گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ایاز


کیا فضا میں موجود یہ گیسیں ہمارے لئے ایک حقیقی خطرہ بن سکتی ہیں؟ گرین ہاؤس ایفیکٹ ہے کیا ؟ اور اس سے کرہ ٔارض پر زندگی کس طرح متاثر ہو سکتی ہے ؟اور گرین ہاؤس ایفیکٹ سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟آج کے ترقی یافتہ اور صنعتی دور میں جہاں انسان کو ان گنت آسائشیں میسر ہیں وہیں ہم نے اس ترقی کی قیمت میں اپنے لئے اور اس دنیا کے باقی جانداروں کے لئے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔پانی صنعتی فاضل مادوں اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی وجہ سے آلودہ و مضر صحت ہو رہا ہے۔ساتھ ہی ہوا میں موجود گیسوں کا کئی صدیوں سے قائم توازن بھی خطرے سے دو چار ہے۔یہی نہیں بلکہ بگڑتے ہوئے عالمی حالات میں ایٹمی،کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ہماری فضا:ہمارے ارد گرد’’ہوا ‘‘ کا ایک بہت بڑا’’ سمندر‘‘ موجود ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں ،چلتے پھرتے ہیں اور پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔اس فضا میں بہت سی گیسیں مختلف تناسب سے موجود ہیں۔ان گیسوں میں نائٹروجن ، آکسیجن ہوا میں بالترتیب کثرت سے موجود ہیں۔جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری نایاب گیسوں کا حصہ بہت ہی کم ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گیسوں کا یہ تناسب صدیوں سے تقریباً یکساں حالت میں موجود ہے۔ جس میں کچھ ادوار میں معمولی کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ لیکن پچھلی صدی سے جاری بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی اور پٹرولیم مصنوعات کے بے دریغ استعمال سے فضامیں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی یہ زیادتی گرین ہاؤس ایفیکٹ کا باعث بن رہی ہے۔گرین ہاؤس ایفیکٹ:فرض کریں آپ کے پاس ایک کار ہے جو کہ گرمی کے موسم میں دھوپ میں پار ک کرنا پڑی، کچھ دیر بعد آپ گاڑی میں بیٹھیں گے تو یقینا وہ بہت زیادہ گرم ہوگی اور گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر سے بھی زیادہ ہو گا۔ کارمیںیہ اضافی گرمی گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے ہوئی۔جب دھوپ گاڑی کے شیشوں پر پڑی تو بغیر رکاوٹ اندر داخل ہو گئی لیکن جب روشنی گاڑی کے اندر سے باہر منعکس ہونے لگتی ہے توشیشہ اسے باہر جانے کے بجائے دوبارہ اندر منعکس کر دیتا ہے جس سے کار کا درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے۔گرین ہاؤس ایفیکٹ آپ کو صرف کارمیں ہی نہیں نظر آتا بلکہ زراعت کے شعبے میں اس کو بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سردی کے موسم میں جب درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے ، اس موسم میں گرمی کی فصلین اگانے کیلئے اس فارم کے گرد شیشے یا پلاسٹک کی شفاف دیواریں بنائی جاتی ہیں۔ دن کو دھوپ جب شیشے یا پلاسٹک پر پڑتی ہے تو وہ سیدھی گرین ہاؤس میں داخل ہو جاتی ہے لیکن زمین اور پودوں سے منعکس ہونے والی شعاعیں واپس گرین ہاؤس میں قید ہو جاتی ہیں جس سے فارم کا درجہ حرارت باہر کی نسبت بڑھ جاتا ہے۔ گرم موسم کے پودے سردی میں بھی زندہ رہتے ہیں اورخوب منافع بخش پیداوار دیتے ہیں۔کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس ایفیکٹ:ہماری فضاگیسوں کی تہہ میں سے گزرتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہے۔ اس تہہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پرت بالکل شفاف شیشے کی طرح عمل کرتی ہے یعنی یہ سورج کی روشنی کو زمین تک توآنے دیتی ہے مگر زمین سے واپس لوٹنے والی حرارتی شعاعوں کو سطح زمین پر واپس منعکس کر دیتی ہے۔اس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو ہم گرین ہاؤس ایفیکٹ کا نام دیتے ہیں۔وجوہات: فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھتے ہوئے اخراج و اضافے کی وجوہات نیچے دی گئی ہیں۔1 : لکڑی اور ایندھن کا جلنا 2 : جنگلا ت کی کٹائی/جلنا3 : پٹرول اور دوسرے فوسل ایندھن کے جلنے سے گاڑیوں /فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواںمیتھین: کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ ایک اور گیس میتھین کی فضا میں موجودگی بھی گرین ہاؤس ایفیکٹ کا باعث بنتی ہے۔ آپکی دلچسپی کیلئے بتاتے چلیں کہ میتھین ہی وہ گیس ہے جو گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر یہ زیر زمین معدنیاتی طور پر موجود ہوتی ہے اور بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے۔