انجمن ترقی اردو کے دفتر کا قیام
اسپیشل فیچر
آزادی کا اعلان ہوتے ہی برصغیر فسادات کی لپیٹ میں آ گیا اور ایسی آگ لگی کہ بجھنے کا نام نہ لیتی تھی اس کے نتیجے میں انجمن ترقی اردو ہند کی بزم بھی تتر بتر ہو گئی ۔دفتر لٹیروں نے لوٹ لیا، عمارت انشورنس کمپنی کے قبضے میں چلی گئی، ملازمین اور کارکن شہید ہو گئے یا جن کے جہاں سینگ سمائے چلے گئے۔ تمام ادارے تقسیم ہو کر رہ گئے۔ اس لئے تشکیل پاکستان کے ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں انجمن ترقی اردو کی بنیاد رکھی گئی، جو ہندوستان کی انجمن ترقی اردو سے جداگانہ اور آزاد اپنے کام و سفر کا آغاز کر سکے کیونکہ تقسیم ہند کے نتیجے میں پاکستان کے علاقوں کی شاخوں کا الحاق ہندوستان کے مرکز سے رہنے کا جواز نہ تھا۔ صرف یہ فیصلہ کرنا تھا کہ پاکستان میں انجمن ترقی اردو کا مرکز کہاں ہو۔ جس وقت اورنگ آباد سے انجمن کو منتقل کرنے کے لئے 24، 25اکتوبر1936ء کو علی گڑھ میں کل ہند کانفرنس منعقد کی تھی تو اس میں پنجاب سے ڈاکٹر اقبالؒ کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا مگر وہ اپنی علالت کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے تھے، لیکن انجمن کی اورنگ آباد سے منتقلی کے بعد نئے مرکز کے سلسلے میں دعوت نامے کے جواب میں مولوی عبدالحق صاحب کے نام اپنے مکتوب 27ستمبر 1936ء میں تفصیلی اور مدلل رائے دی تھی:’’ میرے خیال میں اس کا مستقر لاہور ہونا چاہئے اور اس کے لئے ایک سے زیادہ وجوہ ہیں:‘‘ 1۔مسلمانوں کو اپنے تحفظ کے لئے جو لڑائیاں آئندہ لڑنی پڑیں گی ان کا میدان پنجاب ہو گا۔ پنجابیوں کو اس میں بڑی دقتیں پیش آئیں گی کیونکہ اسلامی زمانے میں یہاں کے مسلمانوں کی مناسب تربیت نہیں کی گئی مگر اس کا کیا علاج کہ آئندہ رزمگاہ یہی سر زمین معلوم ہوتی ہے۔2۔ آپ انجمن اردو سے متعلق ایک پبلشنگ ہاؤس قائم کرنا چاہتے ہیں، اس کی کامیابی بھی لاہور ہی میں ہو سکتی ہے کیونکہ یہ ایک بڑا پبلشنگ سنٹر ہے اور بہت سا طباعت کا کام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انگریزی پبلشنگ کی طرف بھی یہاں کے مسلمان توجہ کر رہے ہیں۔3۔یہاں کے لوگوں میں اثر قبول کرنے کا مادہ زیادہ ہے۔ سادہ دل صحرائیوں کی طرح ان میں ہر قسم کی باتیں سننے اور ان سے متاثر ہو کر ان پر عمل کرنے کی صلاحیت اور مقامات سے بڑھ کر ہے۔ ایک معمولی جلسے کے لئے آٹھ دس ہزار مسلمانوں کا جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ بیس ہزار کا مجمع بھی غیر معمولی نہیں۔ یہ بات پنجاب کے ہندوؤں میں بھی نہیں پائی جاتی۔اور اسی قسم کے خیالات کا اظہار مولانا ظفر علی خان، حافظ محمود شیرانی اور پنجاب کے دیگر اکابرین نے کیا تھا اس لئے جب پاکستان میں انجمن ترقی اردو کی بنیاد رکھی جانے لگی تو مولوی عبدالحق صاحب کے ذہن میں انجمن ترقی اردو کے مرکز کے لئے لاہور کا نام آیا۔