گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ایاز


کیا فضا میں موجود یہ گیسیں ہمارے لئے ایک حقیقی خطرہ بن سکتی ہیں؟ گرین ہاؤس ایفیکٹ ہے کیا ؟ اور اس سے کرہ ٔارض پر زندگی کس طرح متاثر ہو سکتی ہے ؟اور گرین ہاؤس ایفیکٹ سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟آج کے ترقی یافتہ اور صنعتی دور میں جہاں انسان کو ان گنت آسائشیں میسر ہیں وہیں ہم نے اس ترقی کی قیمت میں اپنے لئے اور اس دنیا کے باقی جانداروں کے لئے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔پانی صنعتی فاضل مادوں اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی وجہ سے آلودہ و مضر صحت ہو رہا ہے۔ساتھ ہی ہوا میں موجود گیسوں کا کئی صدیوں سے قائم توازن بھی خطرے سے دو چار ہے۔یہی نہیں بلکہ بگڑتے ہوئے عالمی حالات میں ایٹمی،کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ہماری فضا:ہمارے ارد گرد’’ہوا ‘‘ کا ایک بہت بڑا’’ سمندر‘‘ موجود ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں ،چلتے پھرتے ہیں اور پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔اس فضا میں بہت سی گیسیں مختلف تناسب سے موجود ہیں۔ان گیسوں میں نائٹروجن ، آکسیجن ہوا میں بالترتیب کثرت سے موجود ہیں۔جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری نایاب گیسوں کا حصہ بہت ہی کم ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گیسوں کا یہ تناسب صدیوں سے تقریباً یکساں حالت میں موجود ہے۔ جس میں کچھ ادوار میں معمولی کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ لیکن پچھلی صدی سے جاری بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی اور پٹرولیم مصنوعات کے بے دریغ استعمال سے فضامیں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی یہ زیادتی گرین ہاؤس ایفیکٹ کا باعث بن رہی ہے۔گرین ہاؤس ایفیکٹ:فرض کریں آپ کے پاس ایک کار ہے جو کہ گرمی کے موسم میں دھوپ میں پار ک کرنا پڑی، کچھ دیر بعد آپ گاڑی میں بیٹھیں گے تو یقینا وہ بہت زیادہ گرم ہوگی اور گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر سے بھی زیادہ ہو گا۔ کارمیںیہ اضافی گرمی گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے ہوئی۔جب دھوپ گاڑی کے شیشوں پر پڑی تو بغیر رکاوٹ اندر داخل ہو گئی لیکن جب روشنی گاڑی کے اندر سے باہر منعکس ہونے لگتی ہے توشیشہ اسے باہر جانے کے بجائے دوبارہ اندر منعکس کر دیتا ہے جس سے کار کا درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے۔گرین ہاؤس ایفیکٹ آپ کو صرف کارمیں ہی نہیں نظر آتا بلکہ زراعت کے شعبے میں اس کو بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سردی کے موسم میں جب درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے ، اس موسم میں گرمی کی فصلین اگانے کیلئے اس فارم کے گرد شیشے یا پلاسٹک کی شفاف دیواریں بنائی جاتی ہیں۔ دن کو دھوپ جب شیشے یا پلاسٹک پر پڑتی ہے تو وہ سیدھی گرین ہاؤس میں داخل ہو جاتی ہے لیکن زمین اور پودوں سے منعکس ہونے والی شعاعیں واپس گرین ہاؤس میں قید ہو جاتی ہیں جس سے فارم کا درجہ حرارت باہر کی نسبت بڑھ جاتا ہے۔ گرم موسم کے پودے سردی میں بھی زندہ رہتے ہیں اورخوب منافع بخش پیداوار دیتے ہیں۔کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس ایفیکٹ:ہماری فضاگیسوں کی تہہ میں سے گزرتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہے۔ اس تہہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پرت بالکل شفاف شیشے کی طرح عمل کرتی ہے یعنی یہ سورج کی روشنی کو زمین تک توآنے دیتی ہے مگر زمین سے واپس لوٹنے والی حرارتی شعاعوں کو سطح زمین پر واپس منعکس کر دیتی ہے۔اس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو ہم گرین ہاؤس ایفیکٹ کا نام دیتے ہیں۔وجوہات: فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھتے ہوئے اخراج و اضافے کی وجوہات نیچے دی گئی ہیں۔1 : لکڑی اور ایندھن کا جلنا 2 : جنگلا ت کی کٹائی/جلنا3 : پٹرول اور دوسرے فوسل ایندھن کے جلنے سے گاڑیوں /فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواںمیتھین: کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ ایک اور گیس میتھین کی فضا میں موجودگی بھی گرین ہاؤس ایفیکٹ کا باعث بنتی ہے۔ آپکی دلچسپی کیلئے بتاتے چلیں کہ میتھین ہی وہ گیس ہے جو گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر یہ زیر زمین معدنیاتی طور پر موجود ہوتی ہے اور بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے۔مگر اس کے علاوہ بھی مختلف ذرائع سے اس کی کچھ مقدار فضا میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ دلدلی علاقوں میں مختلف اشیاء کے گلنے سڑنے اور چاول کی جڑوں میں کیمیائی عمل سے بھی میتھین خارج ہوتی رہتی ہے۔بہت سے خرد بینی جاندار بھی میتھین فضا میں خارج کرتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود اگرچہ میتھین کی فضا میں موجوگی بہت کم ہے مگر درجہ حرارت میں اضافے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو سو گنا زیادہ ہے۔اس لحاظ سے اس گیس کی فضا میں موجودگی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے زیادہ خطرناک ہے۔گلوبل وارمنگ سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات: بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زمین پر زندگی کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جن میں سے چند یہ ہیں۔موسمیاتی تبدیلیاں:آج ہمیں علم ہے کہ زمین پر ایک سال میں رفتہ رفتہ موسم ایک سے دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔مگر کرۂ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے سے موسموں میں تبدیلیاں یک لخت او رغیر یقینی ہو سکتی ہیں،ساتھ ہی طوفانوں اور سیلابوں میں بھی زیادہ شدت آسکتی ہے اور بارشوں کے اوقات بھی بہت حد تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔سطح سمندر میں اضافہ:قطبین اور دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں میں اس وقت پانی کی بہت بڑی مقدار برف اور گلیشئر ز کی شکل میں موجود ہے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہو جائے گا اور اس سے پانی کی زیادہ مقدار سمندروں میں شامل ہو جائے گی جس سے سمندر کی سطح میں کئی میٹر کا اضافہ ہو گا۔اس وجہ سے بہت سے ساحلی شہروں کے زیر آب آ جانے کا خطرہ ہے۔علاوہ ازیں درجہ حرارت بڑھنے سے ٹھنڈے علاقوں کے باسی جانوروں اور پودوں کی معدومیت کا بھی خطرہ ہے جو زیادہ درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
یورپ میں گرمی کی شدید لہر

یورپ میں گرمی کی شدید لہر

موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اشارےیورپ طویل عرصے تک معتدل موسم، خوشگوار گرمیوں اور ٹھنڈی ہواؤں کیلئے جانا جاتا رہا ہے لیکن اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں یورپ ایسی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جسے سائنسدان اب تک کی سب سے زیادہ گرم اور مرطوب ہیٹ ویو قرار دے رہے ہیں۔ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں جبکہ فضا میں بڑھتی ہوئی نمی نے اس گرمی کو انسانی صحت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک اتفاقیہ واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی واضح علامت ہے جو مستقبل میں دنیا کے دیگر خطوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔نمی اور گرمی کا امتزاجعام طور پر جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو انسانی جسم پسینہ خارج کرکے خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے لیکن اگر ہوا میں نمی بہت زیادہ ہو تو پسینہ جلد خشک نہیں ہوتا۔ نتیجتاً جسم کا قدرتی نظام متاثر ہو جاتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے لگتا ہے۔اسی وجہ سے ماہرین صرف درجہ حرارت نہیں بلکہ ہیٹ انڈیکس یا محسوس ہونے والے درجہ حرارت کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔ موجودہ ہیٹ ویو میں کئی یورپی ممالک میں اگرچہ درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، لیکن نمی کی وجہ سے لوگوں نے اس سے کہیں زیادہ گرمی محسوس کی۔یہ صورتحال بچوں، بزرگوں، مزدوروں اور مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔یورپ میں ریکارڈ ٹوٹنے لگےفرانس، سپین، اٹلی، جرمنی، پرتگال، پولینڈ اور وسطی یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کئی ممالک نے سکول بند کر دیے، بیرونی کھیلوں کی سرگرمیاں محدود کر دیں اور شہریوں کو دن کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات جاری کیں۔بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے توانائی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ زراعت، سیاحت اور صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا واضح اثرماہرین اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ اس نوعیت کی شدید گرمی قدرتی موسمی تغیر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہے۔کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیول کے مسلسل استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھ رہی ہے جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ نتیجتاً نہ صرف گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہو رہی ہیں بلکہ ان کا دورانیہ بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ اب وہ علاقے بھی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ماضی میں ایسی صورتحال شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی تھی۔تحقیقی اداروں کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو آئندہ برسوں میں یورپ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں اس سے بھی زیادہ شدید اور مرطوب ہیٹ ویوز معمول بن سکتی ہیں۔پاکستان کیلئے سبقاگرچہ یہ ہیٹ ویو یورپ میں آئی ہے لیکن پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، تباہ کن سیلاب اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے واقعات کا سامنا کر چکا ہے۔پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں گرمی کے ساتھ نمی بھی اکثر بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ہیٹ انڈیکس خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے۔ کراچی، لاہور، ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں موسم گرما کے دوران یہی صورتحال بارہا دیکھی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری منصوبہ بندی، زیادہ درخت لگانے، گرین ایریاز میں اضافہ، صاف توانائی کے استعمال اور عوام میں آگاہی پیدا کیے بغیر مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنا مشکل ہوگا۔عام شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرکے گرمی کے اثرات کم کر سکتے ہیں مثلاً زیادہ پانی پینا، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنا، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا اور بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھنا۔یورپ کی ہیٹ ویو صرف ایک عارضی موسمی واقعہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کا امتزاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے۔اگر عالمی برادری نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور ماحول دوست پالیسیوں پر فوری عمل نہ کیا تو مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں مزید عام اور زیادہ تباہ کن ہو جائیں گی۔

دماغی تندرستی کیلئے بہترین غذا

دماغی تندرستی کیلئے بہترین غذا

نئی تحقیق ، حیران کن انکشافصحت مند غذا کے فوائد سے شاید ہی کوئی انکار کر سکے۔ متوازن خوراک نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ دل، ہڈیوں اور مدافعتی نظام کو بھی مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم ہاورڈ یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ روزمرہ کی خوراک ہمارے دماغ کی صحت، یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ دماغ کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھنے کے لیے کون سا غذائی نظام سب سے زیادہ مؤثر ہے۔اس تحقیق میں تقریباً ایک لاکھ انسٹھ ہزار سے زائد بالغ افراد کے غذائی معمولات اور ذہنی صحت کا طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ہاورڈ کے محققین نے مختلف غذائی منصوبوں کا موازنہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سی غذائی عادات بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت اور دماغی صلاحیتوں کو بہتر طور پر برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔تحقیق میں چھ مختلف غذائی نظام شامل تھے، جن میں Mediterranean ڈائٹ، DASH ڈائٹ اور دیگر معروف غذائی منصوبے شامل تھے۔ نتائج کے مطابق DASH ڈائٹ دماغی صحت کے حوالے سے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی جبکہ Mediterranean ڈائٹ دوسرے نمبر پر رہی۔