلئے شروع کیا گیا امدادی مشن ناکام ہونے کے بعد اب یہ دوربین بے قابو ہو کر زمین کی جانب گرنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس صورتحال نے خلائی ملبے، زمین پر ممکنہ اثرات اور ناکارہ خلائی آلات کے محفوظ انتظام کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین اس دوربین کے مدار اور ممکنہ مقامِ سقوط پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ناسا نے اپنی ناکارہ ہوتی ہوئی خلائی دوربین کو بچانے کا مشن ختم کر دیا، جس کے باعث اب رواں سال کے اواخر میں اس کے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے جل کر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ خلائی ادارے نے اس امید پر 3 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے کہ ایک دوسرے خلائی جہاز کے ذریعے سوئفٹ آبزرویٹری کو بلند مدار میں پہنچایا جائے گا اور اسے بے قابو ہو کر زمین کی جانب واپس آنے سے بچایا جا سکے گا۔ تاہم اس کے زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونے کی حتمی تاریخ اور مقام ابھی معلوم نہیں۔ریسکیو مشن کیلئے بھیجا گیا خلائی جہاز لنک (Link) جولائی کے آغاز میں روانگی کے چند ہفتے بعد بے قابو ہو کر گھومنے لگا۔ اگرچہ پرواز کے نگرانوں نے لنک کی گردش کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، تاہم مدار میں اس کی سمت اور پوزیشن برقرار رکھنے کے مسائل بدستور موجود رہے۔ ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے ایک بیان میں کہا: یہ وہ نتیجہ نہیں جس کیلئے ہم کوشش کر رہے تھے، تاہم اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ یہ مشن کوشش کے قابل تھا۔سوئفٹ آبزرویٹری کو 2004ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کائنات میں ہونے والے طاقتور ترین دھماکوں، یعنی گاما رے برسٹ، کے علاوہ دیگر فلکیاتی اجرام اور کائناتی واقعات کا مطالعہ کیا جا سکے۔ اس خلائی دوربین کو بنیادی طور پر صرف دو سالہ مشن کیلئے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس نے 21 سال تک سائنسی تحقیق جاری رکھی۔اب شمسی سرگرمی میں اضافے کے باعث سوئفٹ کا زمین کے نچلے مدار میں سفر تیزی سے زوال پذیر ہونے لگا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے بے قابو ہو کر زمین کی جانب واپس آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔لنک کو ایریزونا کے شہر فلیگ اسٹاف میں قائم ایرو اسپیس اسٹارٹ اپ کیٹالسٹ اسپیس نے تیار کیا تھا، جو روبوٹک خلائی جہاز، مدار میں موجود سیٹلائٹس کی سروسنگ اور خودکار خلائی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مہارت رکھتی ہے۔ ریسکیو خلائی جہاز کو جولائی کے آغاز میں روانہ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد تقریباً 216 میل (348 کلومیٹر) کی بلندی پر موجود سوئفٹ آبزرویٹری کے قریب پہنچنا، اسے مضبوطی سے پکڑنا اور پھر کھینچ کر تقریباً 373 میل (600 کلومیٹر) بلند مدار میں منتقل کرنا تھا، جس سے دوربین کی مدتِ کار کئی سال بڑھ سکتی تھی۔ تاہم لنک کو خود بھی مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور انجینئرز کئی ہفتوں تک اسے دوبارہ قابو میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔ گزشتہ ہفتے ٹیم نے لنک میں پوزیشن اور سمت کو کنٹرول کرنے والا نیا سافٹ ویئر اپ لوڈ کیا، جس سے اس کی بے قابو گردش کی رفتار تو کم ہوئی، لیکن وہ مکمل طور پر رک نہ سکی۔کیٹالسٹ اسپیس اور ناسا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ لنک خلائی جہاز کی مسلسل نگرانی اور جائزے کے بعد دونوں اداروں نے اس نتیجے پر اتفاق کیا ہے کہ اس کے سمت اور پوزیشن کو کنٹرول کرنے میں جاری مسائل کے باعث مشن میں ناسا کی نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری کو پکڑ کر اس کا مدار بلند کرنا شامل نہیں ہوگا۔ آبزرویٹری کے مدار کو بلند کرکے اس کی عملی زندگی کئی سال بڑھانا اپنی نوعیت کا امریکا کا پہلا مشن تھا۔ کیٹالسٹ کیلئے یہ ایک انتہائی پرجوش اور مشکل منصوبہ تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے لنک ریسکیو وہیکل کو غیر معمولی طور پر صرف نو ماہ کے ریکارڈ مدت میں تیار کرکے اس کے تجربات مکمل کیے۔ کیٹالسٹ کے چیف ایگزیکٹو گھونہی لی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے زیادہ خطرے اور زیادہ کامیابی کے امکانات والے اس چیلنج کو قبول کیا اور راستے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر ہمیں فخر ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں،  خالی کھیت اور غذائی سلامتی کے خطرات

