حسین شہید سہروردی… مدبر سیاستدان 1956ء کا آئین بنانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا
اسپیشل فیچر
حسین شہید سہروردی کے بارے میں بلاشک و شبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک عظیم‘ مدبر اور محب وطن سیاستدان تھے۔ ان کی دیانت داری بھی مسلمہ تھی۔ پاکستان کو جو بڑے لیڈر ملے‘ حسین شہید سہروردی ان میں سے ایک تھے۔ ان کا تعلق مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش)سے تھا۔حسین شہید سہروردی 8 دسمبر 1892ء کو بنگال کے ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور 1921ء میں بھارت واپس آنے کے بعد انہوںنے چترن داس کی سوراج پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 1930ء کی دہائی میں وہ کلکتہ کے میئر بن گئے اور بعد میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن بن گئے۔ 1940ء کے وسط میں سہروردی کو بنگال کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ تقسیم بنگال کو روکنے کیلئے انہوںنے چندر بوس کے ساتھ مل کر ایک تجویز پیش کی جس میں متحدہ بنگال کو قائم رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مشرقی پاکستان کے ایک ایسے مدبربن کر ابھرے جو عام لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کرتے تھے اور وہ یہ ترجمانی بھی بڑے مؤثر انداز میں کرتے تھے۔1952ء میں انہوں نے مسلم لیگ کو الوداع کہا اور عوامی لیگ میں شمولیت اختیارکر لی۔ اے کے فضل الحق اور مولانا بھاشانی سے مل کر انہوں نے یونائٹیڈ فرنٹ اتحاد تشکیل دیا جس نے 1954ء کے مشرقی بنگال کے انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست دی۔ 1956ء میں عوامی لیگ نے پاکستان میں مخلوط حکومت کی قیادت کر کے ری پبلکن پارٹی سے اتحاد کر لیا۔ سہروردی وزیراعظم کے عہدے پر متمکن ہو گئے۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ توانائی کابحران دور کریںگے اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان معاشی تفاوت کا خاتمہ کریں گے۔ انہوںنے پاکستانی فوج کی تنظیم نو کابھی عہد کیا۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے سب سے پہلے امریکہ کے ساتھ ایسی شراکت داری کی بنیاد رکھی جس کے تحت ایک خاص مقصد اور مفاد کو حاصل کیا جانا تھا۔ اسے سٹریٹجک شراکت داری بھی کہا جاتا ہے۔ کاروباری طبقے اوربیورو کریسی نے ان کی پالیسیوںکے حوالے سے ان پر بڑا دبائو ڈالا۔ ان میں امداد کی تقسیم‘ نیشنلائزیشن اور وی یونٹ سکیم کی مخالفت شامل تھی۔ 1957ء میں انہیں مستعفی ہونا پڑا کیونکہ صدر سکندر مرزا نے انہیں برطرف کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ایوب خان کی حکومت نے ان کی سماجی زندگی پرپابندی لگا دی۔1920ء میں حسین شہید سہروری نے بیگم نیاز فاطمہ سے شادی کی جو سر عبدالرحیم کی صاحبزادی تھیں۔ وہ اس وقت بنگال کے وزیر داخلہ تھے۔ بعد میں سر عبدالرحیم انڈیا کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے صدر بنے۔ اس شادی سے سہروردی کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے۔ ایک بیٹا احمد شہاب سہروردی اور ایک بیٹی بیگم اختر سلیمان‘ احمد شہاب سہروردی کا لندن میں 1940ء میں نمونیے کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ بیگم اختر سلیمان کی شادی شاہ احمد سلیمان (جسٹس سر شاہ سلیمان کے بیٹے)سے ہوئی اور ان کی ایک بیٹی شاہدہ جمیل پیدا ہوئی۔ شاہدہ جمیل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون وفاقی وزیر قانون بنیں۔ شاہدہ جمیل کے دو بیٹے ہیں۔ زاہد جمیل اور شاہد جمیل۔سہروردی کی بیوی بیگم نیاز فاطمہ کا 1922ء میں انتقال ہو گیا۔ 1940ء میں سہروردی نے ویرا الیگزینڈرونا کالڈر سے شادی کی جس نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ان کا اسلامی نام بیگم نور جہاں تھا۔ وہ روسی اداکارہ تھیں اور ان کا تعلق ماسکو آرٹ تھیٹر سے تھا۔ 1951ء میں دونوںمیں طلاق ہو گئی۔ اس شادی سے دونوں کا ایک بچہ بھی ہے جس کا نام راشد سہروردی بھی ہے۔ وہ اداکارہے اور لندن میں مقیم ہے۔ راشد سہروردی نے فلم ’’جناح‘‘ میں جواہر لعل نہروکا کردار ادا کیا تھا۔1947ء میں جب کلکتہ میں طاقت کا توازن مسلم لیگ سے انڈین نیشنل کانگریس کی طرف چلا گیا تو سہروردی نے بنگال کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ قیام پاکستان کے بعدانہوںنے فوری طور پر اپنا گھرنہیں چھوڑا۔ انہیں خدشہ تھا کہ ہندوکہیں بنگال کے مسلمانوں سے انتقام نہ لیں۔ اس وجہ سے انہوںنے مہاتما گاندھی سے مدد مانگی۔ انہوںنے گاندھی کو ترغیب دی کہ وہ کلکتہ میں معاملات کو ٹھنڈا کریں اورہندوئوں اور مسلمانوں سے اپیل کریں کہ وہ امن سے رہیں۔سہروردی نے مشرقی پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو مستحکم کرنے کیلئے کام کیا۔ انہوںنے ایسا اس لئے کیا کہ وہ مغربی پاکستان کی سیاست میں توازن پیدا کرنا چاہتے تھے۔ انہوںنے دوسرے بنگالی لیڈروں اے کے فضل الحق اورمولانا عبدالحمید بھاشانی کے ساتھ مل کر ’’جگتو فرنٹ‘‘ کے نام سے محاذ بنایا۔ سہر وردی جونہی ملک کے وزیراعظم بنے انہوںنے فوری طور پر مخلوط انتخابی نظام کے قیام کے لئے کام کرنا شروع کر دیا۔اس وقت مغربی پاکستان میں مخلوط انتخابی نظام کی بہت مخالفت کی جا رہی تھی۔ مسلم لیگ نے عوام سے رجوع کیا اور جداگانہ انتخابی نظام پر عملدرآمد کیلئے زور دیا۔ مشرقی پاکستان میں مخلوط انتخابی نظام بہت مقبول تھا اور اس کی ہر طرف پذیرائی کی جارہی تھی۔ مسلم لیگ سے اس معاملے پر ان کی محاذ آرائی نے ان کی حکومت کیلئے کئی مسائل کھڑے کر دئیے۔1956ء کے آئین کی تشکیل میں سہروردی نے اہم کردار ادا کیا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔سہروردی نے کراچی میں پہلے ایٹمی پاور پلانٹ کی بنیاد رکھی۔ اس کیلئے پیک (PAEC) نے سفارش کی تھی۔ ایوب خان نے آتے ساتھ ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو سرد خانے میں ڈال دیا کیونکہ ان کے خیال میں پاکستان اتنا غریب ملک ہے کہ وہ اس پروگرام پر کام نہیں کر سکتا۔سہروردی نے صدر سکندر مرزاکے دبائو پر استعفیٰ دے دیا۔ صدر سکندرمرزا جمہوریت کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے لیکن سہروردی ان کی کوششوں میں مزاحم تھے۔ سہروردی نے صدر سکندر مرزا کی اس درخواست کو ماننے سے انکار کر دیا جس میں صدر نے تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کیلئے کہا تھا۔ بعدمیں حسین شہید سہروردی کی پارٹی کی جونیئر قیادت نے ان کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیا اور انہیں شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔1963ء میں حسین شہید سہروردی لبنان میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ پاکستان کیلئے ان کی خدمات تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