DASHڈائٹ کیا ہے؟DASH دراصل Dietary Approaches to Stop Hypertension کا مخفف ہے۔ یہ غذائی منصوبہ ابتدا میں ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں متعدد مطالعات سے معلوم ہوا کہ اس کے فوائد دل اور خون کی شریانوں تک محدود نہیں بلکہ دماغ کو بھی نمایاں فائدہ پہنچاتے ہیں۔اس غذا میں تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، نٹس، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، مچھلی اور مرغی کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ نمک، چینی، سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اورزیادہ چکنائی والی غذاؤں کا استعمال محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد نے DASH ڈائٹ پر زیادہ مستقل مزاجی سے عمل کیا ان میں بڑھتی عمر کے ساتھ ذہنی کمزوری یا یادداشت میں کمی محسوس کرنے کا خطرہ تقریباً 41 فیصد کم دیکھا گیا۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متوازن غذا دماغی افعال کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کو مسلسل مناسب غذائیت درکار ہوتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر، وٹامنز، معدنیات اور صحت بخش چکنائی دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے، خون کی روانی بہتر بنانے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس کے مثبت اثرات یادداشت اور توجہ پر مرتب ہوتے ہیں۔تحقیق میں ایک اور اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ اگر صحت مند غذائی عادات کا آغاز درمیانی عمر یعنی تقریباً 45 سے 54 سال کے درمیان کر لیا جائے تو بڑھاپے میں اس کے فوائد زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی صحت کے تحفظ کے لیے احتیاط کا آغاز علامات ظاہر ہونے کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہی کر دینا چاہیے۔Mediterranean ڈائٹ کی اہمیت برقراراگرچہ اس تحقیق میں DASH ڈائٹ نے بہترین نتائج دیے لیکن Mediterranean ڈائٹ بھی انتہائی مفید ثابت ہوئی۔ اس غذا میں زیتون کا تیل، مچھلی، تازہ پھل، سبزیاں، نٹس اور ثابت اناج نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اور اسے دنیا کے صحت مند ترین غذائی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق سے صرف یہ معلوم ہوا کہ دماغی صحت کے حوالے سے DASHڈائٹ کو معمولی برتری حاصل رہی۔محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں لوگوں کی غذائی عادات اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا لیکن یہ قطعی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ صرف DASH ڈائٹ ہی بہتر دماغی صحت کی وجہ بنتی ہے۔ جسمانی سرگرمی، نیند، تعلیم، معاشرتی روابط اور دیگر عوامل بھی دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔اس کے باوجود چونکہ تحقیق بہت بڑی آبادی پر کی گئی اور اس کے نتائج واضح رہے اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں مزید کلینیکل تحقیقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔جدید سائنسی تحقیق اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ دماغ کی صحت کا تعلق صرف ذہنی مشقوں یا جینیاتی عوامل سے نہیں بلکہ روزمرہ کی خوراک سے بھی گہرا ہے۔ تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، نٹس اور کم چکنائی والی غذائیں نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ دماغی افعال کو بھی بہتر رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت اب بھی موجود ہے لیکن موجودہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ صحت مند غذائی عادات اپنانا بڑھتی عمر میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی کو بہتر رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے متوازن غذا کو صرف جسمانی صحت کا ذریعہ نہیں بلکہ دماغی صحت میں سرمایہ کاری بھی سمجھنا چاہیے۔

آج کا دن

آج کا دن

