اردو ادب ۱۸۵۷ تا۱۹۱۴

اردو ادب ۱۸۵۷ تا۱۹۱۴

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ریاض


اردو ادب پر مغربی اثرات انیسویں صدی کے آغاز سے ہی پڑنے لگے تھے۔ مگر ان کا فیصلہ کن اثر ۱۸۵۷ء کے بعد ہوا۔ فورٹ ولیم کالج کی سادہ نثر، دہلی کالج میں درسی کتابوں کے لیے مفید اور واضح انداز بیان، ماسٹر رام چندر کے مضامین اور مرزا غالب کے خطوط میں یہ اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ شاعری کا تعلق روایت سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے ۱۸۵۷ء سے پہلے کی شاعری میں صرف غالب کے یہاں تشکیک، ارضیت اور انفرادیت کے نقوش ایک ایسے ذہن کے آئینہ دار ہیں جو روایت کے ساتھ نئے امکانات اور میلانات پر بھی نظر رکھتا ہے۔ ادب سیاسی تبدیلیوں کا یکسر تابع نہیں ہوتا، نہ ادبی ارتقا کی منزلیں سیاسی بنیاد پر متعین کی جا سکتی ہیں۔ مگر زمانے اور مزاج کی تبدیلیوں کا اثر ادب پر بہرحال پڑتا ہے۔ اسی لیے ۱۸۵۷ء سے جب انگریزوں کے الفاظ میں غدر ہوا اور برصغیر مورخوں کے الفاظ پہلی جنگ آزادی لڑی گئی، اردو ادب کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کے ادب کو سہولت کے لیے کلاسیکی اور اس کے بعد کے ادب کو جدید کہا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے معنی یہ نہیں لینا چاہئیں کہ ۱۸۵۷ء کے بعد کلاسیکی اثرات ختم ہو گئے۔ کلاسیکی یا روایتی ادب کا سلسلہ جاری رہا۔ مگر جدید فکرو فن جو پہلے تجربے کے طور پر شروع ہوا، رفتہ رفتہ اپنی جگہ بناتا گیا یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر تک نئے میلانات حاوی ہو گئے۔ہمارا کلاسیکی ادب مجموعی طور پر ازمنہ وسطیٰ کی قدروں کا نمائندہ ہے۔ اس کی بنیاد برصغیر کی سرزمین ہے مگر اس میں عجم کے حسنِ طبیعت کے بہت سے رنگ شامل ہیں۔ اس میں نمایاں فکر تصوف سے آئی ہے۔ اور اس کے نقش و نگار اس مشترک تہذیب سے لیے گئے ہیں جو تاریخی اسباب کی بنا پر پروان چڑھ رہی تھی۔ اس کی شاعری میں تخیل کی پرواز ملتی ہے اور فطرت، تہذیب اور سماج کی مصوری بھی۔ صوفیوں کے اثر سے اس میں ایک انسان دوستی آئی اور دربار نے اسے ایک رنگینی اور صنّاعی سکھائی۔ اس دور میں نثر پر توجہ کم ہوئی اور زیادہ تر یہ راہِ نجات یا داستان سرائی کے لیے ہی استعمال ہوئی اور شاعری سے آرائش کے لیے زیور لیتی رہی۔فورٹ ولیم کی جدید نثر تفریحاً نہیں فرمائش پر لکھی گئی تھی۔ اس میں قصے کہانیوں کا سرمایہ زیادہ تھا۔ دہلی کالج میں درسی ضروریات کے لیے علمی نثر بھی وجود میں آئی، صحافت رفتہ رفتہ قدیم اسلوب سے آزاد ہوئی ا ور کار آمد اور عام فہم ہونے لگی۔ مغرب کے معلم، مشنری اور منتظم سب یورپ کے اٹھارویں صدی کے ادب سے متاثر تھے۔ اسی لیے مغربی اثرات شروع شروع میں وہاں کے نوکلاسیکی ادب کی قدروں کے مظہر تھے۔ انہیں کی رہنمائی میں ہمارے یہاں جدید ادب حقیقت نگاری کا علم بردار بن کر سامنے آیا۔ ناول کی تاریخ میں نذیر احمد کے بعد رتن ناتھ سرشار کی اہمیت ہے (۱۸۴۶ء۔ ۱۹۰۲ء ) سرشار کے یہاں رجب علی سرور کے فسانہ عجائب کا رنگ بھی ہے اور مکالمات میں لکھنؤ کی بیگماتی زبان کی بے تکلفی بھی۔ سرشار کا فسانہ آزاد سب سے پہلے قسط وار منشی نول کشور کے اودھ اخبار میں نکلا، بعد میں یہ کتابی صورت میں چھپا۔ فسانہ آزاد میں اصل قصہ گویا ایک کھونٹی ہے جس پر ہزاروں واقعات ٹنگے ہوئے ہیں۔ سرشار ہندوستانی نشاۃ الثانیہ سے متاثر تھے اور نئے خیالات کے حامی تھے۔ مگر لکھنؤ کی تہذیب کے عاشق۔ پہلی جلد کے آخر میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میاں آزاد کا ہر شہرو دیار میں جانا اور وہاں کی بری رسموں پر جھلّانا‘‘ ناول کا عمدہ پلاٹ ہے۔ انہوں نے پرانے خیالات اور رسم و رواج پر اپنی شوخی و ظرافت سے خوب خوب وار کیے ہیں۔ ان کا ہیرو آزاد ایک مثالی کردار ہے جو مردانہ حسن کے ساتھ سپہ گری میں بھی طاق ہے اور علم و ادب کا رسیا بھی ’’فسانہ آزاد‘‘ چار ضخیم جلدوں میں ہے۔ مگر آج اس کی اپیل زیادہ تر بیگمات کے مکالموں یا خوجی کے کردار کی وجہ سے ہے۔’’فسانہ آزاد‘‘ کے علاوہ سرشار کا ’’سیر کہسار‘‘ بھی لکھنؤ کی نوابی معاشرت پر گہرا طنز ہے۔ سرشار کے دوسرے ناول چنداں اہمیت نہیں رکھتے۔ سرشار کے یہاں ناہمواری ہے اور ضبط و نظم کی کمی ہے مگر ان کی خلاقی، ان کی مرقع نگاری، کرداروں اور کارٹونوں کی ایک دنیا ایک تندرست اور کہیں کہیں بے رحم ظرافت اور زبان پر قدرت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔اس دور میں اردو کی پہلی جامع لغت ’’فرہنگ آصفیہ‘‘ کے نام سے لکھی گئی۔ مولوی سید احمد دہلوی (۱۸۴۶ء۔ ۱۹۲۰ء ) نے چوبیس سال کی محنت کے بعد ۱۸۹۲ء میں چار جلدوں میں یہ لغت شائع کی۔ اس سے پہلے وہ ’’ارمغان دہلی‘‘ کے نام سے اس کا ایک حصہ شائع کر چکے تھے۔ اس لغت کی تیاری میں انہیں ڈاکٹر ایس ڈبلیو فیلن کے ساتھ کچھ عرصہ کام کرنے کی وجہ سے خاصی مدد ملی۔ ڈاکٹر فیلن کی ’’ہندوستانی انگریزی لغت‘‘ ۱۸۷۹ء میں شائع ہو گئی تھی۔ فرہنگ آصفیہ میں اگرچہ جا بجا مؤلف نے غیر ضروری باتیں بیان کی ہیں اور بعض غیر مصدقہ روایات پر تکیہ کیا ہے ، پھر بھی یہ لغت اور بعد کی مولوی نورالحسن نیّر کا کوروی کی ’’نور اللغات‘‘ اب تک اردو کی سب سے اچھی لغات میں سے سمجھی جاتی ہیں۔ گو لغت نویسی (Lexicography) کے جدید معیار کے لحاظ سے دونوں میں خامیاں ہیں۔ امیر مینائی کی ’’امیر اللغات‘‘ اگر چہ صرف الف مقصورہ تک ہی ہے مگر قابلِ قدر ہے۔ ۱۸۵۷۔ ۱۹۱۴ کا دور ہر لحاظ سے اردو ادب کا زرّیں دور ہے۔ کلاسیکی طرز کی شاعری کے علاوہ اس دور میں نظمِ جدید کا آغاز ہوا اور اس نے نمایاں ترقی کی اور موضوعات اور ہئیت دونوں کے لحاظ سے اردو شاعری کا دامن وسیع ہوا۔ مگر دراصل یہ دور نثر کی ترقی اور وسعت کا دور ہے۔ سرسید احمد خان کی تحریک کے اثر سے نثر علمی مضامین کے اظہار پر قادر ہوئی۔ ۔۔ ۱۹۱۴ء میں جب حالی اور شبلی کا انتقال ہوا تو شاعری کی بساط پر حسرت موہانی کے ساتھ علامہ اقبالؒ کا نام لیا جانے لگا اور پریم چند نے اپنے افسانے لکھنے شروع کر دیئے تھے۔ ابوالکلام آزاد کا ’’الہلال‘‘ افقِ صحافت پر طلوع ہو چکا تھا۔ سجاد حیدر کے ساتھ لطیف الدین احمد اکبر آبادی اور نیاز فتح پوری، ادب لطیف کی بنیادیں مضبوط کر رہے تھے۔ اردو ادب اب اپنے پیرو پر کھڑا تھا اور اسے مذہبی یا سیاسی بیساکھیوں کی ضرورت نہ رہی تھی۔ وہ مذہب اور سیاست سے کام لیتا تھا۔ مگر ان کا غلام نہ رہا تھا۔اس دور کے ان شعرا میں جنہوں نے نئی شاعری کو وقعت اور بلندی عطا کی ان میں نادر کاکوروی اور درگاسہائے سرور جہاں آبادی کا نام لینا بھی ضروری ہے۔ نادر کاکوروی (۱۸۵۷ء۔ ۱۹۱۲ء ) اپنے ہم عصر ادیبوں میں انگریزی ادب سے زیادہ واقف تھے۔ انہوں نے آزاد اور حالی کی نیچرل شاعری کی لے کو آگے بڑھایا۔ سادگی اور واقعیت ان کی شاعری کی خصوصیات ہیں۔ ان کا کلام ’’جذباتِ نادر‘‘ کے نام سے دو حصوں میں شائع ہوا۔ انہوں نے کئی انگریزی نظموں کے کامیاب ترجمے کیے اور ان کی طبع زاد نظموں میں بھی انگریزی شاعری کا اثر جھلکتا ہے۔ ان کا کارنامہ ٹامس مور کی نظم ’’لالہ رخ‘‘ کے ایک قصے کا ترجمہ ہے۔ ’’مخزن‘‘ میں ان کا کلام برابر چھپتا تھا اور اقبالؒ نے ان کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلا میں چین کی  سرگرمیاں

