ناہید اختر…دل کے تاروں کو چھونے والی آواز وہ 70ء کی دہائی میں بہت مقبول پلے بیک گلوکارہ تھیں‘ شاندار نغمات گائے

ناہید اختر…دل کے تاروں کو چھونے والی آواز وہ 70ء کی دہائی میں بہت مقبول پلے بیک گلوکارہ تھیں‘ شاندار نغمات گائے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفرؔ


پاکستانی فلمی صنعت کے قیام کے بعد جن گلوکارائوں نے شاندار پلے بیک گائیکی کا مظاہرہ کر کے سب کو حیران کیا ان میں میڈم نور جہاں اور زبیدہ خانم کے نام سرفہرست ہیں۔ بعد میں مالا، نسیم بیگم، رونا لیلیٰ اور نیّرہ نور نے بھی اردو اور پنجابی زبان میں بہت اچھے نغمات گائے جنہیں آج تک یاد کیا جاتاہے۔ 70ء کے اوائل میں ایک نئی گلوکارہ نے پلے بیک گائیکی کا آغاز کیا اور بہت کم عرصے میں زبردست مقبولیت حاصل کر لی۔ ان کا نام ہے ناہید اختر۔26ستمبر1956ء کو پیدا ہونے والی ناہید اختر کی تین بہنیں اور چار بھائی ہیں۔ ناہید اختر کی گائیکی کے بہت سے رنگ ہیں۔ انہوں نے پاپ گیت بھی گائے‘ غزلیں بھی گائیں‘ لوک پنجابی گیت اور قوالیاں بھی گائیں۔ پھر اپنی تیکھی آواز کی وجہ سے وہ بہت مقبول ہوئیں۔ وہ شوخ گیت بھی گاتی تھیں اور المیہ گیت گانے میں بھی ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ان کی یہ خوبی بھی بڑی زبردست تھی کہ وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں کیلئے گاتی تھیں۔ ان کی یہ خوش بختی تھی کہ انہیں پاکستان کے بہترین سنگیت کار ملے جنہوں نے ان کی آواز میں انتہائی خوبصورت گیت تخلیق کیے۔ ایم اشرف‘ اے حمید‘ ناشاد‘ کمال احمد‘ نثار بزمی‘ خلیل احمد‘ تصدق حسین‘ نذیر علی‘ ماسٹر رفیق علی‘ ماسٹر عنایت حسین‘ بخشی وزیر اور طافو جیسے باکمال موسیقاروں نے ان سے بڑے دلکش گیت گوائے جو اب بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ اس ذہین گلوکارہ نے بہت جلد اپنا ایک الگ مقام بنا لیا۔ بہت سے لوگ حیران تھے کہ ناہید اختر نے آخراتنی جلدی کیسے یہ مقام حاصل کر لیا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال تھیں۔ انہیں شہرت حاصل کرنے کیلئے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ’’نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی‘‘ کے مصداق وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر ترقی کی منازل طے کرتی رہیں۔ناہید اختر نے بڑے شاندار گانے گائے۔ خاص طور پر اے نیر اور رجب علی کے ساتھ گائے ہوئے ان کے دو گانے بہت مقبول ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم اشرف وہ موسیقار تھے جن کی فلموں میں انہوں نے سب سے زیادہ گیت گائے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پلے بیک گائیکی میں ایم اشرف نے ان کی بڑی مدد کی اور وہ ناہید اختر کیلئے استاد کا درجہ رکھتے تھے۔ ایم اشرف کی موسیقی میں ناہید اختر نے جو گیت گائے انہیں لازوال شہرت حاصل ہوئی۔ ان میں طربیہ اور المیہ دونوں قسم کے گیت شامل تھے۔ ایم اشرف کی جن فلموں میں ناہید اختر نے اپنی آواز کا جادو جگایا ان میں ’’ننھا فرشتہ‘ پھول میرے گلشن کا‘ شمع‘ زنجیر‘ اناڑی‘ دلربا‘ جب جب پھول کھلے‘ بے مثال‘ آرزو‘ صورت اور سیرت‘ نوکر‘ محبت زندگی ہے‘ پھول اور شعلے‘ دیکھا جائے گا‘ گونج اٹھی شہنائی‘ شبانہ‘ انسان اور فرشتہ‘ شمع محبت‘ اف یہ بیویاں‘ بیٹی‘ محبت ایک کہانی‘ درد‘ سسرال‘ اپنے ہوئے پرائے‘ پلے بوائے‘ ابھی تو میں جوان ہوں‘ آگ اور زندگی اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں کیلئے گائے ہوئے ناہید اختر کے کئی گیت سپرہٹ ثابت ہوئے جو مندرجہ ذیل ہیں۔