کینیڈا کا قیام یکم جولائی 1867ء کو شمالی امریکہ میں ایک نئی وفاقی ریاست، کینیڈا کا قیام عمل میں آیا۔ اس دن برطانوی پارلیمنٹ کے منظور کردہ ایکٹ کے تحت چار نوآبادیاں، اونٹاریو، کیوبیک، نووا اسکاٹیا اور نیو برنزوک ایک وفاق کی شکل میں متحد ہوئیں۔ اس طرح کینیڈا کو اندرونی معاملات میں وسیع خودمختاری حاصل ہوئی۔ اگرچہ خارجہ امور اور آئینی اختیارات بدستور برطانوی سلطنت کے پاس رہے۔ بعد کے برسوں میں مینیٹوبا، برٹش کولمبیا، پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ، البرٹا اور دیگر علاقے بھی اس وفاق میں شامل ہوتے گئے۔کینیڈا کی کنفیڈریشن جدید وفاقی نظام کی ایک کامیاب مثال سمجھی جاتی ہے جہاں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کو ایک آئینی ڈھانچے میں یکجا کیا گیا۔ صومالیہ کی آزادی یکم جولائی 1960ء کو افریقی ملک صومالیہ نے مکمل آزادی حاصل کی۔ اس دن سابق اطالوی زیرانتظام ٹرسٹ ٹیریٹری آف صومالیہ، چند روز قبل آزاد ہونے والے برٹش صومالی لینڈ کے ساتھ متحد ہوا اور جمہوریہ صومالیہ وجود میں آئی۔آزادی کے بعد صومالیہ نے پارلیمانی نظام اختیار کیا اور آدم عبداللہ عثمان دار پہلے صدر منتخب ہوئے۔ بعد کے برسوں میں سیاسی عدم استحکام، فوجی انقلاب، قبائلی تنازعات اور خانہ جنگی نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔اس کے باوجود یکم جولائی صومالی عوام کے لیے قومی اتحاد، آزادی اور خودمختاری کی علامت ہے۔ہانگ کانگ کی چین کو واپسییکم جولائی 1997ء کوتقریباً 156 برس بعد ہانگ کانگ برطانوی حکومت سے واپس چین کے حوالے کر دیا گیا۔1842ء میں پہلی افیون جنگ کے بعد برطانیہ نے ہانگ کانگ جزیرہ پر قبضہ کیا تھا جبکہ بعد میں مزید علاقے بھی اس کے قبضے میں آئے۔ 1984ء میں Sino-British Joint Declaration پر دستخط ہوئے جس کے مطابق یکم جولائی 1997ء کو ہانگ کانگ چین کے حوالے کر دیا جانا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کی تقریب 30 جون اور یکم جولائی کی درمیانی شب منعقد ہوئی۔چین نے وعدہ کیا کہ ایک ملک دو نظام کے اصول کے تحت ہانگ کانگ کو پچاس برس تک اپنے سرمایہ دارانہ نظام، عدالتی آزادی اور وسیع خودمختاری برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ زپ کوڈ کا آغازیکم جولائی 1963ء کو امریکہ کے ڈاک کے محکمے نے ZIP کوڈ نظام متعارف کرایا جس نے ڈاک کی ترسیل میں انقلاب برپا کر دیا۔ہر علاقے کو ایک منفرد عددی شناخت دی گئی جس سے ڈاک کو خودکار مشینوں کے ذریعے تیزی سے چھانٹنا ممکن ہوا۔ بعد میں 1983ء میں ZIP 4 نظام بھی متعارف کرایا گیا جس سے مخصوص گلیوں، عمارتوں اور دفاتر تک زیادہ درست ترسیل ممکن ہوئی۔آج امریکہ میں تقریباً ہر سرکاری، تجارتی اور مالیاتی ادارہ ZIP کوڈ استعمال کرتا ہے۔ آن لائن خریداری، مردم شماری اورہنگامی خدمات میں بھی اس نظام کی بہت اہمیت ہے۔عالمی فوجداری عدالتیکم جولائی 2002ء کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کیا۔ اس عدالت کا قیام روم معاہدہ کے تحت عمل میں آیا جسے 1998ء میں منظور کیا گیا تھا اور مطلوبہ تعداد میں ممالک کی توثیق کے بعد یکم جولائی2002ء سے نافذ ہوا۔آئی سی سی دنیا کی پہلی مستقل بین الاقوامی عدالت ہے جسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور بعد ازاں جارحیت کے جرم کے مقدمات سننے کا اختیار دیا گیا۔ اس کا صدر دفتر دی ہیگ، نیدرلینڈز میں قائم کیا گیا۔اس عدالت کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی ملک سنگین بین الاقوامی جرائم کے ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرے تو آئی سی سی مداخلت کر سکے۔

30 جون:شہابیوں کا عالمی دن

30 جون:شہابیوں کا عالمی دن

ہر سال 30 جون کو دنیا بھر میں شہابیوں کا عالمی دن (International Asteroid Day)منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں شہابیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، ان کی سائنسی اہمیت کو اجاگر کرنا اور زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر جاری کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ بظاہر آسمان پر گردش کرنے والے یہ اجسام محض فلکیاتی دلچسپی کا باعث دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بعض زمین کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتے ہیں جبکہ بہت سے شہابیے ہمارے نظامِ شمسی کی تخلیق کے راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ٹنگوسکا واقعہ اور عالمی دن کی اہمیتشہابیوں کا عالمی دن 30 جون کو اس لیے منایا جاتا ہے کہ اسی تاریخ کو 1908ء میں روس میں سائبیریا کے علاقے ٹنگوسکا میں ایک عظیم فلکیاتی واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک دیوہیکل شہابیہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے لاکھوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔ خوش قسمتی سے یہ علاقہ غیر آباد تھا اس لیے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان نہیں ہوا، لیکن اگر ایسا واقعہ کسی بڑے شہر کے اوپر پیش آتا تو تباہی ناقابلِ تصور ہوتی۔ یہی واقعہ آج بھی سائنسدانوں کو یاد دلاتا ہے کہ خلا سے آنے والے خطرات حقیقی ہیں اور ان کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر میں فرقشہابیے دراصل سورج کے گرد گردش کرنے والے پتھریلے یا دھاتی اجسام ہیں جو زیادہ تر مریخ اور مشتری کے درمیان موجود Asteroid Belt میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض اپنے مدار سے ہٹ کر زمین کے قریب بھی آ جاتے ہیں۔ اکثر لوگ شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تین مختلف اصطلاحات ہیں۔ خلا میں موجود پتھریلا جسم شہابیہ (Asteroid) کہلاتا ہے۔ جب اس کا کوئی حصہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جلنے لگتا ہے تو اسے شہابِ ثاقب (Meteor) کہا جاتا ہے، جو رات کو آسمان پر ایک روشن لکیر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اگر اس کا کچھ حصہ جلنے سے بچ جائے اور زمین پر آ گرے تو وہ شہابی پتھر (Meteorite) کہلاتا ہے۔ اسی لیے International Asteroid Dayبنیادی طور پر خلا میں موجود شہابی اجسام کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا دن ہے۔زمین کیلئے خطرات اور جدیداقداماتسائنسدانوں کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل ایک بہت بڑا شہابیہ موجودہ میکسیکو کے علاقے میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس تصادم کے نتیجے میں عالمی سطح پر موسمی تبدیلیاں آئیں اور ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار معدوم ہو گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بڑے شہابیے پوری زمین کے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر ناسا، یورپی خلائی ایجنسی اور دیگر خلائی ادارے زمین کے قریب آنے والے شہابیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ جدید دوربینوں، کمپیوٹر ماڈلز اور خلائی مشنز کی مدد سے ان کے مدار کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک شہابیہ زمین کی طرف بڑھتا دکھائی دے تو بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ 2022ء میں ناسا نے DART مشن کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک شہابیہ سے خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ٹکرا کر اس کے مدار میں معمولی تبدیلی پیدا کی۔ اس کامیاب تجربے نے ثابت کیا کہ مستقبل میں کسی خطرناک شہابیہ کا راستہ تبدیل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔تحقیق، مستقبل اور انسانیت کا مشترکہ مشنشہابیوں کی تحقیق صرف خطرات تک محدود نہیں، یہ اجسام نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی دور کے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں اربوں سال پرانا مادہ محفوظ ہے۔ ان کے مطالعے سے سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورج، سیارے اور زمین کیسے وجود میں آئے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پانی اور زندگی کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات بھی ابتدائی دور میں شہابیوں کے ذریعے پہنچے ہوں گے۔مستقبل میں کئی ممالک شہابیوں سے قیمتی دھاتیں حاصل کرنے کے امکانات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن ان کی کامیابی خلائی معیشت میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتی ہے۔شہابیوں کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زمین کائنات میں تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع اور متحرک نظام کا حصہ ہے۔ جدید سائنس، بین الاقوامی تعاون اور مسلسل تحقیق کے ذریعے نہ صرف کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکتا۔ ہے بلکہ زمین کو ممکنہ خلائی خطرات سے بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے 3کروڑ 40لاکھ بچے خطرے میں