خلا میں چین کی سرگرمیاں

زمین کے مدار میں پراسرار اشیا چھوڑنے کا معاملہ، خفیہ مشن پر نئی بحثخلائی دنیا میں برتری حاصل کرنے کی عالمی دوڑ اب ایک نئے اور پراسرار مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین کا انتہائی خفیہ خلائی طیارہ طویل عرصے سے ماہرین اور انٹیلی جنس اداروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، خصوصاً اس کے زمین کے مدار میں پراسرار اشیاء چھوڑنے کے واقعات نے کئی سوالات جنم دیے ہیں۔ اب امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ نے اس خفیہ خلائی طیارے کی پہلی واضح جھلک پیش کرکے اس کے مشن، صلاحیتوں اور ممکنہ مقاصد کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ میں پہلی مرتبہ چین کے زمین کے مدار میں گردش کرنے والے خلائی طیارے کی واضح تصویر سامنے آئی ہے، جس سے اس کی صلاحیتوں کے بارے میں ممکنہ اہم اشارے ملے ہیں۔ روبوٹک خلائی جہاز ''شین لونگ‘‘ (Shenlong) اس سے قبل زمین کے نچلے مدار میں پراسرار اشیاء خارج کرتے ہوئے دیکھا جا چکا ہے۔2020ء میں اپنے پہلے خلائی مشن کے آغاز کے بعد سے یہ طیارہ مختلف حکومتوں، خلائی اداروں اور نجی کمپنیوں کی گہری نگرانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔تاہم اب تک اس کی صرف ایک دھندلی تصویر ہی دستیاب تھی، جس میں اس کے پینلز سے منعکس ہونے والی روشنی دکھائی دیتی تھی۔ اس خلائی طیارے کی پہلی ہائی ریزولوشن تصویر امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی تازہ ترین رپورٹ میں جاری کی گئی ہے۔130 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں ایک ایسی تصویر بھی شامل تھی جو اس سے پہلے کبھی منظرعام پر نہیں آئی تھی۔ یہ تصویر 2024ء میں خلائی ٹیکنالوجی کی نجی کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز نے کھینچی تھی، جو اب وینٹور (Vantor) کے نام سے کام کر رہی ہے۔رپورٹ میں اس تصویر کے ساتھ صرف ''عوامی جمہوریہ چین کا خلائی طیارہ‘‘ کا عنوان درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے کہ خلائی طیارے مدار میں پہنچ کر خلا میں اشیاء چھوڑ سکتے ہیں، ان کی آزمائش کرسکتے ہیں اور بعدازاں زمین پر واپس بھی آسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو رپورٹ میں اور نہ ہی تصویر کے عنوان میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تصویر ہے یا اس سے قبل اسے خفیہ دستاویز کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اس صورتِ حال نے یہ سوالات بھی جنم دیے ہیں کہ آخر اب اس تصویر کو منظرعام پر لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟امریکی خلائی شٹل کی طرح چین کا خلائی طیارہ ''شین لونگ‘‘ بھی ایک راکٹ کے ذریعے زمین سے روانہ کیا جاتا ہے۔ خلا میں پہنچ کر یہ زمین کے مدار میں داخل ہوتا ہے اور بعدازاں ایک عام ہوائی جہاز کی طرح لینڈنگ کرتے ہوئے زمین پر واپس آتا ہے۔ اس خلائی طیارے کا تازہ ترین مشن رواں سال 7 فروری کو شروع ہوا، جب اسے چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ''لانگ مارچ 2 ایف‘‘ راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا۔ تاہم چین نے اپنے اس تجرباتی خلائی طیارے کے بارے میں رازداری برقرار رکھی اور اب تک اس کی کوئی باضابطہ تصویر جاری نہیں کی۔اس صورتِ حال میں سامنے آنے والی یہ تصویر پہلی مرتبہ عوام کو شین لونگ کا قریب سے جائزہ لینے اور اس کی ممکنہ صلاحیتوں کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔خلائی ٹیکنالوجی کی کمپنی وینٹور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ رپورٹ خلا میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور قابلِ استعمال خلائی نظاموں سمیت دیگر سرگرمیوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں 2024ء کے دوران مدار میں موجود چینی خلائی طیارے کی وینٹور کی ''ورلڈ ویو اسپیس‘‘ سے حاصل کردہ تصاویر بھی شامل ہیں۔کمپنی کی جانب سے تصویر پر درج کردہ اضافی نشانات اور وضاحتوں میں اس خلائی طیارے کو ''عوامی جمہوریہ چین کا تجرباتی خلائی جہاز نمبر 3‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی لمبائی 26 فٹ بتائی گئی ہے۔تصویر میں یہ بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ خلائی طیارے کے ''پے لوڈ بے ‘‘(Payload Bay) کے دروازے جزوی طور پر کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے پچھلے حصے میں ایک دوسرا سیٹلائٹ بھی منسلک ہے۔تقریباً 32 فٹ (10 میٹر) چوڑایہ سیٹلائٹ غالباً ایک ''سروس ماڈیول‘‘ ہے۔ اس قسم کے سیٹلائٹ خلائی جہازوں کے ساتھ منسلک ہوکر انہیں اضافی بجلی، حرکت دینے کی قوت اور دیگر معاون نظام فراہم کرتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اس تصویر سے ماہرین کے اس سابقہ اندازے کی بھی تصدیق ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ چین کا شین لونگ خلائی طیارہ امریکی خلائی فوج کے اپنے روبوٹک خلائی طیارے سے تقریباً مماثلت رکھتا ہے۔امریکی خلائی طیارہ ''ایکس 37 بی‘‘ابتدا میں ناسا کے ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا تھا، تاہم بعدازاں اسے امریکی محکمہ دفاع کے حوالے کردیا گیا۔ یہ بھی ساخت و ڈیزائن کے اعتبار سے چین کے شین لونگ سے غیرمعمولی مشابہت رکھتا ہے۔