موسمیاتی تبدیلیاں، خالی کھیت اور غذائی سلامتی کے خطرات

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کی زد میں ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، بے وقت بارشیں اور پگھلتے گلیشیئر اس بحران کی نمایاں علامات ہیں، مگر اس کا ایک سنگین رخ اب کھیتوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ فصلوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے، خوراک مہنگی ہو رہی ہے اور کسان بدلتے موسم کے ساتھ نئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستان کی معیشت اور دیہی زندگی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی اب صرف زرعی پیداوار ہی نہیں بلکہ غذائی سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔950 کسانوں پر حالیہ تحقیق کے مطابق صرف 22فیصد کسانوں نے فصلوں کی بوائی کا وقت تبدیل کیا،15فیصد نے خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام اپنائیں، جبکہ 25فیصد نے نئی فصلیں اُگائیں۔ ان اقدامات سے زیادہ تر کسانوں کے گھرانے نسبتاً محفوظ اور غربت سے کم متاثر پائے گئے۔اس کے باوجود بڑی تعداد میں کاشتکار اب بھی روایتی طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہیں بارشوں، شدید گرمی، پانی کی کمی اور کیڑوں کے خطرات کا سامنا ہے۔زراعت کی کم ہوتی پیداواراقتصادی جائزہ 2024-25 ء کے اعدادوشمار بھی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مالی سال 2025ء میں زرعی شعبے کی ترقی کی شرح صرف 0.56 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 6.40 فیصد تھی۔ فصلوں کے شعبے میں 6.82 فیصد کمی ہوئی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار 13.49فیصد کم رہی۔ گندم کی پیداوار میں 8.9 فیصد، کپاس میں 30.7 فیصد، مکئی میں 15.4 فیصد، گنے میں 3.88 فیصد اور چاول میں 1.38فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ زیرکاشت رقبے میں کمی، بوائی میں تاخیر اور شدید موسمی حالات اس گراوٹ کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔گندم ملکی خوراک، کپاس آمدنی اور برآمدات، مکئی مویشیوں کی خوراک اور چاول زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے فصلوں میں کمی کا اثر پورے ملکی معاشی نظام پر پڑتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایک موسمی جھٹکا کئی نئے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ شدید گرمی گندم کی پیداوار کم کرتی ہے، بے وقت بارش بوائی اور کٹائی متاثر کرتی ہے، جبکہ سیلاب فصلوں، مویشیوں اور دیہی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یوں موسمیاتی بحران بالآخر کسان کے گھر کے چولہے تک پہنچ جاتا ہے۔پاکستان میں زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کیلئے مختلف منصوبے جاری ہیں۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو بہتر زرعی طریقے، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمی خطرات سے نمٹنے میں مدد دی جا رہی ہے، تاہم موجودہ اقدامات اس بڑے چیلنج کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔کسان کو محض موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی نہیں، عملی سہولتیں درکار ہیں۔ اسے گرمی برداشت کرنے والے بیج، آسان شرائط پر قرض، مقامی زبان میں موسم کی بروقت اطلاع، فصلوں کا بیمہ، پانی بچانے والے آبپاشی طریقے، زمین کی جانچ، کیڑوں سے متعلق معلومات اور منڈی کے نرخوں تک رسائی چاہیے۔ زرعی ماہرین کو فصل خراب ہونے کے بعد نہیں بلکہ نقصان سے پہلے کھیت تک پہنچنا ہوگا۔ 2025ء میں پنجاب اور سندھ کے 800 کسانوں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق پنجاب کے 87 فیصد کسان کم خرچ فصلیں اُگا رہے تھے، جبکہ سندھ میں یہ شرح 60فیصد تھی۔ بارش کا پانی محفوظ کرنے کا طریقہ پنجاب میں صرف 10 فیصد اور سندھ میں 34 فیصد کسان استعمال کر رہے تھے۔ کھیت سے دسترخوان تکغذائی سلامتی کا مطلب صرف خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ عام آدمی کی اسے خریدنے کی استطاعت بھی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 42 فیصد آبادی درمیانے یا شدید درجے کی غذائی کمی کا شکار ہے۔ پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔فصل خراب ہونے سے خوراک مہنگی ہوتی ہے۔ غریب خاندان کھانے کے معیار اور مقدار میں کمی کرتے ہیں جبکہ صحت اور تعلیم جیسے ضروری اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یوں موسمیاتی تبدیلی کا سفر کھیت سے شروع ہو کر گھر کے دسترخوان تک پہنچتا ہے۔خالی پیٹ بھی قومی خطرہموسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی غذائی کمی مستقبل میں پاکستان کے لیے بڑا سماجی اور معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔ غذائی بحران مہنگائی میں اضافے، غربت کے پھیلا اور معاشرتی بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان کو کسانوں کو موسمیاتی خطرات سے بچانا قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ ہر ضلع کے لیے موسم، پانی اور زمین کی صورتحال کے مطابق زرعی منصوبہ تیار کیا جائے۔ زرعی محکموں کو بروقت مشاورت کا مؤثر نظام بنانا ہوگا، جبکہ جامعات اور تحقیقی اداروں کو اپنی تحقیق کھیت تک پہنچانا ہوگی۔ سرکاری مراعات کو پانی بچانے، بہتر بیج اور زمین کی صحت سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صرف فصلیں تباہ نہیں کرتی بلکہ غربت، بھوک اور بے یقینی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان کی آئندہ غذائی سلامتی کا فیصلہ کانفرنسوں میں نہیں بلکہ ان کھیتوں میں ہوگا، جہاں محدود وسائل رکھنے والا کسان بدلتے موسم کے مقابل اپنی فصل بچانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

