روداد حیات . باقی صدیقی

روداد حیات . باقی صدیقی

اسپیشل فیچر

تحریر : خالد مصطفی


کسی بھی فن کار کے فن پر تبصرہ سے قبل اس کے زمانے کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات کا جائزہ لینا از حد ضروری ہوتا ہے۔مزید برآںاس کی ذاتی زندگی کے متعلق موجود مواد سے بھی ہمیں اس کے نظریۂ فن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔باقی صدیقی کے درج بالا شعر کے تناظر میںاگرہم اس کی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ باقی صدیقی نے ایک مشکل زندگی بسر کی ۔وہ تمام عمر مجرد(غیر شادی شدہ) رہے اور زندگی کا بیشتر حصّہ اپنی چھوٹی بہن اصغری خانم کی رفاقت میں بسر کیا۔اصغری بیگم کی شادی ان کے خالہ زاد سے ہوئی تھی مگر نباہ نہ ہو سکا اور بات طلاق پر ختم ہوئی۔باقی صدیقی نے شاید اس کے بعد ہی ہمیشہ کے لئے مجرد رہنے کا فیصلہ کیا۔باقی صدیقی کا اصل نام محمد افضل تھا۔ آپ ۲۰ ، دسمبر ۱۹۰۸ء؁ کو سہام راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام احمد جی تھا۔محمد افضل(باقی صدیقی) نے راول پنڈی کے ڈینیز ہائی سکول سے میٹرک کیاجہاں آپ کے خالو قاضی عبدالمجید مدرس تھے۔اس سے قبل باقی صدیقی کے نانا قاضی فضل احمد بھی اس سکول میں پڑھاتے رہے۔باقی صدیقی نے میٹرک کے بعد اپنے ماموں چراغ دین کے ایما پرنارمل سکول گوجر خان سے جے وی کی پیشہ وارانہ ڈگری حاصل کی اور اس کے بعدآپ نے بطورمعلم عملی زندگی کا آغاز کیا۔عملی زندگی شروع ہوتے ہی آپ کی ادبی زندگی کا آغاز بھی ہوگیا تاہم آپ کے ماموں آپ کے اس ادبی مشغلے سے ناخوش تھے۔ آپ نے قیامِ پاکستان سے قبل چند انڈین فلموں میں ادا کاری بھی کی۔فلم ’’توپ کا بچہ‘‘میںکوتوال کا کردار اداکیااور فلم ’’مرد کا بچہ ‘‘ کے لئے گیت اور مکالمے لکھے۔ بعدازاں’’امپیریئل فلم کمپنی‘‘بمبئی میں نوکری بھی کرتے رہے تاہم ۱۹۴۰ء؁میںآپ نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج میںحوالدار کلرک بھرتی ہوئے۔ ۱۹۴۳ء؁ میں آرڈینس ڈپو میں ملازمت کی۔بعد ازاںآپ نے ملٹری انجینئرنگ سروسز(MES) میں(۱۹۴۵ء؁ تا ۱۹۴۹ء ؁ )بھی خدمات سرانجام دیں۔باقی صدیقی نے شعر گوئی کا آغاز ۱۹۲۸ء؁ میںپنجابی بیتوں سے کیااورغلام نبی کامل کی شاگردی اختیار کی۔ بعدازاںتلاشِ روز گارکے لئے پشاور کا رُخ کیا جہاں ان کی ملاقات محسن احسان،شوکت واسطی،احمد فرازاور رضا ہمدانی جیسے اہلِ علم سے ہوئی تو اُردو زبان میں بھی اشعار کہنا شروع کردیئے۔ لاہور میں آپ اپنے پھوپھی زاد حاجی منصب دار سے کبھی کبھار ملنے جاتے تو احسان دانش اور عبدالحمید عدم سے بھی ملتے۔عدم سے کبھی کبھار اصلاح بھی لے لیتے لیکن بعدازاں عدم صاحب سے کسی رنجش کی بنا پر قطعِ تعلق کر لیا۔باقی صدیقی کا پہلا شعری مجموعہ ’’جام ِجم‘‘ (نظمیں اور قطعات۔