انجینئرنگ کی دنیا کا دیوقامت عجوبہ

انجینئرنگ کی دنیا کا دیوقامت عجوبہ

انسان نے اپنی ضروریات اور تعمیراتی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایسی حیرت انگیز مشینیں تیار کی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان میں دنیا کی سب سے بڑی کھدائی کرنے والی مشین (Excavator) بھی شامل ہے، جو اپنے غیرمعمولی حجم، طاقتور بازوؤں اور دیوہیکل ساخت کے باعث کسی چلتے پھرتے پہاڑ سے کم دکھائی نہیں دیتی۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر آپ 14 ہزار ٹن وزنی ''باگر 293‘‘ (Bagger 293) نامی دیوہیکل بکٹ وہیل ایکسکیویٹر کو کھلی سڑک پر لے آئیں تو کس قدر افراتفری پھیل جائے گی۔ اگر یہ مشین کبھی صبح کے دفتری اوقات میں سڑکوں پر نکل آئے تو ٹریفک کی صورتِ حال سے متعلق خبریں بھی یقیناً کچھ مختلف ہوں گی۔اوپر دکھائی گئی تصاویر جوزف او نیل (Joseph O`Neil)کی تیار کردہ ایک ڈیجیٹل تخلیق ہے، جس میں ایک درست تھری ڈی ماڈل کی مدد سے اس مکمل طور پر چلائی جا سکنے والی مٹی کھودنے کی مشین کو سڑک پر رواں دواں دکھایا گیا ہے۔ یہ منظر اس وقت کی ممکنہ صورتِ حال پیش کرتا ہے جب شہر کے ایک پورے بلاک سے بھی زیادہ لمبی کھدائی کرنے والی مشین کسی شاہراہ پر سفر کرے۔ جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے، روزانہ دفتر جانے کے دوران کوئی بھی شخص اپنی گاڑی کے آگے اس دیوہیکل مشین کو دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔یہ مشین صرف دنیا کی سب سے بڑی متحرک صنعتی مشین ہی نہیں بلکہ زمین پر چلنے والی سب سے بڑی اور بھاری ترین گاڑی بھی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسے باقاعدہ چلایا جا سکتا ہے۔جرمنی کی کمپنی ٹاکراف (TAKRAF) کی تیار کردہ ''باگر‘‘ (Bagger) ایک دیوہیکل کان کنی کی مشین ہے، جس کی بلند ترین اونچائی 94.5 میٹر (310 فٹ) جبکہ لمبائی 220 میٹر (722 فٹ) ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ مشین اپنے پیڈسٹل سمیت مجسمہ آزادی جتنی بلند اور فٹ بال کے دو میدانوں سے بھی زیادہ طویل ہے۔اگر آپ کے پاس اس مشین کی چابیاں ہوں تو یقیناً آپ اسے سیر کیلئے لے جاسکتے ہیں۔ تاہم، اسے چلانے کا تجربہ کسی عام خاندانی گاڑی کو چلانے جیسا نہیں ہوگا بلکہ یوں محسوس ہو گا جیسے آپ کسی شاہراہ پر ایک عظیم الشان گوتھک طرز کے گرجا گھر کو چلا رہے ہوں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس دیوہیکل مشین کا وزن، خصوصاً کسی کنکریٹ کے فلائی اوور سے گزرنے کا تصور کرتے ہوئے، حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ ''باگر 293‘‘ کا مجموعی وزن 14 ہزار 196 ٹن (3 کروڑ 13 لاکھ پاؤنڈ) ہے۔ یہ وزن 130 سے زائد نیلی وہیل مچھلیوں یا مکمل سامان سے لدے 170 سے زیادہ بوئنگ 737 طیاروں کے مجموعی وزن سے بھی زیادہ ہے۔باگر مشینوں کے پورے سلسلے میں سب سے بڑی مشین ''باگر 293‘‘ کو شمالی جرمنی کی ایک کھلی کوئلے کی کان سے روزانہ 2 لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر (84 لاکھ مکعب فٹ) مٹی اور زمین کھودنے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ کھدائی کی یہ مقدار اولمپک معیار کے 100 سوئمنگ پولز کو بھرنے کیلئے کافی ہے۔یہ مشین اپنے 21.6 میٹر (71 فٹ) چوڑے دیوہیکل پہیے پر نصب 18 بالٹیوں کی مدد سے زمین کھودتی ہے۔ بعدازاں نکالی گئی مٹی اور کوئلے کو ایک طویل کنویئر بیلٹ کے ذریعے مشین کے بڑے بازو (بوم) کی پوری لمبائی تک منتقل کرکے دوسری جگہ پہنچا دیا جاتا ہے۔اپنے غیرمعمولی حجم اور بھاری بھرکم ساخت کے باوجود ''باگر 293‘‘ کو چلانے اور اس کے تمام نظام فعال رکھنے کیلئے پانچ افراد پر مشتمل عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ڈرائیور مشین کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ دیگر چار آپریٹرز اس کے دیوہیکل گھومنے والے وہیل، کنویئر بیلٹس اور دوسرے مشینی نظاموں کی نگرانی کرتے ہیں۔زمین سے خاصی بلندی پر قائم کنٹرول کیبن میں بیٹھ کر عملے کے ارکان کھدائی کے پورے عمل کا جائزہ لیتے، مشینری کی ضرورت کے مطابق ترتیب تبدیل کرتے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ دیوہیکل مشین محفوظ اور مؤثر انداز میں کام کرتی رہے۔ یہ پانچ افراد مل کر ایک ہی دن میں اتنی بڑی مقدار میں زمین کھودنے کے عمل کی نگرانی کرسکتے ہیں، جسے وہاں سے منتقل کرنے کیلئے 10 ہزار ڈمپر ٹرکوں کے چکر لگانے پڑیں گے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!تنویر نقوی  سدا بہار گیتوں کے تخلیق کار (1972-1919ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!تنویر نقوی سدا بہار گیتوں کے تخلیق کار (1972-1919ء)

