روداد حیات . باقی صدیقی

روداد حیات . باقی صدیقی

اسپیشل فیچر

تحریر : خالد مصطفی


کسی بھی فن کار کے فن پر تبصرہ سے قبل اس کے زمانے کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات کا جائزہ لینا از حد ضروری ہوتا ہے۔مزید برآںاس کی ذاتی زندگی کے متعلق موجود مواد سے بھی ہمیں اس کے نظریۂ فن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔باقی صدیقی کے درج بالا شعر کے تناظر میںاگرہم اس کی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ باقی صدیقی نے ایک مشکل زندگی بسر کی ۔وہ تمام عمر مجرد(غیر شادی شدہ) رہے اور زندگی کا بیشتر حصّہ اپنی چھوٹی بہن اصغری خانم کی رفاقت میں بسر کیا۔اصغری بیگم کی شادی ان کے خالہ زاد سے ہوئی تھی مگر نباہ نہ ہو سکا اور بات طلاق پر ختم ہوئی۔باقی صدیقی نے شاید اس کے بعد ہی ہمیشہ کے لئے مجرد رہنے کا فیصلہ کیا۔باقی صدیقی کا اصل نام محمد افضل تھا۔ آپ ۲۰ ، دسمبر ۱۹۰۸ء؁ کو سہام راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام احمد جی تھا۔محمد افضل(باقی صدیقی) نے راول پنڈی کے ڈینیز ہائی سکول سے میٹرک کیاجہاں آپ کے خالو قاضی عبدالمجید مدرس تھے۔اس سے قبل باقی صدیقی کے نانا قاضی فضل احمد بھی اس سکول میں پڑھاتے رہے۔باقی صدیقی نے میٹرک کے بعد اپنے ماموں چراغ دین کے ایما پرنارمل سکول گوجر خان سے جے وی کی پیشہ وارانہ ڈگری حاصل کی اور اس کے بعدآپ نے بطورمعلم عملی زندگی کا آغاز کیا۔عملی زندگی شروع ہوتے ہی آپ کی ادبی زندگی کا آغاز بھی ہوگیا تاہم آپ کے ماموں آپ کے اس ادبی مشغلے سے ناخوش تھے۔ آپ نے قیامِ پاکستان سے قبل چند انڈین فلموں میں ادا کاری بھی کی۔فلم ’’توپ کا بچہ‘‘میںکوتوال کا کردار اداکیااور فلم ’’مرد کا بچہ ‘‘ کے لئے گیت اور مکالمے لکھے۔ بعدازاں’’امپیریئل فلم کمپنی‘‘بمبئی میں نوکری بھی کرتے رہے تاہم ۱۹۴۰ء؁میںآپ نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج میںحوالدار کلرک بھرتی ہوئے۔ ۱۹۴۳ء؁ میں آرڈینس ڈپو میں ملازمت کی۔بعد ازاںآپ نے ملٹری انجینئرنگ سروسز(MES) میں(۱۹۴۵ء؁ تا ۱۹۴۹ء ؁ )بھی خدمات سرانجام دیں۔باقی صدیقی نے شعر گوئی کا آغاز ۱۹۲۸ء؁ میںپنجابی بیتوں سے کیااورغلام نبی کامل کی شاگردی اختیار کی۔ بعدازاںتلاشِ روز گارکے لئے پشاور کا رُخ کیا جہاں ان کی ملاقات محسن احسان،شوکت واسطی،احمد فرازاور رضا ہمدانی جیسے اہلِ علم سے ہوئی تو اُردو زبان میں بھی اشعار کہنا شروع کردیئے۔ لاہور میں آپ اپنے پھوپھی زاد حاجی منصب دار سے کبھی کبھار ملنے جاتے تو احسان دانش اور عبدالحمید عدم سے بھی ملتے۔عدم سے کبھی کبھار اصلاح بھی لے لیتے لیکن بعدازاں عدم صاحب سے کسی رنجش کی بنا پر قطعِ تعلق کر لیا۔باقی صدیقی کا پہلا شعری مجموعہ ’’جام ِجم‘‘ (نظمیں اور قطعات۔مکتبہ دانش، لاہور۔ ۱۹۴۴ء؁) کے نام سے احسان دانش نے لاہور سے شائع کیا جس میںعدم صاحب کا رنگ بہت نمایاں تھا۔دوسرامجموعہ’’دارورسن‘‘ (نظمیں، غزلیں، قطعات۔ قومی کتب خانہ،راول پنڈی۔ ۱۹۵۱ء؁) حکیم عبدالغنی نے شائع کیا۔اس مجموعے میں باقی صدیقی کی مشہور نظم ’’غلامی سے آزادی تک‘‘بھی شامل ہے۔اس مجموعے میں باقی صدیقی نے ۱۹۴۷ء؁ سے ۱۹۵۱ء؁ تک کہی گئی نظموں اور غزلوں کو شامل کیا ہے۔ ’’زخمِ بہار‘‘ (غزلیات۔ مکتبہ کارواں، لاہور۔ ۱۹۶۱ء؁) کے نام سے آپ کا تیسرا مجموعہ چوہدری عبدالحمید نے شائع کیا۔ اس مجموعے میں ۱۹۵۰ء؁ سے ۱۹۵۹ء؁ کے دوران کہا گیا کلام شامل ہے۔ آپ کی زندگی میں شائع ہونے والا آپ کا چوتھا مجموعہ’’ کچے گھڑے‘‘ (پنجابی/پوٹھواری نظمیں۔مجلس شاہ حسین، لاہور۔ ۱۹۶۷ء؁) تھا۔ باقی صدیقی کی وفات کے بعدان کے دوستوں نے ادبی تحریک کے نام سے ایک کمیٹی بنائی جس نے باقی صدیقی کے غیر مطبوعہ کلام کو شائع کرانے کا ذمہ لیا۔آپ کی وفات کے بعد شائع ہونے والا پانچواں مجموعہ ’’کتنی دیر چراغ جلا‘‘اسی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے۱۹۷۷؁ء میں شائع ہوا۔چھٹا مجموعہ’’ زادِ سفر‘‘ (نعتیں۔پنڈی ادبی سوسائٹی،راول پنڈی۔ ۱۹۸۴ء؁)کے نام سے شائع ہوا۔باقی صدیقی نے ۱۷ سال تک ریڈیو پر ملازمت کی اور دورانِ ملازمت ریڈیو کے لئے پوٹھواری اور اردو زبان میںڈرامے لکھے۔آپ نے پوٹھواری زبان میں گیت بھی لکھے۔آپ کے حلقۂ احباب میں عبدالعزیز فطرت،ایوب محسن،یوسف ظفر،رشید نثار،افضل پرویز،جمیل ملک،محبوب اختر،صادق نسیم اور شاید نصیر شامل تھے۔۱۹۴۹ء؁ سے ۱۹۵۳ء؁ تک آپ نے ادبی مجلے ’’راہِ منزل‘‘ کی ادارت بھی کی۔باقی صدیقی نے۸،جنوری ۱۹۷۲ء؁ کو ہفتے کے روزراولپنڈی میں وفات پائی اور آپ کی تدفین مسجد الغفار سے متّصل آبائی قبرستان قریشاں سہام راولپنڈی میں ہوئی۔آپ کی قبر کے کتبے پر یہ اشعار کندہ ہیں:۔دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیاکانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیاباقی ابھی یہ کون تھا موجِ صبا کے ساتھصحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیاباقی صدیقی کبھی بھی کسی ادبی گروہ کا حصّہ نہ بنے۔آپ کسی ادبی تنظیم یا حلقے کے باقاعدہ ممبر نہ تھے۔آپ نے گروہ بندیوں سے الگ تھلگ رہ کر ہمیشہ ادب کی خدمت کی اور ساری زندگی ادب کی ترویج و اشاعت کے لئے کام کیا ۔باقی صدیقی کا ایک اپنا نظریۂ شعر تھا اور وہ نظریہ محبت ،خلوص اور رواداری پر مشتمل تھا۔ داغِ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگےکچھ نہ پاکر بھی مطمئن ہیں ہمعشق میں ہاتھ کیا خزانے لگےہم تک آئے نہ آئے موسمِ گلکچھ پرندے تو چہچہانے لگے٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
دنیا گرمی سے بے حال، برفانی براعظم میں سردی کی نئی تاریخ رقم

