افلاطون کے نظریات
اسپیشل فیچر
یونان کے مشہور شہرایتھنز میں 427 ق م میں ایک ایساعظیم فلسفی اور نثر نگار پیدا ہوا جس نے سو فسطائی نظریات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دنیا کو ایک قابل عمل ضابطۂ اخلاق دیا۔ اس نے یونان کے استحکام کے لیے ایک سیاسی نظام پیش کیا ۔ اس کے دیے گئے سیاسی نظام کی اساس کو نہ صرف یونان نے اپنایا بلکہ انقلاب فرانس کے بعد تمام مغربی ممالک بھی اس کے فلسفہ سیاست سے مستفید ہوئے اور آج بھی مغربی دنیا میں اس کے فلسفہ سیاست کے بہت سارے اصول کار فرما ہیں۔ اس عظیم مفکر نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مملکت کا اخلاقی مقصد متعین کرتے ہوئے کہا کہ ’’مملکت کا ایک اخلاقی وجود ہے جس کے لازمی اجزا افراد ہیں جن کی اخلاقی نشوونما صرف مملکت کے مستحکم سیاسی نظام کی بدولت ممکن ہے‘‘۔ اس نے دنیا میں پہلی بار ایک ایسا نظام فکر پیش کرنے کی کوشش کی جو کائنات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں مثلاً اخلاقیات، علمیات، طبیعیات اور سیاسیات وغیرہ کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے نظریہ علم، نظریہ امثال، نظریہ موجودات، نظریہ بقائے اخلاق اور نظریہ ریاست پیش کر کے نہ صرف فلسفہ یونان کے کینوس کو وسیع کیا بلکہ نئے علوم اور نئی تحقیقات کے ذریعے انسان کو انفرادی زندگی گزارنے اور اجتماعی مسائل کو حل کرنے کا ڈھنگ سکھایا۔ اس کے نزدیک سچا علم وہی ہے جو حکمت کے تصورات پر مبنی ہو اور سچا فلسفی وہی ہے جو اپنے افکار سے کردار انسانی کے لیے بصیرت مہیا کرے۔ اس عظیم فلسفی کا نام افلاطون ہے جس نے منطقی بازی گری کا گُر سقراط سے سیکھاتھا۔ اس عظیم فلسفی نے عدل کو ایک اعلیٰ ترین نیکی کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ عدل روح کی ایک صفت اور ذہن کی ایک عادت ہے۔ عدل کُل کا جوہر اور تمام محاسن اخلاق کی شرط اول ہے۔ محافظ کا عدل یہ ہے کہ وہ حکمت کی روشنی میں ریاست کے لیے مقاصد کا تعین کرے، مدد گار محافظ کا عدل یہ ہے کہ وہ معاشی زندگی کے کل پرزوں کو اعتدال کے مطابق چلائے۔ اس کے نزدیک فلسفی ہی نظارہ حقیقت سے بہرہ ور ہیں جبکہ جمہوریت مستقل کشمکش، فتنہ و فساد، محض دھوکہ اور فریب ہے۔افلاطون کے پہلے استادوں میں کریٹی لس شامل تھا جس نے افلاطون کو ہر اقلیتوس کے نظریات کا علم دیا۔ افلاطون نے مروجہ تعلیم کے مطابق فن موسیقی سیکھا اور مذہبی اور اخلاقی اصولوں پر مبنی ہومر کی نظموں کو حفظ کیا۔ اس وقت یونان میں غیرملکی سو فسطائی امرا کے ذہنوں پر حکومت کر رہے تھے اور ہر مضمون پر درس دینے کے عوض بے انتہا دولت کمارہے تھے۔ ان کے اخلاقیات کے درس میں یہ بات خاص طور پر شامل تھی کہ ریاست حکمرانوں کی خواہشات کی غلام ہے لہٰذا افلاطون نے سوفسطائیوں کے نظریات سے مکمل واقفیت حاصل کی اور فیثاغورث کی تصانیف پر بھی غور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ افلاطون کی کتاب ’’جمہوریہ ‘‘میں پیش کیا گیا۔ اس کا فلسفہ فیثاغورث کے فلسفے سے ملتا جلتا ہے۔ افلاطون فیثا غورث کی تھیوری آف لیمٹ سے کافی متاثر تھا اور اسی باعث اس نے فیثاغورث کے اس فلسفہ کو کہ انسانی معاشرہ دانائی، دنیاوی عزت اور دھن دولت کے تین حصوں میں منقسم ہے اپناتے ہوئے انسانی روح کو دانائی، جذبہ اور جسمانی بھوک میں تقسیم کیا۔ سقراط سے افلاطون کا تعلق 20 برس کی عمر میں شروع ہوا اور آٹھ سال کے گہرے دوستانہ ارتباط میں اس نے تمام دیگر تلامذہ کے مقابلے میں زیادہ عمدگی سے استاد کی تعلیم کی اصل روح کو اخذ کیا۔ افلاطون کے مزاج کی تشکیل میں دراصل سقراط کی تعلیمات کا بڑا دخل ہے۔ افلاطون سقراط کو استاد بھی سمجھتا تھا اور دوست بھی۔ سقراط کی سزائے موت کے اسباب سیاسی تھے۔ اس لیے اس کے شاگردوں کو ایتھنز سے ہجرت کرنا پڑی۔ افلاطون بھی ان شاگردوں کے ساتھ مگارا چلا گیا۔ اس نے پارمینڈیز کے فلسفے کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد وہ قیروان اور مصر چلا گیا اور وہاں فلسفے اور ریاضی کا علم حاصل کرکے واپس ایتھنز آیا۔ افلاطون سقراط کے سیاسی فلسفے سے بے حد متاثر تھا۔ اس نے سقراط کے بے شمار خیالات اور اعتقادات کو اپنی کتب میں اپنے حوالے سے پیش کیا۔ اس نے اپنی جملہ کتب مکالمات کی صورت میں تحریر کیں جو سقراط ہی کا طریقہ تھا۔ ایتھنز کی ’’جمہوری‘‘ حکومت نے چونکہ سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا تھا اس لیے افلاطون نے اپنے نظریات میں جمہوریت کو بدترین اور اشرافی طرزحکومت کو بہترین قراردیا۔ قدیم مؤرخین افلاطون کی سیرت کو قابل احترام قرار دیتے ہیں اور اس کی تصانیف بھی اس کی اچھی سیرت کی شہادت دیتی ہیں۔ وہ نہایت اعلیٰ درجے کی عقل کا مالک تھا۔ ٭…٭…٭