چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی طاہرہ نقوی نے صرف26 برس کی عمر پائی لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا

چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی طاہرہ نقوی نے صرف26 برس کی عمر پائی لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


پاکستان میں طویل دورانیے کے ٹی وی ڈراموں کا آغاز غالباً 1981ء میں ہوا تھا۔ محمد نثار حسین (MNH) ٹی وی ڈراموں کی تاریخ کا بہت بڑا نام ہے۔ انہوں نے بے شمار طویل دورانیے کے ڈراموں کی ہدایات کے فرائض سرانجام دیئے۔ بلاشبہ محمد نثار حسین کا نام اس حوالے سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔1981ء میں طویل دورانیے کے متعدد یادگار ڈرامے پیش کیے گئے۔ ان میں سے ایک ڈرامہ ’’زندگی بندگی‘‘ تھا۔ جو ہرلحاظ سے ایک شاندار ڈرامہ تھا۔ اس ڈرامے میں ہمارے ٹی وی فنکاروں کا فن بھی اوج کمال کو پہنچ گیا تھا۔ خاص طور پر عابد علی اور نوجوان فنکارہ طاہرہ نقوی نے ایسی شاندار اداکاری کی جسے اب تک بھلایا نہیں جا سکا۔ طاہرہ نقوی کا تکیہ کلام ’’چھوٹی سی گڑیا سوتی رہ گئی‘‘ آج بھی لوگوں کے حافظے سے محو نہیں ہوسکا۔ طاہرہ نقوی وہ فنکارہ تھیں جنہوںنے صرف 26 برس کی عمر پائی لیکن اپنے فن کے انمٹ نقوش چھوڑ گئیں۔ وہ حسین و جمیل بھی تھیں اور قدرت نے انہیںدلکش آواز سے بھی نوازا تھا۔20 اگست1956ء کو ڈسکہ میں پیدا ہونے والی طاہرہ نقوی نے اپنے فن کا آغاز ریڈیو سے کیا اور سب سے پہلے اپنے آپ کو ریڈیو آرٹسٹ کی حیثیت سے منوایا۔ اس کے بعد وہ ٹی وی ڈراموں کی طرف آئیں۔ انہیں امجد اسلام امجد کی ڈرامہ سیریل ’’وارث‘‘ سے بہت شہرت ملی۔ ویسے تو اس ڈرامہ سیریل کے سبھی فنکاروں کو بہت پذیرائی ملی جن میں عابد علی، شجاعت ہاشمی، ایوب خان، اورنگزیب لغاری، فردوس جمال، طلعت صدیقی، غیور اختر، منور سعید، نگہت بٹ اور خاص طور پر محبوب عالم شامل تھے۔ ان سب کے علاوہ عظمیٰ گیلانی، آغا سکندر،سجاد کشور اور طاہرہ نقوی نے بھی اپنے کردار بڑی مہارت سے نبھائے۔ اس حقیقت سے انکار بہت مشکل ہے کہ ’’وارث‘‘ کے سبھی فنکاروں نے کمال کی اداکاری کی اور ثابت کیا کہ ٹی وی ڈراموں کا کوئی ثانی نہیں۔ طاہرہ نقوی نے عظمیٰ گیلانی کے ساتھ مل کر فطری اداکاری کی انتہائی عمدہ مثال قائم کی۔ اس کے علاوہ ان کے مشہور ڈراموں میں ’’دوریاں، محفوظ ماموں، منزل، خانہ بدوش، دہلیز، گھر آیا مہمان اور ایک حقیقت ایک افسانہ‘‘ کے کچھ ڈرامے شامل ہیں۔ طاہرہ نقوی کے بارے میں اہل فن کی متفقہ رائے یہ ہے کہ وہ اداکاری کے حقیقت پسندانہ اسلوب (Realistic school of thought) سے وابستہ تھیں۔ جذباتی اداکاری کرنے میں ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ وہ دور تھا جب روحی بانو، خالد ریاست ، عظمیٰ گیلانی، ثروت عتیق، بندیا، فائزہ حسن، نیلوفر علیم اور مدیحہ گوہر کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا۔ ان جیسی اداکارائوں کے ہوتے ہوئے اپنی ایک الگ شناخت بنانا بڑا مشکل کام تھا۔ یہ طاہرہ نقوی کی خداداد صلاحیتوں کا اعجاز تھا کہ انہوں نے کم عمری میں ہی اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت وہ کر دکھایا جو ہر کسی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ بلاشبہ حسن و نفاست کا مجموعہ تھیں اور انہوں نے ٹی وی کی اکثراداکارائوں کو متاثر کیا۔طاہرہ نقوی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے مکالمے بولنے کا انداز بھی نہایت متاثر کن تھا۔ وہ کبھی اوورایکٹنگ کا شکار نہیں ہوئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے دور میں بھی جو ٹی وی ڈرامہ آرٹسٹ کام کر رہے تھے وہ فنی لحاظ سے بلند قامت تھے۔ اسے طاہرہ نقوی کی خوش بختی کہا جاسکتا ہے کہ جنہیں ایسے بلند پایہ آرٹسٹوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اگر کسی بھی اعلیٰ درجے کے فنکار کو معمولی کردار بھی دیا جائے تو وہ اس میں بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے سب کو حیران کردیتا ہے۔ بھارتی فلمی صنعت میں جب آرٹ فلموں کی ابتدا ہوئی تو کئی اداکاروں نے ان آرٹ فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرنا شروع کر دیئے جو ان کے شایان شان نہیں تھے لیکن ان فنکاروں نے اپنی قابلیت اور تخلیقی جوہر سے یہ ثابت کیا کہ کردار چھوٹا ہو یا بڑا، اداکاری کا معیار ارفع ہونا ضروری ہے۔2007 ء میں بھارت کے مشہور ہدایت کار گوندنہلانی پاکستان آئے تھے۔ غالباً کوئی فلم فیسٹیول تھا۔ عثمان پیرزادہ کے گھرفلمی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے جب اپنی فلم ’’اردھ ستیہ‘‘ کا ذکر کیا تو ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے اپنی اس معرکۃ آلارا فلم میں اوم پوری اور سمیتا پاٹیل کو اہم کردار دیئے لیکن نصیرالدین شاہ کو چھوٹا سا کردار دیا گیا۔ آخر کیوں؟ اس پر انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ آپ نے یہ غور نہیں کیا کہ اس چھوٹے سے کردار میں بھی نصیرالدین شاہ نے غضب کی اداکاری کی اور وہ اپنی چھاپ چھوڑ گئے۔ بات اداکاری کے اعلیٰ معیار کی ہے، کردار کی نہیں۔ گوند نہلانی نے سو فیصد درست کہا تھا۔ مرحومہ طاہرہ نقوی نے بھی کئی ٹی وی ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کیے لیکن ان کے فن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔معروف افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس یونس جاوید کی رائے میں روحی بانو کے بعد طاہرہ نقوی وہ فنکارہ تھیں جو اپنے کردار میں ڈوب جاتی تھیںاور ایسا لگتا تھا کہ طاہرہ نقوی اسی کردار کیلئے پیدا ہوئی تھیں۔ یونس جاوید کا کہنا ہے کہ بلاشبہ روحی بانو ٹی وی ڈراموں کی بلند پایہ اداکارہ تھیں لیکن اس حقیقت کو مدنظر رکھنا پڑے گا کہ انہیںبہت کم وقت ملا۔ اگر زندگی نے طاہرہ نقوی سے وفا کی ہوتی اور انہیںدس برس اور مل گئے ہوتے تو وہ فن کے آسمان کا سب سے روشن ستارہ ہوتیں۔ کوئی دوسری اداکارہ ان کی ہمسری کا دعویٰ نہ کرسکتی۔ لیکن یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں۔طاہرہ نقوی نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا جن میں ’’بدلتے موسم‘‘ اور ’’میاں بیوی راضی‘‘ کے نام شامل ہیں۔ بدلتے موسم میں ان کے ساتھ شبنم اور ندیم جیسے منجھے ہوئے فنکار تھے۔ لیکن ان دونوں فلموں میں انہوں نے معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ فلموں میں کام کرنا شاید ان کے مزاج میں شامل نہیں تھا۔ یا پھر انہیں فلمی ماحول پسند نہیں آیا۔ہم اپنے قارئین کوبتاتے چلیں کہ طاہرہ نقوی شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر فوجی افسر تھے۔ اپریل 1982ء میں وہ شدید بیمار ہوگئیں۔ مرض کی تشخیص ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کے لئے ٹی وی فنکاروں نے چندہ جمع کرنے کے لئے بھی مہم چلائی اوراس زمانے میں دو لاکھ روپے جمع کیے گئے۔ اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ طاہرہ نقوی کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیجا جائے۔ لیکن حکومت نے بے حسی کا مظاہرہ کیا اور اس معاملے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔2جون 1982ء کو طاہرہ نقوی نے داعی اجل کو لبیک کہا اور یوں چھوٹی سی گڑیا ہمیشہ کیلئے سو گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ صرف پھیپھڑوں اور دل کی بیماریاں ہی نہیں بلکہ اب سائنسدان یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ آلودہ ہوا دماغی صحت اور ذہنی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی حوالے سے حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایئر پیوریفائر دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ تحقیق امریکہ کے ایک ایسے علاقے میں کی گئی جہاں ٹریفک اور صنعتی آلودگی نسبتاً زیادہ تھی۔ اس تحقیق میں مجموعی طور پر 119 افراد شامل تھے جن کی عمر 30 سے 74 سال کے درمیان تھی۔ ان افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو حقیقی HEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو ایسے پیوریفائر دیے گئے جو دیکھنے میں بالکل اصلی تھے لیکن ہوا کو صاف نہیں کرتے تھے۔شرکانے ایک ماہ تک اپنے گھروں میں یہ پیوریفائر استعمال کیے۔ اس دوران محققین نے ان کی ذہنی کارکردگی کو مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے جانچا جن میں یادداشت، توجہ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ذہنی لچک (cognitive flexibility) شامل تھی۔ایک ماہ بعد دونوں گروپوں کے نتائج کا موازنہ کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ صاف ہوا کا دماغی صلاحیتوں پر کیا اثر پڑا۔تحقیق کے نتائج کافی دلچسپ تھے۔ خاص طور پر 40 سال سے زائد عمر کے افراد میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ جن افراد نے ایئر پیوریفائر استعمال کیے تھے انہوں نے ذہنی ٹیسٹ تقریباً 12 فیصد تیزی سے مکمل کیے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صاف ہوا دماغی کارکردگی میں بہتری لا سکتی ہے، خاص طور پر درمیانی اور بڑی عمر کے افراد میں۔فضائی آلودگی اور دماغ کا تعلقسائنسدانوں کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات (particulate matter) صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ جسم میں داخل ہو کر دماغ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔یہ ذرات دماغی سوزش بڑھا سکتے ہیں،خون کی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں،دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو کمزور کر سکتے ہیں۔بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے الزائمر اور یادداشت کی خرابی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ایئر پیوریفائر کا کردارHEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر ہوا میں موجود باریک ذرات، دھول، پولن اور کچھ حد تک آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جب اندرون خانہ ہوا صاف ہوتی ہے تو دماغ کو بہتر آکسیجن ملتی ہے اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ شرکاکی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر اُن افراد میں جو پہلے سے آلودگی والے ماحول میں رہ رہے تھے۔کیا یہ نتیجہ حتمی ہے؟اگرچہ یہ نتائج امید افزا ہیں لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مختصر مدت کی تحقیق تھی۔ صرف ایک ماہ کے مشاہدے کی بنیاد پر طویل مدتی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔اس کے علاوہ شرکا کی تعداد محدود تھی۔مختلف طرزِ زندگی رکھنے والے افراد شامل تھے۔طویل مدتی دماغی صحت پر اثرات ابھی واضح نہیں۔اس لیے مزید وسیع اور طویل تحقیقات کی ضرورت ہے۔عام زندگی کیلئے اس کا مطلباس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صاف ہوا صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو شہروں میں رہتے ہیں جہاں آلودگی زیادہ ہوتی ہے، ایئر پیوریفائر ایک مددگار آلہ ثابت ہو سکتا ہے،تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ صرف پیوریفائر پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مجموعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے جیسے درخت لگانا،گاڑیوں کے دھوئیں کو کم کرنا،صاف توانائی کے ذرائع استعمال کرنا۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی ہوا، جسے ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں، ہمارے دماغی افعال پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایئر پیوریفائر کے استعمال سے وقتی طور پر ذہنی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے لیکن اس کے مستقل فوائد جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ صاف ہوا صرف سانس لینے کے لیے نہیں بلکہ بہتر سوچنے اور بہتر فیصلہ کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ 

