جنگلی حیات انسانوں کے لیے کیوں ضروری ہے؟
اسپیشل فیچر
جنگلی حیات کا خاتمہ انسانوں کو اچھے ماحول سے محروم کر دے گا۔جنگلی حیات سے مراد وہ درخت اور جانور جن میں چوپائے، ممالیہ، پرندے، آبی حیات اور رینگنے والے وہ جانور جو انسانی آبادی سے دور اپنے قدرتی ماحول یا قدرت کے فراہم کردہ قدرتی ماحول میں زندگی گزارتے ہیں انہیں جنگلی حیات کہا جاتا ہے۔ جن کا اپنی خوراک کا حصول اپنے قدرتی ماحول سے ہوتا ہے اور وہ اپنے ہی قدرتی ماحول میں قدرت کے متعین کردہ طریقے سے پیدا ہوتے ہیں اور زندگی گزارنے کے بعد اپنے ہی قدرتی ماحول میں مرکر دفن یا ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر جنگلی حیات کی اہمیت کو اُجاگر نہ کیا جائے تو یہ اس روح زمین پر پائے جانے والے انسانوں کے ساتھ زیادتی ہو گی اور جنگلی حیات کی اہمیت اُجاگر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جنگلی حیات انسانوں کے لیے کیوں ضروری ہے اور قدرت نے انہیں اس روح زمین پر کیوں پیدا کیا؟ قدرت نے جب یہ دنیا تخلیق کی تو اس نے اس زمین پر سب سے پہلے انسان جو کہ اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتی ہے پیدا کیا اور اس زمین پر انسانوں کے رہنے اور بسنے یا زندگی گزارنے کے لیے باقاعدہ ایک نظام وضع کیا اور اس نظام کو چلانے کے لیے اس روح زمین پر درخت، جانور، پرندے، آبی حیات مچھلیاں اور رینگنے والے جانور بھی پیدا کئے جن کو مختلف قسم کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ مثال کے طور پر کچھ جانوروں کو قدرت نے زمین کی صفائی پر مامور کر دیا جیسا کہ اس روح زمین پر پائے جانے والے پرندوں کی نسل میں سے گدھ ہے جس کو قدرت نے مردارقسم کے جانور کھانے پر مامور کیا۔ گدھ جن مردار جانوروں کو کھاتا ہے،انہی مردار جانوروں کے ذریعے انسانوں میں مختلف قسم کی اور دوسری جان لیوا بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،جو پانی اور فضا کے ذریعے انسانوںمیں مختلف قسم کی جان لیوا اورر دوسری بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ۔اگر دیکھا جائے لگڑ بھگڑ بھی یہی کام جنگل میں انجام دے رہا ہے اور قدرت نے اسے جنگل کی صفائی پر مامور کیا ہے۔ لگڑ بھگڑ جنگل میں ان مردار جانوروں کو کھاتا ہے جن کے ذریعے مختلف قسم کی بیماریاں جنگل میں پائے جانے والے دوسروں جانوروں میں منتقل ہوتی ہیں، جن میں وہ جانور بھی شامل ہیں جو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے۔ سمندر، جھیلوں اور دریا میں پائے جانے والے آبی حیات پر ایک نظر ڈالیں تو قدرت نے بہت سی ایسی آبی حیات بھی پیدا کی ہیں جن کا کام یا ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ صرف پانی کی صفائی پر مامور ہیں جس کی سب سے بڑی مثال سمندر میں پائے جانے والے مختلف قسم کے سمندری کچھوئے اور مچھلیاں شامل ہیں، جو ان بیکٹیریا کو کھاتے ہیں جو پانی کو زہر آلودہ کر کے ان آبی حیات اور مچھلیوں میں منتقل ہوتے ہیں جن آبی حیات کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے۔ اسی طریقے سے اگر دیکھا جائے تو جھیلوں اور دریائوں میں پائے جانے والے میٹھے پانی کے کچھوئوں کو بھی قدرت نے دریائوں اور جھیلوں میں بہتے میٹھے پانی کی صفائی پر مامور کیا ہے جو ان دریائوں اور جھیلوں میں ان بیکٹیریا اور دوسرے اقسام کے بغیر صحت کیمیکل جو فیکٹریوں کے ذریعے پانی میں داخل ہو کر دریائوں اور جھیلوں میں پائی جانے والی آبی حیات جو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے انہیں زہر آلود ہونے سے بچاتے ہیں اور پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنا کر مختلف قسم کی جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ زمین پر قدرت کے پیدا کردہ وہ درخت نہ صرف زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ انسانوں کے لیے صاف اور تازہ ہوا کا ذریعہ بھی بنتے ہیں اور انسانی آبادیوں کو مختلف قسم کی آفات یعنی سیلابوں کی شدت کم کرنے اور انہیں روکنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔٭…٭…٭