٭...6 فروری 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، اصل نام سید خورشید علی تھا، فلمی دنیا میں تنویر نقوی کے نام سے شہرت پائی۔٭...12 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا، 1938ء میں فلم ''شاعر‘‘ سے گیت نگاری کی دنیا میں قدم رکھا۔٭...1945ء میں فلم ''انمول گھڑی‘‘کے دو گیت ''جواں ہے محبت، حسیں ہے زمانہ‘‘ اور ''آواز دے کہاں ہے، دنیا مری جواں ہے‘‘ لکھے، جو بے پناہ مقبول ہوئے۔٭...پاکستان آنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے فلم ''کوئل‘‘ کے گیت لکھے،جوبہت مقبول ہوئے۔٭... ان کے گیت ''جان بہاراں، رشک چمن‘‘ کو عظیم ترین رومانوی گیت قرار دیا گیا۔ اس لافانی گیت کی موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے مرتب کی اور سلیم رضا نے اسے گایا تھا۔٭...پنجابی فلموں کیلئے بھی شاندار گیت تحریر کئے ۔٭...فلمی گیتوں کے علاوہ غزلیں اور قطعات بھی لکھے۔ خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں، فلم ''نور اسلام‘‘ کی نعت ''شاہ مدینہ، یثرب کے والی‘‘ اور فلم ''ایاز‘‘ کی ''بلغ العلیٰ بکمالہ‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔٭... 1965ء کی جنگ کے دوران ''رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ سمیت کئی ملی نغمے لکھے ۔٭... قتیل شفائی اور احمد راہی جیسے بڑے گیت نگاروں نے بھی تنویر نقوی کو سب سے ارفع گیت نگار قرار دیا تھا، انہوں نے تنویر صاحب کو ''نغمہ نگاروں کا شہنشاہ‘‘ قرار دیاتھا۔٭...1972ء میں آج کے روز وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ مقبول گیت٭... جواں ہے محبت (انمول گھڑی) ٭... رم جھم رم جھم پڑے پھوار (کوئل)٭... اے روشنیوں کے شہر بتا (چنگاری)٭... گائے گی دنیا گیت میرے (موسیقار)٭... کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائوں (انار کلی)٭...چلی رے چلی ، میں تو دیس پیا کے(جھومر)٭... مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے (گھونگٹ)٭... جان بہاراں، رشک چمن (عذرا)٭...گزرا ہوا زمانہ (شیریں فرہاد)٭... میری نظریں ہیں تلوار (شہید) ٭... کچھ بھی نہ کہا (عذرا) ٭...یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم (افسانہ)٭...کس نام سے پکاروں (غرناطہ)٭... چٹھی ذرا سیاں جی کے نام(دوستی)