دنیا گرمی سے بے حال، برفانی براعظم میں سردی کی نئی تاریخ رقم

انٹارکٹیکا میں درجہ حرارت منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈدنیا اس وقت شدید گرمی کی لہروں، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نبرد آزما ہے۔ یورپ، ایشیا اور شمالی امریکا کے متعدد ممالک میں درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے اور لاکھوں افراد جھلسا دینے والی گرمی سے متاثر ہیں۔ ایسے میں برفانی براعظم انٹارکٹیکا سے آنے والی خبر نے ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا، جہاں کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جو گزشتہ 14 برس کے دوران زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا کم ترین درجہ حرارت ہے۔ یہ حیران کن تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کرہ ارض کا موسمی نظام کس قدر پیچیدہ اور غیر متوقع ہو چکا ہے۔ ایک طرف دنیا کے بیشتر خطے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں تو دوسری جانب انٹارکٹیکا میں سردی کی شدت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی، قطبی علاقوں کی اہمیت اور زمین کے بدلتے ہوئے موسموں پر نئی سائنسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔18 جولائی کو کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن میں درجہ حرارت اچانک گر کر منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 119.4 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔''لائیو سائنس ‘‘کو فراہم کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، اسٹیشن پر یہ نیا کم ترین درجہ حرارت ایک ہی رات میں دو مرتبہ ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی بار مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 25 منٹ پر اور دوسری بار صبح 6 بج کر 34 منٹ پر۔یہ 2012ء کے بعد زمین پر کہیں بھی ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل مشرقی انٹارکٹیکا میں روس کے ووستوک (Vostok) ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت منفی 84.2 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 119.6 ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا تھا۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن سطح سمندر سے تقریباً 10,500 فٹ (3,200 میٹر) کی بلندی پر، 10,800 فٹ (3,300 میٹر) بلند برفانی سطح پر قائم ہے اور ساحل سے تقریباً 600 میل (ایک ہزار کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔سال کے اس حصے میں یہاں درجہ حرارت کا منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 112 ڈگری فارن ہائیٹ) سے نیچے چلا جانا معمول کی بات ہے، تاہم حالیہ ریکارڈ شدہ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ کم ہے۔اٹلی کے قومی انٹارکٹک ریسرچ پروگرام کی جانب سے کونکورڈیا اسٹیشن کے سربراہ گیبریئلے کاروگاتی کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انٹارکٹیکا کا موسم اب بھی کس قدر غیر متوقع اور تغیر پذیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اگرچہ شدید سردی معمول کی بات ہے، لیکن منفی 84 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کا ریکارڈ ہونا واقعی غیر معمولی اور قابلِ ذکر واقعہ ہے۔انٹارکٹیکا کے بلند و بالا برفانی سطح مرتفع پر واقع کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن زمین پر موجود انسانوں کی انتہائی دور افتادہ اور سخت ترین تحقیقی چوکیوں میں سے ایک ہے۔اس مقام کی غیر معمولی تنہائی اور آلودگی سے پاک قدرتی ماحول اسے زمین، فضائی ماحول اور بیرونی خلا سے متعلق سائنسی تحقیق کیلئے ایک مثالی مقام بناتا ہے۔ تاہم جیسے ہی موسمِ سرما شروع ہوتا ہے، خراب موسمی حالات کے باعث طیاروں کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے اور کونکورڈیا میں موجود محققین کے قریب ترین ہمسائے روس کے ووستوک ریسرچ اسٹیشن میں ہوتے ہیں، جو تقریباً 600 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اسی وجہ سے تکنیکی اعتبار سے کونکورڈیا میں تعینات عملہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود خلا بازوں سے بھی زیادہ تنہا زندگی گزارتا ہے، کیونکہ خلائی اسٹیشن زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہا ہوتا ہے۔کونکورڈیا کی منفرد جغرافیائی حیثیت کا ایک اور نتیجہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے شدید ترین سرد موسمی حالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کونکورڈیا اسٹیشن کے سربراہ گیبریئلے کاروگاتی کے مطابق موسمِ سرما میں کئی ماہ تک سورج طلوع نہیں ہوتا، فضا انتہائی خشک اور مستحکم رہتی ہے، جبکہ صاف آسمان کی وجہ سے حرارت مسلسل خلا میں خارج ہوتی رہتی ہے۔ چونکہ بادل موجود نہیں ہوتے، اس لیے گرمی واپس زمین کی طرف منعکس نہیں ہو پاتی اور درجہ حرارت غیر معمولی حد تک گر جاتا ہے۔اٹالین انٹارکٹک میٹیوکے مطابق، کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم درجہ حرارت منفی 84.7 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 120.5 ڈگری فارن ہائیٹ) تھا، جو 2010ء کے موسمِ سرما میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم زمین پر اب تک ریکارڈ کیے گئے کم ترین درجہ حرارت کا عالمی ریکارڈ روس کے ووستوک ویدر اسٹیشن کے پاس ہے، جہاں جولائی 1983ء میں درجہ حرارت منفی 89.2 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 128.6 ڈگری فارن ہائیٹ) تک گر گیا تھا۔دریں اثنا، مختلف مطالعات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ مستقبل میں درجہ حرارت اس سے بھی زیادہ ناقابلِ یقین حد تک گر سکتا ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مشرقی انٹارکٹیکا میں بعض مقامات پر درجہ حرارت منفی 98 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 144 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔یہ انتہائی کم درجہ حرارت برفانی چادر کے بلند ترین حصے کے قریب واقع کم گہرائی والے نشیبی مقامات پر ریکارڈ کیا جاتا ہے، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 13,290 فٹ (4,050 میٹر) کی بلندی پر واقع ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میںسائنس دانوں کا خیال ہے کہ قدرتی حالات میں، خواہ تمام موسمی عوامل سازگار ہی کیوں نہ ہوں، زمین پر ہوا کا درجہ حرارت تقریباً اسی حد تک گر سکتا ہے اور اس سے زیادہ سرد ہونا انتہائی مشکل ہے۔تاہم حالیہ ریکارڈ توڑ سردی کو حیران کن بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں ریکارڈ کی گئی ہے جب دنیا کے بیشتر حصے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔مغربی یورپ میں جون کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین جون ثابت ہوا، جبکہ شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث کینیڈا، فرانس، اسپین اور یونان میں جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خود انٹارکٹیکا میں بھی غیر معمولی گرمی کے آثار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔چند ہی ہفتے قبل شمالی انٹارکٹیکا کے ٹرینیٹی جزیرہ نما پر واقع ارجنٹائن کے ایسپرانزا (Esperanza) ریسرچ بیس میں موسمِ سرما کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت 15.4 ڈگری سینٹی گریڈ (59.7 ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا۔