مگر اس کے علاوہ بھی مختلف ذرائع سے اس کی کچھ مقدار فضا میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ دلدلی علاقوں میں مختلف اشیاء کے گلنے سڑنے اور چاول کی جڑوں میں کیمیائی عمل سے بھی میتھین خارج ہوتی رہتی ہے۔بہت سے خرد بینی جاندار بھی میتھین فضا میں خارج کرتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود اگرچہ میتھین کی فضا میں موجوگی بہت کم ہے مگر درجہ حرارت میں اضافے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو سو گنا زیادہ ہے۔اس لحاظ سے اس گیس کی فضا میں موجودگی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے زیادہ خطرناک ہے۔گلوبل وارمنگ سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات: بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زمین پر زندگی کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جن میں سے چند یہ ہیں۔موسمیاتی تبدیلیاں:آج ہمیں علم ہے کہ زمین پر ایک سال میں رفتہ رفتہ موسم ایک سے دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔مگر کرۂ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے سے موسموں میں تبدیلیاں یک لخت او رغیر یقینی ہو سکتی ہیں،ساتھ ہی طوفانوں اور سیلابوں میں بھی زیادہ شدت آسکتی ہے اور بارشوں کے اوقات بھی بہت حد تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔سطح سمندر میں اضافہ:قطبین اور دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں میں اس وقت پانی کی بہت بڑی مقدار برف اور گلیشئر ز کی شکل میں موجود ہے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہو جائے گا اور اس سے پانی کی زیادہ مقدار سمندروں میں شامل ہو جائے گی جس سے سمندر کی سطح میں کئی میٹر کا اضافہ ہو گا۔اس وجہ سے بہت سے ساحلی شہروں کے زیر آب آ جانے کا خطرہ ہے۔علاوہ ازیں درجہ حرارت بڑھنے سے ٹھنڈے علاقوں کے باسی جانوروں اور پودوں کی معدومیت کا بھی خطرہ ہے جو زیادہ درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن: دنیا کا تنہا ترین تحقیقی مرکز

کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن: دنیا کا تنہا ترین تحقیقی مرکز

منفی 80 ڈگری درجہ حرارت، چار ماہ کی تاریکی آخری حد پر قائم سائنس کی ایک حیرت انگیز تجربہ گاہزمین پر اگر کوئی مقام انسانی بر د ا شت ، عزم اور سائنسی جستجو کی حقیقی آزمائش سمجھا جاتا ہے تو وہ بلاشبہ انٹارکٹیکا ہے۔ برف سے ڈھکا یہ وسیع و عریض براعظم نہ صرف کرہ ارض کا سرد ترین خطہ ہے بلکہ دنیا کا سب سے بڑا برفانی صحرا بھی ہے۔ اسی بے رحم ماحول میں واقع ''کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن‘‘ (Concordia research station) جدید سائنس کا ایک ایسا منفرد تحقیقی مرکز ہے جہاں انتہائی دشوار حالات کے باوجود سائنس دان انسانی فلاح اور مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے مسلسل تحقیق میں مصروف رہتے ہیں۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن انٹارکٹیکا کے ایک بلند برفانی سطح مرتفع پر سطح سمندر سے تقریباً 3,200 میٹر کی بلندی پر قائم ہے۔ یہ اسٹیشن فرانس اور اٹلی کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے اور دنیا کے دور افتادہ ترین تحقیقی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ایک وقت میں تقریباً 16 سائنس دان اور ماہرین پورا سال قیام کرتے ہیں تاکہ موسم، ماحول، فلکیات، انسانی جسم اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اہم تحقیقات انجام دے سکیں۔اس تحقیقی مرکز کی سب سے نمایاں خصوصیت یہاں کا انتہائی سخت موسم ہے۔ موسمِ سرما میں درجہ حرارت منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، جبکہ سال بھر کا اوسط درجہ حرارت تقریباً منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اس شدت کی سردی میں چند لمحوں کیلئے بھی غیر محفوظ رہنا انسانی جان کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اسٹیشن سے باہر نکلنے والے افراد کو کئی تہوں پر مشتمل خصوصی حفاظتی لباس پہننا پڑتا ہے اور ان کی بیرونی سرگرمیوں کا دورانیہ بھی محدود رکھا جاتا ہے۔ کونکورڈیا کا جغرافیائی محل وقوع اسے مزید منفرد بناتا ہے۔ چونکہ یہ زمین کے انتہائی جنوبی حصے کے قریب واقع ہے، اس لیے موسمِ سرما میں سورج تقریباً چار ماہ تک طلوع نہیں ہوتا اور پورا علاقہ مسلسل تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے برعکس گرمیوں میں سورج کئی ماہ تک غروب نہیں ہوتا۔ سورج کی روشنی اور اندھیرے کے اس غیر معمولی نظام کا انسانی جسم، ذہنی صحت اور حیاتیاتی گھڑی پر گہرا اثر پڑتا ہے، جس کا مطالعہ بھی یہاں ہونے والی تحقیق کا اہم حصہ ہے۔بلند مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کی فضا بھی انتہائی پتلی ہے اور آکسیجن کی مقدار معمول سے کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے آنے والے افراد کو سانس لینے میں دشواری، تھکن اور بلندی سے متعلق دیگر جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی حالات اس مقام کو خلائی مشنوں کی تیاری کیلئے ایک مثالی تجربہ گاہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ یہاں کا ماحول کئی حوالوں سے مریخ جیسے سیارے سے مشابہت رکھتا ہے۔شدید سردیوں کے دوران کونکورڈیا دنیا سے تقریباً مکمل طور پر کٹ جاتا ہے۔ خراب موسم کے باعث نہ تو کوئی ہوائی جہاز یہاں اتر سکتا ہے اور نہ ہی زمینی راستے سے کسی قسم کی امداد پہنچ سکتی ہے۔ اگر اس دوران کوئی طبی یا تکنیکی مسئلہ پیدا ہو جائے تو عملے کو اپنی مہارت اور دستیاب وسائل کی مدد سے خود ہی اس کا حل تلاش کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تعینات افراد کا انتخاب انتہائی سخت معیار کے مطابق کیا جاتا ہے تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ان غیر معمولی حالات کا مقابلہ کر سکیں۔کونکورڈیا دنیا کے سب سے بڑے صحرا، یعنی انٹارکٹک برفانی صحرا، میں واقع ہے۔ اگرچہ یہاں ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ خطہ انتہائی خشک ہے۔ ہوا میں نمی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جس کے باعث عملے کے ہونٹ مسلسل پھٹے رہتے ہیں، جلد خشک ہو جاتی ہے اور آنکھوں میں جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں نہ کوئی درخت ہے، نہ پودے، نہ پرندے اور نہ ہی جنگلی جانور۔ یہاں تک کہ بہت سے بیکٹیریا بھی اس سخت ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتے۔اس اسٹیشن کی تنہائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قریب ترین انسانی آبادی روس کے ووستوک ریسرچ اسٹیشن میں موجود ہے، جو تقریباً 600 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی لیے ماہرین کونکورڈیا کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے بھی زیادہ تنہا اور دور افتادہ مقام قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلانوردوں کی نفسیاتی، جسمانی اور سماجی تیاری کے حوالے سے بھی یہاں مختلف تجربات کیے جاتے ہیں۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر ہونے والی تحقیقات موسمیاتی تبدیلی، برفانی تہوں کی تاریخ، زمین کے ماحول، فلکیات، انسانی صحت اور مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ یہاں جمع ہونے والا سائنسی ڈیٹا عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے، زمین کے ماضی کا مطالعہ کرنے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ علم کی جستجو انسان کو زمین کے دشوار ترین مقامات تک لے جا سکتی ہے۔ شدید سردی، طویل تاریکی، تنہائی اور محدود وسائل کے باوجود یہاں کام کرنے والے سائنس دان اس عزم کے ساتھ تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ان کی کاوشیں نہ صرف زمین بلکہ مستقبل میں دوسرے سیاروں پر انسانی زندگی کی راہیں بھی ہموار کر سکتی ہیں۔ کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن دراصل اس انسانی عزم کی علامت ہے جو نامساعد حالات کے سامنے جھکنے کے بجائے علم کی نئی راہیں تلاش کرتا ہے۔ برف، تنہائی، شدید سردی اور طویل تاریکی کے باوجود یہاں جاری تحقیق ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی جستجو کی کوئی حد نہیں۔ کونکورڈیا کی خاموش برفانی دنیا میں ہونے والی سائنسی کاوشیں اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ عزم، حوصلے اور تحقیق کے ذریعے انسان ناممکن دکھائی دینے والے راستوں کو بھی امکانات میں تبدیل کر سکتا ہے۔بلاشبہ، کونکورڈیا صرف ایک تحقیقی مرکز نہیں بلکہ انسانی ہمت، سائنسی لگن اور علم دوستی کی ایک روشن مثال ہے۔

ورزش میں سستی صحت پر بھاری پڑ سکتی ہے

ورزش میں سستی صحت پر بھاری پڑ سکتی ہے

