خان عبدالقیوم خان
اسپیشل فیچر
خان عبدالقیوم خان 1901ء میں چترال میں پیدا ہوئے جہان ان کے والد عبدالحکیم خان ملازمت سے منسلک تھے۔ وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بی اے کے طالب علم تھے جب مولانا محمد علی جوہر پشاور آئے۔ ان کی تحریک پر خان عبدالقیوم خان نے اپنے دوسرے ساتھی طلبا ملک امیر عالم اعوان، گل محمد خان نیازی وغیرہ کے ہمراہ اسلامیہ کالج پشاور چھوڑ کر جامعہ ملیہ دہلی میں داخلہ لے لیا۔ یہ قومی تعلیمی ادارہ مولانا محمد علی جوہر کی نگرانی میں قائم کیا گیا تھا اور وہ خود بھی وہاں پڑھایا کرتے تھے۔ بی اے کی ڈگری لینے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لندن گئے اور لندن سکول آف اکنامکس سے بی ایس سی آنرز کا امتحان پاس کیا۔ لندن ہی سے بیرسٹرایٹ لا کی ڈگری لے کر پشاور آئے تو ان دنوں کانگریس اپنے نقطۂ عروج پر تھی، خان عبدالقیوم خان بھی اس جماعت میں شامل ہو کر قومی خدمت میں لگ گئے۔ وہ ابتدا ہی سے اچھے مقرر اور مدبر تھے۔ جلد ہی کانگریس کے ٹکٹ پر مرکزی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے۔ 1942ء میں انہیں مرکزی اسمبلی میں کانگریس پارٹی کا لیڈر بنا دیا گیا، تاہم وہ ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا بغور مطالعہ کررہے تھے، 1945ء میں انہیں یقین ہو گیا کہ قائداعظم محمد علی جناح ہی مسلمانان برصغیر کی صحیح قیادت کے اہل ہیں۔ چنانچہ خان عبدالقیوم خان نے بھی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ 1946ء کے انتخابات میں وہ پشاور سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں نمایاں حصہ لیا، انہوں نے صوبے میںقریہ قریہ، شہر شہر مسلم لیگ کا پیغام پہنچایا۔ 1947ء کے آغاز میں سرحد مسلم لیگ نے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) کی کانگریسی وزارت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کی تو عبدالقیوم خان کو گرفتار کر کے پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے ریفرنڈم کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ قیام پاکستان کے بعد 22اگست 1947ء سے اپریل 1953ء تک خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ رہے۔ آپ کی مساعی سے پشاور یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ مڈل تک طلبا اور طالبات کو مفت تعلیم کی سہولت مہیا کی گئی، نئی صنعتیں قائم ہوئیں اور ٹرانسپورٹ کو قومی تحویل میں لے لیا گیا، حب اور پھلڑہ کی ریاستیں ختم کر دی گئیں۔ خان عبدالقیوم خان آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر بھی رہے۔ 1958ء میں مارشل لالگا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا اور تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ پھر چھ سال کے لیے ان پر سیاست میں حصہ نہ لینے کی پابندی لگا دی گئی۔ 1970ء کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر میدان میں آئے اور صوبہ سرحد سے سات قومی نشستوں پر مسلم لیگ کے نمائندے کامیاب ہو گئے۔ وہ بھٹو حکومت میں وزیرداخلہ رہے۔ شناختی کارڈ اور قومی پاسپورٹ کے اجرا کی سکیم نافذ کی۔آپ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں بھی شریک رہے۔ 1946-47ء میں ریفرنڈم کے لیے بنائے گئے کمیشن میں پیر صاحب مانکی شریفؒ، راجہ غضنفر علی خان، آئی آئی چندریگر، سید واجد علی، جلال الدین خان جلال بابا، راجہ حیدر زمان، سردار بہادر خان اور خان عبدالقیوم خان شامل تھے۔ یہ ریفرنڈم 6جولائی تا17جولائی 1947ء تک جاری رہا اور اس کے نتائج کے مطابق کل ووٹوں میں سے 89240 ووٹ پاکستان کے حق میں اور 2874ووٹ پاکستان کے خلاف پڑے۔ ہزارہ میں جلال بابا کی قیادت تھی۔ وہ ہزارہ مسلم لیگ کے صدر اور صوبائی مسلم لیگ کے نائب صدر تھے۔ 99فیصد لوگوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا اور تمام ووٹ پاکستان کے حق میں ڈالے جو کہ کل ووٹوں کا تقریباً چالیس فیصد تھا۔ اس سے قبل 1946ء کے صوبائی الیکشن میں جلال بابا کی قیادت میں ہزارہ مسلم لیگ نے 11میں سے 10سیٹیں حاصل کیں۔ یہ الیکشن قیام پاکستان سے صرف دس ماہ پہلے منعقد ہوئے تھے اور مسلم لیگ نے نعرہ لگایا کہ’’لے کے رہیں گے پاکستان۔ بٹ کے رہے گا ہندوستان۔ بن کے رہے گا پاکستان۔‘‘خان عبدالقیوم خان کی خدمات کے تو مخالفین بھی معترف ہیں وہ حقیقی معنوں میں حضرت قائداعظمؒ کے بے باک سپاہی تھے۔ انہوں نے ایک ایسے خطے میں اور ایسے حالات میں مسلم لیگ کو مضبوط بنایا جہاں ان کے نظریاتی مخالفین کا خیال تھا کہ وہ ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کر کے صوبہ سرحد کو بھی بھارت میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن خوش قسمتی سے خان عبدالقیوم خان، سردار عبدالرب نشتر، پیر صاحب آف مانکی شریف، پیر عبدالطیف زکوڑی اور جلال بابا کی محنت اور قربانیاں رنگ لائیں اور پاکستان کا قیام عمل میں آ گیا۔