برف میں طویل قیام

برف میں طویل قیام

پولینڈ کے شہری کا انوکھا کارنامہشدید سردی اور برف باری سے بچنے کیلئے انسان صدیوں سے نت نئے طریقے اختیار کرتا آیا ہے، لیکن دنیا میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انہی سخت موسمی حالات کو اپنی ہمت، حوصلے اور جسمانی صلاحیت کے امتحان میں بدل دیتے ہیں۔ برفانی سردی، جس میں چند لمحے گزارنا بھی عام انسان کیلئے دشوار ہوتا ہے، بعض مہم جو افراد کیلئے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حال ہی میں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انتہائی کم درجہ حرارت میں برف کے اندر خود کو طویل ترین وقت تک دفن رکھ کر نہ صرف اپنی غیر معمولی قوتِ برداشت کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔ اس حیران کن کارنامے نے دنیا بھر میں لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ انسانی عزم اور ارادے کی طاقت بظاہر ناممکن دکھائی دینے والے چیلنجز کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے خود کو حقیقی معنوں میں برف کا آدمی بنا کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ڈیمیئن کاسپرژک (Damian Kasprzyk) نے اپنے پورے جسم کو برف میں مکمل طور پر دفن کر کے مردوں کیلئے براہِ راست مکمل جسمانی طور پر برف کے ساتھ طویل ترین وقت گزارنے کا عالمی اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے 2 گھنٹے، 12 منٹ اور 12 سیکنڈ تک برف میں رہ کر یہ منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ حیران کن کارنامہ21 فروری کو شلاختووا (Szlachtowa)، پولینڈ میں انجام دیا۔41 سالہ ڈیمیئن کاسپرژک نے کہا کہ انتہائی مشکل اور غیر معمولی چیلنجز کی دنیا میں میری آمد کا سہرا متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز رکھنے والے والیرین رومانووسکی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف میری تربیت کی بلکہ برف میں ریکارڈ قائم کرنے کا خیال بھی پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ برف سے متعلق یہ حالیہ ریکارڈ دراصل میری تیسری کامیاب عالمی ریکارڈ کوشش تھی۔ اس سے قبل میں پورے جسم کو برف کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رکھنے اور برفیلے پانی میں مکمل طور پر ڈوب کر بھی عالمی ریکارڈ قائم کر چکا ہوں۔ اس مخصوص کوشش میں میرے ساتھ ماریا بودائی (جو ''میری آئس بریکر‘‘ کے نام سے مشہور ہیں) بھی شریک تھیں، جنہوں نے خواتین کے زمرے میں بھی نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ماریا بودائی نے خواتین کیلئے پورے جسم کے ساتھ برف میں طویل ترین وقت گزارنے کا عالمی ریکارڈ 3 گھنٹے، 33 منٹ اور 33 سیکنڈ تک برف میں رہ کر اپنے نام کیا۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے والیرین رومانووسکی اس وقت بھی دو عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھتے ہیں۔ ان میں برفیلے پانی میں سب سے طویل وقت تک ڈوبے رہنے کا مردوں کا عالمی ریکارڈ شامل ہے، جو 58 منٹ ہے، جبکہ دوسرا ریکارڈ 12 گھنٹوں میں دشوار گزار راستوں پر سائیکل چلانے کی سب سے طویل مسافت کا ہے، جہاں انہوں نے 314.65 کلومیٹر (195.51 میل) کا فاصلہ طے کیا۔دوسری جانب ڈیمیئن کاسپرژک بھی پورے جسم کے ساتھ برف میں طویل ترین وقت گزارنے کا موجودہ مردانہ عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھتے ہیں۔ انہوں نے 5 گھنٹے، ایک منٹ اور 33 سیکنڈ تک برف کے ساتھ مکمل جسمانی رابطہ برقرار رکھا، جبکہ اس سے قبل یہ ریکارڈ 2021ء میں والیرین رومانووسکی کے پاس تھا، جنہوں نے 3 گھنٹے اور 28 سیکنڈ تک برف میں رہ کر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔دو بچوں کے والد ڈیمیئن نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید انہیں سردی برداشت کرنے کی صلاحیت اپنے پیشے کی بدولت ملی ہے، کیونکہ وہ تھرمو کنگ (Thermo King) نامی کمپنی میں کام کرتے ہیں، جو درجۂ حرارت کو قابو میں رکھنے والے نقل و حمل کے نظام تیار کرتی ہے۔ڈیمیئن نے اپنے اس تازہ ترین عالمی ریکارڈ کی تیاری بھی والیرین رومانووسکی کی نگرانی میں کی۔ ان کے بقول والیرین نے مجھے ذہنی اور جسمانی دونوں اعتبار سے اس حد تک تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا کہ میں ایسے انتہائی سخت اور جان لیوا حالات کا مقابلہ کر سکوں۔اگرچہ ڈیمیئن اس سے قبل کئی مرتبہ برف اور برفیلے پانی میں مکمل طور پر ڈوب کر اپنی قوتِ برداشت کا مظاہرہ کر چکے تھے، لیکن اس نوعیت کے چیلنج میں براہِ راست برف کے ساتھ مسلسل جسمانی رابطہ قائم کرنے کی یہ ان کی پہلی کوشش تھی۔ڈیمیئن نے شدید سردی سے ہم آہنگ ہونے کے اپنے سفر کا آغاز سردیوں میں تیراکی اور برفیلے پانی میں غسل (آئس باتھ) کرنے سے کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت برداشت کرنے کا عادی بنایا اور یوں کانپتی سردی کے خلاف اپنی قوتِ برداشت میں بتدریج اضافہ کیا۔انہوں نے کہاکہ وقت گزرنے کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ سردی سے رشتہ جوڑنے سے مجھے گہرا ذہنی سکون ملتا ہے۔ یہ مجھے اپنی قوتِ برداشت کی حقیقی حدود جانچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میں یہ سب صرف عالمی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے نہیں کرتا، بلکہ انسانی صلاحیتوں کی آخری حدوں کو دریافت کرنے اور انہیں مزید آگے بڑھانے کے شوق اور تجسس کے تحت کرتا ہوں۔

