اے حمیدکی امرتسر کی یادیں
اسپیشل فیچر
اردو کا رومانی ادیب اے حمید وقت خالص کا حصہ بن گیا۔ مدتوں پہلے اس کی کتاب امرتسر کی یادیں پر لکھا ہوا مضمون یاد آیا۔ اب تک اے حمید کی یاد میں جو کچھ پاکستانی رسائل واخبارات میں چھپا ہے اس میں اس کی رومانیت کا کہیں تذکرہ نہیں۔ نئی نسل اے حمید کو جانتی نہیں۔ انہیں یاد دلانے کیلئے اے حمید کے بارے میں اپنا پرانا مضمون نئی نسل کو سامنے پیش کررہا ہوں۔ یادداشتی ادب پر لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تو برسوں پہلے کی چھپی ہوئی اے حمید کی کتاب امرتسر کی یادیں آئی یہ کتاب یادوں حسرتوں آرزوئوں اور خوابوں کا ایک مرقع ہے یوں لگتا ہے اے حمید اپنی چھوڑی ہوئی جنم بھومی کا نوحہ نہیں لکھ رہا ہے بلکہ کھلی آنکھوں اپنے ماضی اور مستقبل کے خواب دیکھنے میں مصروف ہے۔ اے حمید اردو کا وہ ادیب ہے جس کی تحریر رومانیت کی خوشبوں سے معطر ہوتی ہے میں نے برسوں پہلے اس کاناولٹ زرد گلاب پڑھا تھا اس کا انتساب اب بھی ذہن میں گونجتا ہے اور یہ کوئی شعر نہیں اے حمید کی خوب صورت نثر ہے ’’موتئے کے پھولوں پر گرنے والی شبنم ہمارے پیار میں گھنے جنگلوں کی آگ ہے اور ہماری آواز میں نیلے سمندروں کے گیت ہیں ہم رات کی دہلیز پر بیٹھ کر سورج نکلنے کا انتظار کریں گے!‘‘اے حمید رات کی دہلیز پر بیٹھ کر سورج نکلنے کا انتظار کررہا ہے اور امرتسر کی یادیں اس کے سفر کا واحد اثاثہ ہیں وہ بات کرتا ہے تو ہر جگہ اس کی خوشبوؤں میں ایک تیسری خوشبو شامل ہوجاتی ہے’’کشمیری چائے کی لطیف بھاپ نے کارنس پر رکھے گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے مل کر کمرے کو مہکادیا ریحانہ نیلی پتی دار جاپانی پیالیوں میں چائے ڈالنے لگی اور میں نے پائپ سلگالیا اب کمرے کی فضا میں ایک تیسری خوشبو نے جنم لیا۔ کشمیری چائے گلاب کے پھول اور ایران مورتمبا کوکی فلیور کا ملاپ یہ تھی تیسری خوشبو امرتسر کی خوشبو۔ کمپنی باغ کے بارش میں بھیگتے اور گرم دوپہروں میں نہر کے کنارے اگے ہوئے مرطوب گھاس اور رات کے پچھلے پہرامرتسر کی کسی گلی میں رخصت ہوتی ہوئی دلہن کی خوشبو۔ امرتسر اس وقت میری سبز چائے کی پیالی میں تھا اور میرے پائپ کے فلیور میں تھا اور میرے سامنے بیٹھے ہوئے والد صاحب کی سمٹی ہوئی آنکھوں میں تھا(صفحہ27) یہ اقتباس کسی رومانوی افسانہ کا حصہ نہیں بلکہ جلیا نوالہ باغ کے خونیں حادثہ سے متعلق باب کا حصہ ہے اے حمید نے اس حادثہ پر لکھنے کی ابتدا بھی امرتسر کی کوخوشبو سے کی ہے یہی اے حمید کی انفرادیت ہے یہی خوشبو ہے جس سے اس کی تحریر مہکتی ہے اس نے خود بھی تو یہی کیا ہے کہ’’ وہ قلم سے نہیں لکھتا گلاب کی ٹہنی سے لکھتا ہے!‘‘ (صفحہ88)۔کتاب‘ چند یادیں چند باتیں!سے شروع ہوکر عنوان بہ عنوان‘ امرتسر میں چودہ اگست!‘ امرتسر کا جلیانوالہ باغ! امرتسر کا کمپنی باغ!‘ امرتسر کی ایک گلی!‘ امرتسر کی مسجدیں! غرض امرتسر کے ہر پہلو کو بیان کرتی ہے حتیٰ کہ امرتسر کے جن بھوت! تک اے حمید کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہتے مگر کتاب محض رپورتاژبن کر نہیں رہ گئی ہے اس کتاب میں یادنگاری کی تمام خوبیاں جوبن پر ہیں۔ بیانیہ میں دل آویزی ہے وہی دل آویزی جو اے حمید کی رومانی تحریر کا طرہ امتیاز ہے۔ دروازہ مہمان سنگھ کا ذکر ہے مگر آغاز باغوں اور پھولوں سے ہوتا ہے ’’باغ میں یوکلپٹس کے نو عمر چھر یرے درخت ہؤا کرتے تھے جن کی لمبوترے پتوں والی ٹہنیاں گرمیوں کی صبح کی ٹھنڈی ہوا میں جھولا کرتی تھیں!‘‘ قیام پاکستان کے پانچ سال بعد جب میں امرتسر گیا تو ان درختوں نے دور سے مجھے آتا دیکھ کر اپنی شاخیں ہلا ہلا کر مجھے اپنی طرف بلایا مجھے اپنی بے زبانی میں خاموش آوازیں دیں۔ اپنی سونفی خوشبوں میں میرا نام لے لے کر پکاراً‘‘ ’’میں نے ایک درخت کے تنے پر ہاتھ رکھا اس کا دل دھڑک رہا تھا درخت کی ایک ٹہنی نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا میرا دل بھی دھڑک رہا تھا!(صفحہ 13۔14جستہ جستہ)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