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

جیسے آج کے دور میں لوگ لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں قدیم زمانے کے لوگ بھی ایسے ہی یہ خواہش رکھتے تھے۔ یونانی اور رومی لوگ دور دراز علاقوں کے باشندوں کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں سنتے تھے کہ وہ سو سال سے بھی زیادہ جیتے ہیں۔ یونانی ادیب Lucian (تقریباً 120-180 ء) لکھتا ہے: ''واقعی کچھ ایسی قومیں بھی ہیں جو بہت لمبی عمر پاتی ہیں جیسے سیرس (چین کے لوگ) جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تین سو سال تک زندہ رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی لمبی عمر کی وجہ وہاں کی آب و ہوا کو قرار دیتے ہیں، کچھ زمین کو اور کچھ ان کی خوراک کوکیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔اسی طرح ایتھوس کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 130 سال تک زندہ رہتے ہیں اور جنوبی میسوپوٹیمیا کے لوگ سو سال سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جو کی روٹی کھاتے ہیں، جو ان کی بینائی کو تیز رکھتی ہے۔‘‘چاہے ان باتوں میں کتنی ہی سچائی ہو ایک بات واضح ہے کہ یونانی اور رومی لوگ بھی لمبی اور صحت مند زندگی کے خواہش مند تھے اور وہ اس کے طریقے تلاش کرتے رہتے تھے۔ایک قدیم طبیب کی نظر میںقدیم زمانے کے طبیب اس بات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ لمبی عمر پانے والے لوگ روزمرہ زندگی میں کیا کرتے ہیں۔ یونانی حکیم جالینوس( Galen،129-216 ء) نے ایسے دو لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ خود جانتا تھا۔پہلا شخص ٹیلیفس نامی ایک عالم تھا جو تقریباً سو سال جیا۔ جالینوس کے مطابق وہ دن میں صرف تین بار کھانا کھاتا تھا اور اس کی خوراک نہایت سادہ تھی۔ صبح وہ پانی میں پکا ہوا دلیہ شہد کے ساتھ کھاتا تھا۔ دوپہر کو پہلے سبزیاں کھاتا پھر تھوڑی سی مچھلی یا پرندے کا گوشت۔ شام کو وہ صرف روٹی کھاتا۔اس کی نہانے کی عادتیں بھی کچھ مختلف تھیں۔ وہ روزانہ زیتون کے تیل سے مساج کرواتا لیکن نہاتا کم تھا۔سردیوں میں مہینے میں دو بار، گرمیوں میں چار بار، اور درمیانی موسم میں تین بار۔دوسرا شخص اینٹیوکس نامی ایک بوڑھا طبیب تھا جو اسی سال سے زیادہ جیا۔ اس کی خوراک بھی سادہ تھی۔ صبح شہد کے ساتھ روٹی، دوپہر کو مچھلی اور رات کو ہلکی غذا جیسے دلیہ یا پرندے کا گوشت کھاتا تھا۔وہ روزانہ چہل قدمی کرتا تھا، کبھی رتھ میں سیر کرتا اور کبھی لوگوں سے اٹھوا کر شہر میں گھومتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنی عمر کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتا تھا۔جالینوس کے مطابق اسی متوازن طرزِ زندگی کی بدولت اینٹیوکس بڑھاپے تک صحت مند رہا۔ وہ آخر وقت تک ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہا۔ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ہر کوئی سو سال نہیں جیتا،یہ بات قدیم لوگ بھی جانتے تھے مگر Lucian ایک بات کہتا ہے:''دنیا کے ہر علاقے اور ہر موسم میں وہی لوگ لمبی عمر پاتے ہیں جو مناسب ورزش کرتے ہیں اور صحت کے مطابق غذا اختیار کرتے ہیں۔‘‘اس لیے وہ مشورہ دیتا ہے کہ اگر ہم لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں کے طرزِ زندگی کو اپنانا چاہیے جو واقعی لمبی عمر پاتے ہیں۔اگر آپ دوسری صدی عیسوی کے روم میں رہتے، تو ٹیلیفس اور اینٹیوکس جیسے سادہ غذا کھانے اور متحرک رہنے والے لوگ آپ کے لیے بہترین نمونہ ہوتے۔  