ترشاوہ پھل گرنے کی وجوہات و روک تھام

ترشاوہ پھل گرنے کی وجوہات و روک تھام

ترشاوہ خاندان مثلاً مالٹا، مسمی، سنگترہ، کنو، گریپ فروٹ،لیموں اور مٹھا وغیرہ پیداوار کیلئے رقبہ کے لحاظ سے پاکستان میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔جبکہ ترشاوہ پھلوں کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔اس سلسلے کی سب سے بڑی رکاوٹ کاشتی امور، خوراک کی کمی اور مختلف قسم کے کیڑے اور بیماریاں ہیں جو کہ پودے کے تنے، شاخوں، پتوں اور پھلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ فی پودا کم پیداوار حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ پھل بھی چھوٹا اور بد شکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح باغ کے مالک کی محنت کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے اور ملک کو بھی بیرونی منڈیوں میں آرڈرپورا نہ کر سکنے کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔باغات کے مالکان کا ایک اور مسئلہ ترشاوہ خاندان میں پھل کا گرنا ہے اور ہر سال اس اہم مسئلہ سے لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ گرمیوں کے مہینوں میں ترشاوہ خاندان کے پودوں سے 60فیصد تک پھل گر جاتا ہے۔ ترشاوہ خاندان کے پودے جتنے پھول نکالتے ہیں اور جتنا پھل بنتا ہے، ان پودوں کیلئے سارا سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے پودا عموماً صحت اور طاقت کے مطابق پھل روک لیتا ہے اور باقی گرا دیتا ہے مگر پودے کی طاقت کے مطابق بھی ٹکا ہوا پھل گرنا شروع ہو جائے تو باغ کی پیداوار میں کافی حد تک کمی ہو جاتی ہے۔پھل ایک دفعہ نہیں گرتا بلکہ عموماً تین مختلف وقفوں میں گرتا ہے۔ ایک دفعہ پھل بننے کے فوراً بعد گرتا ہے۔ پھل ابھی مٹر کے دانے کے برابر ہی ہوتا ہے تو کافی تعداد میں گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ گرنے والے پھلوں میں اکثریت ان پھلوں کی ہوتی ہے جن کے پھولوں کے نر اور مادہ حصوں میں جفتی نہیں کھائی ہوتی۔ اس کے علاوہ خلیوں کی تقسیم کی وجہ سے پھل کی ٹہنی اور شاخ کے درمیان ایک تہہ جم جاتی ہے جو کہ خوراک کو پھل تک نہیں پہنچنے دیتی جس کی وجہ سے پھل گر جاتا ہے۔دوسری دفعہ ماہ جون، جولائی میں درمیانہ سائز کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ پھل ابھی زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اصل میں یہی وہ وقت ہے جب پودا وہ تمام پھل گرا دیتا ہے جس کو وہ خوراک نہیں پہنچا سکتا۔ ان مہینوں میں خوراک کا خیال رکھنااز حد ضروری ہے۔تیسری دفعہ ستمبر اکتوبر میں پھل بہت بڑا ہو جاتا ہے تو گرنا شروع ہو جاتا ہے اس وقت پھل کا گرنا باغ کے مالک کا بہت نقصان ہے۔ باغ کے کاشتی امور پودے کے پھل پر کافی اثر انداز ہوتے ہیں جن میں ہوا توڑ باڑوں کی کمی، اپریل یا مئی کے مہینوں میں پانی کی کمی یا زیادتی۔ باغ میں فصلوں کی کاشت مثلاً گندم جس کو اپریل مئی پانی نہیں لگانا ہوتا اور باغ کو اس وقت پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری فصل برسیم جس کو پانی زیادہ مقدار میں چاہئے اور زیادہ پانی کنوں کے پودوں کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔دوسری بڑی وجہ نائٹروجن کا تناسب اور نائٹروجن کے علاوہ دوسرے اجزا کی کمی پھل پر خصوصاً اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر نائٹروجن زیادہ ہو گئی تو پودے کی بڑھوتری تو بہت ہو گی مگر پھول اور پھل زیادہ گر جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر نائٹروجن کم ہو گئی اور کاربوہائیڈریٹ زیادہ ہوں گے تو پودے کی بڑھوتری کم ہو گی اور پھول بھی گر جائے گا۔ اس کے علاوہ فاسفورس اور پوٹاشیم کی کمی بھی پھل کے گرنے کی وجہ بن سکتی ہے۔تیسری بڑی وجہ کیڑے مکوڑے اور بیماریاں ہیں، جن کی وجہ سے پھل کسی وقت بھی گر سکتا ہے۔ پھل کی مکھی کے حملہ سے بڑے پھل کا گرنا باغات کے مالکان کیلئے بہت زیادہ نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ بعض اوقات سوکھے کے مرض سے شاخیں سرے سے خشک ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے پھل کی ڈنڈی کمزور ہو جاتی ہے اور پھل گر جاتا ہے۔چوتھی وجہ درجہ حرارت اور نمی میں فوری تبدیلی ہے، جس سے کافی پھل گر جاتے ہیں۔ کہر(دھند) بھی کافی حد تک پھل کے گرنے کا موجب بنتی ہے۔اوپر دی گئی تمام وجوہات کے علاوہ پھل گرنے کی ایک اور وجہ خلیوں کی تقسیم ہونے کے بعد پھل اور ٹہنی کے درمیان ایک تہہ جم جاتی ہے جو خوراک پھل تک نہیں پہنچنے دیتی اور اس طرح پھل کمزور ہو کر گر جاتا ہے۔ مناسب آبپاشی، بہتری کاشتی امور، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچائو اور متناسب خوراک کے باوجود پھل گرے تو اس کیلئے پلانٹ ہار مون کا سپرے کرکے پھل کو گرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ہارمون کی سپرے سے پھل کی ڈنڈی کے خلیے مضبوط ہو جاتے ہیں اور پھل و گرنے سے روکتے ہیں اور اس طرح خلیوں کی تقسیم کی وجہ سے پیدا شدہ تہہ کو توڑ کر خوراک کا راستہ پھل تک صاف کر دیتے ہیں اور اس طرح پھل سائز اور حجم میں بڑا ہونے کے علاوہ شکل میں بھی خوبصورت ہو جاتا ہے۔ جولائی، اگست اور ستمبر میں جب کیڑے مار ادویات کی سپرے کی ضرورت ہو تو ہارمون کو بھی ساتھ ملا لینا چاہیے۔

کسٹم کا مشاعرہ!