بڑھتی عمر میں جسمانی سرگرمی میں کمی کو معمول سمجھنا صحت کیلئے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے: تحقیق صحت مند زندگی کیلئے ورزش کو ہمیشہ اہم قرار دیا جاتا ہے، مگر عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں کمی کو معمول سمجھنا صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ ورزش کے دورانیے میں محض چند منٹ کی کمی بھی عمر رسیدگی کے دوران کینسر کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف جسم کو متحرک رکھتی ہے بلکہ کئی سنگین بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ سخت جسمانی ورزش میں صرف چند منٹ کی کمی بھی کینسر کے خطرے میں 15 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بس پکڑنے کیلئے دوڑنے سے گریز کرنا یا جم جانے کے بجائے ٹی وی کے سامنے وقت گزارنا صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو عمر بڑھنے کے باوجود اپنی جسمانی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں اور ورزش میں کمی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ جسمانی سرگرمی میں معمولی کمی بھی صحت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے ''بی ایم سی میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے۔ محققین نے شہریوں کے طرزِ زندگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ماڈلنگ کے ذریعے جسمانی سرگرمی اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کا بھی مطالعہ کیا۔ تحقیق میں 59,218 افراد شامل تھے، جن میں 55 فیصد خواتین تھیں۔ شرکاء کی اوسط عمر 61.7 سال تھی اور وہ یو کے بائیوبینک کے رکن تھے، جو طبی تحقیق میں حصہ لینے والے تقریباً پانچ لاکھ افراد کا ڈیٹا بیس ہے۔ آٹھ سالہ فالو اَپ کے دوران شرکاء میں کینسر کے 2,385 کیسز سامنے آئے۔ ماہرین نے یہ جائزہ لیا کہ لوگ روزانہ کتنا وقت سونے، بیٹھنے یا ٹی وی دیکھنے، کھڑے رہنے اور مختلف شدت کی جسمانی سرگرمی میں گزارتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمی جتنی زیادہ ہو، کینسر کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نیند یا بیٹھے رہنے کے وقت میں سے 15منٹ کم کرکے اتنا ہی وقت کسی بھی جسمانی سرگرمی میں صرف کرنے سے کینسر کے خطرے میں دو فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس، 30منٹ کی جسمانی سرگرمی کو 30 منٹ کی غیر متحرک سرگرمی سے تبدیل کرنے سے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد بڑھ گیا۔تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ ڈاکٹر جان مچل(Dr John Mitchell) نے کہا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فعال زندگی گزارنے والے افراد اگر اپنی جسمانی سرگرمی کم کر دیں تو ان میں بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ روزانہ کینسر کے خطرے میں 15 فیصد اضافے کے حوالے سے ڈاکٹر جان مچل نے بتایا کہ روزانہ صرف دو سے تین منٹ کی سخت جسمانی سرگرمی کم کرکے اس کی جگہ بیٹھنے، سونے یا ہلکی پھلکی سرگرمی کو دینے سے بھی کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق سخت ورزش سے مراد ایسی جسمانی سرگرمی ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو اور پسینہ آنے لگے۔ کھیلوں میں حصہ لینا، تیزی سے سیڑھیاں چڑھنا اور گھر کیلئے بھاری سودا اٹھا کر لانا اس کی مثالیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد پہلے ہی متحرک طرزِ زندگی گزار رہے ہیں، ان کیلئے عمر بڑھنے کے ساتھ اپنی جسمانی سرگرمی کی سطح برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی مضبوط شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ زیادہ جسمانی سرگرمی کئی اقسام کے کینسر کے کم خطرے سے منسلک ہے، جن میں مثانے، چھاتی اور آنتوں کا کینسر شامل ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ کی سخت جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے۔ تیز رفتاری سے پیدل چلنا، روزمرہ سائیکل چلانا اور بیڈمنٹن معتدل ورزش کی مثالیں ہیں، جبکہ پیدل پہاڑی سفر، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا اور ٹینس سخت جسمانی سرگرمی میں شامل ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستانی کابینہ کی حلف برداری 15 اگست 1947ء کو 27 رمضان المبارک اور جمعۃ الوداع ہونے کے ساتھ پاکستان کی آزادی کا پہلا دن تھا۔صبح 9 بجے دارالحکومت کراچی میں دستور ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پہلی حکومت کے اراکین نے حلف اٹھائے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے عہدہ کا حلف اٹھایا۔ ان سے یہ حلف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر عبدالرشید نے لیا تھا ۔ایپل کا آئی میک متعارف1998ء میں آج کے روز میں معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنا نیا کمپیوٹر آئی میک (iMac) متعارف کرایا۔ اس جدید کمپیوٹر کو سادہ ڈیزائن، دلکش ظاہری شکل اور صارف دوست خصوصیات کے باعث خاص توجہ حاصل ہوئی۔ آئی میک نے ذاتی کمپیوٹرز کے ڈیزائن کے حوالے سے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ اس کی آمد نے صارفین میں بھی خاصا جوش و خروش پیدا کیا۔جاپان نے ہتھیار ڈالےدوسری عالمی جنگ کے دوران 15اگست1945ء کو جاپان کی جانب سے ہتھیار ڈالے گئے۔ جاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے۔امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملو ں کے بعد جاپان کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر دو بجے ان نشریات کا آغاز کیا گیا جس میں شہنشاہ نے باقاعدہ ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور اس کی وجہ ایٹمی حملے بتائے گئے۔تبت زلزلہ15اگست1950ء کو تبت میں ایک خوفناک زلزلہ آیا جسے ''آسام زلزلہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس زلزلے کی شدت 8.6 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز ہندوستان میں مشمی پہاڑیوں میں واقع تھا۔ یہ علاقہ اب اروناچل پردیش کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہاں پرآنے والا اب تک کا یہ سب سے تباہ کن زلزلہ ہے جس میں تقریباً 4ہزار800 افراد ہلاک ہوئے۔ پراسرار ''واو! سگنل‘‘ 1977ء میں اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ریڈیو آبزرویٹری کے ریڈیو دوربین بگ ائیر نے SETI منصوبے کے تحت گہری خلا سے ایک غیر معمولی ریڈیو سگنل وصول کیا۔ یہ سگنل تقریباً 72 سیکنڈ تک جاری رہا اور اپنی غیر معمولی شدت کے باعث سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ منصوبے کے ایک رضاکار نے سگنل کی نشاندہی کرتے ہوئے کاغذ پر ''Wow!‘‘ لکھا، جس کے باعث اسے ''واو! سگنل‘‘ کا نام دیا گیا۔بحرین برطانیہ سے آزاد ہوا15اگست 1971ء کو خلیجی ریاست بحرین نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ برطانوی حکومت کے ساتھ طویل عرصے تک معاہداتی تعلقات کے بعد بحرین نے اپنی خودمختاری کا اعلان کیا۔ اس تاریخی پیش رفت کے بعد بحرین ایک آزاد ریاست کے طور پر عالمی برادری میں شامل ہوا۔ ملک میں ہر سال آزادی کا دن قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

کیا مصنوعی ذہانت ایک ’’ مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر سکتی ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت ایک ’’ مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر سکتی ہے؟

ان دنوں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لوگ اکثر مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک ہی بات کرتے ہیں کہ یہ ایک ''مستقل محروم طبقہ‘‘ پیدا کر دے گی۔ Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے بھی رواں سال ایک مضمون میں اس امکان کا حوالہ دیا اور اندازہ لگایا کہ اگلے پانچ سالوں میں دفتری شعبے کی ابتدائی سطح کی تقریباً 50 فیصد ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اس خیال کی بنیاد کچھ یوں ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کے قریب پہنچیں گے ٹیکنالوجی کے ایک چھوٹے سے اونچے طبقے کے پاس وہ AI پلیٹ فارم، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے ذرائع ہوں گے جو معیشت کے ایک بڑے حصے کو چلائیں گے۔ Agentic AIیعنی ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام جو خود مختار انداز میں کام انجام دے سکتے ہیں اور جدید روبوٹکس انسانی محنت کی جگہ لے سکتے ہیں اور زیادہ تر ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔سان فرانسسکو کے اس تصور کے مطابق آبادی کی اکثریت کے پاس بہت کم اثاثے رہ جائیں گے اور انہیں اپنی محنت بیچ کر مناسب آمدنی حاصل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔کیا اس نظریے پر یقین کرنا چاہیے؟ماہرینِ معاشیات کو ایسے بڑے دعوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے جن کے پیچھے ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے خیالات فی الحال زیادہ تر قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ محنت کی منڈی کے اعداد و شمار بھی ابھی تک AI کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے بارے میں محدود اور غیر حتمی شواہد فراہم کرتے ہیں۔ بعض ممتاز ماہرینِ معاشیات کا اندازہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات اس سے کہیں زیادہ محدود ہوں گے،لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ AI کو وسیع پیمانے پر اپنانے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔''مستقل محروم طبقے‘‘ کا نظریہ اگرچہ شاید مبالغہ آمیز ہو لیکن یہ کچھ ایسی تلخ حقیقتوں کی طرف اشارہ ضرور کر سکتا ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر AI سے حاصل ہونے والے فوائد بنیادی طور پر سرمایہ رکھنے والے افراد اور چند ماہر کارکنوں تک محدود ہو جائیں تو محنت کی منڈی کی حرکیات دوسرے کارکنوں کی مہارتوں کو کم اہم بنا سکتی ہیں اور ان کی محنت کی قیمت کم کر سکتی ہیں۔اگر کم اجرت والے کارکنوں کی تعلیم، تربیت اور انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری بھی اسی وجہ سے کم ہو جائے تو معاشرہ کسی حد تک اس صورتحال کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کا تصور ٹیکنالوجی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔کیا آٹومیشن محنت کی منڈی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتی ہے؟تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹومیشن محنت کی منڈی میں دو مختلف قسم کے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ڈیوڈ آٹور اور نیل تھامسن کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق آٹومیشن یا تو کم مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں اضافہ کر سکتی ہے یا پھر زیادہ مہارت والے کاموں کی جگہ لے کر اجرتوں میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ایسے کارکن جن کے پاس ایسی معلومات اور مہارت ہو جنہیں مشینوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ان کی اجرتوں میں بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس دوسرے کارکنوں کی مہارتیں غیر اہم ہو سکتی ہیں وہ اپنی ملازمتیں کھو سکتے ہیں اور اپنی روزی کمانے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ Anthropicکی ایک حالیہ تحقیق نے بھی اسی طرح یہ ظاہر کیا ہے کہ Claude Code سے سب سے زیادہ فائدہ زیادہ مہارت رکھنے والے صارفین کو حاصل ہوا۔AI کی پیداواری صلاحیت کے فوائد کس کو ملیں گے؟جیسے جیسے مصنوعی ذہانت پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی جدت سے حاصل ہونے والے فوائد ممکنہ طور پر ان لوگوں کے ہاتھوں میں زیادہ مرتکز ہو سکتے ہیں جن کے پاس سرمایہ اور مہارت موجود ہے۔یہاں ''مہارت‘‘ سے مراد انسانی سرمایہ یاہیومن کیپٹل ہے۔2000ء کی دہائی کے آغاز میں دائر کیے گئے پیٹنٹس پر ہونے والی ایک تحقیق اس امکان کے کچھ شواہد فراہم کرتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق کسی نئی ایجاد سے پیدا ہونے والی ہر ایک ڈالر کی اضافی قدر میں سے تقریباً 30 سینٹ کارکنوں کو ملے جبکہ 70 سینٹ منافع بن گئے۔اور کارکنوں کو ملنے والی اضافی آمدنی کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی زیادہ تنخواہیں لینے والے ملازمین کو حاصل ہوا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس زیادہ مہارت تھی،لہٰذا ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اگر AI سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا بڑا حصہ ان لوگوں کو ملے جو بڑے ڈیٹا سینٹرز اور جدید ترین AI ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔ماہرینِ معاشیات عموماً یہ فرض کرتے ہیں کہ طویل مدت میں پیداوار میں محنت اور سرمایہ کا حصہ تقریباً مستقل رہتا ہے۔لیکن ٹیکنالوجی حلقوں کا اصرار ہے کہAgentic AI محنت کی جگہ سرمائے کو استعمال کرے گی اور اس روایتی تصور کو تبدیل کر دے گی۔کم ہنر والے کارکنوں پر دوسرا اثرAI کے محنت کی منڈی پر مرتب ہونے والے بالواسطہ یا ثانوی اثرات زیادہ اور کم اجرت والے کارکنوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔اگر کم مہارت رکھنے والے کارکن اپنی ملازمتیں کھونے لگیں تو اچانک بڑی تعداد میں ایسے کارکن پیدا ہو سکتے ہیں جن کی مہارتیں پہلے کے مقابلے میں کم اہم رہ گئی ہوں۔ایسی صورت میں کم مہارت رکھنے والے کارکنوں کی اضافی فراہمی ان سب کی اجرتوں کو نیچے لے جا سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ AI ماڈلز کی زبردست طلب کے نتیجے میں نئی کم مہارت والی ملازمتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں مثلاً ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اسے منظم کرنے کے کام۔لیکن آج یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسی ملازمتیں مستقبل میں کس نوعیت کی ہوں گی اور ان میں کتنی اجرت دی جائے گی۔پیداواری صلاحیت کا بڑھتا ہوافرق طویل مدتی اثراتکارکنوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنا یا انہیں نئی مہارتیں سکھانا آسان نہیں ہے۔