حافظہ اور دماغ
اسپیشل فیچر
حافظہ ایک اہم انسانی خصوصیت ہے۔ اس کے نفسیاتی پہلو کا وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا گیا ہے اور جان لیا گیا ہے کہ نئی معلومات حافظے کا حصہ بننے کے لیے کتنا وقت لیتی ہیں۔ کن حالات میں آسانی سے یاد ہوتی ہیں اور فراموشی کیوں واقع ہوتی ہے۔ لیکن ایک چیز سیکھنے کے بعد ہمارے اندر کون سی عضویاتی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے نئی معلومات فرد کے کردار کا کم و بیش مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں بھی اگرچہ کچھ تحقیقات ہوئی ہیں۔ تاہم ابھی تک حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ ان تبدیلیوں کی نوعیت کیا ہے۔ مفکرین صدیوں سے اس گتھی کو سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔17ویں صدی عیسوی کے ایک انگریز مفکر جان لاک کا خیال تھا کہ ہمارا ذہن ایک صاف تختی (Tabula Rasa) کی مانند ہے۔ گردوپیش میں ہونے والے واقعات اس پر اثرات مرتب کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ واقعات حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لیکن یہ لاک کا موضوعی خیال تھا اور وہ اس امر کی کوئی سائنسی شہادت پیش نہ کر سکا۔ گزشتہ صدی کے ایک اہم سائنس دان کے ایس لیشلی نے حافظے کی عضویاتی ساخت کو سمجھنے کے لیے چوہوں پر تجربات کیے۔ اس نے چوہوں کو کچھ سادہ قسم کے افعال سکھائے اور بعد میں ان کے مخ کبیر کے کچھ حصے کاٹ کر نکال دیئے۔ اس کے نتیجے میں ان کا حافظہ کمزور ہو گیا لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ دراصل حافظے میں بہت سے حواس (جیسے بصری، سمعی، شامی، ذائقی اور لمسی) سے حاصل کردہ معلومات شامل ہوتی ہیں اور یہ معلومات دماغ کے الگ الگ حصوں میں محفوظ ہوتی ہیں۔ دماغ کے مختلف حصے مل کر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چوہوں کے دماغ کے کچھ حصے کاٹ دینے کے باوجود ان کا حافظہ مکمل طور پر ختم نہ ہوا۔ جدید تحقیق دان حافظے کی عضویات کو سمجھنے کے لیے دو اصطلاحوں ’’ہلکا نقش‘‘ (Trace) اور ’’گہرا نقش‘‘ ( Engram) کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ ایک فعل سیکھنے کے بعد جو کچھ دماغ میں ہوتا ہے، اور حافظے کی بنیاد بنتا ہے، اسے ماہرین ’’نقش یاد‘‘کا نام دیتے ہیں، جو مشق اور موافق حالات کے نتیجے میں مستقل شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مختلف مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ اس نقش کے پختہ ہونے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک تجربے میں چوہوں کے ایک گروہ کو ایک گورکھ دھندا (Maze) عبور کرنے کا فعل سکھانے کے بعد ان کے دماغ کو برقی رو سے جھٹکے دیے گئے۔ بعد میں آزمائش کرنے پر پتہ چلا کہ چوہے گورکھ دھندے کو عبور کرنے کو طریقہ بھول چکے تھے۔ لیکن جب یہ جھٹکے آموزش کے تیس منٹ بعد دیے گئے تو ان کاحافظہ قائم رہا۔ ان تجربات سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر آموزش کے تیس منٹ کے اندر دماغ کو شدید طور پر متاثر کر دیا جائے تو متعلقہ معلومات طویل المدت حافظے کا حصہ نہیں بنتیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ سر پر شدید چوٹ یا کسی شدید صدمے سے دوچار ہونے کی صورت میں حالیہ واقعات کی یادداشت ختم ہو جاتی ہے۔ اس امر میں تو شک نہیں کہ آموزش کے نتیجے میں دماغ میں کسی نہ کسی نوعیت کی تبدیلی ضرور واقع ہوتی ہے۔ شاید ہر یاد کے لیے نقش ہی بنتے ہوں۔ ٭…٭…٭