شہنشاہ پینگوئن کے بارے 10 حقائق
اسپیشل فیچر
شہنشاہ یا ایمپرر پینگوئن قطب جنوبی کے انتہائی سرد موسم میں رہتے ہیں۔ عالمی سطح پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قطب جنوبی یا انٹارکٹکا کی برف پگھل رہی ہے ۔ یہ برف ان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ آئیے شہنشاہ پینگوئن کے بارے دس اہم حقائق جانتے ہیں۔ 1۔ شہنشاہ پینگوئن کے بچوں کی پیدائش اور پرورش سمندر پر تیرتے برف کے بڑے ٹکڑوں پر ہوتی ہے جسے ’’فاسٹ آئس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ٹکڑے زمین یا برف کے بڑے حصے سے مکمل طور پر علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا کچھ حصہ ان سے جڑا ہوتا ہے۔ پیدائش سے موت تک شہنشاہ پینگوئن اپنی زندگی برف کے اوپر یا اس کے اردگرد گزارتے ہیں۔ 2۔ دنیا میں پائی جانے والی پینگوئن کی کل 18 اقسام میں شہنشاہ پینگوئن سب سے بڑے ہیں۔ ان کا شمار دنیا میں پائے جانے والے سب سے بڑے پرندوں میں ہوتا ہے۔ ان کی قامت کم و بیش 120 سینٹی میٹر اور وزن 40کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ سال کے مختلف حصوں میں ان کا وزن بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ قطب جنوبی سے ’’میگا پینگوئن‘‘ کے فاسلز ملے ہیں جو تین کروڑ 70 لاکھ سال قدیم ہیں۔ ان پینگوئن کا قد دو میٹر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ پینگوئن کا ارتقا انہی میں سے ہوا ہے۔ 3۔ قطب جنوبی میں پانچ لاکھ 95 ہزار بالغ شہنشاہ پینگوئن پائے جاتے ہیں۔ 4۔ سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے 2012ء میں برطانوی سائنس دانوں نے شہنشاہ پینگوئن کے رہنے کے علاقوں کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے اس دوران ان کی کل تعداد بھی شمار کی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق آج کل ان کی رہائش کے کل 54 علاقے قطب جنوبی میں پائے جاتے ہیں۔ 5۔ شہنشاہ پینگوئن سردیوں میں انڈے سیتے ہیں۔انڈا دینے کے بعد مادہ پینگوئن اسے اپنے ساتھی کے حوالے کردیتی ہے جو اسے 65سے 75 دن تک سیتا ہے۔ وہ احتیاط سے انہیں اپنی ٹانگوں کے درمیان رکھتا ہے جس سے اسے حدت ملتی رہتی ہے۔ 6۔ شہنشاہ پینگوئن منفی 50 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ وہ دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی انتہائی سرد ہوا کو برداشت کر سکتے ہیں۔ ان کے پروں کی دو تہیں ہوتی ہیںاور جسم میں چکنائی کی زیادہ مقدار انہیں ٹھنڈ سے محفوظ رکھتی ہے۔ ان کے پاؤں پر بھی پر ہوتے ہیں جو انہیں سردی سے بچاتے ہیں۔ 7۔ یہ پینگوئن پرندوں کی دنیا کیبہت بڑے غوطہ خور ہیں۔ انہیں 564 میٹر گہرائی تک سمندر میں غوطہ لگاتے اور 28 منٹ تک پانی میں رہتے دیکھا گیا ہے۔8۔ یہ قطب جنوبی کی سلور فش اور مچھلیوں کی دیگر قسموں کو کھاتے ہیں۔ بالغ پینگوئن دو سے تین کلوگرام فی دن خوراک کھاتا ہے ۔ تاہم کبھی کبھی وہ چھ کلوگرام تک بھی کھا لیتا ہے۔ 9۔ نر شہنشاہ پینگوئن چار ماہ تک کچھ نہیں کھاتے۔ یہ وہ عرصہ ہوتا ہے جب وہ انڈے سیتے ہیں۔ انہیں انڈوں سے بچے نکلنے کے بعد اور ان کی ماں کے واپس آنے پر کھانا نصیب ہوتا ہے۔ اس عرصے میں ان کے اندر موجود چکنانی کی بڑی مقدار توانائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ 10۔ شہنشاہ پینگوئن برف کی دشوار گزار عمودی چٹانوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