آج کا دن

آج کا دن

سلطنت عثمانیہ کا خاتمہیکم نومبر1922ء کو ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے سلطنت عثمانیہ جو1299ء سے قائم تھی کا خاتمہ کر دیا۔ سلطنت عثمانیہ کو عالمی جنگ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، انتظامی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے حکومت چلانا مشکل ہو گیا۔ جنگ میں شکست کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کو فاتح افواج کی کئی شرائط قبول کرنا پڑیں ۔اقوام متحدہ میں دو ممالک شامل2000ء میں یورپ کے دو ممالک سربیا اور مونٹی نیگرو نے عالمی سفارتی میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اقوام متحدہ (یو این او) کی رکنیت حاصل کی۔ اس شمولیت کے ذریعے دونوں ممالک کو عالمی برادری کا حصہ بننے اور بین الاقوامی معاملات میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔لزبن کا تاریخی زلزلہیکم نومبر1755ء کو لزبن میں آنے والے زلزلے نے بہت زیادہ تباہی مچائی۔اس زلزلے نے پرتگال، جزیرہ نما آئبیرین اور شمال مغربی افریقہ کو متاثر کیا، آگ اور سونامی نے لزبن اور اس سے ملحقہ علاقوں کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا۔7.7شدت کے زلزلے میں تقریباً50 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔ریاض ایندھن حادثہیکم نومبر2012ء کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں ایک ایندھن لے جانے والا ٹرک فلائی اوور سے ٹکرا گیا۔ پیٹرول لیک ہونے سے سڑک پر آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں 23 افراد ہلاک اور111زخمی ہوئے۔ دھماکے کی شدت کے باعث ایک ٹرک فلائی اوور سے نیچے گر گیا۔ ہندوستان پر برطانوی راجیکم نومبر 1858ء تاریخ برصغیر کا ایک اہم موڑ تھا۔ اس دن برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ اب برصغیر پر براہِ راست تاجِ برطانیہ کی حکمرانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کا تقریباً دو صدیوں پر محیط اقتدار ختم ہو گیا۔ملکہ وِکٹوریہ نے ایک شاہی فرمان جاری کیا جس کے تحت ہندوستان کو برطانوی سلطنت کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا۔ تمام اموربرطانوی گورنر جنرل کے ماتحت آ گئے۔فلم ٹائی ٹینک کی نمائش1997ء میں آج کے روز مشہور امریکی فلم ''ٹائی ٹینک‘‘ کی پہلی عوامی نمائش جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقدہ ایک فلمی میلے میں ہوئی۔ جیمز کیمرون کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم نے ریلیز کے بعد دنیا بھر میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی اور عالمی سنیما کی تاریخ کی کامیاب ترین فلموں میں شمار ہونے لگی۔ پہلے ہائیڈروجن بم کا تجربہیکم نومبر 1952ء کو امریکا نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم تجربہ کرتے ہوئے دنیا کے پہلے تھرمو نیوکلیئر آلے (ہائیڈروجن بم) کو کامیابی سے دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ تجربہ بحرالکاہل میں واقع اینی ویٹک جزیرے پر کیا گیا۔ دھماکے کی شدت 10 میگا ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔

غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

برصغیر کی تاریخ میں بعض واقعات محض ماضی کا حصہ بن کر نہیں رہتے بلکہ اجتماعی یادداشت، مذہبی جذبات اور قومی شعور میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ غازی علم دین شہید کی داستان بھی ایک ایسا ہی تاریخی باب ہے جس میں عقیدت، نوآبادیاتی نظامِ انصاف، عوامی احتجاج اور تاریخ کے مختلف زاویے ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی زندگی اور مقدمے سے متعلق تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کیلئے صرف واقعات کا بیان کافی نہیں بلکہ ان کے پس منظر، محرکات اور نتائج کا سنجیدہ جائزہ بھی ضروری ہے۔غازی علم دین شہید کا نام آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی یادداشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کی داستان ایک طرف رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ سے مسلمانوں کی غیر معمولی محبت اور وابستگی کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ مذہبی جذبات، قانون اور انصاف کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے۔ اس تاریخ کو خلوص، احترام اور فکری دیانت کے ساتھ پڑھنا ہی اس کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کا راستہ ہے۔توہین آمیز کتاببیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برصغیر برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے زیر اثر تھا۔ آزادی کی تحریک مختلف صورتوں میں آگے بڑھ رہی تھی۔ اسی ماحول میں مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے بھی شدت اختیار کی۔اس زمانے میں شائع ہونے والی ایک توہین آمیز کتاب نے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا۔ یہ کتاب ناشر مہاشے راجپال سے منسوب تھی۔ مسلمانوں کی جانب سے اس پر احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ راجپال کیخلاف ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ تک پہنچا جہاں مئی 1927ء میں سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس عدالتی فیصلے سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ عام گھرانے سے تاریخ کے مرکز تکغازی علم دین 4 دسمبر 1908ء کو لاہور کے سریانوالہ بازار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں طالع مند لکڑی کے کام سے وابستہ تھے جبکہ والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ ان کے بڑے بھائی محمد دین اور بہن معراج بیگم تھیں۔ خاندانی روایات کے مطابق ان کا تعلق شیخو جٹ برادری سے تھا اور خاندان کو احتراماً ''میاں‘‘ کہا جاتا تھا۔ان کی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے میں ہوئی جہاں انہوں نے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ والد نے انہیں خاندانی پیشہ بھی سکھایا اور وہ لکڑی کے کام میں عملی مہارت حاصل کرنے لگے۔ شہر میں مذہبی ادارے، سیاسی تحریکیں، اخبارات اور عوامی اجتماعات معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ایک عام نوجوان بھی اپنے گردوپیش کے واقعات سے متاثر ہوسکتا تھا۔ 6 اپریل 1929ء کا واقعہگستاخ راجپال کی عدالتی بریت کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مذہبی علما اور سیاسی رہنما عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے اور اس امر پر تشویش ظاہر کرتے کہ موجودہ قانونی نظام مذہبی جذبات کے تحفظ کیلئے ناکافی ہے۔ اس سے قبل غازی عبدالعزیز خان اور غازی خدا بخش نے راجپال پر حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں کو طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ غازی علم دین نے لاہور میں راجپال کیخلاف ہونے والے احتجاجی اجتماعات اور تقاریر کا اثر قبول کیا۔ ان روایات کے مطابق، بعض مقررین نے مجمع سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص رسول اکرمﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کیخلاف قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں؟ 6اپریل 1929ء کوغازی علم دین راجپال کی دکان پر گئے اور چھری کے وار سے اس کا کام تمام کردیا۔ انہیں گرفتار کرلیا گیا اور ان کیخلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمہ اور قانونی دفاعغازی علم دین کے مقدمے کی کارروائی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ 25 اپریل 1929ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ای ایس لیوس کی عدالت میں ان کیخلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ 22 مئی 1929ء کو عدالت نے سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی کوشش کی گئی اور قائد اعظم محمد علی جناح اس قانونی کارروائی سے وابستہ ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق قائد اعظم نے غازی علم دین کو ایسا دفاع اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس سے ان کی جان بچنے کا امکان پیدا ہوسکتا تھالیکن انہوں نے اپنے عمل سے لاتعلقی ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے غازی علم دین کی سزائے موت برقرار رکھی۔ مزید قانونی کوششوں کیلئے علم دین ڈیفنس کمیٹی قائم ہوئی اور مالی وسائل جمع کیے گئے۔ بعض روایات کے مطابق برطانیہ کی پریوی کونسل میں اپیل کیلئے بھی رقم خرچ کی گئی لیکن ان کوششوں سے سزا تبدیل نہ ہوسکی۔میانوالی جیل اور وصیت 31اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں غازی علم دین کی سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان کی آخری ملاقات، وصیت اور آخری لمحات سے متعلق تفصیلات اس زمانے کے اخبارات اور بعد کی روایات میں محفوظ ہیں۔ روزنامہ ''انقلاب‘‘ میں ان کی والدہ سے ملاقات کے حوالے سے ایک خواب کا ذکر ملتا ہے۔ ان سے منسوب وصیت میں نماز، نیک کردار، ذاتی اعمال کی جوابدہی اور خاندان کیلئے نصیحتوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔غازی علم دین کی شہادت کے بعد انہیں میانوالی میں امانتاًدفن کیا گیا۔اس دوران لاہور میں میت واپس لانے اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اس معاملے نے عوامی احتجاج کو ایک نئی جہت دی اور مذہبی و سیاسی شخصیات اس کی پیروی کیلئے سامنے آئیں۔لاہور واپسی اور تاریخی جنازہغازی علم دین کا جسد خاکی لاہور واپس لانے کی کوششوں میں علامہ محمد اقبالؒ، سر محمد شفیع، مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد بخش مسلم اور دیگر اہم شخصیات کے نام نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں قائم کمیٹی نے برطانوی حکام سے اجازت حاصل کرنے کی سبیل کی۔ حکام کو خدشہ تھا کہ بدامنی پیدا ہوسکتی ہے تاہم یقین دہانیوں کے بعد اجازت مل گئی۔14 نومبر 1929ء کو غازی علم دین شہید کی قبر کشائی کی گئی اور ان کے جسد خاکی کو دو روزہ سفر کے بعد لاہور لایا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد وزیر خان کے امام محمد شمس الدین نے پڑھائی۔ خاندانی روایت کے مطابق پورے برصغیر سے لوگ جنازے میں شرکت کیلئے لاہور پہنچے ۔ علامہ اقبالؒ کی جنازے میں شرکت اور ان سے منسوب یہ جملہ بھی مشہور ہے: ''اسی گلاں ای کردے رہ گئے، ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا‘‘۔ یہ جنازہ محض ایک فرد کی تدفین کا موقع نہیں تھا بلکہ مذہبی وابستگی، اجتماعی جذبات اور نوآبادیاتی دور کے سیاسی ماحول کی علامت بن گیا۔ اسی عوامی یادداشت نے غازی علم دین شہید کے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔تاریخ سے حاصل ہونے والا سبقغازی علم دین شہید کی داستان کا مطالعہ کرتے ہوئے مذہبی عقیدت، تاریخی حقائق اور قانونی اصولوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ان کیلئے مسلمانوں کی محبت اور ان کی تاریخی یادداشت میں مقام ایک حقیقت ہے ۔ اس واقعے کو سمجھنے کیلئے مقدمے کی کارروائی، اس دور کے حالات اور قانون کے تقاضوں کا جائزہ بھی ناگزیر ہے۔غازی علم دین شہید کا واقعہ آج بھی ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ مذہبی احترام اور انصاف کے تقاضوں کو معاشرے میں کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔ ماضی کے واقعات کو جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ علمی دیانت سے سمجھنا ہی تاریخ سے حقیقی سبق حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی رویہ ہمیں اپنے ماضی کی قدر کرنے، اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے اور مستقبل کیلئے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ فکر اختیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