1-تو ہی بتا پگلی پون (پھول میرے گلشن کا)2- کسی مہرباں نے آ کے (شمع)3- بادامی نینوں والے (زنجیر)4- ترستا ہے یہ دل (آرزو)5- تت تورو تورو تارا تارا (محبت زندگی ہے)6- پیار کبھی کرنا نہ کم (دیکھا جائے گا)7- زندہ رہیں تو کیا ہے (خریدار)8- تیرے بنا دنیا میں (شبانہ)9- تیرا میرا کوئی نہ کوئی (پلے بوائے)10- تجھے پیار کرتے کرتے (میرا نام محبت ہے)ایم اشرف کے علاوہ ناہید اختر نے جن دوسرے سنگیت کاروں کے ساتھ کام کیا اور ان کی موسیقی میں جو گیت مقبول ہوئے ان کا ذکر بھی ذیل میں کیا جا رہا ہے۔1- دل دھڑکے ہائے اللہ2- ایسی چال میں چلوں3- اللہ ہی اللہ کیا کرو4- تیری خوشی کیلئے تیرا پیار چھوڑ چلے5- تمام عمر تجھے زندگی کا پیار ملے6- تھا یقیں کہ آئے گی یہ راتاں کبھی7- جس طرف آنکھ اٹھائوںاب ہم ناہید اختر کے ان پنجابی گیتوں کا ذکر کریں گے جنہوں نے ایک زمانے میں ہر طرف دھوم مچا دی تھی۔1- دل تینوں دے کے (کھلی کچہری)2- کنڈلاں دے والاں والیا (غیرت)3- ماہی میرے نال اے (نشان)4- میرا ڈگ مگ ڈولے (اندھا قانون)5- وے جا دل ضد نہ کر (چن پنجاب دا)6- ونگاں لال پیلیاں (چوڑیاں)7- میرا یار بڑا (شاہ زمان)ناہید اختر نے غزلیں بھی گائیں اور ان کی درج ذیل دو غزلوں کا بڑا تذکرہ کیا جاتا ہے۔1- ہم سے الفت کے تقاضے نبھائے نہ گئے2- زندہ رہیں تو کیا ہےناہید اختر نے کئی ٹی وی پروگرام بھی کیے جن میں ’’لوک تماشا‘ سخن ور‘ سنگت‘ سر سنگیت‘ سخن فہم‘ میری پسند اور رم جھم‘‘ شامل ہیں۔اس بے مثل گلوکارہ کو تین بار نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں کئی دیگر ایوارڈ بھی دئیے گئے۔ ان سب کے علاوہ ناہید اختر ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ اور ’’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ ناہید اختر نے کئی برس پہلے گلوکاری ترک کر دی اور ساری توجہ گھریلو امور کی طرف مبذول کر دی۔ حال ہی میں ان کے شوہر آصف علی پوتا کا انتقال ہو گیا۔ ایک شاندار گلوکارہ کی حیثیت سے انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چنیوٹ کی شاھی مسجد

چنیوٹ کی شاھی مسجد

شاہ جہاں کے عہد کی یادگارچنیوٹ شہر اپنی تاریخی عمارتوں، لکڑی کے نفیس کام اور قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے برصغیر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد اس شہر میں مغلیہ دور کی کئی یادگاریں موجود ہیں مگر ان میں سب سے نمایاں اور اہم عمارت چنیوٹ کی شاہی مسجد ہے۔چنیوٹ کی شاہی مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ اس مسجد کی نسبت مغل دربار کے طاقتور وزیرِاعظم سعد اللہ خان (1595ء تا 1655ء ) سے کی جاتی ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق مسجد کی تعمیر کا آغاز 1646ء میں ہوا اور یہ تقریباً 1655ء تک مکمل ہوئی۔ اس دور میں مغل سلطنت اپنے عروج پر تھی اور فنِ تعمیر میں خوبصورتی، توازن اور شان و شوکت کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی خصوصیات اس مسجد میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔سعد اللہ خان چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور مغل دربار میں ان کا شمار انتہائی بااثر شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر کی ترقی اور مذہبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کروائی۔ اس طرح یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ بلکہ ایک فلاحی اور سماجی مرکز کے طور پر بھی قائم کی گئی۔چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کے وسط میں واقع ہے اور قدیم بازاروں کے درمیان بلند مقام پر واقع ہے۔ مسجد کا مقام اس طرح منتخب کیا گیا تھا کہ یہ شہر کی مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔مسجد کے اردگرد تاریخی بازار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے میں صدیوں سے تجارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کو اکثر ایسے مقامات پر تعمیر کیا جاتا تھا جہاں لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں، چنیوٹ کی شاہی مسجد بھی اسی روایت کی عکاسی کرتی ہے۔فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیاتچنیوٹ کی شاہی مسجد کا فنِ تعمیر مغل طرزِ تعمیر کی بہترین مثال ہے۔ مسجد کی مجموعی ساخت مغل دور میں رائج سات محرابی یا سات خانے (Seven Bay) طرز پر مبنی ہے۔ اس طرز میں مرکزی عبادت گاہ کے سامنے محرابوں کی ایک قطار ہوتی ہے جو عمارت کو متوازن اور خوبصورت بناتی ہے۔مسجد کے مرکز میں ایک کشادہ صحن ہے۔ مغل مساجد میں کشادہ صحن ایک اہم عنصر ہوتا تھا کیونکہ جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے۔صحن کے چاروں طرف محرابی برآمدے بنائے گئے ہیں جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ عمارت کو ایک خاص جمالیاتی حسن بھی دیتے ہیں۔ ان برآمدوں کی محرابیں مغل فنِ تعمیر کی روایتی سادگی اور وقار کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس مسجد کی ایک اہم خصوصیت اس کا بلند چبوترہ ہے۔ اس بلند بنیاد کے اندر دکانیں بنائی گئی ہیں۔ دکانوں کا مقصد مسجد کے اخراجات کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنا تھا۔ اس طرح مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ ایک خود کفیل ادارہ بھی تھی۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کے ساتھ ایسی معاشی سرگرمیوں کا انتظام عام تھا تاکہ ان کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ستونوں کا منفرد استعمالچنیوٹ کی شاہی مسجد کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ محرابِ قبلہ کے سامنے بنے برآمدوں کو سہارا دینے کے لیے ستونوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ مغل مساجد میں عام طور پر دیواروں اور محرابوں کے ذریعے چھت کو سہارا دیا جاتا تھا لیکن اس مسجد میں ستونوں کا استعمال نسبتاً غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس طرز کی ایک مثال لاہور کے قلعہ میں موجود موتی مسجد میں بھی ملتی ہے جو شاہ جہاں کے دور ہی میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں معمار مختلف تجربات کے ذریعے عمارتوں میں نئے انداز متعارف کروا رہے تھے۔سادگی اور وقار کا امتزاجچنیوٹ کی شاہی مسجد کا ڈیزائن اگرچہ شاندار ہے لیکن اس میں غیر ضروری تزئین و آرائش کم نظر آتی ہے۔ یہ سادگی مغل فنِ تعمیر کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں حسن اور توازن کو نمایاں رکھا جاتا تھا۔مسجد کی محرابیں، گنبد اور برآمدے نہایت متناسب انداز میں بنائے گئے ہیں۔ اینٹوں اور چونے کے استعمال سے بنائی گئی یہ عمارت آج بھی اپنی مضبوطی اور خوبصورتی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی اصل ساخت بڑی حد تک محفوظ ہے۔تاریخی اور ثقافتی اہمیتچنیوٹ کی شاہی مسجد صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو مغل دور کی تہذیب، مذہبی زندگی اور شہری منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مسجد صدیوں سے شہر کے لوگوں کے لیے عبادت، تعلیم اور سماجی رابطے کا مرکز رہی ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں مقامی اشرافیہ اور درباری شخصیات اپنے آبائی علاقوں میں عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرتی تھیں۔ سعد اللہ خان کی جانب سے اس مسجد کی تعمیر اسی روایت کی ایک نمایاں مثال ہے۔آج بھی چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔ مقامی لوگ اسے عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ تاریخ اور فنِ تعمیر سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ ایک اہم مقام ہے۔اگر اس مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور تاریخی حیثیت کے مطابق تحفظ کیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

