پھلوں کا رس
اسپیشل فیچر
پھل قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ ان میں نشاستہ، پروٹین، وٹامنز، نمکیات اور فائبر (ریشہ) ہوتے ہیں ،جو جسم کی نشوونما کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی کمی بیشی سے انسان مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہر پھل میں ان اجزاء کی ترکیب الگ الگ خاص طریقے پر ہوتی ہے۔ اناج کے برعکس پھلوں میں جو شکر ہوتی ہے۔ اسے Fructose کہتے ہیں ،جو جسم کو قوت اور توانائی پہنچاتی ہے۔ پھلوں کے جوس کے روزانہ استعمال سے انسان سمارٹ، حسین اور چست رہتا ہے۔ صحت مند آدمی کے لیے بھی پھل کھانا ضروری ہے اور بیماریوں میں ان کی افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جو خوبیاں پھلوں میں ہوتی ہے۔ وہی ان کے رس میں ہوتی ہے۔ پھلوں کا رس جسم سے زہریلے مادے خارج کر کے اس کو طاقت اور توانائی پہنچاتا ہے۔ اس لیے تازہ پھلوں اور ان کے جوس کا باقاعدہ استعمال کریں۔ لیموں Lemon:لیموں ذائقہ بخش پھل ہے، جو ہر کھانے کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ یہ ہاضم ہے۔ قے اور متلی میں لیموں کاٹ کر تھوڑا سا نمک اور کالی مرچ چھڑک کر چٹائیں، لیمن جوس، گلاب کا عرق ہم وزن میں ایک چمچ گلیسرین یا شہد ملا کر لگانے سے کیل اور مہاسے ختم ہو جاتے ہیں۔ لیموں کی سکنجین پینے سے گرمی دور ہوتی ہے۔ ڈی ہائیڈریشن کنٹرول ہو جاتی ہے۔ بخار کم ہوتا ہے۔ الٹیاں ختم ہوتی ہیں۔ پیٹ کے افعال درست رہتے ہیں۔ دانتوں کی بیماری، پائیوریا یا ماسخورہ میں عرق گلاب میں رس ملا کر پلائیں۔ ملیریا میں لیموں کی سکنجین دیں۔ عرق میں بیسن ملا کر چہرے پر لگانے سے داغ دور ہوتے ہیں۔ دمہ میں لیمن جوس دن میں تین بار پلائیں۔ جگر و تلی کے امراض میں بہت فائدہ مند ہے۔ یرقان میں سکنجین بار بار پلائیں۔ سر درد ہو تو قہوہ میں لیموں نچوڑ کر پلائیں، نزلہ زکام میں لیموں کے گرم گودے میں شہد ملا کر کھلائیں۔ موٹاپا دور کرنے کے لیے روزانہ نہار منہ لیمن گراس قہوہ میں ایک لیموں نچوڑ کر لیں۔ ناشپاتی Pear:ناشپاتی کا خوبصورت پھل دیکھ کر دل للچاتا ہے کہ اسے چھلکے سمیت فوراً منہ میں ڈال لیا جائے۔ اس میں موجود پوٹاشیم خون کی گرمی دور کرتا ہے۔ یہ ہاضم بھی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔ قبض کشا ہے۔ مثانہ کی گرمی دور کرتی ہے۔ ناشپاتی کھانے سے خون کی نالیوں میں لچک Elasticity آتی ہے۔ دل ڈوبتا ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پتھری نکل جاتی ہے۔ یرقان میں بھی بہت مفید ہے۔آم:آم واقعی پھلوں کا بادشاہ ہے۔ ٹھنڈے میٹھے آم کھانے سے طبیعت واقعی شاداں و فرحاں ہو جاتی ہے۔ کچے آم، پکے آم، آم کی چٹنی، آم کا مربہ جس حالت میں بھی کھائیں، فائدہ ہوتا ہے۔ ہیضہ کی بیماری میں آم کے پتوں کی ڈنڈیاں 9 عدد، کالی مرچ 9 عدد پانی میں پیس کر گولیاں بنا لیں اور بار بار مریض کو دیں دست اور قے بند ہو جائیں گے۔ آم کی گٹھلی کا تیل جلے ہوئے پر لگانے سے فائدہ ہوگا۔ دانت ہلتے ہوں اور درد ہو تو پتے اور پھول پیس کر لگائیں۔ آم کا ملک شیک وزن بڑھانے کے لیے مفید ہے۔ آم کے پتوں میں ہم وزن پودینہ ملا کر جوشاندہ بنا لیں اور شہد ملا کر پلائیں فوراً قے اور نہ ختم ہونے والی ہچکی بند ہوگی۔ ہاتھ پائوں جلتے ہوں اور ہاتھوں میں پسینہ آتا ہو تو آم کا بور خزاں میں توڑ کر ہاتھوں پر ملیں اور لگا رہنے دیں انشاء اللہ شفا ہوگی۔ آلو بخارا:آلو بخارا کھانے سے دل کو تقویت ملتی ہے۔ معدہ اور جگر کے افعال درست ہوتے ہیں۔ شوگر کے مریض کھالیں تو فائدہ ہوتا ہے۔ آلو بخارا میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کم کرتا ہے۔ 3، 4 خشک آلو بخارے بھگو کر صبح خشک پودینہ، سونف ملا کر پینے سے جگر کا فعل درست ہوتا ہے۔ شدت کی گرمی میں آلو بخارا املی کا شربت پئیں۔ نیند نہ آئے تو رات کو 5، 6 دانے آلو بخارے کے کھائیں۔ اچھی نیند آئے گی۔ بچوں کو آلو بخارا ضرور کھلائیں، آلو بخارا چوسنے سے متلی ٹھیک ہوتی ہے۔ بلڈ کینسر میں بھی مفید ہے۔ قبض کشا ہے۔ مزاج کا چڑچڑا پن دور کرتا ہے اور بے چینی و بے قراری کو دور کرتا ہے۔