مکتبہ دانش، لاہور۔ ۱۹۴۴ء؁) کے نام سے احسان دانش نے لاہور سے شائع کیا جس میںعدم صاحب کا رنگ بہت نمایاں تھا۔دوسرامجموعہ’’دارورسن‘‘ (نظمیں، غزلیں، قطعات۔ قومی کتب خانہ،راول پنڈی۔ ۱۹۵۱ء؁) حکیم عبدالغنی نے شائع کیا۔اس مجموعے میں باقی صدیقی کی مشہور نظم ’’غلامی سے آزادی تک‘‘بھی شامل ہے۔اس مجموعے میں باقی صدیقی نے ۱۹۴۷ء؁ سے ۱۹۵۱ء؁ تک کہی گئی نظموں اور غزلوں کو شامل کیا ہے۔ ’’زخمِ بہار‘‘ (غزلیات۔ مکتبہ کارواں، لاہور۔ ۱۹۶۱ء؁) کے نام سے آپ کا تیسرا مجموعہ چوہدری عبدالحمید نے شائع کیا۔ اس مجموعے میں ۱۹۵۰ء؁ سے ۱۹۵۹ء؁ کے دوران کہا گیا کلام شامل ہے۔ آپ کی زندگی میں شائع ہونے والا آپ کا چوتھا مجموعہ’’ کچے گھڑے‘‘ (پنجابی/پوٹھواری نظمیں۔مجلس شاہ حسین، لاہور۔ ۱۹۶۷ء؁) تھا۔ باقی صدیقی کی وفات کے بعدان کے دوستوں نے ادبی تحریک کے نام سے ایک کمیٹی بنائی جس نے باقی صدیقی کے غیر مطبوعہ کلام کو شائع کرانے کا ذمہ لیا۔آپ کی وفات کے بعد شائع ہونے والا پانچواں مجموعہ ’’کتنی دیر چراغ جلا‘‘اسی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے۱۹۷۷؁ء میں شائع ہوا۔چھٹا مجموعہ’’ زادِ سفر‘‘ (نعتیں۔پنڈی ادبی سوسائٹی،راول پنڈی۔ ۱۹۸۴ء؁)کے نام سے شائع ہوا۔باقی صدیقی نے ۱۷ سال تک ریڈیو پر ملازمت کی اور دورانِ ملازمت ریڈیو کے لئے پوٹھواری اور اردو زبان میںڈرامے لکھے۔آپ نے پوٹھواری زبان میں گیت بھی لکھے۔آپ کے حلقۂ احباب میں عبدالعزیز فطرت،ایوب محسن،یوسف ظفر،رشید نثار،افضل پرویز،جمیل ملک،محبوب اختر،صادق نسیم اور شاید نصیر شامل تھے۔۱۹۴۹ء؁ سے ۱۹۵۳ء؁ تک آپ نے ادبی مجلے ’’راہِ منزل‘‘ کی ادارت بھی کی۔باقی صدیقی نے۸،جنوری ۱۹۷۲ء؁ کو ہفتے کے روزراولپنڈی میں وفات پائی اور آپ کی تدفین مسجد الغفار سے متّصل آبائی قبرستان قریشاں سہام راولپنڈی میں ہوئی۔آپ کی قبر کے کتبے پر یہ اشعار کندہ ہیں:۔دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیاکانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیاباقی ابھی یہ کون تھا موجِ صبا کے ساتھصحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیاباقی صدیقی کبھی بھی کسی ادبی گروہ کا حصّہ نہ بنے۔آپ کسی ادبی تنظیم یا حلقے کے باقاعدہ ممبر نہ تھے۔آپ نے گروہ بندیوں سے الگ تھلگ رہ کر ہمیشہ ادب کی خدمت کی اور ساری زندگی ادب کی ترویج و اشاعت کے لئے کام کیا ۔باقی صدیقی کا ایک اپنا نظریۂ شعر تھا اور وہ نظریہ محبت ،خلوص اور رواداری پر مشتمل تھا۔ داغِ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگےکچھ نہ پاکر بھی مطمئن ہیں ہمعشق میں ہاتھ کیا خزانے لگےہم تک آئے نہ آئے موسمِ گلکچھ پرندے تو چہچہانے لگے٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

