ینی چری: ماضی کی مستعد فوج
اسپیشل فیچر
ینی چری سلطنت عثمانیہ کی افواج کا اہم حصہ تھے جو سلطان کے ذاتی محافظ اور پیادہ دستوں کا کردار ادا کرتے تھے۔ ینی چری کو دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج بھی کہا جاتا ہے جو 14 ویں صدی میں تیار کی گئی اور 1826ء میں سلطان محمود ثانی نے اس کا خاتمہ کر دیا۔ ینی چری ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’نئی فوج‘‘ ہے۔ ینی چری 1362ء میں سلطان مراد اول نے تیارکی۔ ابتدا میں اس میں مفتوحہ علاقوں کے غیر مسلم نوجوانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد شامل کیا جاتا تھا۔ان کا براہ راست تعلق سلطان سے ہوتا تھا۔ ان کی اہلیت کے مطابق انھیں سلطنت عثمانیہ میں مختلف عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا۔ یہ دنیا کی پہلی منظم اور باقاعدہ فوج تھی جسے سخت تربیت دی جاتی تھی۔ اس کے افراد باقاعدہ چھاؤنیوں کے اندر رہتے تھے اور زمانہ امن میں پولیس اور آگ بجھانے والے دستوں کا کام انجام دیتے تھے۔ انہیں ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے نقد تنخواہیں دی جاتی تھیں۔ تنخواہوں کی ادائیگی کے وقت سلطان خود ینی چری کے لباس میں چھاؤنی آتا تھا۔ینی چری نے 15 ویں صدی میں ہی بندوقوں کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں ینی چری سڑکوں کی تعمیر، جنگ کے دوران خیموں کی تنصیب، کھانے کی تیاری اور فوجیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے فرائض بھی انجام دیتی تھی۔ ینی چری کا ایک اہم شعبہ مہتر تھا جسے دنیا کا پہلا عسکری بینڈ کہا جاتا ہے۔ 18 ویں صدی میں ینی چری کاروبار بھی کرنے لگے تھی۔ایک تحقیق کے مطابق 14 ویں صدی میں ینی چری کی تعداد ایک ہزار اور 1475ء میں 6 ہزار تھی۔ 1699ء میں عثمانیوں کی شکست کے بعد تعداد کم ہو گئی لیکن 18 ویں صدی میں تعداد چار لاکھ کے قریب جا پہنچی تھی۔عثمانی سلطنت نے تمام اہم مہمات میں ینی چری کا استعمال کیا جس میں فتح قسطنطنیہ، مملوکوں کے خلاف فتوحات اور آسٹریا اور ہنگری کے خلاف جنگیں بھی شامل ہیں۔ جنگ میں ینی چری دستوں کی قیادت ہمیشہ سلطان خود کرتا تھا۔1683ء میں ینی چری کے غلام ہونے کی شرط کے خاتمے کے بعد ینی چری کی عزت افزائی میں اضافہ ہوا اور زیادہ تر مسلم ترک خاندانوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ان کا بیٹا ینی چری میں بھرتی ہو۔ینی چری عثمانی حکومت میں اپنی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور اس لیے انہوں نے کئی مرتبہ بغاوتیں بھی کیں جن میں پہلی بغاوت تنخواہوں میں اضافے کے لیے 1449ء میں کی گئی۔ ان کے مطالبات تسلیم کیے گئے۔ بعدازاں وہ ہر نئے سلطان سے انعامات و اکرامات اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے۔ سلطان سلیم ثانی نے ینی چری کو شادیاں کرنے کی بھی اجازت دے دی جو پہلے نہیں تھی۔ 1622ء میں ینی چری نے بغاوت کے دوران سلطان عثمان ثانی کو قتل کر دیا جو اصلاحات کرنا چاہتے تھے۔18 ویں صدی کے اوائل میں ینی چری حکومتی معاملات میں مداخلت کرنے لگے اور انہوں نے اچھا خاصا اثر و رسوخ قائم کر لیا۔ انہوں نے نہ صرف عسکری تنظیم کو جدید بنانے کے اقدامات کی مخالفت کی بلکہ اپنی محلاتی سازشوں کے ذریعے سلطانوں کو بھی تخت سے ہٹانے لگے۔ 1683ء میں ویانا کے دوسرے محاصرے میں ناکامی کے بعد انہوں نے فوجی تنظیم کو جدید بنانے کے ہر اقدام کی مخالفت کی۔ 1807ء میں انہوں نے سلطان سلیم ثالث کو تخت سے ہٹا دیا جو یورپی طرز پر فوج کی تنظیم چاہتے تھے۔ اس صورت حال میں محمود ثانی نے ینی چری کے خاتمے کا تہیہ کر لیا۔ 1826ء میں ینی چری نے محسوس کیا کہ سلطان نئی فوج تشکیل دینا چاہتا ہے اور انہوں نے استنبول میں بغاوت کردی لیکن اس مرتبہ فوج اور عوام ان کے خلاف ہو گئے۔ سلطان کے گھڑ سوار دستوں نے انہیں چھاؤنیوں میں جا لیا اور توپ خانے سے ان پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں ینی چری کی بڑی تعداد ماری گئی اور اگلے دو سال کے اندر اندر ملک بھر سے ینی چری کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا۔ ٭…٭…٭