سولر پینلز اب سمندر کی گہرائیوں میں
اسپیشل فیچر
سورج کو توانائی کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ مانا جاتا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں میں شمسی توانائی نے دنیا کے توانائی کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ گھروں کی چھتوں، صحراؤں، کھلے میدانوں اور حتیٰ کہ خلا میں بھی سولر پینلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی سمندر کی گہرائی میں بھی بجلی پیدا کرنے لگے تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔ چین کی یونیورسٹی آف یوننان سے وابستہ سائنسدانوں نے ایسا ہی ایک تجربہ کرکے دکھایا ہے۔ محققین نے ایسے خصوصی شمسی سیل تیار کیے جو سمندر کے پانی کے اندر بھی سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان سیلز کو ساؤتھ چائنا سی میں پانی کی سطح سے 10 میٹر نیچے آزمایا گیا اور وہاں بھی انہوں نے قابلِ استعمال مقدار میں بجلی پیدا کی۔یہ تحقیق 11 ستمبر 2026ء کو معروف سائنسی جریدے ''Joule‘‘ میں شائع ہوئی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تجربہ زیرِ آب شمسی توانائی کے عملی استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے زیرِ آب سولر سیلز کے زیادہ تر تجربات صرف دو میٹر یا اس سے کم گہرائی تک محدود رہے تھے۔
سمندر کے اندر سولر پینل کیسے کام کرتے ہیں؟
یہ سوال فطری ہے کہ جب سمندر کی گہرائی میں سورج کی روشنی بہت کم رہ جاتی ہے تو وہاں سولر سیل بجلی کیسے بنا سکتا ہے؟اس کا جواب روشنی کی خصوصیات اور نئے شمسی سیلز کے ڈیزائن میں پوشیدہ ہے۔ پانی سورج کی روشنی کو جذب اور منتشر کرتا ہے۔ جیسے جیسے روشنی پانی میں نیچے جاتی ہے اس کی شدت کم ہوتی جاتی ہے اور روشنی کے سپیکٹرم میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ سرخ رنگ کی زیادہ ویو لینتھ والی روشنی نسبتاً جلد پانی میں جذب ہوجاتی ہے جبکہ نیلی اور سبز روشنی زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتی ہے۔ محققین نے اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے روایتی سولر سیلز کے بجائے لیڈ ہیلائیڈ پیروسکائٹ پر مبنی شمسی سیلز تیار کیے۔ ان میں ایسے مواد اور تکنیک استعمال کی گئی جس سے وہ پانی کے اندر موجود محدود روشنی بالخصوص تقریباً 400 سے 600 نینو میٹر کی نیلی سبز روشنی، کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔تحقیق میں تیار کیے گئے سیلز کا پاور کنورژن ایفیشنسی تقریباً 34.71 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا جب انہیں 10 میٹر گہرائی کے برابر مصنوعی روشنی کے حالات میں آزمایا گیا۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ عام سولر پینل کے لیے تیار کیا گیا ڈیزائن زیرِ آب روشنی کے بدلتے ہوئے سپیکٹرم کے مطابق نہیں ہوتا۔
10 میٹر گہرائی میں کتنی بجلی پیدا ہوئی؟
تجربے کا سب سے دلچسپ حصہ اس وقت سامنے آیا جب سائنسدانوں نے لیبارٹری سے نکل کر حقیقی سمندری ماحول میں ان سولر سیلز کو آزمایا۔محققین نے تقریباً 115 مربع سینٹی میٹر رقبے والے شمسی ماڈیولز کو جنوبی بحیرہ چین میںWeizhou Island کے قریب پانی کے اندر دو، چھ اور 10 میٹر کی گہرائی پر پہنچایا۔ اس کام کے لیے ریموٹ کنٹرول زیرِ آب روبوٹس بھی استعمال کیے گئے۔دو گھنٹے تک سورج کی روشنی میں تجربہ کرنے کے بعد دو میٹر گہرائی پر سولر سیل نے 1416 ملی واٹ آور توانائی پیدا کی، چھ میٹر پر یہ مقدار 752 ملی واٹ آور رہی جبکہ 10 میٹر گہرائی پر بھی 324 ملی واٹ آور بجلی پیدا ہوئی۔ یہ مقدار بظاہر بہت بڑی نہیں لگتی لیکن تجربے کا مقصد گھروں یا شہروں کو بجلی فراہم کرنا نہیں تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ 10 میٹر پانی کے نیچے بھی شمسی سیل نے اتنی توانائی پیدا کی کہ لیتھیم آئن بیٹریاں چارج کی جاسکیں اور ان بیٹریوں سے ایل ای ڈی روشن کی جاسکی۔یہ مظاہرہ اس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ مستقبل میں سمندر کے اندر نصب ایسے آلات کو بار بار سطح پر لاکر بیٹری تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
زیرِ آب دنیا میں نئی توانائی کا دروازہ
اس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم ممکنہ فائدہ عام بجلی گھروں کے لیے نہیں بلکہ ایسے آلات کے لیے ہے جو سمندر میں طویل عرصے تک انسان کی براہِ راست نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔سمندر میں مختلف مقامات پر ماحولیاتی سینسرز، کیمرے، مواصلاتی آلات، سائنسی ڈیٹیکٹرز اور دیگر نگرانی کے نظام نصب کیے جاتے ہیں۔ ان آلات کو مسلسل بجلی فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر انہیں بیٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جنہیں وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کے لیے خصوصی کشتیوں یا زیرِ آب مشینوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اگر زیرِ آب سولر سیلز قابلِ اعتماد اور طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل ہوجائیں تو ایسے آلات کو خود اپنی بجلی پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں زیرِ آب سینسرز، کیمروں، مواصلاتی نظام اور خودکار زیرِ آب آلات کے لیے توانائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔یہ پیش رفت ہمیں توانائی کے بارے میں ایک اہم سبق بھی دیتی ہے کہ مستقبل کی قابلِ تجدید توانائی صرف زمین پر نصب سولر پینلز اور ہوا سے چلنے والی ٹربائنز تک محدود نہیں ہوسکتی، ممکن ہے آنے والے برسوں میں سمندر کی گہرائی بھی شمسی توانائی کے ایک نئے میدان کے طور پر سامنے آئے۔