قیام پاکستان کی نظریاتی اساس
اسپیشل فیچر
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ ہم یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستان کا قیام ایک نظریے کی بنیاد پر عمل میں آیا اور یہ ایک نیا تجربہ ہے۔ اگر قیام پاکستان کی تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کے اعتراف میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا کہ بانیانِ پاکستان کے پیش نظر جہاں آئینی، معاشی، سماجی اور ثقافتی مسائل تھے وہاں اس کے ساتھ ساتھ نظریاتی تقاضے بھی تھے جو انجام کار انہیں قیامِ پاکستان کی جدوجہد کی طرف لے گئے اور یہ جدوجہد پاکستان کی تشکیل پر منتج ہوئی۔ تاہم قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی ہمیں ایسے حالات سے سابقہ پڑا کہ وہ مقاصد بتدریج نظروں سے اوجھل ہوتے چلے گئے اور ہماری انفرادی اور اجتماعی ترجیحات میں انہیں کوئی وقیع مقام نہ مل سکا۔ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ہر دور میں موضوعِ بحث تو رکھا گیا لیکن شاید ہم اسے سنجیدگی کے ساتھ وہ توجہ نہیں دے سکے جس کا یہ موضوع مستحق تھا کہ ہم اس خواب کو حقیقت میں بھی ڈھال سکتے۔ تاہم اس کا ایک یہ پہلو ضرور سامنے آیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس موضوع کے حوالے سے ایسے مباحث کا آغاز ہو گیا جنہوں نے فکری پراگندگی اور نظریاتی انتشار کو جنم دیا۔ آج اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو ہمیں انتہا پسندی کے رجحانات کے پیچھے بھی بڑی حد تک اسلامی دعوے اور نظریاتی تصورات ہی نظر آئیں گے۔لہٰذا آج اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اس نظریاتی اساس کو تلاش کریں اور پاکستان کے تشخص کا تعین کرتے ہوئے اس امر کا دلائل، تاریخی شہادتوں اور عملی حقائق کے ساتھ ثبوت فراہم کریں کہ پاکستان کا نظریاتی تشخص اسلام کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ آئینی مسائل ہوں، قومی ڈھانچہ ہو، اداروں کی کارکردگی ہو، انفرادی و اجتماعی کردار ہو یا اقوام عالم کے مابین ہمارا اجتماعی، قومی اور ملی کردار ہو ان سب جہات کا تعین اگر کوئی واحد عنصر موثر طور پر کر سکتا ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ لہٰذا اس تشخص کے تعین اور اس کے لیے باقاعدہ استدلال کی فراہمی آج ہماری ایک اہم ملی و قومی ضرورت ہے۔۔۔ہندوستان میں انگریز کی آمد کے بعد مغربی نظریات، افکار، رسوم و رواج اور کلچر کو بھی مقامی معاشرے اور تہذیب کے ساتھ باہمی ارتباط کا موقع ملا جس سے نئے رجحانات پیدا ہوئے، نئی تحریکوں نے جنم لیا اور ہر تحریک نے مسلم معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ ان میں سے تحریک خلافت ایک بڑی سیاسی تحریک تھی۔ ان تحریکوں کا ایک بڑا ثمر ہندوستان میں جداگانہ قومیت کے تصور کا فروغ تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد دورِ غلامی میں مسلمانوں میں جو ایک نمایاں احساس پیدا ہوا وہ علیحدہ تشخص کی بقا کا احساس تھا۔ مگر ’’تحریک مجاہدین‘‘ اور ’’تحریک خلافت‘‘ عملی طور پر اس لیے ناکام ہوئیں کہ وہ ’’تقلیدی‘‘ فکر کا نتیجہ تھیں۔ ’’تحریک پاکستان‘‘ کی کامیابی کا سبب بانیانِ پاکستان کی ’’اجتہادی‘‘ سوچ تھی۔ اس دور کی نمائندہ آواز اقبالؒ کی آواز ہے جسے جدید اسلام کا ایک بڑا اور موثر نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ سیکولرازم، قومیت اور ریاست کے بارے میں اقبالؒ کے افکار کا ہماری ملی زندگی کے ساتھ براہِ راست تعلق بھی ہے اور ان کا ہماری ملی زندگی کی صورت گری میں ایک نمایاں کردار بھی ہے۔ اقبالؒ کے اس کردار ہی کا ایک نتیجہ پاکستان کی صورت میں مسلم ریاست کا ظہور ہے جو کئی صدیوں کی عملی اور فکری سطح پر جاری رہنے والی مسلسل جدوجہد کا ایک ایسا ثمر ہے جس سے ہندوستان کے مسلمانوں میں اپنی الگ قومیت اور تشخص کو بقا دینے کی امنگ اور آرزو کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ کتاب اسی آرزو کے پس منظر اور مستقبل میں اس کی صورت گری کے امکانات کا احاطہ کرتی ہے۔جاوید اقبال کی کتاب’’ اسلام اور پاکستانی تشخص‘‘ سے اقتباس٭…٭…٭