مولوی عبدالحق صاحب نے لاہور میں پنجاب کے وزیر مہاجرین میاں افتخار الدین کو خط لکھا کہ وہ انجمن کا دفتر لاہور لانا چاہتے ہیں اور اسی مضمون کا مکتوب 19اکتوبر1947ء کو میاں بشیر احمد صاحب کو رقم کیا جس میں تحریر تھا:’’ ہم سب کی رائے یہ قرار پائی ہے کہ اب انجمن کا صدر مقام لاہور ہونا چاہئے بشرطیکہ آپ صاحبان بھی اس سے اتفاق فرمائیں۔۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ ہندوؤں نے جو عمارتیں اور پریس وغیرہ چھوڑے ہیں ان کی تقسیم عمل میں آرہی ہے۔ اگر آپ کے توسط اور عنایت سے ہمیں کوئی اچھا پریس اور ایسا مکان مل جائے جس میں انجمن کا دفتر اور کتب خانہ وغیرہ آ سکے تو ہم بخوشی اس کو خریدنے کے لئے تیار ہیں یہ بہت اچھا موقع ہے شاید پھر ایسا موقع نہ مل سکے میں نے اس مضمون کا ایک خط میاں افتخار الدین صاحب کو بھی لکھا ہے اگر ازراہ کرم تکلیف فرما کر اس بارے میں گفتگو کر کے کوئی انتظام فرما دیں تو بہت ممنون ہوں گا۔‘‘ لیکن مولوی عبدالحق صاحب کو لاہور سے میاں افتخار الدین نے کوئی جواب نہ دیا اس کے بعد مولوی عبدالحق صاحب خود لاہور آئے اور میاں بشیر احمد کو یاد دہانی کرائی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر عبادت بریلوی کا نام ایک مکتوب میں مولوی عبدالحق صاحب نے میاں بشیر احمد کے رویے کے سلسلے میں تحریر کیا:’’ انہوں نے لاہور کے ممتاز ادیبوں کو جو با اثر تھے، مدعو کیا جب اس معاملے کا ذکر آیا تو انہوں نے اس ڈھنگ سے گفتگو کی جس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انجمن یہاں پر آئے پروفیسر حمید احمد خان بھی اس صحبت میں تھے۔‘‘ دوسری نظر انتخاب کراچی شہر پر پڑی جو پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی دار الحکومت بننے کی وجہ سے بڑی اہمیت حاصل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ تقسیم ہند سے قبل بھی انجمن ترقی اردو کی کراچی شاخ بڑی سر گرم عمل رہی تھی۔ اس لئے فیصلہ ہوا کہ پاکستان میں کراچی کو انجمن کا مرکز بنایا جائے اور اس کے لئے ایسے مکان کی تلاش شروع کر دی گئی جو انجمن کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ مکان کی تلاش سید علی بشیرکے ذمے تھی جنہوں نے پیر حسام الدین راشدی کے تعاون سے سہ منزلہ عمارت کا انتخاب کر لیا جو کہ گجراتی ایجوکیشن سوسائٹی کی ملکیت تھی اور جس میں لڑکیوں کا ایک ہائی سکول چلتا تھا سید ہاشمی فرید آبادی تحریر کرتے ہیں:’’ چنانچہ اس کے لئے ہم نے ایک درخواست پیر الہٰی بخش وزیر تعلیم کی خدمت میں پیش کی۔ پیر صاحب نے ہماری درخواست پر سید ہاشم رضا کلکٹر کے نام سفارش کر دی۔‘‘ لیکن اس عمارت پر مہاجرین کا قبضہ تھا۔ جب اس کا ذکر کراچی میونسپل کارپوریشن کے میئر حکیم محمد احسن صاحب سے ہوا تو انہوں نے شاردا مندر کی نشاندہی کی جو گجراتی ایجوکیشن سوسائٹی کی عمارت سے زیادہ وسیع اور بہتر تھی۔ اس عمارت کے حصول کے لئے از سر نو تگ و دو شروع ہوئی اور آخر کار یہ عمارت انجمن ترقی اردو پاکستان کے لئے الاٹ ہو گئی۔’’ شاردا مندر گجراتیوں کا سب سے بڑا ادارہ تھا، اور اس میں تخمیناً بارہ سو طالب علم تعلیم پاتے تھے انجمن کے لئے اس سے بہتر عمارت کراچی شہر میں نہیں مل سکتی تھی۔‘‘٭…٭…٭