آج کا دن
اسپیشل فیچر
جان پال جونز کا معرکہ
23 ستمبر 1779ء کو امریکی جنگِ آزادی کے دوران برطانوی ساحل کے قریب ایک مشہور بحری معرکہ ہوا۔ امریکی بحری جہاز کی کمان جان پال جونز کر رہے تھے جس کا مقابلہ برطانوی جنگی جہازوں سے ہوا۔ برطانوی جہاز نسبتاً مضبوط اور بہتر حالت میں تھے جبکہ امریکی جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود جان پال جونز نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رکھی۔ بالآخر دونوں برطانوی جہازوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ کامیابی جان پال جونز کو امریکی بحری تاریخ کی نمایاں شخصیات میں شامل کرنے کا سبب بنی۔
لیوس اور کلارک مہم
23 ستمبر 1806ء کو امریکی مہم جُو میری ویدر لیوس اور ولیم کلارک اپنی تاریخی مہم مکمل کرکے سینٹ لوئس واپس پہنچے۔ یہ مہم تقریباً ڈھائی سال جاری رہی تھی۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ریاست لوزیانا کی خریداری کے بعد نئے حاصل ہونے والے وسیع علاقوں کی تلاش، نقشہ سازی اور جغرافیائی معلومات جمع کرنے کے لیے یہ مہم شروع کروائی تھی۔ لیوس اور کلارک نے دریائے مسوری کے راستے مغرب کی طرف سفر کیا، راکی پہاڑ عبور کیے اور بحرالکاہل تک پہنچے، پھر واپس سینٹ لوئس آئے۔ مہم کے دوران انہوں نے جغرافیہ، نباتات، جانوروں اور مقامی قبائل کے بارے میں وسیع معلومات جمع کیں۔یہ مہم موجودہ مغربی امریکہ کے علاقے کو عبور کرنے والی پہلی امریکی مہم تھی۔
نیپچون کی دریافت
23 ستمبر 1846ء کو فلکیات کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب جرمن ماہرِ فلکیات جوہان گوٹ فریڈ گالے نے برلن آبزرویٹری میں نیپچون کو پہلی مرتبہ شناخت کیا۔ اس دریافت کی خاص بات یہ تھی کہ نیپچون کو محض اتفاق سے نہیں بلکہ ریاضیاتی حسابات کی مدد سے تلاش کیا گیا تھا۔ ماہرینِ فلکیات نے یورینس کے مدار میں ایسی بے قاعدگیاں دیکھی تھیں جن سے اندازہ ہوا کہ کوئی دور موجود سیارہ اس پر کششِ ثقل کے ذریعے اثر انداز ہو رہا ہے۔ فرانسیسی ماہرِ فلکیات اربین لے وئیر اور برطانوی ماہرجان کاؤچ ایڈمز نے آزادانہ طور پر اس ممکنہ سیارے کے مقام کا حساب لگایا۔لے وئیر کے حسابات کی بنیاد پر گالے نے 23 ستمبر کی رات نیپچون کو تلاش کیا اور اس کے پس منظر کے ستاروں کے مقابلے میں حرکت دیکھ کر اس کی سیاروی حیثیت کی تصدیق کی۔یہ نظامِ شمسی کے آٹھویں سیارے کی دریافت تھی۔
مملکتِ سعودی عرب کا قیام
23 ستمبر 1932ء کو ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کی قیادت میں حجاز اور نجد سمیت مختلف علاقوں کو ایک ریاست کے تحت متحد کیا گیا اور نئی ریاست کا نام مملکت سعودی عرب رکھا گیا۔ اس واقعے نے جزیرہ نما عرب کے سیاسی نقشے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا اور ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد میں خطے کی سیاست، معیشت اور عالمی توانائی کے نظام میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1932ء میں مملکت کے نام اور اتحاد کا باقاعدہ اعلان کیا گیااسی نسبت سے ہر سال 23 ستمبر کو سعودی قومی دن منایا جاتا ہے۔
پاک بھارت جنگ بندی
1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے کوششیں کیں اور 20 ستمبر کو سلامتی کونسل نے قرارداد 211 منظور کرتے ہوئے 22 ستمبر 1965ء کو صبح 7 بجے GMT سے جنگ بندی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں حکومتوں نے جنگ بندی قبول کی اور 22 ستمبر کو جنگ بندی کا آغاز ہوا۔ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کو اطلاع دی کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین علاقے میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی سرحد کے علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔ اس طرح 23 ستمبر 1965ء جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی کے باقاعدہ مرحلے کے آغاز سے بھی منسلک ہے۔