ہر سال 31اکتوبر کو کفایت شعاری کا عالمی دن منایا جاتا ہےزندگی کی حقیقی خوشحالی محض دولت کے انبار جمع کرنے یا نمود و نمائش پر بے دریغ رقم خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ محدود وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کرنے، غیر ضروری اخراجات سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کیلئے بچت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں مہنگائی، معاشی ناہمواری اور قدرتی وسائل کی کمی نے انسان کو کئی چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے، وہاں کفایت شعاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کفایت شعاری کا عالمی دن اسی سوچ کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے کہ بہتر زندگی گزارنے کیلئے بے تحاشا خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ سادہ طرزِ زندگی بھی خوشحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ کفایت شعاری کا عالمی دن یعنی ''ورلڈ سیونگز ڈے‘‘دنیا بھر میں31اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد آمدن سے زیادہ اخراجات پر قابو پانا اور بچت کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1924ء میں ''ورلڈ سوسائٹی آف سیونگ بینکس‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ لوگوں میں کفایت شعاری اور پیسے جمع کرنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ اٹلی کے شہر میلان کے باسیوں نے 31 اکتوبر 1924ء کو پہلی بار اس دن کو منانے کا اعلان کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔کفایت شعاری سے مراد ضرورت کے مطابق خرچ کرنا، فضول خرچی سے اجتناب کرنا اور اپنی آمدنی و وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ موجودہ ضروریات بھی پوری ہوں اور مستقبل کیلئے بھی کچھ محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تصور کنجوسی سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ کنجوسی میں انسان جائز ضروریات پوری کرنے سے بھی گریز کرتا ہے، جبکہ کفایت شعاری میں ضروری اخراجات پورے کرتے ہوئے غیر ضروری خرچ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انفرادی زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔کفایت شعاری کا تعلق صرف پیسے کی بچت سے نہیں، بلکہ وقت، توانائی، پانی، بجلی، خوراک اور دیگر قدرتی وسائل کے درست استعمال سے بھی ہے۔ گھروں میں غیر ضروری روشنیاں بند رکھنا، پانی ضائع نہ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنا، قابلِ استعمال اشیا کو بے جا پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال میں لانا اور خریداری سے پہلے اپنی ضروریات کا جائزہ لینا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی سطح پر ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی طرح اشیائے صرف کی غیر ضروری خریداری سے گریز نہ صرف گھریلو بجٹ کو متوازن رکھتا ہے بلکہ وسائل کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں کفایت شعاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ محدود آمدنی میں گھر چلانے والے افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات کی منصوبہ بندی کریں، آمدنی اور خرچ کا حساب رکھیں اور غیر ضروری خریداری سے اجتناب کریں۔ اشیائے ضروریہ کی فہرست بنا کر خریداری کرنا، غیر ضروری قرضوں سے بچنا اور ممکنہ حد تک ہنگامی حالات کیلئے رقم محفوظ رکھنا مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔کفایت شعاری کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالنا کافی نہیں۔ حکومتی اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر قومی اداروں کو بھی وسائل کے مؤثر استعمال کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی، توانائی کی بچت، سرکاری عمارتوں میں بجلی اور پانی کا محتاط استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ایسے اقدامات ہیں جن سے قومی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی اعتدال، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ''اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (سورۃ الاعراف: 31)۔ یہ تعلیم انسان کو یاد دلاتی ہے کہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا درست ہے، لیکن ان کا بے جا استعمال اور اسراف مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اعتدال پر مبنی زندگی انسان کو مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور ذمہ داری کا احساس بھی فراہم کرتی ہے۔کفایت شعاری کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وسائل کی قدر کرنا، ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنا کامیاب معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی زندگی میں اعتدال کو اپنائے، خاندان غیر ضروری اخراجات کم کریں اور ادارے قومی وسائل کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کفایت شعاری کو محض ایک دن کی یاد دہانی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے انفرادی عادت، اجتماعی رویے اور قومی طرزِ فکر کا حصہ بنایا جائے۔