کسٹم کا مشاعرہ!

کسٹم والوں کے مصرع ہائے طرح برے نہیں لیکن ہماری سفارش ہے کہ آئندہ کوئی محکمہ مشاعرہ کرائے تو مصرع طرح کے اپنے کام کی مناسبت سے رکھے۔ مثلاً کسٹم کے مشاعرے کیلئے یہ مصرع زیادہ موزوں رہے گا:دادرحشر مرا نامہ اعمال نہ دیکھحج کا ثواب نذر کروں گا حضورکیاگلے ہفتے گوردھن داس کلاتھ مارکیٹ میں کپڑے والوں کی طرف سے جو مشاعرہ ہو رہا ہے اس کیلئے ہم یہ مصرعے تجویز کریں گے:ہائے اس چارہ گرہ، کپڑے کی قسمت غالبیا اپنا گریباں چاک، یا دامنِ یزداں چاکاندر کفن کے سر ہے تو باہر کفن کے پاؤںدھوبی، ڈرائی کلینر، ٹیلرماسٹرحضرات مشاعرہ کرائیں توان کے حسبِ مطلب بھی اساتذہ بہت کچھ کہہ گئے ہیں۔ منجملہ،دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہوگئےدامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریںتیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلاموٹرڈرائیورحضرات تو اپنے بس یا ٹرک کی باڈی پرلکھا ہوا کوئی مصرع بھی چن سکتے ہیں۔ جیسے،سامان سو برس کے ہیں کل کی خبر نہیںسب سے زیادہ آسانی گورکنوں کیلئے ہے کیونکہ اردو شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ کفن، دفن، گورکنی اورمردہ شوئی کے متعلق ہے۔ ہماری شاعری میں مردے بولتے ہیں اورکفن پھاڑ کر بولتے ہیں۔ بعضے تو منکر نکیر تک سے کٹ حجتی کرتے ہیں:چھیڑو نہ میٹھی نیند میں اے منکرونکیرسونے دو بھائی میں تھکا ماندہ ہوں راہ کااسی طرح ہمارے شاعروں نے بہت کچھ حکیموں، ڈاکٹروں اور عطائیوں کے بارے میں کہہ رکھا ہے۔ کل کلاں میڈیکل ایسوسی ایشن یا طبی کانفرنس والے یا جڑی بوٹی سنیاسی ٹوٹکا ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سائیں اکسیر بخش کشتہ مشاعرہ کرائیں تو حسب ذیل تیر بہدف مصرعے کام میں لا سکتے ہیں،یا الہٰی مٹ نہ جائے دردِ دلآخر اس درد کی دوا کیا ہےپہلے تو روغن گل بھینس کے انڈے سے نکالاور۔۔۔ مریضِ عشق پر رحمت خدا کی۔ وغیرہفیملی پلاننگ کے محکمے نے پچھلے دنوں ڈھیروں نظمیں لکھوائی ہیں، جن میں بعض میں ایسی تاثیر سنی ہے کہ کسی جوڑے کو پانی میں گھول کر پلا دیں تو نہ صرف ان کو بقیہ عمر کیلئے چھٹی ہوجائے بلکہ ان کی اگلی پچھلی سات نسلیں بھی لاولد ہو جائیں۔ ہمارے محکمہ زراعت اور آبپاشی نے ہمیں ذیل کے مصرعے بھیجے ہیں:ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقیکھیتوں کو دے لو پانی، اب بہہ رہی ہے گنگاجنگلات والوں کی پسند ملاحظہ ہو:پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہےکانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میںمجنوں جو مر گیا ہے تو صحرا اداس ہےایک مشاعرہ ہم ملتان کے چڑیا گھر میں پڑھ چکے ہیں جس کی طرحیں حسب ذیل تھیں:لاکھ طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہاکیا ہی کنڈل مار کر بیٹھا ہے جوڑا سانپ کامحکمے ہوگئے۔ اب اہل حرفہ کی بھی تو ضرورتیں ہیں۔ کریانہ فروشوں کی عید ملن پارٹی ہونے والی ہے۔ اس کیلئے بھی مصرع طرح تجویز کردیں:وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہےباربرایسوسی ایشن کے سالانہ مشاعرے کیلئے:کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تکہاکرز فیڈریشن والوں نے بھی ہم سے مصرع مانگا تھا۔ ایک نہیں دو حاضر ہیں:میں دل بیچتا ہوں، میں جاں بیچتا ہوںبیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم، کوئی ہمیں اٹھائے کیوںایک مصرع جوتے والوں کی نذر ہے:پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کیوکیل اس مصرع سے کام چلا سکتے ہیں:مدعی لاکھ برا چاہے کیا ہوتا ہےاور قصاب حضرات کیلئے ہم نے: کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجا نکال کےایک زمانے میں ہماری شاعری نے بادشاہوں اورنوابوں کی سرپرستی میں ترقی کی۔ ایک مشہور شاعر فرخی کو تو بادشاہ وقت نے خوش ہو کر مویشیوں کا ایک گلہ انعام میں دے دیا تھا۔ اس نے غالباً غزل گوئی چھوڑ چھاڑ کر دودھ بیچنے کا پیشہ اختیار کر لیا کیونکہ پھر اس کے خاندان میں کوئی شاعر ہم نے نہ سنا۔ ہمارے زمانے میں وارفنڈ والے، محکمہ زراعت والے، میلہ مویشیاں والے اس فن کے فروغ کا ذریعہ ہیں پھر کلاتھ ملوں والوں نے اس نیم جان کا پردہ ڈھکا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ انکم ٹیکس اور کسٹم والے بھی شاعری کی سرپرستی کی طرف توجہ کرنے لگے۔