دریائے آمور

دریائے آمور

چین اور روس کے درمیان بہتا عظیم دریادنیا کے عظیم دریاؤں میں دریائے آمور ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ دریا اپنی غیر معمولی لمبائی، وسیع آبی طاس، قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ تقریباً 2744 میل طویل آمور کو دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس دریا کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ چین اور روس کے درمیان قدرتی سرحد کا کام دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے دونوں ممالک کی جغرافیائی اور معاشی زندگی میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔دریائے آمور کا آغاز بنیادی طور پر دریائے شلکا اور دریائے ارگون کے سنگم سے ہوتا ہے۔ ارگون کا دریا چین اور منگولیا کے علاقوں سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ شلکا روس کے مشرقی خطے سے بہتا ہوا آتا ہے۔ دونوں دریاؤں کے ملنے کے بعد آمور وجود میں آتا ہے اور پھر مشرق کی سمت اپنا طویل سفر شروع کرتا ہے۔ اپنے سفر کے دوران یہ مختلف معاون دریاؤں کا پانی اپنے اندر سمیٹتا ہوا آخرکار بحرالکاہل کے قریب بحیرہ اوخوتسک میں جا گرتا ہے۔آمور کا آبی نظام انتہائی وسیع ہے اور اس کے کناروں پر روس اور چین کے متعدد علاقے آباد ہیں۔ دریا کے اطراف کی زمینیں زراعت، جنگلات اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے اہم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی روابط میں بھی دریائے آمور اور اس سے وابستہ آبی راستوں کا کردار قابل ذکر ہے۔ گرمیوں کے موسم میں مختلف علاقوں کے درمیان سامان کی نقل و حمل کیلئے اس دریا کو استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے کناروں پر واقع بندرگاہیں مقامی تجارت کو سہارا دیتی ہیں۔دریائے آمور اپنی قدرتی حیات کیلئے بھی شہرت رکھتا ہے۔ اس کے آبی طاس میں مچھلیوں کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں بعض نایاب اقسام بھی شامل ہیں۔ دریا کے آس پاس واقع جنگلات اور دلدلی علاقے مختلف پرندوں اور جنگلی جانوروں کیلئے موزوں مسکن فراہم کرتے ہیں۔ آمور کے علاقے میں پائی جانے والی قدرتی تنوع کی وجہ سے ماہرین ماحولیات اس خطے کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔سردیوں میں دریائے آمور کا بڑا حصہ شدید سردی کے باعث جم جاتا ہے، جس سے آبی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے۔ تاہم موسمِ بہار اور گرمیوں میں برف پگھلنے اور بارشوں کے باعث پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اس کے اطراف کے علاقوں کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔ یہی موسمی تبدیلیاں دریا کے کناروں پر آباد آبادیوں کی زندگی اور مقامی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔دریائے آمور کی اہمیت صرف اس کی لمبائی یا جغرافیائی حیثیت تک محدود نہیں۔ یہ دریا چین اور روس کے درمیان قدرتی رابطے اور سرحد کی علامت بھی ہے۔ اس کے پانی، قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع نے اسے مشرقی ایشیا کے اہم ترین دریاؤں میں شامل کر دیا ہے۔ آج بھی دریائے آمور دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کی زندگی، تجارت اور ماحولیات پر اثر انداز ہو رہا ہے اور قدرت کے ایک عظیم شاہکار کی حیثیت سے اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اور آنا گھر میں مرغیوں کا

