ابوجعفر منصور
اسپیشل فیچر
ابوجعفر منصور دوسرا عباسی خلیفہ تھا۔ اس نے 754 سے 775ء تک حکمرانی کی۔عام طور پر منصور کو عباسی خلافت کا بانی اور تاریخ میں ایک بڑا سیاست دان مانا جاتا ہے۔ اس نے مدینۃ السلام کی بنیاد رکھی۔ یہ اس کی سلطنت کے دارالحکومت بغداد کا مرکزی اور بنیادی علاقہ تھا۔ قدیم لاہورکی طرح اس کے گرد چار دیواری تھی۔ اس کی ولادت 714ء میںحمیمہ کے مقام پر ہوئی جو آج کے اردن میں واقع ہے۔ اس کی ماں کا نام سلامہ بتایا جاتا ہے۔ وہ ایک بربر باندی تھی۔ ابوجعفر کا خاندان بڑا متمول اور علم و فضل میں یکتا تھا۔ لہٰذا بچپن میں اسے جو شاندار ماحول میسر آیا اس نے اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ عہد طفولیت ہی سے اسے کھیل کود کی بجائے لکھنے پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس کے والد نے اس کی تعلیم کا خصوصی بندوبست کیا۔ چنانچہ علم الحدیث، علم الانساب اور فقہ و ادب میں اس نے بڑی مہارت حاصل کی۔ وہ بڑا بلیغ خطیب اور سخن گو تھا۔ تحریک عباسی کے عہد شباب میں وہ بڑا سرگرم عمل رہا۔ تحریک کے ابتدائی دور کے خلفشار کو دور کرنے میں اس نے بڑی سوجھ بوجھ سے کام لیا۔پہلے عباسی خلیفہ ابو جعفر عبداللہ بن محمد المنصور سفاح نے اپنی زندگی ہی میں ابوجعفر منصور اور اس کے بعد عیسی بن موسیٰ کے حق میں وصیت کر دی تھی۔ سفاح کی وفات کے وقت وہ حج کے لیے مکہ مکرمہ میں تھا۔ بھائی کی موت کی خبر پا کر وہ فوری بغداد پہنچا اور مسند خلافت پر متمکن ہوا۔اگرچہ خلافت عباسی کی بنیادیں رکھی جا چکی تھیں لیکن سفاح کو چونکہ بہت کم عرصہ حکومت کرنے کا موقع ملا، اس لیے تخت نشین ہونے کے بعد منصور کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خود عباسیہ خاندان میں پھوٹ کے مواقع موجود تھے جو ان کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تھے۔ اس کے علاوہ ابومسلم خراسانی اور ابوجعفر منصور کے درمیان رنجشیں موجود تھیں۔ منصور ابومسلم کو عباسی خلافت کے خلاف سب سے بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔ منصور کی جانب سے ابومسلم کے مبینہ قتل سے مزید بغاوتوں نے جنم لیا۔ بنوامیہ کے حامیوں سے بھی خطرہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بربر اور ترک بغاوتیں، خوارج کی سرگرمیاں، عربی قبائلی عصبیتیں، روم کی طرف سے حملے کا خطرہ اور ملکی خزانے میں مالی بحران کچھ ایسی مشکلات تھیں جن کی وجہ سے منصور کی حکومت کو شدید خطرہ درپیش رہا۔ منصور نے بغداد کو دارالحکومت بنایا اور اس میں تعمیرات کیں۔ ا س نے یہاں مدینۃ السلام کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصدجہاں اپنی سلطنت کو استحکام فراہم کرنا تھا وہیں بڑھتی ہوئی رہائش اور بیوروکریسی کی ضرورتوں کو پورا کرنا تھا۔ منصور کے دور میں ادب نے بہت زیادہ ترقی کی۔ اس نے تحقیق کی حوصلہ افزائی کی۔ اس مقصد کے لیے ترجمے کی تحریک کا آغاز کیا گیا۔ منصور نے بغداد میں ایک کمیٹی بنائی جس میں اکثریت سریانی بولے والے مسیحیوں کی تھی۔ اس کا مقصد یونانی تصانیف کا عربی ترجمہ کرنا تھا۔ عباسیوں کا رجحان مشرق کی جانب تھا اس لیے بہت سے ایرانی ان کی سلطنت میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ یہ کردار ثقافتی بھی تھا اور سیاسی بھی۔ یہ پالیسی بنو امیہ سے مختلف تھی جس میں عجمیوں کو حکومت کے اہم عہدوں سے عموماً دور رکھا جاتا تھا۔ منصور نے چین میں ہونے والی ایک ’’آن شی بغاوت‘‘ کو کچلنے کے لیے چار ہزار عرب فوجی بھیجے۔ جنگ کے بعد یہ عرب وہیں رہے۔ منصور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مخالف کو برداشت نہیں کرتا تھا اور جس سے اسے محسوس ہوتا کہ اس کی حکمرانی کو خطرہ ہے وہ اس سے سختی سے نپٹتا۔ اس سلسلے میں اس نے ماضی میں اس کا ساتھ دینے والوں کو بھی معاف نہ کیا۔ ان میں نامور دینی شخصیات بھی شامل تھیں۔ منصور کی موت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ مکہ مکرمہ کی جانب حج کے لیے جارہا تھا اور پہنچنے کے قریب تھا جب موت نے اسے آ لیا۔ اس روایت کے مطابق اس نے اس وقت احرام باندھ رکھا تھا اور اسے مکہ کے نزدیک دفن کیا گیا۔ منصور کے دور میں تعمیرات کے شعبے میں بہت سے کام ہوئے۔ مسجد حرام کی توسیع ہوئی۔ آب پاشی کی طرف توجہ کی گئی اور رفاہ عامہ کے نقطہ نظر سے بہت سے پل نہریں اور نئی بستیاں آباد کی گئیں۔ اس حوالے سے اس کا سب سے بڑا کارنامہ بغداد کی تعمیر ہے۔ عباسیہ خاندان کا بانی یوں تو سفاح تھا۔ مگر اس کا دور جنگ و جدل اور مخالف قوتوں کی شورش کا دور تھا۔ ابوجعفر منصور کو بھی ابتدا میں بہت سی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ان پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے ان چیزوں پر قابو پایا جو عباسی خلافت کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے تاریخ دان عباسی خلافت کا حقیقی بانی اسے قرار دیتے ہیں۔ منصور کے جہاں بہت سے حامی تھے وہاں بہت سے مخالف بھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس کی سخت گیری تھی۔ ٭…٭…٭