آج کا دن

آج کا دن

آئیووا کا تباہ کن طوفان10اگست 2020 ء کو امریکی ریاست آئیووا میں آنیوالے تباہ کن طوفان ''ڈیریکو‘‘ نے بے پناہ تباہی مچائی۔ اسے امریکی تاریخ کی سب سے تباہ کن طوفانی آفت قرار دیا گیا۔ شدید طوفان کے باعث گھروں، فصلوں، بجلی کے نظام کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا،لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور معمولاتِ زندگی بری طرح درہم برہم ہو گئے۔دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ 10 اگست 1945ء کو جاپان کے شکست تسلیم کرنے کے بعد دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔ 1939ء سے 1945ء تک جاری رہنے والی دوسری عالمی جنگ تاریخ کا اب تک کا سب سے مہلک عالمی تنازع تھا، جس کے نتیجے میں 7 سے ساڑھے 8 کروڑ ہلاکتیں ہوئیں۔ دنیا کے ممالک دو مخالف فوجی اتحاد کے حصے کے طور پر لڑے۔ ایردوان کی تاریخی کامیابی10 اگست 2014ء کو ترکیہ میں پہلی بار صدر کا انتخاب عوامی رائے دہی کے ذریعے کیا گیا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں رجب طیب ایردوان ملک کے 12 ویں صدر بنے۔28اگست کو انہوں نے اپنے منصب کا حلف اٹھایا۔ 26 فروری 1954ء کو پیدا ہونے والے رجب طیب ایردوان ایک ترک سیاست دان، استنبول کے سابق ناظم، جمہوریہ ترکیہ کے سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر ہیں۔''میگیلن ‘‘ کی وینس تک رسائی1990ء میں آج کے روز خلائی جہاز ''میگیلن‘‘ کامیابی کے ساتھ وینس تک پہنچا۔ یہ وینس کیلئے ناسا کا پانچواں مشن تھاجسے 4 مئی 1989ء کو روانہ کیا گیا تھا۔1035 کلوگرام وزنی روبوٹک خلائی مشن کے مقاصد میں سے ایک وینس کی سطح کا نقشہ بنانا اور سیاروں کی کشش ثقل کے میدان کی پیمائش کرنا تھا۔انگولا ٹرین حملہ2001ء میں آج کے روز انگولا ٹرین حادثہ رونما ہوا۔یہ سانحہ انگولا کی خانہ جنگی کے دوران ہوا ایک حملہ تھا جب UNITA فورسز نے Zenza اور Dondo کے قصبوں کے درمیان سفر کرنے والی ٹرین کو اینٹی ٹینک بارودی سرنگ سے پٹڑی سے اتار دیا اور پھر مسافروں پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس میں 252 افراد ہلاک ہوئے۔ مڈغاسکر دریافت ہوا1500ء میں پرتگالی مہم جو ڈیاگو ڈیاز نے جزیرہ مڈغاسکر دریافت کیا۔ ڈیاگو ڈیازپرتگال کے ابتدائی بحری ادوار میں ہند اور مشرقی افریقہ کی تلاش میں بھیجے گئے بیڑوں کا حصہ تھے۔ ایک طوفان میں ان کا جہاز قافلے سے جدا ہوکرجنوب مشرقی افریقہ کے قریب ایک بڑے جزیرے پر پہنچ گیا، جو آج مڈغاسکر کہلاتا ہے۔تہران فضائی حادثہ2014ء میں آج کے روز ایران کے دارالحکومت تہران کے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز بھرنے کے فوراً بعد سپاہان ایئرلائنز کی پرواز 5915 حادثے کا شکار ہو گئی۔ طیارہ گرنے کے نتیجے میں 40 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ اس افسوسناک سانحے نے ایران میں فضائی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔

