علامہ اقبال ؒکا خاندانی پس منظر
اسپیشل فیچر
شیخ نور محمد کے یہاں ایک روایت چلی آ رہی تھی کہ ان کے مورث اعلیٰ کوئی صوفی بزرگ تھے، بابا لولی حج۔ ان کا اصل نام تو معلوم نہیں، نہ یہ کہ انہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا یا ان کے کسی بزرگ نے ، معلوم ہے تو یہ کہ ’’حضرت بابا لولی حج کشمیر کے مشائخ میں سے تھے۔ ان کا ذکر خواجہ اعظم کی تاریخ کشمیر میں اتفاقاًمل گیا۔ ان کا اصل گائوں لوچڑ نہیں تھا، بلکہ موضع چکو، پرگنہ اڈون میں تھا۔ ترک دنیا کر کے کشمیر سے نکل گئے، بارہ سال کشمیر سے باہر رہے۔ واپس آنے پر اشارہ غیبی پا کر بابا نصیر الدین کے مرید ہوئے۔ بقیہ عمران کی صحبت میں گزری۔ اپنے مرشد کے جوار ہی میں مدفون ہیں ‘‘ بابا نصیر الدین ایک متمول ہندو خاندان کے فرزند تھے۔ بچپن ہی سے سوئے ہضم کی شکایت تھی۔ علاج معالجہ کامیاب نہ رہا۔خواب میں اشارہ ہوا کہ شیخ العالم شیخ نور الدین ریشی سے رجوع کریں۔ انہوں نے دعا فرمائی ، اچھے ہو گئے۔ اسلام قبول کر لیا پھر شیخ ہی کی صحبت میں عمر گزاری اور اس حد تک فیض یاب ہوئے کہ ان کاشمار شیخ کی زندگی ہی میں ان کے خلفا میں ہونے لگا۔ شیخ العالم سلسلہ ریشیان کے مشائخ میںسے تھے۔ سلطان شہاب الدین کے عہد میں پیدا ہوئے۔سلطان زین العابدین ’’بڈشاہ‘‘ کے عہد میں وفات پائی۔ سلطان خود جنازے میں شریک تھا۔لیکن ان روایات سے جن کی صحت میں کلام نہیں ، یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ بابا لولی حج تھے جنھوں نے حکیم الامت کے آبا ئو اجداد میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا یا ان کے کسی بزرگ نے۔ اس لیے کہ بابا لولی حج نے بابا نصیر الدین کی بیعت کی تو کشمیر سے باہر اپنی طویل سیاحتوں اور بار بار فریضہ حج کی ادائیگی سے واپس آ کر۔ قبولیت اسلام سے پہلے انھیں بابا نصیر الدین سے بیعت کا اشارہ کیسے مل سکتا تھا۔ اتنا بہر حال طے ہے کہ حکیم الامت کے آبائو اجداد نے آج سے چار پانچ سو برس پہلے اسلام قبول کیا۔ اس غلطی کا ازالہ اس طرح ہوا کہ 1925ء میں ڈاکٹر صوفی غلام محی الدین رجسٹرار دہلی یونیورسٹی ڈاکٹریٹ کے لیے کشمیری تہذیب و تمدن پر ایک مقالہ لکھ رہے تھے۔ممتحن میں محمد اقبال کا نام بھی شامل تھا۔صوفی صاحب کی ہدایت پر ویدہ مری کا نسخہ ان کی خدمت میں پہنچا۔ انھوں نے دو چار ورق ہی الٹ کر دیکھے تھے کہ بابا لولی حج کا تذکرہ مل گیا۔ تذکرہ ملا تو وطن اور زمانے کے یقین میں بھی کوئی مشکل نہ رہی۔ فوق نے ، باوجودیہ کہ محمد اقبال سے گہرے مراسم تھے، قیاساً لکھ دیا کر ان کے جداعلیٰ نے کوئی سوا دو سو برس پہلے اسلام قبول کیا۔ بعینہٖ ذکرِ اقبال یا بعض دوسری سوانح حیات میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ ان کے جد اعلیٰ نے جس صوفی بزرگ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ان سے اکتساب فیض میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ انھوں نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دے دی حاجی صالح ان کا نام ہوا جس کی وجہ تھی ان کی صالح زندگی۔ یہ روایت بے سند ہے لہٰذا نا قابل قبول ہے۔ بالخصوص اس مکتوب کی موجودگی میں جس کا حوالہ ابھی دیا گیا ہے۔ بات واضح ہے بابا نصیر الدین 1451ء میں فوت ہوئے ان کے مرید لولی حج یا ان کے اسلاف پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔بابا لولی حج کی اولاد میں ایک بزرگ تھے شیخ اکبر، انھیں پیری اس طرح ملی کہ خاندان سادات کے ایک سربراہ کا جو سنکھترہ میں مقیم تھے ، انتقال ہوا تو شیخ اکبر نے ان کے مریدوں کو سنبھالا۔ لوگ اس خاندان کو سید نہیں مانتے تھے۔ ان پر طعن و تشنیع کی جاتی۔ ایک روز اس کے سربراہ ایک سبز کپڑا اوڑھ کر آگ میں بیٹھ گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ کپڑا حضرت امامؓ کی یاد گار ہے، ان پر آگ اثر نہیں کرے گی اور ہوا بھی یہ کہ آگ نے ان پر مطلق اثر نہ کیا۔ دھسوں کا کاروبار انھیں کے ایک مرید کے ایما پر کیا گیا تھا۔ لیکن جس طرح یہ معلوم نہیں کہ شیخ اکبر بابا لولی کی کس پشت سے تھے بعینہٖ یہ بھی کہ شیخ مذکور شیخ جمال الدین کے دادا تھے یا پڑدادا۔ معلوم ہے تو یہ کہ شیخ جمال الدین کے چار بیٹے تھے۔ بڑے شیخ محمد رمضان ، تصوف میں چند ایک فارسی رسائل کے مصنف۔ دوسرے شیخ محمد رفیق شیخ نور محمد کے والد، تیسرے اور چوتھے شیخ عبدالرحمان اور شیخ عبداللہ جن میں اوّل الذکر نے دکن کا رُخ کیا اور وہیں کے ہو رہے۔ مؤخر الذکر سیالکوٹ کے نواح میں جابسے۔ شیخ محمد رفیق کے سب سے بڑے بیٹے شیخ نور محمد باپ کے ساتھ بزازی کا کاروبار کرتے۔ دوسرے شیخ غلام محمد محکمہ نہر میں ملازم تھے۔ تبدیل ہو کر روپڑگئے۔ شیخ محمد رفیق کا انتقال بھی روپڑ ہی میں ہوا۔ بیٹے سے ملنے گئے تھے کہ ہیضے میں مبتلا ہو گئے۔ شیخ محمد رفیق 1849ء میں زندہ تھے۔