اور آنا گھر میں مرغیوں کا

عرض کیا، کچھ بھی ہو، میں گھر میں مرغیاں پالنے کا روادار نہیں۔ میرا راسخ عقیدہ ہے کہ ان کا صحیح مقام پیٹ اور پلیٹ ہے اور شاید۔اس راسخ عقیدے میں میری طرف سے پتیلی کا اور اضافہ کرلیجیے۔ انہوں نے بات کاٹی۔پھر عرض کیا،اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کوئی مرغی عمر طبعی کو نہیں پہنچ پاتی۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ ہماری ضیافتوں میں میزبان کے اخلاص و ایثار کا اندازہ مرغیوں اور مہمانوں کی تعداد اور ان کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔فرمایا،یہ صحیح ہے کہ انسان روٹی پر ہی زندہ نہیں رہتا۔ اسے مرغ مسلّم کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ اگر آپ کا عقیدہ ہے کہ خدا نے مرغی کو محض انسان کے کھانے کیلئے پیدا کیا تو مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ صاحب! مرغی تو درکنار،میں تو انڈے کو بھی دنیا کی سب سے بڑی نعمت سمجھتا ہوں۔ تازے خود کھائیے، گندے ہوجائیں تو ہوٹلوں اور سیاسی جلسوں کیلئے دگنے داموں بیچیے۔ یوں تو اس میں، میرا مطلب ہے تازے انڈے میں ''ہزاروں خوبیاں ایسی کہ ہر خوبی پہ دم نکلے‘‘ مگر سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پھوہڑ سے پھوہڑ عورت کسی طرح بھی پکائے یقیناً مزیدار پکے گا۔ آملیٹ، نیم برشت، تلا ہوا، خاگینہ، حلوا۔‘‘اس کے بعد انہوں نے ایک نہایت پیچیدہ اور گنجلک تقریر کی جس کا ماحصل یہ تھا کہ آملیٹ اور خاگینہ وغیرہ بگاڑنے کیلئے غیر معمولی سلیقہ اور صلاحیت درکار ہے جو فی زمانہ مفقود ہے۔اختلاف کی گنجائش نظر نہ آئی تو میں نے پہلو بچا کر وار کیا، ''یہ سب درست! لیکن اگر مرغیاں کھانے پر اتر آئیں تو ایک ہی ماہ میں ڈربے کے ڈربے صاف ہوجائیں گے‘‘۔کہنے لگے، یہ نسل مٹائے نہیں مٹتی۔ جہاں تک اس جنس کا تعلق ہے دو اور دو چار نہیں بلکہ چالیس ہوتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو خود حساب کرکے دیکھ لیجیے۔ فرض کیجیے کہ آپ دس مرغیوں سے مرغبانی کی ابتداء کرتے ہیں۔ ایک اعلیٰ نسل کی مرغی سال میں اوسطاً دو سو سے ڈھائی سو تک انڈے دیتی ہے۔ لیکن آپ چونکہ فطرتاً قنوطی واقع ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ مانے لیتے ہیں کہ آپ کی مرغی ڈیڑھ سو انڈے دے گی۔میں نے ٹوکا،مگر میری قنوطیت کا مرغی کی انڈے دینے کی صلاحیت سے کیا تعلق؟بولے، بھئی آپ تو قدم قدم پر الجھتے ہیں۔ قنوطی سے ایسا شخص مراد ہے جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے آنکھیں رونے کیلئے بنائی ہیں۔ خیر اس کو جانے دیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ اس حساب سے پہلے سال میں ڈیڑھ ہزار انڈے ہوں گے اور دوسرے سال ان انڈوں سے جو مرغیاں نکلیں گی وہ دو لاکھ پچیس ہزار انڈے دیں گی۔ جن سے تیسرے سال اسی محتاط اندازے کے مطابق، تین کروڑ سینتیس لاکھ پچاس ہزار چوزے نکلیں گے، بالکل سیدھا سا حساب ہے۔