ڈھاکہ چکن اجزاء:چکن: 500 گرام ،دہی: آدھا کپ ادرک لہسن پیسٹ: 1 کھانے کا چمچ،لال مرچ پاؤڈر: 1 چائے کا چمچ،ہلدی: آدھا چائے کا چمچ،نمک: حسبِ ذائقہ،گرم مصالحہ: آدھا چائے کا چمچ،لیموں کا رس: 1 کھانے کا چمچ،بیسن: 2 کھانے کے چمچ،انڈا: 1 عدد،ہری مرچ: 2 باریک کٹی ہوئی،تیل: تلنے کے لیےترکیب:چکن کو اچھی طرح دھو کر ایک برتن میں رکھیں۔اس میں دہی، ادرک لہسن پیسٹ، لال مرچ، ہلدی، نمک، گرم مصالحہ اور لیموں کا رس شامل کریں۔پھر بیسن اور انڈا ڈال کر اچھی طرح مکس کریں تاکہ چکن پر اچھی کوٹنگ ہو جائے۔آخر میں ہری مرچ ڈال دیں اور 30 منٹ کے لیے میرینیٹ ہونے دیں۔کڑاہی میں تیل گرم کریں اور چکن کو درمیانی آنچ پر سنہری ہونے تک فرائی کریں۔گرم گرم چٹنی اور سلاد کے ساتھ پیش کریں۔شاہی ٹکڑےاجزاء :ڈبل روٹی کے سلائس: 6،دودھ: 1 لیٹر،چینی: آدھا کپ،گھی یا تیل: فرائی کرنے کے لیے،الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ،بادام، پستہ: سجاوٹ کے لیے،کیوڑہ یا گلاب جل: چند قطرے (اختیاری)ترکیب: ڈبل روٹی کے سلائس کو تکون شکل میں کاٹ کر گھی میں سنہری ہونے تک تل لیں۔ایک پتیلی میں دودھ ابالیں اور اس میں چینی اور الائچی ڈال دیں۔دودھ کو تھوڑا گاڑھا ہونے تک پکائیں۔تلی ہوئی بریڈ کو ایک ڈش میں رکھ کر اوپر سے گاڑھا دودھ ڈال دیں۔بادام اور پستے سے سجا کر ٹھنڈا کر لیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب جالب اردو کے انقلابی شاعر ( 1993 - 1928ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب جالب اردو کے انقلابی شاعر ( 1993 - 1928ء)

٭...24مارچ 1928ء کو ہوشیار پور، مشرقہ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام حبیب احمد تھا۔٭...قیام پاکستان کے بعد پاکستان چلے آئے ۔ امروز کراچی میں پروف ریڈر کے طور پر کام کرنے لگے۔٭... کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے رکن بنے۔ 1954ء میں پارٹی پر پابندی لگی تو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ ) میں شمولیت اختیار کر لی۔٭...پسے ہوئے طبقات کے لیے جدوجہد کے تمام رنگ اُن کی شاعری میں ملتے ہیں۔٭...جالب کے شعری مجموعوں میں ''حرفِ سرِ دار‘‘،''عہدِ سزا‘‘ ،'سرِ مقتل ‘‘،''ذکر بہتے خون کا‘‘،''گنبدِ بے در‘‘ ،''ا س شہر خرابی میں‘‘،''گوشے میں قفس کے‘‘ اور' حرفِ حق ‘‘شامل ہیں۔٭...حبیب جالب نے فلمی گیت بھی لکھے جو خاصے پسند کئے گئے۔٭...فلم ''زرقا‘‘ میں اُن کا مشہورِ زمانہ گیت''رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘‘ تو گویا حبیب جالب کی شناخت بن گیا۔٭...1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم''سماج‘‘ میں بھی حبیب جالب کے گیت بہت مقبول ہوئے۔٭...حبیب جالب 12مارچ 1993ء کواس جہان رنگ بو سے رخصت ہوئے، لیکن اُن کی شاعری ہمیشہ عوامی احساسات کی ترجمانی کرتی رہے گی۔ ٭... حبیب جالب کی وفات کے بعد 2008ء میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے نوازا ۔چند اشعاراور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنارہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنانہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کوحق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھناہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھاشاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھناتم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھادشمنوں نے جو دشمنی کی ہےدوستوں نے بھی کیا کمی کی ہےدنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیںدنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چلپا سکیں گے نہ عمر بھر جس کوجستجو آج بھی اسی کی ہےکچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیںبیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیںجن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیںدل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