ماحول دوست مستقبل کی جانب پیش رفتدنیا بھر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ماحولیاتی آلودگی کے سب سے بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک استعمال کے بعد کچرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا بڑا حصہ سمندروں، دریاؤں، جنگلات اور زمین میں جمع ہو کر ماحول، جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ لیکن پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے روایتی طریقے نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ ان میں توانائی کا زیادہ استعمال اور مختلف کیمیائی مادوں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ مگرایک نئی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، جس میں صرف پانی، آکسیجن اور حرارت کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کا ایک سادہ، کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ پیش کیا گیا ہے۔جدید تحقیق کیا بتاتی ہے؟ چین کی Zhejiang یونیورسٹی کے پروفیسر یونگ وانگ کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس میں پلاسٹک کے فضلے کو پانی اور آکسیجن کی موجودگی میں مناسب درجہ حرارت پر مخصوص عمل سے گزار کر قیمتی نامیاتی مادوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں مہنگے یا زہریلے کیمیائی مادے استعمال نہیں کیے جاتے جس سے اس عمل کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو گی۔تحقیق کے دوران پولی ایتھائلین (PE)، پولی پروپلین (PP) اور استعمال شدہ ربڑ جیسے ایسے مواد کو بھی کامیابی سے ری سائیکل کیا گیا جن کی ری سائیکلنگ ماضی میں خاصی مشکل سمجھی جاتی تھی۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کی بڑی مقدار انہی اقسام پر مشتمل ہوتی ہے۔ری سائیکلنگ کے اس نئے طریقہ کار سے حاصل ہونے والے نامیاتی مادے مختلف صنعتوں میں خام مال کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ادویات سازی، خوراک میں استعمال ہونے والے اجزا، زرعی مصنوعات، صنعتی کیمیکلز اور ماحول دوست بائیوڈیگریڈیبل مواد کی تیاری میں بھی ان مرکبات کی خاص اہمیت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پلاسٹک کو صرف فضلہ سمجھ کر تلف کرنے کے بجائے اسے دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنا ممکن اور نسبتاً آسان ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو پلاسٹک کا کچرا ایک قیمتی معاشی وسیلہ بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس طریقے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ گندے یا مختلف اقسام کے ملے جلے پلاسٹک پر بھی مؤثر ثابت ہوا جبکہ روایتی ری سائیکلنگ میں پلاسٹک کی صفائی اور الگ الگ درجہ بندی پر کافی اخراجات آتے ہیں۔پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کی نئی امیداقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک ماحول میں شامل ہو جاتا ہے جس کا صرف ایک محدود حصہ ہی ری سائیکل ہو پاتا ہے۔ باقی کچرا لینڈ فل، دریاؤں اور سمندروں میں جمع ہو کر آبی حیات، پرندوں اور دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اگر پانی اور آکسیجن پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اختیار کر لی جاتی ہے تو نہ صرف پلاسٹک کے ڈھیروں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہوگی۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم توانائی کا استعمال اس تحقیق کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں بھی اہم بنا دیتا ہے۔یہ پیش رفت سرکلر اکانومی (Circular Economy) کے تصور کو بھی فروغ دے سکتی ہے جس کے تحت استعمال شدہ اشیا کو دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کر کے قدرتی وسائل پر دباؤ کم کیا جاتا ہے۔پاکستان کیلئے اہمیتہمارا ملک بھی پلاسٹک آلودگی کے شدید مسائل سے دوچار ہے۔ شہروں میں شاپنگ بیگز، پلاسٹک کی بوتلیں، پیکنگ میٹریل اور دیگر فضلہ نالوں کی بندش، شہری آلودگی اور سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض شہروں میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن اس پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔اگر مستقبل میں یہ نئی ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی تجارتی سطح پر دستیاب ہو جائے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے پلاسٹک کے فضلے کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوگا بلکہ ری سائیکلنگ کی صنعت میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ شہری اگر پلاسٹک کے استعمال میں احتیاط کریں، غیر ضروری پلاسٹک سے گریز کریں اور استعمال شدہ پلاسٹک کو مناسب طریقے سے جمع کریں تو ری سائیکلنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔بہرکیف پانی اور آکسیجن کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کی یہ نئی تحقیق ماحولیات کے شعبے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر مکمل طور پر نافذ ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے لیکن ابتدائی نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید سائنس پلاسٹک آلودگی جیسے عالمی مسئلے کے لیے پائیدار اور کم خرچ حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف زمین کو صاف رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کر کے ماحول اور معیشت دونوں کے لیے نئے امکانات پیدا کریں گی۔