پاکستان کے 3کروڑ 40لاکھ بچے خطرے میں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر دنیا کو خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بھاری بوجھ وہ بچے اٹھا رہے ہیں جن کا اس بحران کے پیدا ہونے میں کوئی کردار نہیں۔Children's Climate Risk Report (2026) کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب دس کروڑ سے زائد بچے بیک وقت کم از کم تین موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں تقریباً تین کروڑ چالیس لاکھ بچے ایسے ہیں جو شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت جیسے متعدد خطرات کی زد میں ہیں۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کا عالمی کاربن اخراج میں معمولی حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں آنے والے شدید سیلاب، ریکارڈ توڑ گرمی، سموگ، بارشوں کے غیر متوقع سلسلے اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ ایک انسانی بحران بن چکی ہے جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔شدید موسم اور بچوں کو لاحق خطراتیونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں بچوں کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ کم عمر بچوں میں جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے جس کے باعث وہ ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب فضائی آلودگی، خصوصاً لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں سموگ بچوں میں دمہ، نمونیا اور سانس کی دیگر بیماریوں میں اضافہ کر رہی ہے۔اسی طرح صاف پانی کی کمی اور آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ، اسہال اور دیگر متعدی امراض پھیل رہے ہیں۔ غذائی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ خشک سالی اور زرعی پیداوار میں کمی سے لاکھوں خاندان مناسب خوراک فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کے نتیجے میں بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔سیلاب، نقل مکانی اور تعلیم کا بحرانپاکستان میں 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے یہ ثابت کر دیا کہ قدرتی آفات کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو پہنچتا ہے۔ لاکھوں بچے بے گھر ہوئے، ہزاروں سکول تباہ یا متاثر ہوئے اور کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں مہینوں معطل رہیں۔ جب خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں تو بچوں کی تعلیم سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے دوبارہ سکول نہیں جا پاتے اور بعض اوقات انہیں گھریلو ذمہ داریوں یا مزدوری میں لگنا پڑتا ہے۔اس صورتحال کا ایک اور پہلو ذہنی صحت ہے۔ گھر، سکول اور معمول کی زندگی سے محرومی بچوں میں خوف، اضطراب اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے بچوں کو صرف خوراک اور رہائش ہی نہیں بلکہ نفسیاتی معاونت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔پاکستان کو کن اقدامات کی ضرورت ہے؟یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو موسمیاتی پالیسیوں کا محور بنائیں۔ ایسے سکول تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو شدید موسموں کا مقابلہ کر سکیں، صحت کے مراکز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے مؤثر ارلی وارننگ سسٹم، ہنگامی امدادی منصوبے اور بچوں کے تحفظ کے خصوصی پروگرام بھی ناگزیر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، جنگلات میں اضافے، پانی کے بہتر انتظام، ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور موسمیاتی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے سے آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دیا جا سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کو بھی شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ آبادی کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔آج کا فیصلہ، کل کی نسلوں کا مستقبلپاکستان کے تین کروڑ چالیس لاکھ بچے صرف ایک عدد نہیں بلکہ ملک کا مستقبل ہیں۔ اگر ان کی صحت، تعلیم اور تحفظ کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ صرف ماحول بچانے کی نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل، انسانی ترقی اور قومی سلامتی کی جنگ بھی ہے۔حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور عام شہری اگر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو پاکستان موسمیاتی خطرات کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر آج کے موسمیاتی خطرات کل کے انسانی، معاشی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جائیں گے، اور ان کا سب سے بڑا بوجھ انہی بچوں پر پڑے گا جو اس بحران کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نائٹ آف دی لانگ نائیوز30 جون 1934ء کو جرمنی میں نازی حکومت نے ایک خونی کارروائی کی جسے تاریخ میں نائٹ آف دی لانگ نائیوز کہا جاتا ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف ایرنسٹ روہم اور اس کی نیم فوجی تنظیم تھی جو نازی پارٹی کے اقتدار میں آنے میں اہم کردار ادا کر چکی تھی لیکن اب جرمن فوج اور خود ہٹلر کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی تھی۔30 جون سے 2 جولائی 1934ء تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں درجنوں اہم سیاسی رہنماؤں، فوجی افسروں اور مخالف شخصیات کو گرفتار یا قتل کیا گیا۔ہلاک ہونے والوں کی تعداد درجنوں سے لے کر سینکڑوں تک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد جرمن فوج نے ہٹلر کی قیادت کو مکمل طور پر قبول کر لیا۔کانگو کی آزادی30 جون 1960ء کو وسطی افریقہ کا ملک جمہوریہ کانگو تقریباً 75 برس کی نوآبادیاتی حکمرانی کے بعد بلجیم سے آزاد ہوا۔ آزادی کی تقریب دارالحکومت لیوپولڈویل (موجودہ کنشاسا) میں منعقد ہوئی، جہاں بلجیم کے بادشاہ بوڈوئن بھی شریک تھے۔ اس موقع پر کانگو کے پہلے وزیر اعظم پاتریس لومومبا نے ایک تاریخی اور جرأت مندانہ تقریر کی جس میں انہوں نے بلجیئن نوآبادیاتی دور کے مظالم، استحصال اور نسلی امتیاز کا کھل کر ذکر کیا۔ ان کی تقریر نے پوری دنیا میں توجہ حاصل کی اور افریقی آزادی کی تحریکوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔اگرچہ آزادی ایک تاریخی کامیابی تھی لیکن اس کے بعد کانگو سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔ ٹنگوسکا واقعہ30 جون 1908ء کی صبح سائبیریا کے دور افتادہ علاقے ٹنگوسکا میں انسانی تاریخ کے سب سے بڑے قدرتی فضائی دھماکوں میں سے ایک پیش آیا۔ ایک عظیم شہابِ ثاقب یا دمدار ستارے کا ٹکڑا زمین کی فضا میں داخل ہوا اور تقریباً 5 سے 10 کلومیٹر کی بلندی پر زبردست دھماکے سے پھٹ گیا۔اس دھماکے کی طاقت کا اندازہ 10 سے 15 میگاٹن ٹی این ٹی کے برابر لگایا جاتا ہے جو بعد میں استعمال ہونے والے کئی ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ تھی۔ دھماکے سے تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر جنگل تباہ ہو گیا اور اندازاً آٹھ کروڑ درخت زمین بوس ہو گئے لیکن اس مقام پر کوئی بڑا گڑھا نہیں ملا کیونکہ شہابیہ زمین سے ٹکرانے کے بجائے فضا ہی میں پھٹ گیا تھا۔ خلائی جہاز سویوز 11 کا انجام30 جون 1971ء کو سوویت یونین کے خلائی جہاز سویوز 11 کے تینوں خلا باز زمین پر واپسی کے دوران ہلاک ہو گئے۔ یہ دنیا کی خلائی تاریخ کا ایک منفرد اور افسوسناک واقعہ تھا کیونکہ یہ واحد انسان ہیں جن کی موت vacuum of space میں واقع ہوئی۔یہ مشن دنیا کے پہلے خلائی سٹیشن سالیوت1 پر کامیاب قیام کے بعد واپس آ رہا تھا۔ خلا بازوں نے تقریباً 23 دن خلائی سٹیشن میں گزارے تھے جو اس وقت ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ واپسی کے دوران کیپسول کے ایک پریشر والو میں خرابی پیدا ہوئی جس سے چند لمحوں میں کیبن کی تمام ہوا خارج ہو گئی۔ اس وقت خلا باز سپیس سوٹ نہیں پہنے ہوئے تھے اس لیے وہ چند سیکنڈ میں بے ہوش ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ ہانگ کانگ میں برطانوی اقتدار کا اختتام30 جون 1997ء برطانوی سلطنت کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا۔ اسی رات ہانگ کانگ پر تقریباً 156 سالہ برطانوی حکمرانی کا اختتام ہوا اور یکم جولائی 1997ء کی ابتدائی ساعتوں میں اس کا اقتدار عوامی جمہوریہ چین کو منتقل کر دیا گیا۔یہ منتقلی 1984ء کے چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے کے تحت عمل میں آئی تھی جس کے مطابق ہانگ کانگ کو ایک ملک، دو نظام کے اصول کے تحت خصوصی انتظامی علاقہ بنایا گیا۔ اس نظام کے مطابق ہانگ کانگ کو اپنے معاشی، عدالتی اور انتظامی نظام میں 50 برس تک وسیع خودمختاری حاصل رہنی تھی۔