نو عمر لڑکے کا کمال

نو عمر لڑکے کا کمال

دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیارٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عمر کبھی بھی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ آج کے دور میں نوجوان ذہن اپنی تخلیقی سوچ، اختراعی صلاحیتوں اور سائنسی مہارت کے بل بوتے پر ایسے کارنامے انجام دے رہے ہیں جو ماضی میں صرف تجربہ کار سائنس دانوں اور انجینئروں سے منسوب سمجھے جاتے تھے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مائیکرو انجینئرنگ جیسے شعبوں میں نوجوان نسل کی غیر معمولی دلچسپی نت نئی ایجادات کو جنم دے رہی ہے، جو نہ صرف سائنسی دنیا کو حیران کر رہی ہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کا رخ بھی متعین کر رہی ہیں۔ایسی ہی ایک حیران کن مثال ایک نوعمر انجینئر نے قائم کی ہے، جس نے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر کے عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ یہ اس نوجوان کی دوسری ریکارڈ ساز ایجاد ہے، جو اس کی غیر معمولی ذہانت، مسلسل محنت اور سائنسی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کامیابی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو مناسب رہنمائی، وسائل اور مواقع میسر ہوں تو وہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔17 سالہ طالب علم ہیتن نے رواں سال جنوری میں دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ مائیکرو انجینئرنگ کے شعبے میں مزید عالمی ریکارڈز لانے کے خواہشمند ہیتن کا کہنا ہے کہ میرا ذاتی مقصد یہ ہے کہ میں ہر سال ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کروں۔ ہیتن کی انتہائی چھوٹی چیزیں تیار کرنے (extreme miniaturisation) سے متعلق تحقیق کے دوران ان کی نظر اس شعبے کے سابق عالمی ریکارڈ ہولڈر کیلٹن سیرا(Kelton Serra) پر پڑی، جنہوں نے 16 مئی 2024ء کو یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ان کا تیار کردہ روبوٹک بازو 44.49 ملی میٹر (1.75 انچ) لمبا تھا۔ہیتن کی ریکارڈ ساز کوشش میں تیار کیا گیا روبوٹک بازو اس سے 5 ملی میٹر چھوٹا تھا۔ اس کی لمبائی صرف 39.25 ملی میٹر (1.54 انچ) تھی، یعنی یہ تقریباً ایک عام پیپر کلپ سے کچھ ہی بڑا تھا۔ہیتن جانتے تھے کہ ریکارڈ بنانے کی اس کوشش کا ایک اہم مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ انتہائی درستگی کے حامل مائیکرو مینوفیکچرنگ کیلئے کسی بڑے اور جدید ترین لیبارٹری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پیچیدہ اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے میکینکل نظاموں کو چھوٹے پیمانے پر ایک سادہ گھریلو ورک اسپیس میں بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے، ہیتن نے ایسے ''آسانی سے دستیاب پرزہ جات‘‘ تلاش کرنے پر وقت صرف کیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جدید ترین اور عالمی معیار کی جدت طرازی عام دستیاب ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے اپنے ڈیزائن کے ابتدائی خاکے بنانا شروع کیے اور صرف دو ماہ بعد ان کے پاس دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو کا ایک مکمل طور پر فعال نمونہ (Prototype) تیار تھا۔ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو بنانے کے تجربے کے بارے میں پوچھے جانے پر ہیتن نے بتایا کہ میں نے جدید سی اے ڈی (CAD) سافٹ ویئر کی مدد سے میکینکل ڈھانچے کا ڈیزائن بالکل ابتدا سے تیار کرنا شروع کیا۔ جب ڈیجیٹل سمیولیشن(digital simulation) کامیاب اور درست نظر آئی تو میں نے اس کے بیرونی خول اور بیس پلیٹس (Baseplates) تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیں۔ہیتن نے یہ مکمل منصوبہ اپنے گھر میں موجود ورک اسپیس سے ہی مکمل کیا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جگہ کی کمی ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔انہوں نے کہاکہ 39.250 ملی میٹر کے انتہائی مختصر فریم میں کنٹرول ماڈیول، پیچیدہ وائرنگ اور ایکچیویٹرز (Actuators) کو نصب کرنا بعض اوقات انتہائی پریشان کن مرحلہ ثابت ہوا۔ اس دوران مجھے کئی ناکام پروٹوٹائپس کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جگہ بچانے کیلئے اگر میں تھری ڈی پرنٹ شدہ ڈھانچے کو بہت زیادہ پتلا بنا دیتا تو وہ کمزور ہو جاتا اور موٹرز کے ٹارک (Torque) کے دباؤ کو برداشت نہ کر پاتا اور ٹوٹ جاتا۔ہیتن کا تیار کردہ ڈیزائن نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا شاندار ثبوت ہے بلکہ کئی صنعتوں کیلئے ایک اہم اور مثبت پیش رفت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طبی شعبے میں ان کی ایجاد جیسی مائیکرو روبوٹک ٹیکنالوجی مستقبل میں پیچیدہ جراحی (سرجری) کے دوران مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ الیکٹرانکس کی صنعت میں یہ انتہائی درستگی کے ساتھ مائیکرو چِپس کی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ہیتن کے مطابق، انتہائی باریک اور درست پیمانے پر کام کرنے والی یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں چھوٹے سے چھوٹا آلہ بھی بڑے اور اہم کام انجام دے سکے گا۔اب دو مرتبہ گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنے والے ہیتن کی میکینکل کامیابیاں بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ روبوٹک بازو تیار کرنے کیلئے جسمانی اور الیکٹرو مکینیکل ٹارک پر عبور حاصل کرنا ضروری تھا۔ ایسی چیز بنانا جو صرف معلومات کو پراسیس نہ کرے بلکہ بڑے صنعتی روبوٹس کی طرح تین محوروں میں حرکت بھی کر سکے، حقیقی طور پر چھوٹی اشیا تک پہنچ سکے، انہیں مضبوطی سے پکڑ سکے اور بغیر گرائے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکے، ایک بالکل مختلف قسم کا میکینکل چیلنج تھا۔مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور الیکٹرانکس سے گہری دلچسپی رکھنے والے ہیتن کی صلاحیتیں صرف روبوٹک بازو بنانے تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک آف لائن اشاروں کی زبان کا ترجمہ کرنے والی موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی ہے، جس کا مقصد ابلاغی رکاوٹوں کو کم کرنا اور سماعت سے محروم افراد کیلئے رابطے کو آسان بنانا ہے۔