جنک فوڈ ڈے

جنک فوڈ ڈے

خوراک کا بدلتا رجحان ،صحت پر منفی اشراتہر سال 21 جولائی کو دنیا بھر میں جنک فوڈ ڈے (Junk Food Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف جنک فوڈ کا ذکر کرنا نہیں بلکہ عوام خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور صحت مند غذا کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔جنک فوڈ کی اصطلاح ایسے کھانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں کیلوریز تو بہت زیادہ پائی جاتی ہیں لیکن غذائیت بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ 1950ء کی دہائی میں امریکہ میں مقبول ہونے والا یہ لفظ بڑے پیمانے پر ان کھانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں شکر، چکنائی اور نمک کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔آج کے تیز رفتار دور میں برگر، پیزا، فرائز، کولڈ ڈرنکس، چپس اور دیگر فاسٹ فوڈ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا مسلسل استعمال کئی خطرناک بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔جنک فوڈ میں چکنائی، نمک، چینی اور کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ جبکہ وٹامنز، فائبر اور معدنیات نہایت کم ہوتے ہیں۔ اس کا مسلسل استعمال جسم میں چربی بڑھاتا ہے، وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور قوتِ مدافعت کو کمزور کرتا ہے۔ بچوں میں جسمانی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، دانت خراب ہوتے ہیں اور پڑھائی میں توجہ کم ہو جاتی ہے، جبکہ نوجوانوں میں تھکن، سستی، ذہنی دباؤ اور مختلف دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جنک فوڈ کا رجحانپاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جنک فوڈ کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے قصبوں میں بھی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی تعداد بڑھ رہی ہے اورنوجوان اپنے جیب خرچ کا بڑا حصہ فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں کھانے پر خرچ کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے ملک میں فاسٹ فوڈ کا کاروبار فروغ پا رہا ہے سکول کے بچے، کالج اور یونیورسٹی کے طلباکے ساتھ ساتھ نوجوان ملازمین بھی جنک فوڈ ریستورانوں میں لنچ کرنا پسند کرتے ہیں۔یہ ایک ایسی عادت ہے جس کا تعلق کبھی صرف بالائی متوسط طبقے یا اشرافیہ سے تھالیکن اب ایک نئی شہری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ نوجوانوں کی بدلتی ہوئی عادات کے ساتھ فاسٹ فوڈکے کاروبار میں بھی تیزی آئی ہے اورمتعدد بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز بھی آچکی ہیں۔ یہ تبدیلی 1990ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی جب ہر طبقے کے لوگ خاص طور پر نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ کے رجحان نے فروغ پایا۔حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے انقلاب نے اس رجحان میں مزید اضافہ کیا کیونکہ بہت سے سوشل میڈیا پروفائلز کو شیئر کرنے کے لیے ایسی تصویروں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے یا کھانا کھاتے دیکھا جا سکے۔ آن لائن فوڈ ڈیلیوری، سوشل میڈیا اشتہارات اور بدلتا ہوا طرزِ زندگی نوجوان نسل کو غیر صحت بخش غذا کی طرف راغب کر رہا ہے مگر اس کے نتیجے میں موٹاپا، ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو مستقبل میں صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔اس صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کو شروع ہی سے متوازن غذا کی عادت ڈالیں۔ گھر میں تازہ کھانا، پھل، سبزیاں، دودھ، دہی اور دالوں کا استعمال بڑھائیں اور فاسٹ فوڈ کو صرف کبھی کبھار تک محدود رکھیں۔ نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وقتی ذائقہ صحت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، پانی کا زیادہ استعمال اور صحت بخش خوراک ہی ایک توانا اور کامیاب زندگی کی ضمانت ہیں۔صحت مند پاکستان کی جانب ایک قدمحکومت، تعلیمی اداروں، میڈیا اور والدین کو مل کر جنک فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ سکولوں اور کالجوں میں غذائیت سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں، کینٹینوں میں صحت بخش غذائیں فراہم کی جائیں اور عوام کو متوازن خوراک کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے،اگر ہم اپنی خوراک کے بارے میں درست فیصلے کریں، جنک فوڈ کے استعمال کو محدود کریں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تو نہ صرف اپنی بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