آج کا دن

آج کا دن

انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی29 اپریل 1660ء کو انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی جب چارلس ii آف انگلینڈکو دوبارہ بادشاہ تسلیم کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اس پیش رفت نے خانہ جنگی اور جمہوریہ کے دور کے بعد سیاسی استحکام پیدا کیا۔اولیور کومویل کے دور کے خاتمے کے بعد یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جس نے برطانیہ کی آئینی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ لوئزیانا خریداری کا معاہدہ 29 اپریل 1803ء کو امریکہ اور فرانس کے درمیان ریاست لوئزیانا کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت نپولین بوناپارٹ نے ایک وسیع علاقہ امریکہ کو فروخت کیا جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے مغرب کی جانب توسیع، معاشی ترقی اور سیاسی طاقت میں اضافہ ممکن بنایا۔ڈاخاؤ حراستی کیمپ کی آزادی29 اپریل 1945ء کو امریکی افواج نے ڈاخاؤ حراستی کیمپ کو آزاد کروایا۔ یہ نازی جرمنی کے ابتدائی اور بدنام زمانہ کیمپوں میں سے ایک تھا جہاں ہزاروں قیدیوں کو قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب اتحادی فوجیں یہاں پہنچیں تو انہوں نے انتہائی خوفناک حالات دیکھے۔بھوکے، بیمار قیدی اور لاشوں کے انبار۔ یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ کے اختتامی دنوں میں نازی مظالم کی ایک ہولناک تصویر دنیا کے سامنے لایا اور اس کے بعد جلد ہی جرمنی کی شکست واقع ہوئی۔ سیگون سے انخلا29 اپریل 1975ء کو امریکہ نے ویتنام جنگ کے آخری مرحلے میں اپنے شہریوں اور اتحادیوں کو سیگون سے نکالنا شروع کیا۔ اس وقت شمالی ویتنام کی افواج شہر کے قریب پہنچ چکی تھیں اور جنوبی ویتنام کی حکومت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سفارتخانے اور دیگر مقامات سے لوگوں کو نکالا گیا اور یہ منظر دنیا بھر میں نشر ہوا۔ یہ انخلاویتنام جنگ کے اختتام کی واضح علامت تھا کیونکہ اگلے ہی دن سیگون پر قبضہ ہو گیا۔ لاس اینجلس فسادات 29 اپریل 1992ء کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں شدید فسادات شروع ہوئے جب عدالت نے روڈنی کنگ پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کو بری کر دیا۔ اس فیصلے نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا اور شہر میں لوٹ مار، آتش زنی اور احتجاج شروع ہو گیا۔ یہ فسادات کئی دنوں تک جاری رہے اور درجنوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے امریکہ میں نسلی امتیاز، پولیس کے رویے اور عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے اور بعد میں اصلاحات کی بحث کو جنم دیا۔    

گندم کی کٹائی اور گہائی

گندم کی کٹائی اور گہائی

محنت،ثقافت اور خوشیوں کی روایتاپریل ، مئی ہمارے ملک کے میدانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ برصغیر کے دیہی معاشرے میں گندم کی فصل صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو گاؤں کے کھیتوں میں سنہری بالیوں کا منظر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زمین نے سونے کا لباس پہن لیا ہو۔ اس خوبصورت منظر کے بعد شروع ہوتا ہے گندم کی کٹائی اور پھر گہائی کا مرحلہ، جو محض ایک زرعی عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہوار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔پہلے زمانے میں ہر جگہ مگر آج بھی کہیں کہیں گندم کی کٹائی ہاتھوں سے درانتی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرد، عورتیں اور بعض اوقات بچے بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ فصل کو کاٹ کر گٹھوں (پولوں) کی شکل میں باندھ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں کھیت کے کسی صاف اور ہموار حصے میں جمع کیا جاتا جسے '' کھلیان ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہی کھلیان بعد میں گندم کی گہائی کا مرکز بنتے ہیں۔ گندم کی گہائی کا عمل نہایت محنت طلب کام ہے۔ آج کے جدید تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر مشینوں کی جگہ ماضی میں بیلوں یا اونٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گندم کے گٹھوں کو ایک ڈھیری کی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا۔پھر اسے زمین پر بچھا کر اس کے اوپر جانوروں کو چکر لگوائے جاتے تھے۔ بعض کسان بیلوں کے پیچھے اس گندم کی ڈھیری میں سے بڑے بڑے پھلے بنا کر باندھتے۔ پورا دن جانور ایک دائرے میں گھومتے رہتے۔ جس کے نتیجے میں گندم کی بالیوں سے دانے الگ ہو جاتے۔ گہائی کے دوران کسان بڑی محنت اور صبر سے کام لیتے۔ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی کام شروع ہو جاتا۔ وہ مسلسل ایک ہی جگہ پر گندم کو روندتے رہتے۔ اس روندی ہوئی فصل کو لکڑی سے بنے ہوئے اوزاروں سے الٹ پلٹ بھی کرتے رہتے۔ گندم کے تنکوں اور دانوں سے بھوسہ الگ کیاجاتا۔جب دانے مکمل طور پر الگ ہو جاتے تو انہیں ایک جگہ جمع کر کے ڈھیری بنائی جاتی۔گندم کی یہ ڈھیری نہ صرف کسان کی محنت کا ثمر ہوتی بلکہ اس کے سال بھر کے رزق کی علامت بھی سمجھی جاتی۔ جب گندم کی ڈھیری تیار ہو جاتی تو اس کے بعد آتا تولائی کا مرحلہ۔ پرانے زمانے میں ترازو اور باٹ کے ذریعے گندم تولی جاتی تھی۔ اس موقع پر گاؤں کے بچے بھی بڑی دلچسپی سے کھلیان میں آ جاتے۔ایک خوبصورت روایت یہ تھی کہ جب گندم تولی جاتی تو بچوں کو خوشی کے طور پر دانے دیے جاتے۔ بچے اپنے چھوٹے چھوٹے دامن میں گندم کے دانے لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ بعض جگہوں پر بچوں کو چنگیر بھر کر گندم دی جاتی جو اُن کے لیے کسی انعام سے کم نہ ہوتی تھی۔یہ روایت نہ صرف بچوں کی خوشی کا باعث بنتی بلکہ انہیں محنت اور رزق کی قدر بھی سکھاتی تھی۔ وہ دیکھتے کہ یہ دانے کتنی محنت کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کے دل میں کسانوں کے لیے احترام پیدا ہوتا۔ سال بھر کسان کا کام کرنے والے بھی کھلیان میں پہنچ جاتے اور سال بھر کی محنت کا عوضانہ وصول کرتے۔گندم کی گہائی کے دن سے گاؤں میں ایک خاص رونق ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آتے، کھانا اکٹھے کھایا جاتا۔یہ محنت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی تجربہ بھی تھی۔ اس میں تعاون، بھائی چارہ اور سادگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ ہر شخص دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتا اور کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اج کے جدید دور میں مشینوں نے ان تمام روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ تھریشر، کمبائن ہارویسٹر اور دیگر زرعی آلات نے کام کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ثقافتی رنگ بھی ماند پڑ گئے ہیں جو کبھی گندم کی گہائی کا حصہ تھے۔ اب نہ وہ کھلیان کی رونق رہی، نہ بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز اور نہ ہی بچوں کو دانے دینے کی وہ سادہ مگر خوبصورت روایت۔ سب کچھ مشینی اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔ گندم کی گہائی ایک مکمل ثقافتی عمل تھا جس میں محنت، خوشی، تعاون اور روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہ صرف دانے نکالنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار روایت تھی جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ طریقے بدل گئے ہیں لیکن ان روایات کی یادیں آج بھی دیہی سماج کے حسن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان روایات کو یاد رکھیں اور اپنی نئی نسل کو ان سے روشناس کرائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس محنت اور محبت سے یہ زمین آباد کی تھی۔