مزید یہ کہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی آمدنی میں اچانک کمی بچوں کی مہارتوں کی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ یوں والدین کی اجرت میں آنے والی تبدیلیاں اگلی نسل تک منتقل ہو سکتی ہیں۔شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کم آمدنی رکھنے والے کارکن انسانی سرمائے یعنی تعلیم اور مہارت میں نسبتاً کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اگر مختلف کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں فرق بڑھتا گیا تو کم آمدنی والے لوگوں کی تعلیم اور تربیت میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب بھی کم ہو سکتی ہے۔اس طرح محنت کی منڈی کی دو حصوں میں تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔

نوجوانوں کا عالمی دن

نوجوانوں کا عالمی دن

پاکستان کے نوجوان، ہمارا مستقبل 12 اگست کو دنیا بھر میں نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن نوجوانوں کے مسائل، صلاحیتوں، حقوق اور معاشرے کی تعمیر میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے متحرک، باصلاحیت اور توانائی سے بھرپور طبقہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، مناسب تربیت، روزگار کے مواقع اور مثبت ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے نوجوانوں کا عالمی دن اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ ہماری آبادی میں نوجوانوں کا حصہ بہت نمایاں ہے۔نوجوانوں کے عالمی دن منانے کا تصور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر نوجوانوں سے متعلق عالمی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششوں سے پیدا ہوا۔ 1995ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ورلڈ پروگرام آف ایکشن فار یوتھ منظور کیا جس کا مقصد دنیا بھر میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومتوں اور عالمی اداروں کو ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا تھا۔اس کے بعد 1999ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 اگست کو باقاعدہ طور پر نوجوانوں کا عالمی دن قرار دیا۔ پہلی مرتبہ یہ دن 12 اگست 2000ء کو منایا گیا۔ اس دن کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا اور حکومتوں کو نوجوان نسل کے لیے بہتر پالیسیاں بنانے کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ہر سال نوجوانوں کے عالمی دن کے لیے ایک مخصوص تھیم مقرر کیا جاتا ہے تاکہ نوجوانوں سے متعلق کسی اہم مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوز کی جا سکے۔اس سال کا تھیم''Different Contexts, Common Aspirations‘‘ہے یعنی ہمارے حالات مختلف ہیں مگر خواہشات ایک سی۔ نوجوان آبادی ،بڑا اثاثہپاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ لاکھوں نوجوان ہر سال سکول، کالج اور جامعات سے تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار نہ ملے تو یہی بڑی نوجوان آبادی بے روزگاری، مایوسی اور سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل پاکستان کی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت اور سماجی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔پاکستانی نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں تعلیم، طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل، فنون اور کاروبار کے میدان میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی کامیابیوں کو قومی ترقی کی منظم قوت میں تبدیل کیا جائے۔نوجوانوں کیلئے کیا کرنا چاہیے؟پاکستان میں نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے معیاری اور جدید تعلیم پر توجہ دینا ضروری ہے۔ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ تعلیم کو روزگار اور عملی زندگی کی ضروریات سے جوڑنا ہوگا۔ سکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا چاہیے۔دوسرا اہم شعبہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت ہے۔ ہر نوجوان کا یونیورسٹی جانا ضروری نہیں۔ بہت سے نوجوان ٹیکنیکل تعلیم اور ہنر سیکھ کر باعزت روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ الیکٹریشن، مکینک، سولر ٹیکنیشن، گرافک ڈیزائنر، پروگرامر، ڈیجیٹل مارکیٹر اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔تیسرا بڑا مسئلہ روزگار ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر نوجوانوں کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے چاہییں۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوں کو آسان قرضے، کاروباری تربیت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے۔ نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمتوں کا منتظر رکھنے کے بجائے انہیں کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کی طرف بھی راغب کرنا چاہیے۔ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس جیسے شعبوں میں نوجوان عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو عام کرنا چاہیے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیوانی حقوق12 اگست 1765ء کو مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے رابرٹ کلائیو کے درمیان معاہدہ الہ آباد ہوا۔ یہ معاہدہ 1764ء کی جنگِ بکسر کے بعد ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا نتیجہ تھا۔اس جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی، اودھ کے نواب شجاع الدولہ اور بنگال کے سابق نواب میر قاسم کی مشترکہ قوتوں کو شکست دی تھی جس نے مشرقی ہندوستان میں کمپنی کی سیاسی طاقت کو بہت مضبوط کر دیا۔معاہدہ الہ آباد کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی عطا کر دی۔ 12 اگست 1765ء کو کمپنی کے مالی اقتدار کو ایک ایسی بنیاد ملی جس پر بعد میں برطانوی سیاسی اقتدار ہندوستان میں قائم ہوا۔ سلائی مشین کا پیٹنٹ 12 اگست 1851ء کو امریکی موجد آئزک میرٹ سنگر کو سلائی مشین میں بہتری کے لیے پیٹنٹ نمبر جاری ہوا۔ سنگر سے پہلے بھی مختلف موجد سلائی مشینیں بنانے کی کوشش کر چکے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ابتدائی مشینیں پیچیدہ، مہنگی یا عملی استعمال کے لیے محدود تھیں۔لیکن سنگر نے ایک ایسی مشین تیار کی جس میں سیدھی حرکت کرنے والی سوئی اور حرکت کرنے والا شٹل استعمال ہوتا تھا۔ اس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ سلائی مشین کو گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے زیادہ قابلِ عمل بنانے میں مدد ملی۔ سنگر کمپنی نے بعد میں سلائی مشینوں کی بڑے پیمانے پر فروخت اور عالمی مارکیٹنگ میں اہم کردار ادا کیا۔امریکہ اور سپین جنگ بندی 12 اگست 1898ء کو امریکہ اور سپین کے درمیان ایک ا ہم امن معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے ہسپانوی امریکی جنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہوئی۔ 19ویں صدی کے آخر میں سپین کی اپنی نوآبادیاتی سلطنت کے مختلف حصوں میں مشکلات بڑھ رہی تھیں۔ کیوبا میں سپین کے خلاف آزادی کی جدوجہد جاری تھی جبکہ امریکہ کی سپین کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ گئی۔ 1898ء میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور مختصر عرصے میں امریکہ نے سپین کو متعدد محاذوں پر شکست دی۔12 اگست کو واشنگٹن میں طے پانے والے پروٹوکول کے ذریعے دونوں حکومتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ باقاعدہ امن مذاکرات شروع کریں گی۔ IBM نے پرسنل کمپیوٹر بنایا12 اگست 1981ء کو IBM نے اپنا پرسنل کمپیوٹر، ماڈل متعارف کرایا۔ IBM اس وقت بنیادی طور پر بڑے کاروباری اداروں اور تنظیموں کے لیے کمپیوٹر بناتی تھی لیکن 1970ء کی دہائی کے آخر اور 1980ء کے آغاز میں چھوٹے کمپیوٹر وں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ IBM نے اس نئے شعبے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا اور کمپنی نے اپنی معمول کی طویل مصنوعات سازی کے بجائے نسبتاً تیز رفتار منصوبہ اپنایا۔ 12 اگست کو IBM PCکی باقاعدہ لانچنگ نیویارک میں ہوئی۔ اس کی ابتدائی قیمت 1565ڈالر تھی۔ IBM نے اس کمپیوٹر کے لیےMS-DOS سمیت سافٹ ویئر کا نظام استعمال کیا اور اسے کاروباری و ذاتی استعمال کے لیے مارکیٹ کیا۔ فوسل Sueدریافت ہوا12 اگست 1990ء کو امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں ایک ایسا فوسل دریافت ہوا جس نے سائنسی دنیا میں خاصی شہرت حاصل کی۔ یہ ٹرائینو سارس ریکس کا ایک انتہائی مکمل اور محفوظ ڈھانچہ تھا جسے بعد میں اس کی دریافت کرنے والی ماہرِ حیاتیات سوسن ہینڈرکسن کے نام پرSue کہا گیا۔ یہ دریافت اس لیے غیر معمولی تھی کہ Sue کا ڈھانچہ تقریباً 90 فیصد سے زیادہ مکمل تھا اور ہڈیاں نسبتاً اچھی حالت میں محفوظ تھیں۔ بعد میں اس فوسل کی ملکیت اور کھدائی کے حقوق پر ایک طویل قانونی تنازع بھی پیدا ہوا۔ بالآخر 1997ء میں Sue کو نیلام کیا گیا اور شکاگو میوزیم نے اسے تقریباً آٹھ کروڑ ڈالر میں خریدلیا۔ بعد میں اسے میوزیم میں عوام کے لیے نمائش پر رکھا گیا۔