چاند پر پہلا قدم 21 جولائی 1969ء انسانی تاریخ کا ایک غیر معمولی دن تھا جب امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے اور چند منٹ بعد بز ایلڈرِن بھی ان کے ساتھ چاند پر اترے۔ یہ کامیابی ناسا کے اپالو 11 مشن کا حصہ تھی، جس کا آغاز 16 جولائی کو ہوا تھا۔ مشن کے تیسرے رکن مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول میں چاند کے مدار میں موجود رہے۔ آرمسٹرانگ کے مشہور الفاظ ''یہ انسان کا ایک چھوٹا سا قدم لیکن انسانیت کے لیے ایک عظیم چھلانگ ہے‘‘ دنیا میں براہِ راست نشر ہوئے اور کروڑوں لوگوں نے یہ تاریخی لمحہ دیکھا۔ اس مشن کے دوران خلابازوں نے چاند سے چٹانوں کے نمونے جمع کیے، سائنسی آلات نصب کیے اور کئی تجربات انجام دیے۔ آرٹیمس کے مندر کی تباہی21 جولائی 356 قبل مسیح کو قدیم شہر ایفیسس (موجودہ ترکی) میں واقع مندرِ آرٹیمس کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا۔ یہ مندر قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتا تھا اور یونانی دیوی آرٹیمس کے نام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق ایک شخص ہیروسٹریٹس نے صرف اپنی شہرت حاصل کرنے کی خواہش میں اس مندر کو آگ لگا دی۔ اس مندر کی تعمیر میں کئی دہائیاں صرف ہوئی تھیں اور یہ اپنے عظیم ستونوں، نفیس سنگِ مرمر اور شاندار فنِ تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ آج اس مندر کے صرف کھنڈرات باقی ہیں لیکن آثارِ قدیمہ کے ماہرین اسے انسانی تاریخ کے عظیم تعمیراتی شاہکاروں میں شمار کرتے ہیں۔ کریٹ کا زلزلہ اور سونامی21 جولائی 365ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک آیا جس کا مرکز یونانی جزیرہ کریٹ تھا۔ اس زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے ایک تباہ کن سونامی کو جنم دیا جس نے مصر، لیبیا اور بحیرہ روم کے دیگر ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ قدیم شہر سکندریہ خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا جہاں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور بندرگاہیں، عمارتیں اور بحری جہاز تباہ ہو گئے۔ مؤرخین کے مطابق سمندر کا پانی پہلے غیر معمولی طور پر پیچھے ہٹا اور پھر ایک دیو ہیکل لہر آئی جس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس قدرتی آفت نے قدیم دنیا کی معیشت، تجارت اور آبادی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سکوپس کا فیصلہ21 جولائی 1925ء کو امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں مشہور سکوپس مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس مقدمے میں حیاتیات کے استاد جان ٹی سکوپس پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو چارلس ڈارون کا نظریۂ ارتقا پڑھایا۔ عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے 100 ڈالر جرمانہ کیا، اگرچہ بعد میں یہ سزا قانونی بنیادوں پر ختم کر دی گئی۔ یہ مقدمہ سائنس،مذہب، تعلیم اور آزادی اظہار کے درمیان جاری بحث کی علامت بن گیا اور نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی اور جدید تعلیم میں سائنسی نظریات کی تدریس کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے۔ آج بھی سکوپس مقدمے کو امریکی عدالتی اور تعلیمی تاریخ کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ جنیوا معاہدہ اور ویتنام کی تقسیم21 جولائی 1954ء کو جنیوا کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی اور اس کے نتیجے میں وہ معاہدہ طے پایا جس کے تحت ویتنام کو عارضی طور پر شمالی ویتنام اور جنوبی ویتنام میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ پہلی ہند۔چین جنگ کے خاتمے کے بعد کیا گیا جس میں فرانسیسی نوآبادیاتی حکومت کو شکست ہوئی تھی۔ اس تقسیم نے بعد میں ویتنام جنگ کی بنیاد رکھی جس میں امریکہ سمیت کئی عالمی طاقتیں کود پڑیں۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کی جانیں لیں اور بیسویں صدی کی اہم ترین بین الاقوامی جنگوں میں شمار ہوئی۔

