حمیدہ اختر حسین رائے پوری کا سفرزندگی
اسپیشل فیچر
’’ہم سفر‘‘ معروف ترقی پسند ادیب اختر حسین رائے پوری کی بیگم حمیدہ اخترحسین رائے پوری کی ایسی آپ بیتی ہے جس کا مرکزی موضوع ان کے شوہر اختر حسین رائے پوری ہیں، جو نصف صدی سے بھی کچھ زیادہ وقت ان کے ہم سفر رہے اس لحاظ سے یہ ایک منفرد آپ بیتی ہے یہ لکھنے والے سے زیادہ اس کے شریک زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ اس آپ بیتی کاایک محرک جذبہ یہ بھی ہے کہ اختر حسین رائے پوری نے گرد راہ میں جوباتیں ان کہی چھوڑ دی تھیں انہیں قارئین کے سامنے پیش کردیا جائے۔ بیگم اختر حسین رائے پوری نے اگرچہ اس سے پہلے کچھ نہیں لکھا لیکن ان کی آپ بیتی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں زمانہ طالب علمی ہی سے پڑھنے کاشوق تھا۔ اختر حسین رائے پوری سے اولین ملاقات سے قبل وہ ان کا ایک افسانہ پڑھ کر اس سے متاثر ہو چکی تھیں۔ شادی کے بعد انہیں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی شفقت بھری رفاقت یوں میسر آئی کہ ان دنوں اختر حسین رائے پوری انجمن ترقی اردوسے منسلک تھے اوربابائے اردو انہیں بیٹوں کی طرح عزیز رکھتے تھے وہی انہیں بیاہ کرلے گئے تھے۔ اختر حسین رائے پوری کی ہم سفری میں انہیں اپنے عہد کی دیگر نامور ایسی شخصیات کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جن میں مسز سروجنی نائیڈو اور خالد ادیب خانم قابل ذکر ہیں۔ ان کے میکے میں بھی اپنے دور کے ممتاز اہل قلم کا آنا جانا تھا کہ وہ مشہور جاسوسی ناول نگار ظفر عمرکی صاحب زادی تھیں اور خود بھی پڑھی لکھی تھیں چنانچہ ان کی شخصیت میں جو تہذیبی رچائو موجود تھا اس کا اظہار کسی نہ کسی طورتو ہوتا ہی تھا اگراس سے قبل انہوں نے کچھ نہیں لکھا تو اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ ان کی ساری توجہ اپنے شوہر اورگھرداری کے جھمیلوں کی طرف رہی ہو یا پھر اختر حسین رائے پوری کی برگد جیسی شخصیت نے انہیں ابھرنے نہ دیا ورنہ ان میں وہ ساری خویباں موجود تھیں جوایک کامیاب قلمکار میں ہونی چاہئیں۔شادی کے بعد بیگم اختر حسین رائے پوری نے مہاراجہ کشن پرشاد کے بیٹے کی سالگرہ کاآنکھوں دیکھا حال جب بابائے اردو کو سنایا تو انہوں نے اختر سے مخاطب ہو کرکہا کہ :’’بھئی پشاورجانا تو اپنی بیوی کوبازار قصہ خوانی ضرورلے جانا اورکسی چوراہے کے کونے میں بیٹھا کر زور کی آواز لگانا۔ آج ایک عورت قصہ خواں آئی ہے جس کو شوق ہوآکرسن لے‘‘مولوی صاحب نے یہ جملہ محض ازراہ مذاق نہیں کہا تھا بلکہ حمیدہ بیگم کی ایک ایسی خصوصیت کا کھوج لگایا تھا جو ’’ہم سفر‘‘ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ چونکہ کتاب ڈاکٹرجمیل جالبی کی فرمائش پر لکھی گئی اور انداز ایسا ہے کہ مصنفہ جمیل جالبی کو مخاطب کرکے گزرے واقعات سنارہی ہیں اس لیے اس میں ایک داستان کی سی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ دلچسپی کاایک سبب ان کا انداز بیان اور جزئیات نگاری ہے۔ ان کی یادداشت قابل رشک اورجزیات نگاری حیرت انگیز ہے۔ یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم کسی مصنفہ کی پہلی تحریر پڑھ رہے ہیں۔’’میں نے اب ادھر ادھر اپنی نظر کو دوڑایا۔ چھپرکھٹ کے پائے خوب موٹے موٹے چاندی کے۔ نفیس بادامی پلنگ پوش سے بستر ڈھکا ہوا۔ تخت جس پربیٹھی ہوئی تھی اس کی مسند اورگائو تکیے کارچوبی، پورے کمرے کی ناپ کا ایرانی قالین ہلکے نیلے رنگ کا، جابجا جانوروں کی شکلیں چوکڑیاں بھرتے ہوئے چراگاہ کانقشہ پیش کررہی تھیں۔ تخت کے پاس ہی دو کرسیاں، ایک اس قدربڑی جیسے کسی پہلوان کے نیم دراز ہونے کے لیے رکھی ہوئی ہے۔ ایک عام آرام دہ کرسی، دونوں پر نفاست کے ساتھ کٹائو دار کام کے نیلے رنگ کے کشن، سامنے سنگھار میز، چاندی کے سامان اورسینٹ وغیرہ کی بوتلوں سے لدالد مسہری کے پاس ایک نیچا سا اسٹول، جیسے مسہری پرلیٹنے کے لیے اس کو استعمال کرتے ہوں، کمرے کے ایک کونے میں چاندی کا خوب لمبا شع دان‘‘ذرا طلوع صبح کا منظر بھی دیکھتے چلیے’’سورج پہلی دھند کے پردے کو، پھرنارنجی اوربھی تیز نارنجی رنگوں کی نقاب کو پھاڑتا، چیرتا آہستہ آہستہ نمودار ہوتا جاتا ہے اور۔۔۔سورج نمودار ہوگیا۔ ہلکی ذرا تیز اور پھرخوب چمکتی دمکتی روشنی ہر طرف پھیلنے لگی آنکھوں کے سامنے کیسا دلکش نظارہ تھا ہرطرف سبزہ ہی سبزہ، اونچے اونچے پیڑوں کے جھنڈ ہرے ہرے، چھوٹے چھوٹے گائوں اوربستیوں کو جیسے اپنی گود میں لیے ان کی پہرہ داری کر رہے ہوں‘‘۔دلچسپی کا دوسرا سبب وہ واقعات ہیں جو پہلی بار اس کتاب کی وساطت سے سامنے آئے ہیں۔ بابائے اردو کے بارے میں اگرچہ بہت سی باتیں اختر حسین رائے پوری کی خود نوشت گردراہ سے سامنے آئی تھیں مگر ہم سفر میں وہ باتیں بھی موجود ہیں جو بوجہ گرد راہ میں جگہ نہیں پاسکیں۔ مولوی عبدالحق کاہنسی مذاق ذرا اوراسی بات پربچوں کی طرح روٹھنے اورسننے کی کیفیات، شفقت اور سخت مزاجی کو جس دلچسپ انداز سے بیان کیا گیا ہے اس سے مولوی صاحب کی چلتی پھرتی تصویر نظروں کے سامنے آجاتی ہے اور جب وہ ڈکشنری میں اختر حسین رائے پوری کی خدمات کاتذکرہ نہیں کرتے تو صرف اختر اوربیگم اختر ہی کو دھچکا نہیں لگتا بلکہ قاری بھی سکتے میں آجاتا ہے کہ مولوی صاحب ایسی عظیم اورمحبت کرنے والی شخصیت نے یہ کیا کیا۔ بالخصوص اس لیے بھی کہ ولیمے والے واقعہ کے ذکر پر اپنوں نے یہ کہہ کر حمیدہ بیگم کو ڈانٹا تھا کہ ناگوار واقعات کو یاد نہیں رکھنا چاہیے۔ مگرشاید یہی مکمل انسان کی تصویر ہے اوراسی کو تقاضائے بشریت کہتے ہیں۔ خود اختر حسین رائے پوری کے خاندانی پس منظر کی جو تفصیلات ہم سفر میں ملتی ہیں وہ گرد راہ میں نہیں ہیں۔ چنانچہ مشفق خواجہ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ:’’یہ کتاب بیک وقت گرد راہ کا تکملہ بھی بن گئی ہے اورمصنفہ کی آپ بیتی بھی‘‘اس کتاب میں صرف مولوی عبدالحق کاتذکرہ ہی دلچسپی کاحامل نہیں بلکہ مسز سروجنی نائیڈو، خالدہ ادیب خانم، مہاتماگاندھی اورمہاراجہ کشن پرشاد کی شخصیات کے بھی نئے زاوئیے سامنے آئے ہیں۔ مصنفہ نے اپنی والدہ کی مکمل تصویر تونہیں دکھائی لیکن جس اندازسے ان کاتذکرہ کیا ہے اس سے ایک ایسی باشعور، معاملہ فہم اورمدبر خاتون کی تصویر سامنے آتی ہے جس کی تربیت نے مصنفہ کوزندگی کے ہرمشکل مرحلے سے بآسانی گزرجانے کاحوصلہ عطا کیا۔ کتاب کے مطالعہ سے یہ مقولہ ایک بار پھراپنی حقانیت منوالیتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اختر حسین رائے پوری کی زندگی میں کئی ایسے موڑ آئے ہیں جہاں بیگم اختر حسین رائے پوری کی ہم سفری ان کی کامیابی کاباعث بنی۔