مگر یہ سب کھائیں گے کیا؟میں نے بے صبری سے پوچھا۔ارشاد ہوا،مرغ اور ملاّ کے رزق کی فکر تو اللہ میاں کو بھی نہیں ہوتی۔ اس کی خوبی یہی ہے کہ اپنا رزق آپ تلاش کرتا ہے۔ آپ پال کر تو دیکھیے۔دانہ دنکّا، کیڑے مکوڑے، کنکر، پتھر چگ کر اپنا پیٹ بھرلیں گے۔پوچھا،اگر مرغیاں پالنا اس قدر آسان و نفع بخش ہے تو آپ اپنی مرغیاں مجھے کیوں دینا چاہتے ہیں۔فرمایا،یہ آپ نے پہلے ہی کیوں نہ پوچھ لیا، ناحق رد و قدح کی۔ آپ جانتے ہیں میرا مکان پہلے ہی کس قدر مختصر ہے۔ آدھے میں ہم رہتے ہیں اور آدھے میں مرغیاں۔ اب مشکل یہ آ پڑی ہے کہ کل کچھ سسرالی عزیز چھٹیاں گزارنے آرہے ہیں، اس لیے۔ اور دوسرے دن ان کے نصف مکان میں سسرالی عزیز اور ہمارے گھر میں مرغیاں آگئیں۔ اب اس کو میری سادہ لوحی کہیے یا خلوص نیت کے شروع شروع میں میرا خیال تھا کہ انسان محبت کا بھوکا ہے اور جانور اس واسطے پالتا ہے کہ اپنے مالک کو پہچانے اور اس کا حکم بجا لائے۔ گھوڑا اپنے سوار کا آسن اور ہاتھی اپنے مہاوت کا آنکس پہچانتا ہے۔ کتا اپنے مالک کو دیکھتے ہی دم ہلانے لگتا ہے۔ جس سے مالک کو روحانی خوشی ہوتی ہے۔ سانپ بھی سپیرے سے بل جاتا ہے۔ لیکن مرغیاں!میں نے آج تک کوئی مرغی ایسی نہیں دیکھی جو مرغ کے سوا کسی اور کو پہچانے اور نہ ایسا مرغ نظر سے گزرا جس کو اپنے پرائے کی تمیز ہو۔ مہینوں ان کی داشت اور سنبھال کیجیے۔ برسوں ہتھیلیوں پر چگائیے۔ لیکن کیا مجال کہ آپ سے ذرا بھی مانوس ہوجائیں۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ میں یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ میرے دہلیز پر قدم رکھتے ہی مرغ سرکس کے طوطے کی مانند توپ چلا کر سلامی دیں گے، یا چوزے میرے پاؤں میں وفادار کتے کی طرح لوٹیں گے، اور مرغیاں اپنے اپنے انڈے ''سپردم بتو مایہ خویش را‘‘ کہتی ہوئی مجھے سونپ کر الٹے قدموں واپس چلی جائیں گی۔ تاہم پالتو جانور سے خواہ وہ شرعاً حلال ہی کیوں نہ ہو یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ ہر چمکتی چیز کو چھری سمجھ کر بدکنے لگے اور مہینوں کی پرورش و پرداخت کے باوجود محض اپنے جبلی تعصب کی بناء پر ہر مسلمان کو اپنے خون کا پیاسا تصور کرے۔ انہیں مانوس کرنے کے خیال سے بچوں نے ہر ایک مرغ کا علیحدہ نام رکھ چھوڑا تھا۔ اکثر کے نام سابق لیڈروں اور خاندان کے بزرگوں پر رکھے گئے۔ گو ان بزرگوں نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ لیکن ان ناموں کے باوصف مجھے ایک ہی نسل کے مرغوں میں آج تک کوئی ایسی خصوصیت نظر نہ آئی جو ایک مرغ کو دوسرے سے ممّیز کرسکے۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے سب مرغ، نوزائیدہ بچے اور سکھ ایک جیسی شکل کے نظر آتے ہیں۔ اور انہیں دیکھ کر اپنی بینائی اور حافظے پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی شناخت اور تشخیص کیلئے خاص مہارت و ملکہ درکار ہو۔