 موبائل لائف پوڈ: مستقبل کی محفوظ پناہ گاہ

موبائل لائف پوڈ: مستقبل کی محفوظ پناہ گاہ

جدید دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، وہیں قدرتی آفات، جنگوں، دہشت گردی اور عالمی عدم استحکام کے خدشات نے انسان کو اپنی بقا کے نئے طریقے تلاش کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں ایک ایسا جدید اور مستقبل کا تصور پیش کرنے والا ''موبائل لائف پوڈ‘‘ متعارف کرایا گیا ہے جو ہنگامی حالات میں ایک محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ تقریباً 35 ہزار پاؤنڈ مالیت کا یہ جدید حفاظتی کیپسول گولیوں، دھماکوں اور دیگر جان لیوا خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک عارضی پناہ گاہ نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کی مثال ہے جو مستقبل میں شہری دفاع، ہنگامی امداد اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی افادیت اور قیمت پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم اس ایجاد نے یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا آنے والے دور میں ذاتی حفاظتی پناہ گاہیں بھی روزمرہ زندگی کی ضرورت بن جائیں گی؟فرانس میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی مومنٹم ٹیکنالوجیز نے ایک ایسا جدید حفاظتی شیلٹر متعارف کرایا ہے جو گولیوں سے لے کر بم دھماکوں تک مختلف خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ''لائف پوڈ‘‘ نامی یہ کیپسول انتہائی مضبوط اور جدید تکنیکی فولاد (ہائی اسٹرینتھ ٹیکنیکل اسٹیل) سے تیار کیا گیا ہے، تاہم اسے مکمل طور پر متحرک (موبائل) رکھنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔کمپنی کے مطابق ''روایتی حفاظتی ڈھانچوں کے برعکس، جو عموماً ایک ہی مقام پر مستقل نصب ہوتے ہیں اور صرف ایک مخصوص خطرے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، لائف پوڈ کیپسولز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ انہیں آسانی سے منتقل، صنعتی پیمانے پر تیار، فوری طور پر نصب اور مختلف عملی حالات کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔ان کیپسولز کو کنٹینرز کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے، ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جا سکتا ہے، انہیں ایک دوسرے کے اوپر رکھا جا سکتا ہے، اور شہری علاقوں، صنعتی تنصیبات یا دور دراز مقامات پر بھی باآسانی نصب کیا جا سکتا ہے۔البتہ اس جدید حفاظتی ٹیکنالوجی کی قیمت بھی خاصی زیادہ ہے۔لائف پوڈ کے بنیادی کیپسول کی قیمت 25,404 سے 34,904 برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 96 لاکھ سے ایک کروڑ 32 لاکھ پاکستانی روپے) کے درمیان رکھی گئی ہے، جبکہ یہ قیمت صرف کیپسول کی ہے اور اس میں اضافی سہولیات شامل نہیں ہیں۔لائف پوڈ تین مختلف ماڈلز میں دستیاب ہے، جنہیں کیپسول W01، کیپسول B01 اور کیپسول Q01 کا نام دیا گیا ہے۔کیپسول W01 ایک تیرنے والا (Floating) حفاظتی کیپسول ہے، جسے دو سے چار افراد کیلئے خاص طور پر سونامی، اچانک آنے والے سیلاب، ساحلی علاقوں میں طغیانی، ڈیم یا پشتوں کے ٹوٹنے جیسے شدید قدرتی حالات میں استعمال کیلئے تیار کیا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق ''اس کا 5083 میرین گریڈ ایلومینیم سے تیار کردہ ڈھانچہ، تیرنے کا نظام، مربوط بیلسٹ (وزن متوازن رکھنے کا نظام) اور اندرونی حفاظتی سہولیات کسی خاندان یا چھوٹے گروہ کو عارضی طور پر محفوظ پناہ فراہم کرتی ہیں۔یہ کیپسول پانی پر تیرنے، بہتے ہوئے ملبے کے ٹکراؤ کو برداشت کرنے اور اپنے اندر موجود افراد کو اس وقت تک محفوظ رکھنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جب تک امدادی ٹیمیں نہ پہنچ جائیں۔ اس کے ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ W01 پر کیے گئے ابتدائی تجربات کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں، تاہم اسے مارکیٹ میں کب متعارف کرایا جائے گا، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔کیپسول B01 ایک سے دو افراد کیلئے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد جنگی یا انتہائی خطرناک ماحول میں محفوظ پناہ فراہم کرنا ہے۔ مومنٹم ٹیکنالوجیز کے مطابق ''B01‘‘ کو گولیوں، دھاتی ریزوں (شریپنل)، مسلح حملوں اور شدید خطرناک ماحول سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ ماڈل حساس مقامات، اہم قومی تنصیبات، سکیورٹی فورسز، صنعتی اداروں اور ایسی تنظیموں کیلئے موزوں ہے جنہیں فوری، مختصر حجم اور پہلے سے تعینات کیے جا سکنے والے حفاظتی حل کی ضرورت ہو۔کمپنی کے مطابق اس کیپسول میں موجود افراد چند ہی سیکنڈز میں اس کے اندر پناہ لے کر حفاظتی نظام کو لاک کر سکتے ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں فوری تحفظ ممکن ہو جاتا ہے۔ کیپسول B01 اس وقت تیاری کے مرحلے میں ہے، جبکہ اس کی حتمی جانچ اور منظوری اسی ماہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔ کیپسول Q01 کو خاص طور پر زلزلوں، عمارتوں کے منہدم ہونے اور تعمیراتی عدم استحکام سے پیدا ہونے والی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔مومنٹم ٹیکنالوجیز کے مطابق ''Q01‘‘ ایسے علاقوں کیلئے تیار کیا گیا ہے جہاں زلزلوں اور اچانک عمارتیں گرنے کے خطرات زیادہ ہوں۔اس کا بنیادی مقصد ایک ایسی مختصر، آسانی سے قابلِ رسائی اور مضبوط محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا ہے، جو اس وقت زندہ بچنے کے امکانات میں اضافہ کرے جب کسی عمارت سے فوری انخلا ممکن نہ رہے۔یہ جدید حفاظتی لائف پوڈز پیرس میں منعقد ہونے والی معروف ٹیکنالوجی نمائش ویوا ٹیک میں متعارف کرائے گئے، جہاں مومنٹم ٹیکنالوجیز کے بانی سیڈرک شوفا نے مستقبل کے تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے اپنے وژن سے بھی آگاہ کیا۔

