ہم ہیں متاعِ کوچہ وبازار کی طرح مجروح سلطانپوری ایک لاثانی نغمہ نگار
اسپیشل فیچر
ملی گیت نگاری ہر شاعر کے بس میں نہیں۔ بڑے بڑے جید شعرا نے اس میدان میں بھی نام کمانے کی کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی۔ بہت کم ایسے شاعر ہیں جنہوں نے غزل اور نظم میں بھی اپنی فنی عظمت کا ثبوت دیا بلکہ فلمی نغمہ نگاری میں بھی اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ پاکستان میں قیتل شفائی ، سیف الدین ، تنویر نقوی اور منیر نیازی کا نام بھی لیا جا سکتا ہے لیکن ان دونوں نے شعرانے فلمی گیت کم لکھے بہرحال جتنے لکھے ان کا کوئی جواب نہیں۔ بھارت میں ساحر لدھیانوی، شکیل بدالوبی اور مجروح سلطانپوری ایسے متحرا ہیں جنہوں نے غزل اور نظم کے علاوہ فلمی گیت نگاری میں بھی اپنے نام کا ڈنکا بجایا۔ ویسے تو جاوید اختر بھی ہیں لیکن ان کو زیادہ شہرت ان کی سکرین رائٹنگ اور فلمی گیت لکھنے کی وجہ سے ملی۔ مجروح سلطانپوری کا مقام ومرتبہ سب سے الگ ہے ۔ انہوں نے طویل مدت تک اپنے فن کے قومی بکھیرے۔یکم اکتوبر1919کو سلطانپور (اتردیش بھارت) میںپیدا ہونے والے مجروح کو سلطانپوری کا اصل نام اسرار حسن خان تھا۔ ان کا فلمی کیریئر چھ عشروں پر محیط ہے۔ اس طویل عرصے میں انہوں نے نوشاد، مدن موہن، ایس ڈی برمن، روشن، اوی، شنکرجے کشن، اوپی نیر، اوشا کھنہ، لکشمی مانت پیارے لال، انو ملک، آرڈی برمن، روشن روی، شنکر جے کشن، او پی نیئر، لوشا کھنہ، ، راجیش روشن، آنند ملند، جینن للت اور اے آر رحمان جیسے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ انہیں فلم فیئر ایوارڈ کے علاوہ اور دادا صاحب پھالکھے ایوارڈ بھی دیا گیا۔مجروح سلطانپوری کے والد پولیس آفیسر تھے، انہوں نے اپنے بیٹے کو انگریزی تعلیم کے بجائے روایتی مدرسے کی تعلیم دلائی۔ مجروح نے درس نظامی کا سات سالہ کورس مکمل کیا جس میں مذہبی تعلیم کے علاوہ عربی اور فارسی میں مہارت بھی شامل تھی۔ اس کے بعد انہوں نے لکھنئو میں تکمیلِ طب کالج آف یونانی میں داخلہ لے لیا۔ تو وہ حکمت کے میدان میں نام کمانے کی کوشش کر رہے تھے جب انہوں نے سلطانپور کے ایک مشاعرے میں اپنی غزل سنائی۔ اس غزل کو سامعین نے بہت پسند کیا۔اس کے بعد مجروح نے سنجیدگی سے شاعری کی طرف توجہ دینا شروع کردی۔ جلد ہی وہ مشاعروں کی ضرورت بن گئے اور انہوں نے جگر آبادی کی شاگردی اختیار کر لی۔1945ء میں مجروح سلطانپوری جب صدیق انسٹیٹیوٹ میں ہونے والے مشاعرے میں شرکت کے لئے ممبئی آئے یہاں ان کی غزلوں کو سامعین نے بے حد پذیرائی بخشی۔ سامعین میں اس زمانے کے نامور فلمساز و ہدایت کار اے آر کاردار بھی شامل تھے۔کاردار نے جگر مراد آبادی سے رابطہ کیا جنہوں نے انہیں مجروح سے ملوایا۔ کاردار نے انہیں فلمی گیت لکھنے کا مشورہ دیا مجروح نے انکار کر دیا۔ اس پر جگر مراد آبادی نے انہیں سمجھایا کہ فلمی نغمات لکھنے پر انہیں اچھا معاوضہ ملے گا اور وہ اپنے خاندان کی نسبت اچھے طریقے سے کفالت کر سکیں گے۔ مجروح نے اس بات سے اتفاق کیا۔ کاردار انہیں سنگیت کار نوشاد کے پاس لے گئے۔ انہوں مجروح کو ایک دھن سنائی اور کہا کہ اس پر انہیں کچھ لکھ کے دیں۔ مجروح نے لکھا’’ جب اس نے گیسو بکھرے ، بادل آیا جھوم کے‘‘ نوشاد نے اسے پسند کیا اور انہیں فلم شاہ جہاں کے لئے نغمات لکھوانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ 1946ء کی بات ہے۔ اس فلم کے گیتوں نے ہر طرف تہلکہ مچا دیا۔ اس کا ایک گیت’’ جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کر کیا کریں گے‘‘ اتنا مقبول ہوا کہ گلوار کے ایل سہگل(جنہوں نے یہ گیت گایا تھا) نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب ان کی موت واقع ہو تو یہ گیت سب کو سنایا جائے۔ شاہ جہاں کے بعد مجروح سلطانپوری نے ’’مہندی، انداز، اور آرزو‘‘ کے نغمات تحریر کئے ۔ مجروح سلطانپوری ترقی پسند خیالات کے مالک تھے اور ان کی حکومت مخالف نظموں کی وجہ سے حکومت ان کے خلاف ہو گئی۔ انہیں1949ء میں بلراج ساہنی اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ پابند سلاسل کردیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ معافی مانگ لیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔اس پر انہیں دو سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ جب وہ جیل پہنچے تو ان کی سب سے بڑی بیٹی پیدا ہوئی۔ اس عرصے کے دوران ان کے خاندان کو بہت زیادہ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑا۔ مجروح سلطانپوری کی غزلوں کے بھی کچھ اشعار اتنے مقبول ہوئے کہ آج تک ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ شعر توآج بھی زبان زد عام ہے۔ میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگرلوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا جب فلمساز اور ہدایتکار ناصر حسین کے ساتھ ان کی دوستی ہوئی تو ناصر حسین نے ان سے اپنی فلموں کے گیت لکھوانے شروع کردیئے ۔ جو بے حد مقبول ہوئے۔ ان فلموں میں’’ تم سا نہیں دیکھا، دل دے کے دیکھو‘ پھر وہی دل لایا ہوں ، تیسری منزل، بہاروں کے سپنے، پیار کا موسم، کارواں، یادوں کی بارات، ہم کسی سے کم نہیں، زمانے کو دکھا ہے، قیامت سے قیامت تک، جو جیتا وہی سکندر اور اکیلے ہم اکیلے تم‘‘ شامل ہیں۔یہ مجروح سلطانپوری ہی تھے جنہوں نے آر ڈی برمن کو ناصر حسین سے متعارف کرایا اور پھر آرڈی برمن نے ناصر حسین کی فلم’’ تیسری منزل‘‘ کی موسیقی دی۔ اس فلم کے گیت آج بھی مقبول ہیں۔ اس فلم کے اور ناصر حسین کی تمام فلموں کا سنگیت آر ڈی برمن نے دیا۔ ذیل میں ہم اپنے قارئین کے لئے مجروح سلطانپوری کے کچھ نغمات کا ذکر کر رہے ہیں۔1…جھوم جھوم کے ناچو نا…… انداز2… جب دل ہی ٹوٹ گیا…… شاہ جہاں3… چھوڑ دو آنچل …… بے انگ گیٹ4… او حسینہ زلفوں والی… تیسری منزل5…او مرے سونا رے…… تیسری منزل6… چاہوں گا میں تجھے… … دوستی7… چرا لیا ہے تم نے …… یادوں کی بارات8… کیا ہوا تیرا وعدہ …… ہم کسی سے کم نہیں9… تم بن جائوں کہاں…… پیار کا موسم10 … اے میرے ہم سفر……قیامت سے قیامت تک 11… ہم ہیں متاعِ کو چہ بازار کی طرح… دستک24 مئی 2000ء کو اس لاجواب شاعر اور نغمہ نگار کا انتقال ہو گیا۔ ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔٭…٭…٭