آج تم یاد بے حساب آئے! Princess of Wales لیڈی ڈیانا

آج تم یاد بے حساب آئے! Princess of Wales لیڈی ڈیانا

٭...یکم جولائی1961ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں،پورا نام ڈیانا فرانکس سپینسر تھا۔ ٭...انگلینڈ اور سوئٹزر لینڈ سے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سکول میں بچوں کو پڑھانے لگیں۔ ٭...فروری 1981ء میں شہزادہ چارلس سے منگنی کا اعلان ہوتے ہی لیڈی ڈیانا دنیا بھر کے فوٹوگرافروں کی اوّلین ترجیح بن گئیں۔ ٭...29جولائی 1981ء کوڈیانا کی چارلس سے شادی ہوئی۔٭...ڈیانا نے 1982ء میں شہزادہ ولیم اور 1985ء میں شہزادہ ہیری کو جنم دیا۔ ٭...20 برس کی عمر میں ''ویلز کی شہزادی‘‘ کا خطاب حاصل کیا۔ ٭...ویلز کی شہزادی (Princes Of Wales) کی حیثیت سے ڈیانا نے شاہی فرائض سر انجام دیئے اور ملک سے باہر ہونے والی تقریبات میں ملکہ کی نمائندگی کی۔ ٭...ڈیانا اور چارلس کی شادی 15 برس تک قائم رہی۔ 28 اگست 1996ء کو ڈیانا کی چارلس سے شادی ختم ہوئی۔ ٭...خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی وجہ سے انہیں شہرت ملنا شروع ہو ئی۔ ٭...انہوں نے ایڈز، کینسر اور ذہنی بیماریوں کے حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کیا۔ ٭...ڈیانا نے تین مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔پہلی بار چار روزہ دورے پر 1991ء میں پاکستان آئیں۔ 1996ء اور 1997ء میں بھی پاکستان آئیں۔٭...انہیں بے شمار ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ٭... 31 اگست 1997ء کو گاڑی ایک خطرناک حادثے کا شکار ہوکر مکمل طور پر تباہ ہو گئی، حادثے میں شہزادی کے ساتھ ان کے دوست ڈوڈی الفائد اور ڈرائیور بھی موت کی وادی میں اتر گئے۔ ٭...ڈیانا کی آخری رسومات کو دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے براہ راست دیکھا۔