سڑک بند ہے!

سڑک بند ہے!

سڑک کی مرمت ہو رہی ہو تو سڑک کے درمیان میں ایک بورڈ لگا دیا جاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ''سڑک بند ہے‘‘ ۔ اس کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ سرے سے راستہ بند ہو گیا ہے اور اب آنے جانے والے اپنی گاڑی روک کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ''یہ سامنے کی سڑک بند ہے‘‘۔ ہر شخص کو اس قسم کے بورڈ کے معنی معلوم ہیں چنانچہ سواریاں جب وہاں پہنچ کر بورڈ کو دیکھتی ہیں تو وہ ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں رکتیں۔ وہ دائیں بائیں گھوم کر اپنا راستہ نکال لیتی ہیں اور آگے جا کر دوبارہ سڑک پکڑ لیتی ہیں۔ اور اگر کسی وجہ سے دائیں بائیں راستہ نہ ہو تب بھی سواریوں کیلئے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ اطراف کی سڑکوں سے اپنا سفر جاری رکھتی ہیں۔ کچھ دور آگے جا کر دوبارہ انہیں اصل سڑک مل جاتی ہے اور اس پر اپنا سفر جاری کھتی ہیں اور وہ منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔ اس طرح کچھ منٹوں کی تاخیر تو ضرور ہو سکتی ہے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ان کا سفر رک جائے یا وہ منزل پر پہنچنے میں نا کام رہیں۔یہی صورت زندگی کے سفر کی بھی ہے۔ زندگی کی جدوجہد میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محسوس کرتاہے کہ اس کا راستہ بند ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ سامنے کا راستہ بند ہے نہ کہ ہر طرف کا۔ جب بھی ایک راستہ بند ہو تو دوسرے بہت سے راستے کھلے ہوئے ہوں گے۔ عقل مند شخص وہ ہے جو اپنے سامنے ''سڑک بند ہے‘‘ کا بورڈ دیکھ کر رک نہ جائے بلکہ دوسرے راستے تلاش کرکے اپنا سفر جاری رکھے۔ایک میدان میں مواقع نہ ہوں تو دوسرے میدان میں اپنے لئے مواقع کار تلاش کر لیجئے۔ حریف سے براہِ راست مقابلہ ممکن نہ ہو تو بالواسطہ مقابلہ کا طریقہ اختیار کیجئے۔ آگے کی صف میں آپ کو جگہ نہ مل رہی تو پیچھے کی صف میں اپنے لئے جگہ حاصل کر لیجئے۔ ٹکراؤ کے ذریعہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہ آتا ہو تو مصالحت کے ذریعہ مسئلہ کے حل کی صورت نکال لیجئے۔ دوسروں کا ساتھ حاصل نہ ہو رہا ہو تو تنہا اپنے کام کا آغاز کر دیجئے۔ چھت کی تعمیر کا سامان نہ ہو تو بنیاد کی تعمیر میں اپنا وقت صرف کریں۔ بندوں سے ملتا ہوا نظر نہ آتا ہو تو خدا سے پانے کی کوشش کیجئے... ہر بند سڑک کے پاس ایک کھلی سڑک بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کو وہی لوگ پاتے ہیں جو آنکھ والے ہوں۔