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک جائزہنیند انسانی زندگی کی ایک بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی توانائی کو بحال کرتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس پہ روشنی ڈالی ہے کہ نیند کا دورانیہ براہِ راست دماغی بیماریوں، خصوصاً ڈیمنشیا کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مناسب نیند کس طرح ہماری دماغی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیمنشیا کیا ہے۔ ڈیمنشیا ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کی یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ عموماً عمر کے ساتھ بڑھتا ہے لیکن طرزِ زندگی کے کئی عوامل اس کے خطرے کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ انہی عوامل میں سے ایک اہم عنصر نیند ہے۔یارک یونیورسٹی کینیڈا کے ماہرین کی ایک ٹیم کی ایک حالیہ تحقیق میں تقریباً 69 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں لاکھوں افراد کے نیند کے معمولات اور دماغی صحت کا تجزیہ کیا گیا، اس جامع تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ وہ درمیانی حد ہے جہاں انسان کا دماغ بہترین طریقے سے کام کرتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حد سے کم یا زیادہ سوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی دماغ کو مکمل آرام نہیں دیتی جس کے نتیجے میں دماغی خلیات صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ نیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرتا ہے، لیکن کم نیند اس عمل کو متاثر کرتی ہے۔دوسری طرف اگر کوئی شخص 8 گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ نیند لینے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ نیند لینا اکثر کسی پوشیدہ بیماری یا کمزور صحت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سونا جسمانی سرگرمی میں کمی کا باعث بنتا ہے جو دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف نیند ہی کافی نہیں بلکہ دیگر طرزِ زندگی کے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ بیٹھا رہتا ہے (جیسے دفتر میں کام کرنے والے افراد) تو اس میں بھی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہفتے میں 150 منٹ سے کم جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔اس تحقیق سے ایک اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ متوازن طرزِ زندگی اپنانا بے حد ضروری ہے۔ نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ کی عادات ،یہ سب مل کر ہماری دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف نیند پر توجہ دیں اور باقی عوامل کو نظر انداز کریں تو ہم مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔مزید یہ کہ نیند کا معیار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کا دورانیہ۔ اگر کوئی شخص 7 سے 8 گھنٹے بستر پر تو گزارتا ہے لیکن اس کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے یا وہ بے سکون رہتا ہے تو اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے ضروری ہے کہ سونے کا ماحول پرسکون ہو، روشنی کم ہو اور سونے سے پہلے موبائل یا سکرین کا استعمال محدود کیا جائے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ایک مستقل نیند کا شیڈول اپنایا جائے یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ اس سے جسم کا اندرونی نظام درست رہتا ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نیند ایک سادہ مگر مؤثر ذریعہ ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند، مناسب جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف ڈیمنشیا بلکہ دیگر کئی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہمیں بڑے اور پیچیدہ اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادات میں بہتری لا کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیند کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے اس لیے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مسولینی کی موت 28 اپریل 1945 کو بینیٹو مسولینی کو اطالوی مزاحمتی جنگجوؤں نے قتل کر دیا۔ مسولینی اٹلی کا فاشسٹ حکمران تھا جس نے 1922 سے ملک پر آمریت قائم کر رکھی تھی۔ وہ ہٹلر کا قریبی اتحادی تھا اور دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے ساتھ شامل رہا۔جنگ کے آخری دنوں میں جب اتحادی افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں تو مسولینی نے سوئٹزرلینڈ فرار ہونے کی کوشش کی تاہم راستے میں اطالوی پارٹیزنز نے اسے گرفتار کر لیا۔ 28 اپریل کو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مسولینی کا خاتمہ فاشزم کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ورکرز میموریل ڈےہر سال 28 اپریل کو دنیا بھر میں ورکرز میموریل ڈے منایا جاتا ہے، جسے عالمی یومِ تحفظ محنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان مزدوروں کو یاد کرنا ہے جو کام کے دوران حادثات یا بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ دن پہلی بار کینیڈا اور امریکہ میں منایا گیا اور بعد میں انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اور معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔چرنوبل حادثے کا انکشاف چرنوبل کا حادثہ 26 اپریل 1986ء کو پیش آیا لیکن 28 اپریل کو دنیا کو اس کی شدت کا علم ہوا۔ اس دن سویڈن کے ایک نیوکلیئر پلانٹ میں غیر معمولی تابکاری ریکارڈ کی گئی، تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ اخراج سوویت یونین کے شہر چرنوبل سے آ رہا ہے۔بین الاقوامی دباؤ کے بعد سوویت حکومت نے بالآخر اس حادثے کو تسلیم کیا۔ یہ تاریخ کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس میں ری ایکٹر نمبر 4 دھماکے سے تباہ ہو گیا اور بڑی مقدار میں تابکار مادہ فضا میں پھیل گیا۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کئی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ ایئر بس اے 300 کی پرواز 28 اپریل 1974 کوائیر بس اے 300 نے اپنی پہلی باقاعدہ کمرشل پرواز مکمل کی۔ یہ طیارہ یورپی کمپنی Airbus نے تیار کیا تھا اور یہ دنیا کا پہلا دو انجن والا وائیڈ باڈی طیارہ تھا۔اس طیارے کی پہلی پرواز ایئرفرانس نے چلائی۔ اس کامیابی نے عالمی ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئی راہ کھولی کیونکہ اس سے پہلے بڑے طیارے زیادہ تر چار انجن والے ہوتے تھے۔A300کی کامیابی کے بعد Airbus نے مزید جدید طیارے تیار کیے جنہوں نے ہوائی سفر کو زیادہ محفوظ، سستا اور مؤثر بنایا۔ میری لینڈ یونیورسٹی کا قیام 28 اپریل 1856ء کو امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدا میں اسے میری لینڈ ایگریکلچر کالج کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے کا مقصد زراعت، سائنس اور عملی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گئی جہاں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔آج یہ یونیورسٹی امریکہ کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کا کردار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، اور سماجی علوم میں نہایت اہم رہا ہے۔