آج کا دن

آج کا دن

ماریشس کی آزادی12 مارچ 1968 ء کو جزیرہ نما ملک ماریشس نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ ماریشس تقریباً ڈیڑھ سو سال تک برطانیہ کی نوآبادی رہا اور اس دوران یہاں مختلف قومیتوں کے لوگ آ کر آباد ہوئے جن میں بھارتی، افریقی، چینی اور یورپی نسل کے لوگ شامل تھے۔آزادی کی تحریک کئی دہائیوں تک جاری رہی، جس میں مقامی سیاسی رہنماؤں اور عوام نے اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد ماریشس نے ایک جمہوری ریاست کے طور پر ترقی کی راہ اختیار کی۔ برلن معاہدہ 12 مارچ 1918 کو روس اور جرمنی کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا جسے برلن معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ پہلی عالمی جنگ کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا۔ اس وقت روس میں روسی انقلاب ہو چکا تھا اور نئی بالشویک حکومت کو اندرونی مسائل اور جنگی دباؤ کا سامنا تھا۔نئی حکومت کے سربراہ ولادیمیر لینن جنگ سے نکلنا چاہتے تھے تاکہ وہ ملک کے اندرونی حالات کو بہتر بنا سکیں۔ اسی مقصد کے تحت روس نے جرمنی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں مختلف معاہدے طے پائے جن کا مقصد جنگ بندی اور سیاسی تعلقات کو منظم کرنا تھا۔پہلی عوامی لائبریری کا قیام12 مارچ 1798ء کو امریکہ کی ریاست کینٹکی میں پہلی عوامی لائبریری قائم کی گئی۔لائبریری کا قیام دراصل اس خیال پر مبنی تھا کہ علم اور معلومات صرف امیر طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ہر شہری کو اس تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مقامی دانشوروں اور سماجی رہنماؤں نے مل کر ایک ایسی لائبریری قائم کی جہاں لوگ مطالعہ کر سکیں اور کتابیں حاصل کر سکیں۔ابتدائی دور میں اس لائبریری میں زیادہ تر تاریخ، فلسفہ، مذہب اور سائنس سے متعلق کتابیں موجود تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ذخیرہ بڑھتا گیا اور یہ مقامی کمیونٹی کے لیے ایک اہم علمی مرکز بن گئی۔پہلے ویب براؤزر کا اجرا12 مارچ 1993 کو دنیا کے پہلے گرافیکل ویب براؤزر موزیک (Mosaic) کا ابتدائی ورژن جاری کیا گیا۔ یہ براؤزر نیشنل سینٹر فار سپرکمپیوٹنگ ایپلی کیشنز (NCSA) کے سائنسدانوں نے تیار کیا تھا۔ اس ٹیم کی قیادت نوجوان پروگرامر مارک اینڈریسن کر رہے تھے۔موزیک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے انٹرنیٹ کو عام صارفین کے لیے بہت آسان بنا دیا۔ موزیک نے گرافیکل انٹرفیس متعارف کرایا جس میں تصاویر اور متن کو ایک ہی صفحے پر دیکھا جا سکتا تھا۔اس براؤزر کی مقبولیت بہت تیزی سے بڑھی اور اس نے انٹرنیٹ کے استعمال میں انقلاب برپا کر دیا۔

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