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کا معاشی بحران

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کا معاشی بحران

جعفرآباد، بلوچستان کی ایک شام، سورج غروب ہو رہا تھا اور بینظیر اپنی اس زمین کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی جو کبھی اس کے خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ تھی۔ آج وہاں دور دور تک صرف پانی ہی پانی تھا۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے اس کی فصلیں، جمع پونجی اور برسوں کی محنت پل بھر میں بہا دی۔ اس کی زبان پر صرف ایک جملہ تھا: ''سیلاب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا‘‘۔یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی لاکھوں خواتین کی مشترکہ حقیقت ہے۔ 2022ء کے سیلاب نے ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کیاتھا، مگر سب سے زیادہ نقصان خواتین، بچوں اور دیہی آبادی نے اٹھایا تھا۔ آج جب حالیہ مون سون کے دوران مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کا خطرہ ایک بار پھر موجود ہے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف امدادی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی، پانی کے دانشمندانہ استعمال اور خواتین کی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر ان خواتین پر پڑتا ہے جو دیہی معیشت، زراعت، مویشی پالنے اور خوراک کی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، مگر زمین کی ملکیت، مالی وسائل اور سماجی تحفظ سے محروم رہتی ہیں۔زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین بے ترتیب بارشوں، شدید گرمی، خشک سالی اور فصلوں کی تباہی کا براہِ راست سامنا کر رہی ہیں۔ جب سیلاب آتا ہے تو صرف کھیت ہی نہیں ڈوبتے بلکہ روزگار، تعلیم، صحت اور خاندان کا معاشی استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی پالیسیوں میں خواتین کو مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔خوش آئند امر یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں وفاقی اور صوبائی اداروں نے مون سون سے قبل حفاظتی انتظامات پر نسبتاً زیادہ توجہ دی ہے۔ دریائوں اور ندی نالوں کی نگرانی، فلڈ وارننگ سسٹم، بندوں کی مضبوطی، حساس مقامات پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر، ریسکیو اداروں کی پیشگی تعیناتی اور ممکنہ انخلاء کے منصوبے ایسے اقدامات ہیں جو جانی و مالی نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے مقامی آبادی خصوصاً خواتین، کسانوں اور کمیونٹی تنظیموں کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔پاکستان کیلئے اب وقت آ گیا ہے کہ سیلابی پانی کو صرف ایک آفت نہیں بلکہ ایک قیمتی قدرتی وسیلہ سمجھا جائے۔ ہر سال اربوں مکعب فٹ میٹھا پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ملک پانی کی قلت اور زیرزمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم، ریٹینشن بیسن، حفاظتی جھیلیں اور سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کے تالاب نہ صرف سیلاب کی شدت کم کر سکتے ہیں بلکہ زرعی ضروریات بھی پوری کر سکتے ہیں۔اسی طرح بارش کے پانی سے زیرزمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے (Groundwater Recharge) کے لیے قومی سطح پر مؤثر نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ شہری علاقوں میں ری چارج ویلز، پرکولیشن ٹینک، بارشی پانی جمع کرنے کے ذخائر اور نئی تعمیرات میں رین واٹر ہارویسٹنگ کو لازمی قرار دیا جائے۔ دیہی علاقوں میں کھیتوں کے کنارے چھوٹے ذخیرہ آب، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے والے منصوبے زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ اقدامات خواتین کیلئے بھی معاشی تحفظ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ جب پانی دستیاب ہوگا تو زرعی پیداوار بڑھے گی، مویشی پالنے میں آسانی ہوگی اور دیہی خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اگر انہیں جدید زرعی ٹیکنالوجی، موسمی معلومات، آسان قرضوں، فصلوں کے بیمہ، مالی معاونت اور تربیت تک رسائی دی جائے تو وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔قدرتی آفات کے بعد خواتین کو صرف امداد کی مستحق نہیں بلکہ بحالی اور منصوبہ بندی کی شراکت دار سمجھنا ہوگا۔ مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں، واٹر مینجمنٹ پروگراموں اور موسمیاتی منصوبوں میں خواتین کی مؤثر نمائندگی نہ صرف بہتر فیصلوں کا باعث بنے گی بلکہ وسائل کے زیادہ منصفانہ استعمال کو بھی یقینی بنائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی انصاف، سماجی مساوات اور قومی سلامتی کا بھی اہم چیلنج ہے۔ اگر پاکستان سیلاب سے بچائو کیلئے مضبوط بند، جدید وارننگ سسٹم، بارش کے پانی کے ذخیرے، زیرزمین آبی ذخائر کی ری فلنگ اور مربوط واٹر مینجمنٹ کو قومی ترجیح بنا دے اور اس پورے عمل میں خواتین کو فیصلہ سازی اور معاشی سرگرمیوں کا مرکزی کردار دے تو نہ صرف سیلابی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت، زرعی بحران اور دیہی غربت جیسے دیرینہ مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ پائیدار مستقبل کا راستہ پانی کے بہتر انتظام اور خواتین کو بااختیار بنانے سے ہو کر گزرتا ہے اور یہی پاکستان کی حقیقی موسمیاتی حکمت عملی ہونی چاہیے۔