آج کا دن

آج کا دن

افغانستان کاہولناک زلزلہ31اگست 2025ء کومشرقی افغانستان میں آنے والے ایک ہولناک اور شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ زلزلے سے متعدد دیہات، مکانات اور عمارتیں منہدم ہوئیں جبکہ ہزاروں افراد متاثر اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئی۔ قدرتی آفت کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتالوں اور امدادی مراکز میں ہنگامی انتظامات کیے گئے، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارکنوں نے بھرپور کوششیں جاری رکھیں۔ ملائیشیا کی آزادی 1957ء میں آج کے روز ملائیشیا نے برطانیہ کی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کی۔کوالالمپور کے میدانِ آزادی میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی جس میں برطانوی پرچم اتارا گیا اور ملائیشیا کا قومی پرچم لہرایا گیا۔ اس دن تْنکو عبد الرحمن ملک کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ یہ دن آج بھی یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ ملک دنیا کا 43 واں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔روسی فوج کی واپسی1994ء میں آج کے روز روس نے ایسٹونیا سے اپنی فوجی دستوں کا انخلا مکمل کیا۔ یہ اقدام روس اور ایسٹونیا کے درمیان تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ کئی مذاکرات اور طویل سفارتی کوششوں کے بعد روس نے اپنی فوجیں وہاں سے نکال لیں۔ اس انخلا سے ایسٹونیا کی خودمختاری اور آزادی مزید مستحکم ہوئی، جبکہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔الآئمہ پل حادثہ31اگست2005ء کو بغداد،عراق میں دریائے دجلہ پربنائے گئے الآئمہ پل پر بھگدڑ مچنے سے 953 افراد ہلاک ہوئے۔ بھگدڑ کے وقت لاکھوں زائرین مسجد الکاظمیہ کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ بھگدڑ کی وجہ یہ افواہ بنی کہ مزار کے قریب خودکش دھماکہ ہوا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہجوم میں موجود ایک شخص نے دوسرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھماکہ خیز مواد لے کر جا رہا ہے۔ایس ایس ایڈمرل سمندر بردایس ایس ایڈمرل کو مارچ1925ء میں آپریشنل کیا گیااور یہ ایک مسافر بردار بحری جہاز تھا۔ 31 اگست 1986ء کو یہ جہاز روسی بندرگاہ کے قریب ایک بہت بڑے کیرئیر سے ٹکرا کرسمندر کی گہرائیوں میں چلا گیا۔ مجموعی طور پر جہاز میں1234افراد سوار تھے جس میں سے 423 ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر کو بچا لیا گیا۔اس حادثے کو بحری جہازوں کے بڑے حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔ پنسلوینیا ائیر لائن حادثہ31 اگست 1940ء کو پنسلوینیا سینٹرل ایئر لائنز کی فلائٹ ٹرپ 19 واشنگٹن سے ڈیٹرائٹ کیلئے طے شدہ پرواز تھی۔ جب جہاز6ہزار فٹ پر پرواز کر رہا تھا تواسے شدید طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ عینی شاہدین کے مطابق آسمانی بجلی کی ایک بڑی چمک دیکھی گئی جس کے کچھ ہی دیر بعد جہاز کریش کر گیا۔ ہلاک ہونے والے 21 مسافروں میں عملے کے 4 ارکان اور امریکی سینیٹر ارنسٹ لنڈین بھی شامل تھے۔