 چولستان کے صحرا میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلکپنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع چولستان کے وسیع و عریض صحرا میں قلعہ دراوڑ اپنی شان و شوکت کے باعث صدیوں سے سیاحوں اور مؤرخین کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس عظیم الشان قلعے کے قریب واقع مسجد جسے عام طور پر عباسی مسجد یا قلعہ دراوڑ کی شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورت مغل طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث خطے کی نمایاں مذہبی و ثقافتی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔قلعہ دراوڑ اگرچہ دسویں صدی میں تعمیر ہوا اور وقتاً فوقتاً اس کی ازسرِ نو تعمیر ہوتی رہی تاہم عباسی مسجد نسبتاً بعد کی تعمیر ہے۔ اس کی بنیاد 1835ء میں ریاست بہاولپور کے حکمران نواب بہاول خان سوم نے رکھی۔ بعض تاریخی حوالوں میں اس کی تعمیر 1849ء بتائی جاتی ہے، مگر عمومی طور پر 1835ء کو ہی اس کا سنِ تعمیر مانا جاتا ہے۔نواب بہاول خان سوم ریاست بہاولپور کے پانچویں حکمران تھے اور ان کا تعلق عباسی خاندان سے تھا، جس نے بہاولپور کو مضبوط اور خوشحال ریاست کے طور پر قائم رکھا۔ برطانوی دور کے سرکاری گزٹ میں ان کی شخصیت کو خاصی تعریف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انہیں سخی بہاول خان کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنی سخاوت اور رعایا پروری کی وجہ سے مشہور تھے۔ برطانوی حکومت کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات بھی تاریخ میں درج ہیں خصوصاً ملتان کی مہم کے دوران انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔مغل طرزِ تعمیر کی جھلکعباسی مسجد کو عموماً دہلی کی معروف جامع مسجد کی طرز پر تعمیر شدہ مسجد قرار دیا جاتا ہے۔ دہلی کی یہ عظیم مسجد سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں تعمیر ہوئی تھی اور برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ انیسویں صدی تک مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور اس کا اقتدار عملاً محدود ہو گیا تھا تاہم مغل طرزِ تعمیر اب بھی اقتدار، وقار اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے برصغیر کی مختلف ریاستوں کے حکمران اپنی عمارتوں میں مغل طرز کو اپنانا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ عباسی مسجد کی تعمیر بھی اسی روایت کا تسلسل ہے۔ یہ مسجد ایک وسیع صحن کے سامنے پانچ محرابی دروازوں والی سیدھی قطار میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس طرزِ تعمیر کی مثالیں دہلی کے قدیم دورِ لودھی کی مساجد میں بھی ملتی ہیں۔ مسجد کے دونوں اطراف پر بلند و بالا مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو عمارت کو مزید شان و شوکت عطا کرتے ہیں۔یہ مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں جو لاہور کی مسجد وزیر خان میں پہلی مرتبہ نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں یہی طرز برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں عام ہو گیا۔گنبد اور ساختمسجد کے تین بڑے گنبد اونچی بنیاد پر قائم ہیں اور دور سے دیکھنے پر نہایت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ مغل دور کی بعض ابتدائی مساجد میں گنبدوں کو عمارت کے اگلے حصے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی جیسا کہ فتح پور سیکری کی بعض مساجد میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن عباسی مسجد میں گنبدوں کو نمایاں انداز میں بلند رکھا گیا ہے تاکہ وہ آسمان کی طرف ابھرتے ہوئے دکھائی دیں۔داخلی دروازے اور خطاطیاس مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت اس کے نسبتاً چھوٹے دروازے ہیں۔ عمارت کے سامنے والے بڑے اور بلند حصے کے مقابلے میں یہ دروازے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جو اس دور کی کچھ دیگر مساجد میں بھی نظر آتا ہے مگر دراوڑ مسجد میں یہ تناسب خاصا منفرد ہے۔معماروں نے اگلے حصے کی خالی جگہ کو خوبصورت محرابی طاقچوں اور خطاطی کے پینلوں سے بھر دیا ہے۔ مرکزی دروازہ خاص طور پر نہایت نفیس انداز میں بنایا گیا ہے جس میں دو تہہ دار محرابیں ہیں۔ ان محرابوں کے گرد قرآن مجید کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ خوبصورت خطاطی میں کندہ کیے گئے ہیں۔چھت کے کناروں پر شعلہ نما محرابی کنگرے بنائے گئے ہیں۔مغربی دیوار کا منفرد جھروکہمسجد کی مغربی دیوار میں ایک منفرد جھروکہ نما کھڑکی بھی موجود ہے جو محراب کے مقام کی نشاندہی کرتی ہے۔ برصغیر کی اکثر مساجد میں مغربی دیوار سادہ رکھی جاتی ہے کیونکہ یہ قبلہ کی سمت ہوتی ہے اور عام طور پر وہاں سے آمد و رفت نہیں ہوتی مگر عباسی مسجد کے معماروں نے اس حصے کو بھی آرائشی انداز دیا۔ماہرینِ تعمیرات کے مطابق اس جھروکے کا مقصد شاید یہ تھا کہ جب نواب قلعے سے نماز کے لیے مسجد آتے تو امام یہاں کھڑے ہو کر ان کا استقبال کر سکتے تھے۔ چونکہ مسجد قلعہ دراوڑ کے مشرق میں واقع ہے اس لیے مغربی دیوار قلعے کی سمت پڑتی ہے اور اس پر آرائش کرنا ضروری سمجھا گیا۔صحرا میں عظیم مسجد کی تعمیرچولستان کے سنسان صحرا کے کنارے اتنی خوبصورت اور بڑی مسجد کی تعمیر بظاہر حیران کن معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس کی وجہ اس علاقے میں عباسی خاندان کی موجودگی تھی۔ قلعہ دراوڑ کے قریب عباسی حکمرانوں کے مقبرے بھی موجود ہیں جو اس جگہ کی سیاسی اور روحانی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ نواب بہاول خان اور ان کا خاندان قلعے کے اندر ایک وسیع رہائش گاہ بھی رکھتے تھے۔وقت گزرنے کے باوجود عباسی مسجد آج بھی کافی اچھی حالت میں ہے۔ قلعہ دراوڑ کی کہنہ سال فصیلیں جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہیں مگر مسجد کی عمارت نسبتاً محفوظ اور مضبوط نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اسے بعد کے دور میں تعمیر کیا گیا اور اس کی دیکھ بھال بھی نسبتاً بہتر رہی۔یہ مسجد نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہے بلکہ برصغیر کی اسلامی فنِ تعمیر کی ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔ اس کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ بہاولپور کے نواب خود کو مغل سلطنت کی تہذیبی و سیاسی روایت کا وارث سمجھتے تھے اور اسی طرزِ تعمیر کو اپناتے ہوئے اپنی حکمرانی کی شان و شوکت ظاہر کرنا چاہتے تھے۔یوں چولستان کے خاموش صحرا میں عباسی مسجد تاریخ، فنِ تعمیر اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ آج بھی جب سیاح قلعہ دراوڑ کی فصیلوں کے سائے میں اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو انہیں ماضی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جب ریاست بہاولپور اپنی شان و شوکت کے عروج پر تھی اور اس کے حکمران فن و ثقافت کے سرپرست سمجھے جاتے تھے۔

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

سوشل میڈیا کے دعوئوں اور سائنسی حقائق کا جائزہحالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر مختلف غذاؤں کو ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ انہی میں ایک نئی غذا کالے تل بھی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سفید تل کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہیں، بلڈ پریشر کم کرتے ہیں، دل کی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور حتیٰ کہ سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بھی کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سائنس ان دعوؤں کی تائید کرتی ہے؟ کالے تل کیا ہیں؟تل ایک قدیم غذائی جزو ہے جو صدیوں سے ایشیائی کھانوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ سفید اور کالے رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ ذائقے کے اعتبار سے کالے تل ہلکی سی خوشبودار اور مغزی ذائقہ رکھتے ہیں اور انہیں میٹھے اور نمکین دونوں قسم کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ غذائیت کے لحاظ سے تل ایک توانائی سے بھرپور غذا ہے۔ ان میں تقریباً 50 سے 64 فیصد تک چکنائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان سے تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور مختلف وٹامنز اور معدنیات کا بھی اچھا ذریعہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض غذائی اجزاکالے تل میں سفید تل کے مقابلے میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں چکنائی، پروٹین اور کئی معدنیات کی مقدار قدرے زیادہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے انہیں بعض لوگ زیادہ صحت بخش سمجھتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس اور صحتانسانی جسم میں روزمرہ کے عمل جیسے سانس لینے، حرکت کرنے اور سورج کی شعاعوں کے اثر سے فری ریڈیکلز بنتے ہیں۔ یہ نقصان دہ مرکبات خلیوں، پروٹین اور ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تل میں ایسے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جنہیں اینٹی آکسیڈنٹس کہا جاتا ہے۔ یہ مرکبات فری ریڈیکلز کو بے اثر کرکے جسم کو ممکنہ نقصان سے بچاتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کالے تل میں فینولز اور لِگنین نامی اینٹی آکسیڈنٹس سفید تل کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک اہم مرکب سیسامِن (Sesamin) بھی تل میں پایا جاتا ہے۔ لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہیں اور یہ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کے مطابق ان تجربات کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کچھ سائنسی مطالعات میں تل کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک جائزے میں چھ مختلف مطالعات کے 465 افراد کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ تل کے استعمال سے جسمانی وزن کے اشاریے (BMI)، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کچھ کمی دیکھی گئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مطالعات میں کئی کمزوریاں موجود تھیں، اس لیے سائنسدانوں نے ان نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا اور مزید مضبوط تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک چھوٹی تحقیق میں کالے تل کے کیپسول چار ہفتے تک استعمال کرنے سے ہلکے بلند بلڈ پریشر والے افراد میں سسٹولک بلڈ پریشر میں کچھ کمی دیکھی گئی مگر یہ نتیجہ بھی محدود پیمانے پر حاصل ہوا۔ کیا کالے تل سفید بال سیاہ کر سکتے ہیں؟سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مشہور دعویٰ یہی ہے کہ کالے تل سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بنا سکتے ہیں لیکن موجودہ سائنسی تحقیق اس بات کی تائید نہیں کرتی۔ ماہرین کے مطابق اب تک ایسی کوئی معتبر تحقیق سامنے نہیں آئی جس میں ثابت ہو کہ کسی خاص غذا یا سپلیمنٹ سے سفید بال دوبارہ سیاہ ہو سکتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق کالے تل ایک غذائیت سے بھرپور غذا ضرور ہیں تاہم انہیں کسی جادوئی دوا یا ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم عموماً تل بہت کم مقدار میں کھاتے ہیں مثلاً سالن، روٹی یا میٹھے پر چھڑک کر،اس لیے کالے اور سفید تل کے درمیان فرق سے صحت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔ اصل اہمیت متوازن اور متنوع غذا کی ہے جس میں مختلف غذائی اجزا شامل ہوں۔ اگر آپ کو کالے تل کا ذائقہ پسند ہے تو انہیں اپنی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن سفید بالوں کو سیاہ کرنے یا بیماریوں کے مکمل علاج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